اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: بابری مسجدہندئوں کے جذبات کوٹھیس پہونچائے گی! ایودھیا میں داراشکوہ مسجدبنے، مسلم پر سنل لاء بورڈاگرزمین لینے سے انکارکرتاہے توہم داراشکوہ مسجدبنانے کو تیار ، ایک نام نہاد غیر معروف فائونڈیشن کا شوشہ ،مودی کوخط ،بابرنے ہندوثقافت اورزیارت گاہوں کونقصان پہونچایا

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 14 November 2019

بابری مسجدہندئوں کے جذبات کوٹھیس پہونچائے گی! ایودھیا میں داراشکوہ مسجدبنے، مسلم پر سنل لاء بورڈاگرزمین لینے سے انکارکرتاہے توہم داراشکوہ مسجدبنانے کو تیار ، ایک نام نہاد غیر معروف فائونڈیشن کا شوشہ ،مودی کوخط ،بابرنے ہندوثقافت اورزیارت گاہوں کونقصان پہونچایا

بابری مسجدہندئوں کے جذبات کوٹھیس پہونچائے گی!
ایودھیا میں داراشکوہ مسجدبنے، مسلم پر سنل لاء بورڈاگرزمین لینے سے انکارکرتاہے توہم داراشکوہ مسجدبنانے کو تیار ، ایک نام نہاد غیر معروف فائونڈیشن کا شوشہ ،مودی کوخط ،بابرنے ہندوثقافت اورزیارت گاہوں کونقصان پہونچایا
علی گڑھ۔15؍نومبر:  سپریم کورٹ نے ایودھیا کیس کے فیصلے میں کہا ہے کہ ایودھیا کے کسی اہم مقام پر مسجدکی تعمیرکے لیے پانچ ایکڑ زمین دی جائے۔ ایسے میںاس مجوزہ زمین کے کئی دعوے داراورٹھیکدارسامنے آنے لگے ہیں،معمولی سے رقبے کے لیے ہرطرف ہوڑمچی ہے۔ملاقات کے علاوہ بیانات کاسلسلہ بھی جاری ہے۔اب مسجد کا نام مغل شہنشاہ شاہجہاں کے بڑے بیٹے دارا شکوہ کے نام پر بنانے کاشوشہ چھوڑاگیاہے ۔علی گڑھ میں دارا شکوہ فاؤنڈیشن کے صدر عامر رشید نے اس بابت وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھاہے۔عامر نے کہاہے کہ بابرایک حملہ آور تھا، جس نے ہندو ثقافت کو کافی نقصان پہنچایا جبکہ دارا شکوہ ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھے۔عامر رشید نے کہاہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ یا کوئی اور ادارہ اگر 5 ایکڑ زمین کو قبول نہیں کرتا ہے تو ان کی تنظیم دارا شکوہ فاؤنڈیشن اس زمین کو لینے کے لیے تیارہے۔ اس پر دارا شکوہ کے نام پر مسجد کی تعمیر کرائے جائے گی ۔عامر نے کہاہے کہ رام جنم بھومی تنازعہ کا جو فیصلہ آیا ہے، جس میں رام للاکے لیے ایودھیا کی جگہ چھوڑنے کی بات ہوئی ہے۔ اسی کی طرز پر مسلمانوں کو بھی مسجدکے لیے 5 ایکڑ دینے کی بات ہوئی ہے۔ہم نے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے کہ جو بھی وہاں مسجد بننی ہے، اس کا نام داراشکوہ کے نام پر رکھاجائے، کیونکہ پرنس داراشکوہ ہندوستانی تاریخ کے ہندو مسلم اتحاد کے سب سے بڑے علم بردارتھے۔بابر کیونکہ غیر ملکی حملہ آور تھا ،اس نے ہندو ثقافت اور ہندو زیارت گاہوں کو کافی نقصان پہنچایا اور آج کی تاریخ میں ملک میں جس طرح فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول ہے۔ اس میں بابری مسجد کا نام رکھنے سے کہیں نہ کہیں ٹھیس پہنچے گی۔ لہٰذامودی جی کو خط لکھ کر مطالبہ کیاہے کہ آئندہ جو مسجد بننے کی تجویزہے، اس کا نام داراشکوہ کے نام پرہو۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ اگرکسی وجہ سے مسلم پرسنل لاء بورڈ اگر مسجد بنانے کے لیے انکار کرتاہے توداراشکوہ فاؤنڈیشن تیار ہے،وہ اس مسجد کو بنانے کے لیے اہل ہے۔اگر وزیراعظم صاحب کی ہمیں ہدایت ملے گی توہم داراشکوہ کے نام سے مسجد بنائیں گے۔