اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: ایک مسلمان کا مقصدِ زندگی کیا ہو؟ قسط نمبر ۱ انظرالاسلام بن شبیراحمد

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 22 November 2019

ایک مسلمان کا مقصدِ زندگی کیا ہو؟ قسط نمبر ۱ انظرالاسلام بن شبیراحمد

ایک مسلمان کا مقصدِ زندگی کیا ہو؟
قسط نمبر ۱

انظرالاسلام بن شبیراحمد


 یوں تو مقصد زندگی کے تعین کے سلسلہ میں اکثر انسان کج فہمی کا شکار ہیں اور انہیں اس کا احساس بھی نہیں ہے کیوں کہ وہ ایمان و ہدایت سے محروم ہیں لیکن نہایت تعجب اور افسوس کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ جسے اللہ نے اپنے پیارے رسول محمد ﷺ اور اپنی آخری کتاب یعنی قرآن کریم کے ذریعہ مقصد زندگی سے پوری طرح آگاہ کردیا تھا، آج اس سے غافل ہوکر کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ کی طرح دنیوی زندگی اور اس کے متعلقات کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بناچکی ہے۔مال و دولت اور آرام و آسائش کی چیزوں کا حصول، دنیوی جاہ و منصب اورحشم و خدم کی تمنا ہی اب اکثر افراد کی زندگی کا مقصد رہ گیا ہے، الا ماشاء اللہ۔ عصری علوم و فنون کی طلب اور ان پر مہارت ہے تو اسی کے لئے، زراعت و تجارت ہے تو اسی کے لئے یا پھر حکومت و وزارت ہے تو بھی اسی کے لئے حالانکہ یہ دنیا نہ توآرام و آسائش کی جگہ ہے اور نہ ہی اس کے حصول کی کوشش اس عارضی زندگی کا مقصد ہے۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق یہ تمام چیزیں جن کے لئے لوگ کوشاں ہیں انسان کی آزمائش کے لئے ہیں نہ کہ آشائش کے لئے بلکہ انسان کا وجود ہی مکمل آزمائش سے عبارت ہے۔اللہ کا ارشاد ہے:

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً(سورۃ الملک:۲)
 ’’ اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے‘‘۔انسان اگر کائنات کے اندر پھیلی ہوئی اشیاء پر غور و فکر کرے تو اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہے گا کہ تمام چیزیں خواہ وہ نباتات ہوں،  حیوانات ہوں یا جمادات ہوں یا ہو ا اور پانی کا نظام ہو یا پھر مکمل نظام شمسی ہو، یہ سب انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے ہی پیدا کئے گئے ہیں۔ ہر چیز کے وجود کا ایک مقصد ہے اور وہ بلا واسطہ یا بالواسطہ حضرت انسان کی خدمت میں مصروف رہ کر اپنے مقصد وجود کو پورا کررہی ہے۔ تو کیا انسان جو اس کائنات میں مخدوم کی حیثیت سے ہے اور تمام مخلوقات سے برتر و اشرف ہے یوں ہی بے مقصد اور بے کار پیدا کیا گیا ہے اور خود سے کمتر چیزوں کا حصول ہی اس کی زندگی کا مقصد ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اللہ رب العزت نے ایک عظیم تر مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کی وضاحت اپنے کلام میں ان الفاظ سے کی ہے:

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْن (الذاریات:۵۶)
 یعنی ’’ہم نے انسان و جنات کو نہیں پیدا کیا مگر اپنی عبادت (بندگی) کے لئے‘‘۔ گویاکہ انسان کی زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت اور اس کی رضا کا حصول ہے۔ اکثر مسلمان اس بات کو جانتے ہیں اور اپنی زبان سے اس کا اقرار بھی کرتے ہیں لیکن ان کی زندگی کی روش یہ بتاتی ہے کہ انہوں نے اس کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بنایا بلکہ بعض مسلمانوں کے قول و عمل سے تو ایسا ظاہرہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس دنیا کی زندگی کے علاوہ کوئی اور زندگی ہے ہی نہیں اور انہیں حیات بعدالموت اور جزا و سزا سے کوئی سابقہ ہی نہیں پڑنے والا۔ایک دوسرا طبقہ ان مسلمانوں کا ہے جو کسی نہ کسی درجہ میں اللہ کی عبادت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے اور اسے پورا کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے لیکن وہ  لفظ ’عبادت‘ کی ناقص فہم کا شکار ہے۔ اس کے نزدیک’ عبادت‘  نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ و صدقات، قربانی، دعا و اذکار وغیرہ تک ہی محدود ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں عبدیت اور بندگی کا کوئی تصور اس کے نزدیک نہیں اس لئے وہاں وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے۔اس ناقص فہم ہی کا نتیجہ ہے کہ بعض لوگ نماز و روزے کے تو بڑے پابند دیکھے جاتے ہیں لیکن معاملات ان کے انتہائی خراب ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ سب اعمال شریعت اسلامی کی تجویز کردہ خاص عبادات اور شعائراسلام ہیں لیکن عبادات کا دائرہ اگر ان تک ہی محدود کردیا جائے تو ظاہر ہے ان سب کا مجموعہ انسانی زندگی کے ایک مختصر حصہ کو ہی اپنے احاطہ میں لے سکتا ہے پھر اسے مقصد زندگی کہنامناسب نہیں معلوم ہوگا۔مقصد زندگی ہونے کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اس کے دائرہ کی وسعت زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہو اور حقیقت میں ہے بھی ایسا ہی۔ آئیے اسے سمجھنے کے لئے چند لغات و تفاسیر کا سہارا لیا جائے۔

مولانامحمد عبدالرشید نعمانی اپنی تصنیف لغات القرآن میں لفظ ’عبادت‘ کی تشریح کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں : ’’قاموس میں ’’عبادت‘‘ کے معنی طاعت کے بیان کئے ہیں لیکن ابن الاثیر کے نہایہ میں یہ الفاظ ہیں ’’العبادۃ فی اللغۃ الطاعۃ مع الخضوع‘‘  لغت میں عبادت نام ہے اس اطاعت کا جو عاجزی کے ساتھ ہو‘‘۔ مولانا نعمانی علامہ ابن الاثیر کی عبادت کی اس تعریف کو بہت جامع بھی قرار دیتے ہیں۔ (لغات القرآن از مولانامحمد عبدالرشید نعمانی، مکتبہ حسن سہیل،  لاہور، جلد ۴، صفحہ ۲۱۶)۔امام ابو عبداللہ محمدبن احمد بن ابوبکر قرطبیؒ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۱ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :ترجمہ’’عبادت سے مراد اس کی توحید کا اقرار اور اس کے دین کی شرائع کا التزام ہے۔ عبادت کی اصل خضوع اور تذلیل ہے ‘‘۔(تفسیرقرطبی اردو، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۲ء، جلد ۱، ص ۲۴۱)۔اسی طرح تفسیر جلالین میں لفظ ’عبادت‘ کی وضاحت کچھ اس طرح کی گئی ہے:ترجمہ: ’’۔۔۔۔اور عبادت کے معنی پوجا پاٹ کے نہیں ہیں بلکہ تابعداری اور اطاعت کے معنی ہیں جس میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ بھی آگئے اور نکاح، طلاق، معاملات،  خرید و فروخت وغیرہ سب احکام آگئے‘‘۔(تفسیرکمالین شرح اردو تفسیر جلالین، مطبوعہ دارالاشاعت، کراچی، ۲۰۰۸؁ء، جلد ۱، صفحہ ۵۶)۔مفتی محمد شفیع صاحبؒ  لفظ ’عبادت‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’عبادت کے معنی ہیں اپنی پوری طاقت مکمل فرمانبرداری میں صرف کرنا، اور خوف و عظمت کے پیش نظر نافرمانی سے دور رہنا‘‘۔( معارف القرآن، مکتبہ معارف القرآن، کراچی، ۲۰۰۸؁ء، جلد ۱، ص ۱۳۲ بحوالہ روح البیان، ص ۷۴، جلد ۱)۔مولانا محمد آصف قاسمی صاحبِ تفسیر بصیرت قرآن لکھتے ہیں کہ’’ عبادت صرف چند رسموں کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کو عاجزی،  ادب و احترام کے ساتھ ماننا، اطاعت و فرمان برداری کرتے ہوئے زندگی کو پوری طرح ادا کرنا عبادت ہے‘‘۔ ( تفسیر بصیرت قرآن از مولانا محمد آصف قاسمی، مکتبہ بصیرت قرآن،  کراچی،  جلد ۱، ص، ۴۹)۔