برادران وطن اور حکومت اب تو ہم سے ملک سے حب الوطنی کا ثبوت نہ مانگے!عاقل سراج نعمانی
باغپت (11 نومبر 2019 آئی این اے نیوز)
بابری مسجد کے فیصلے پر غم وغصہ کا اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا محمد عاقل سراج نعمانی نے ترجمان تحریک عوام ہند نے کہا کہ فیصلہ بھلے ہی حقائق سے پرے ہے اور جو عین دلائل و شواھد ہیں ان کی روگردانی کرکے فیصلہ دیا گیا ہے مگر ہم مسلمانوں نے بابری مسجد کی شہادت کے وقت بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا تھا اور اب کورٹ نے ہم سے چھین مسجد کی زمین پر مندر تعمیر کرنے کا فرمان جاری کیا ہے بھلے ہی یہ ہماری عقل سے پرے ہے مگر ہم کورٹ کا احترام کرتے ہوئے اس کو تسلیم کرتے ہیں اور ملک میں امن و امان کی ہر طرح قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہیں گے،
مگر ساتھ ہی ساتھ ایک اپیل یہ بھی ہے کہ اب حکومت و برادران وطن ہم سے ملک سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ نہ مانگے،مسلمانان ہند جس پہلے بھی بہت سارے مواقع پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اٰگے بھی کرتے رہیں گے جیسے NRC بل پر مسلمانوں نے صبر کیا چہ جائیکہ یہ ہمیں حاصل حقوق کے خلاف ہے،مگر قبول کیا،اور اسی طرح بابری مسجد کا فیصلہ چہ جائیکہ بالکل خلاف ہے مگر فیصلہ کو مانا اور تسلیم کیا،یہ سب باتیں بتانے کے لیے کافی ہیں کہ مسلمان ملک کا کتنا بڑا وفادار تھا اور ہے اور رہے گا اس لیے اس پر مزید اٰزمائشوں کو مسلط نہ کیا جائے
باغپت (11 نومبر 2019 آئی این اے نیوز)
بابری مسجد کے فیصلے پر غم وغصہ کا اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا محمد عاقل سراج نعمانی نے ترجمان تحریک عوام ہند نے کہا کہ فیصلہ بھلے ہی حقائق سے پرے ہے اور جو عین دلائل و شواھد ہیں ان کی روگردانی کرکے فیصلہ دیا گیا ہے مگر ہم مسلمانوں نے بابری مسجد کی شہادت کے وقت بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا تھا اور اب کورٹ نے ہم سے چھین مسجد کی زمین پر مندر تعمیر کرنے کا فرمان جاری کیا ہے بھلے ہی یہ ہماری عقل سے پرے ہے مگر ہم کورٹ کا احترام کرتے ہوئے اس کو تسلیم کرتے ہیں اور ملک میں امن و امان کی ہر طرح قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہیں گے،
مگر ساتھ ہی ساتھ ایک اپیل یہ بھی ہے کہ اب حکومت و برادران وطن ہم سے ملک سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ نہ مانگے،مسلمانان ہند جس پہلے بھی بہت سارے مواقع پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اٰگے بھی کرتے رہیں گے جیسے NRC بل پر مسلمانوں نے صبر کیا چہ جائیکہ یہ ہمیں حاصل حقوق کے خلاف ہے،مگر قبول کیا،اور اسی طرح بابری مسجد کا فیصلہ چہ جائیکہ بالکل خلاف ہے مگر فیصلہ کو مانا اور تسلیم کیا،یہ سب باتیں بتانے کے لیے کافی ہیں کہ مسلمان ملک کا کتنا بڑا وفادار تھا اور ہے اور رہے گا اس لیے اس پر مزید اٰزمائشوں کو مسلط نہ کیا جائے
