اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: موجودہ حالات میں امت مسلمہ کی ذمہ داریاں، از قلم! انظر الاسلام بن شبیر احمد

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 4 October 2019

موجودہ حالات میں امت مسلمہ کی ذمہ داریاں، از قلم! انظر الاسلام بن شبیر احمد

موجودہ حالات اور امت مسلمہ کی ذمہ داری

انظرالاسلام بن شبیراحمد

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وقت حاضر میں مسلمان انتہائی پرالم وپرخطر حالات سے دوچار ہیں کہ ہرجانب سے دشمنوں کا ان پر تسلط ہوتا چلا جارہا ہےکہیں افغانستان میں جنگ تو کہیں عراق میں کہیں فلسطین میں جنگ تو کہیں لبنان میں۔ توکہیں ہندوستان میں مسلمانوں کوتکلیفیں دینا تو کہیں  مدارس ومکاتب کو دہشت گرد کا اڈا کہنا  ۔جوکچھ ہم سنتے یا پڑھتے ہیں اپنے خطباء اور قلم کاروں سے وہ بس دشمنوں پر لعنت ملامت کرنا، ان کے جرائم بیان کرنا اور اسی کا شکوہ کرنا ہوتا ہے۔ بلاشبہ یہ امور موجود ہیں، لیکن کیا کافر دشمن اس قسم کی محض چیخ وپکار اور واویلا کرنے سے بھاگ جائے گا!؟

کافر تو شروع زمانے سے ہی اسلام کا وجود صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا﴾ (البقرۃ: 217)

(وہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان کے بس میں ہو تو تمہیں تمہارے دین اسلام سے پھیر دیں)

لیکن کام کی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں نے ان کے مقابلے میں اور ان کی زیادتیوں کو روکنے کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے!؟

ان پر واجب ہے کہ:

اولاً: دین کے تعلق سےاور اس کے ساتھ تمسک اختیار کرنے کے اعتبارسےاپنی موجودہ صورتحال پر غور کریں ، کیونکہ جو کچھ مصائب کا انہیں سامنا ہے وہ ان کی دین میں کوتاہی کے سبب ہی ہے۔ ایک اثر میں ہے:

’’إِذَا عَصَانِي مَنْ يَعْرِفُنِي سَلَّطْتُ عَلَيْهِ مَنْ لا يَعْرِفُنِي‘‘([1])

(اگر وہ میری نافرمانی کرے جو مجھے جانتا ہے (یعنی مسلمان اور نیکوکار) تو میں اس پر اسے مسلط کردوں گا جو مجھے نہیں جانتا  (یعنی کافر اور فاسق وفاجر))۔

بنی اسرائیل کے ساتھ کیا ہوا جب انہوں نے اپنے دین سے لاتعلقی اختیار کی اور زمین میں فساد برپا کیا؛ اللہ تعالی نے ان پر مجوسی کافروں کو مسلط کردیا جنہوں نے ان کے گھروں تک کے اندر گھس کر تباہی مچائی جس کا ذکر اللہ تعالی نے سورۂ بنی اسرائیل کے شروع میں فرمایا۔ اللہ تعالی نے انہیں یہ بھی وعید سنائی کہ اگر تم اپنی اس (نافرمانی والی)حالت میں واپس لوٹو گے تو اللہ تعالی بھی تم پر پھر سے یہ غضب ڈھائیں گے۔ اسی لئے ہم پر واجب ہے کہ ہم اپنی موجودہ صورتحال پر نظر کریں اور ہمارے دین کے تعلق سے  ہمارے اعمال میں جو بگاڑ آگیا ہے اس کی اصلاح کریں کیونکہ اللہ تعالی کی سنت تبدیل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالی کافرمان ہے:

﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ  لَهٗ  ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ﴾ (الرعد: 11)

(بے شک کسی قوم کی حالت اللہ تعالی نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے اندر (خرابیاں) ہیں۔ اللہ تعالی جب کسی قوم کی سزا کا ارادہ فرمالیتا ہے تو وہ بدلا نہیں کرتا، اور سوائے اس کے کوئی ان کا کارساز بھی نہیں ہوتا)

ثانیاً: ہمیں چاہیے کہ ایسی قوت واسباب تیار کریں جس کے ذریعہ ہم اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرسکیں جیسا کہ اللہ تعالی نے حکم ارشاد فرمایا ہے:

﴿ وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ﴾ (الانفال: 60)

(تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ تعالی کے دشمنوں کو خوفزدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ تعالی انہیں خوب جانتا ہے)

بہترین فوج، مناسب اسلحہ اور کارگر قوت مدافعت پیدا کرکے یہ تیاری کی جائے۔

ثالثاً: مسلمانوں کے کلمے کو مجتمع کرنا عقیدۂ توحید اور تحکیم شریعت پر، اور اپنے معاملات واخلاق غرض ہر امور میں اسلام کا التزام کرنا، کتاب اللہ کی تحکیم کرنا، نیکی کا حکم کرنا اور برائیوں سے روکنا، اور اللہ تعالی کی راہ کی طرف علم وبصیرت واخلاص کے ساتھ دعوت دینا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا﴾ (آل عمران: 103)

(اور تم سب مل کر اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ بازی نہ کرو)

اور فرمایا:

﴿ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا  ۭ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ﴾ (الانفال: 46)

(اور آپس میں تنازع نہ کرو ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو  بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)

یہ اجتماع، اتحاد ویگانگت حاصل نہیں ہوسکتی اگر عقیدے، مقاصد واہداف میں اختلاف ہو۔ یہ حقیقی اتحاد تب ہوگا جب عقیدہ صحیح ہواور اہداف اس طور پر یکساں ہوں کہ حق کی نصرت اور اللہ تعالی کا کلمہ بلند کرنا مقصد ہو۔

کاش کہ ہمارے خطباء وواعظین اپنے خطبوں اور واعظوں میں اس نکتے پر توجہ مرکوز رکھیں ساتھ ہی ساتھ دشمن اورزیادتی کرنے والے پر تنقید بھی کریں، اور اس کے خبیث مقاصد بھی بیان کریں، کیونکہ وہ دشمن محض مسلمانوں کو کمزور کرکے ان کے مال وثروت ہی لوٹنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اولین مقصد ان کے عقیدے میں بگاڑ پیدا کرکے انہیں ان کے دین سے برگشتہ کرنا ہے یہاں تک کہ وہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے تباہ وبرباد کردے۔

یہی کچھ تنبیہات تھی جو میں ان ناگفتہ بہ حالات کے بارے میں کرنا چاہتا تھا

سارے عالم کے احوال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ موجودہ حالات اُمت مسلمہ کے لئے سخت ترین آزمائش و امتحان کے ہیں دیگر اقوام و ملل جو کئی ایک باطل مذاہب کے پرستار اور آپس میں بڑے اختلاف کا شکار ہیں پھر ہر مذہب کے پیروکاروں کے درمیان بھی بڑے بڑے اختلافات موجود ہیں ۔ اس کے باوجود یہ تمام کے تمام اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور اپنے جیسے باطل مذاہب میں ضم کرنے کی متحدہ کوششوں میں متفق ہیں یا کم از کم ان کے ایمانی رشتے کو کمزور کرکے ان کی مذہبی شناخت اور ان کی ثقافت و تہذیب اور ان کے انفرادی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہیں ۔ اس وقت باطل پورے زور و شور کے ساتھ حق کومٹانے یا دبانے کیلئے تلا ہوا ہے یہی وجہہ ہے کہ استعماری طاقتیں اسلام کے خلاف اپنا سارا زور صرف کر رہی ہیں۔ اسلام دشمن طاقتوں نے افغانستان ‘ عراق و لیبیاء، اور ہندوستان جیسے ممالک میں دہشت گردی کی تاریخ رقم کرکے وہاں کی حکومتوں کا تختہ اُلٹ دیا ہے اور اس مہم میں کئی ایک بے قصور و معصوم جانوں کا اتلاف ہواہے ۔ ملک شا م ، سیریا،مصر ، یمن ہندوستان میں کشمیر وغیرہ جیسے بہت سے ممالک دہشت گردی کی زد میں ہیں ۔ دشمنان اسلام خود دہشت گردی کے مرتکب ہیں اور اس کا الزام اسلا م اور مسلمانوں کے سر تھوپ رہے ہیں ۔ مسلم دہشت گردی کے خاتمے کا عنوان بنا کر کئی ایک مسلم ممالک کو تختہ مشق بنا چکے ہیں ۔ برسوں بعد مصر میں جو اسلامی انقلاب آیا تھا وہ اسلا م دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھایا ۔ وہاں شورش پرپا کردی گئی اور حکومت کا تختہ الٹ کر ایک نام نہاد مسلم حکمران کو تختہ حکومت پر بٹھادیا گیا ، تاکہ وہ اسلام کے نام پر اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ ٔکار بن کر اسلام کی شبیہ کو مسخ کرے اور مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھائے ، اس مقصد میں اسلام دشمن طاقتیں کامیا ب ہوتی نظر آرہی ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے اس مقصد کی تکمیل یعنی اس غیر اسلامی حکومت کے قیام کیلئے مسلم حکومت کا سہارا لیا گیا جو آنکھ بند کرکے اسلام دشمن طاقتوںکی آلہ کار بن گئی ہے، اس طرح اسلامی حکومت کے قیام میں مددگار بننے کے بجائے دشمنان اسلام کا ساتھ دے کر اسلامی حکومت کے قیام میں رکاوٹ بننے کے مجرمانہ رول کی یہ مسلم حکومت مرتکب ہوگئی ہے ۔ فلسطین جو برسہا برس سے جنگ کی آگ میں دہک رہا ہے اور فلسطینی مسلمان ظلم و جور کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ جیسے آج کے دور میں ہمارا ملک ہندوستان۔ سوائے اللہ سبحانہ کے اس وقت ان کا کوئی یار و مدد گار نہیں ہے ۔ اسرائیل خون آشامی ، ظلم و بربریت ، دہشت گردی کی جو تاریخ رقم کر رہا ہے ۔
کوئی اس کا ہاتھ تھامنے والا نہیں، اسلام دشمن طاقتوں نے کبھی جھوٹے منہ ہی سہی مظلوموں کو نہ تو کوئی دلاسہ دیا نا ہی ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف کبھی کوئی مصنوعی آنسو بہائے ۔ لیکن مغربی ممالک میں اگر کوئی یکہ دکا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ساری اسلام دشمن طاقتیں آسمان سر پر اٹھالیتی ہیں ۔ چنانچہ پیرس میں کچھ دن پہلے ہوئے واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کیلئے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیئے گئے اور ہر طرح سے اپنی یگانگت و ہمدردی کا نہ صرف اظہار کیاگیا بلکہ اس کو بہانہ بنا کردہشت گردی کے خاتمے کیلئے متفقہ طور پر ، پُر عزم ہونے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعات بھی اسلام دشمن طاقتیں ہی کرواتی ہیں اور پھر اس کا سہارا لے کر مسلم ممالک میں دہشت گردی پھیلاتی ہیں ۔ ان کی کیفیت ’’خود کوزہ و کوزہ گر و خود گل کوزہ‘‘ کے مصداق معلوم ہوتی ہے۔ ظلم خواہ کہیں ہو اور خواہ کسی پر کیا گیا ہو اسلام اس کی قطعا اجازت نہیں دیتا ،مسلمان اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ،مسلم ممالک اس وقت گویا بارود کے ڈھیر پر ہیں یا وہ ایک آگ کے دہانے پر کھڑے ہیں ، دولت کے زمینی ذخائر ، عیش و راحت کے سارے ساز و سامان کے باوجود چین و سکون مفقود ہے ۔ راحت و آسائش سے بھرپور خواب گاہیں اب ان کو خار دار وادی ہونے کا احساس دلانے لگی ہیں ،نرم و نازک آرام دہ بستروں پر نیند کوسوں دور ہے ۔  خود ہمارے ملک کی صورتحال بھی اس وقت کوئی خوشگوار نہیں ہے ۔ سارے ملک میں نفرت کا زہر عام کردیا گیا ہے ۔ ہندو مسلم جو برسوں سے یہاں آپسی رواداری ، پیار و الفت کے ڈور میں بندھے زندگی گزار رہے تھے اب ان کے درمیان نفرت کی ایک دیوار کھڑی کردی گئی ہے ۔الغرض ہر طرف باطل کی یلغار ہے، طاغوتی طاقتیں اپنی ساری توانائیاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صرف کر رہی ہیں ‘ باطل کے شجر خار دار کی آبیار ی کچھ اس طرح کی جارہی ہے کہ جیسے وہ حق کے ثمر آور پھل و پھو ل سے لدے شجر سایہ دار کی آبیاری کر رہے ہوں ۔ جان ومال ،عزت و آبرو سے کھلواڑ تو بہت پہلے ہی سے ہو رہا تھا لیکن اب ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی پوری تیاری کی جارہی ہے ۔ مسلمانوں کو اس وقت زندہ رہنے کا حق دینے کیلئے ایک ہی مطالبہ جاری ہے کہ وہ اپنے دین سے دستبردار ہوجائیں ۔ اور اپنی تہذیب و ثقافت کا اپنے ہاتھوں گلا گھوٹ دیں، اسلام دشمن طاقتیں ایسے حالات پیدا کر رہی ہیں کہ مسلمانوں کو اسلام پر باقی رہتے ہوئے زندہ رہنا گویا اپنے ہاتھ میں آگ کے انگارے پکڑنے کے مترادف ہوگا ۔ ایسے سخت ترین حالات میں عجب نہیں کہ وہ وقت آجائے کہ اسلا م کو سینے سے لگا کر اس دنیا میں زندہ رہنے کیلئے اپنا سب کچھ دائو پر لگانا پڑے ۔اس امت کا اہم ترین فریضہ منصبی ’’ دعوت وتبلیغ‘‘ ہے ، ضرورت اس با ت کی ہے کہ اس وقت امت مسلمہ اپنے فریضہ منصبی کی طرف متوجہ ہوجائے صرف اور صرف روٹی و روزگار کی تلاش ،عہدہ ومنصب کی تمنا وطلب اس فریضہ منصبی میں بڑی رکاوٹ ہے ،اللہ سبحانہ نے اس امت کو خیر امت بناکر اس کا فریضہ منصبی ’’اخرجت للناس ‘‘ سے بیان فرمایا ہے ۔ حضرت ربعی بن عامر کا کلام ’’ اخرجت للناس‘‘ کا ترجمان ہے ۔ جس کا مطلب ومفہوم یہ ہے ۔’’ بیشک حق سبحانہ وتعالی نے ہمیں اس لئے بھیجا ہے کہ ہم اللہ کے بندوں کو ان جیسے بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لائیں ،دنیا کی تنگی سے ان کو چھٹکارا دلا کر دنیا وآخرت کی وسعت کی طرف راہ دکھائیں ،اور باطل ادیان کے جور وجبر سے نجات دلا کر اسلام کے عدل ومساوات کے سایہ رحمت میں پہنچائیں ۔‘‘( الضوابط المنہجیہ لفقہ الاقلیات /۹۳)
اس لئے ملت اسلامیہ دنیا کے جس حصہ میں رہے اسلام کی سچی نمائندہ بن کر ملت اسلامیہ کی شناخت کو برقرار رکھے، اسلامی اعتقادات ،افکار واعمال ، تہذیب وثقافت کی حفاظت وسلامتی کے ساتھ کرۂ ارض پر بکھری باطل افکار واعتقادات پر جمی انسانیت پر اسلام کے فطری افکار واعمال کی عملی تصویر بن کر اثر انداز ہو ،غیر اسلامی افکار واعمال پر کار بند دنیا ئے انسانیت آج اسلام کو کتابوں میں نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کی زندگی میں چلتا پھرتا دیکھنے کی خواہش مند ہے ،امت مسلمہ اگر ان کی اس تمنا کو پوری کرے تو عجب نہیں کہ وہ گمراہ انسانیت اسلام کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کرلے

اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق دے آمین