ایودھیا کی پانچ ایکڑ زمین پرمسلم تنظیموں کا اختلاف!
مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیۃ علما ء زمین نہ لینے اور ری ویو پٹیشن داخل کرنے کے حامی، سنی وقف بورڈ زمین لینے اور ری ویو پٹیشن داخل نہ کرنے پر بضد
نئی دہلی۔15؍نومبر: ایودھیا تنازعے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور سنی وقف بورڈ کے راستے الگ ہوتے نظر آرہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنا موقف ۱۷؍نومبر کو عاملہ کی میٹنگ میں واضح کرے گا کہ پانچ ایکڑ زمین لینا ہے یا نہیں اور فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنی ہے یا نہیں لیکن سنی سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین زفر فاروقی نے اپنا رخ واضح کردیا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ’’میں تو اسی راہ پر ہوں، جس پر پہلے سب نے ایک آواز میں ساتھ چلنے کی بات کی تھی،اب اگر پرسنل لاء بورڈ کو وہ راہ پسند نہیں آ رہی تو اس کی وجہ وہی بتا سکتے ہیں۔جب سب نے مل کر یہ وعدہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مانیں گے، اس وقت بھی دونوں امکان تھامقدمہ جیت بھی سکتے ہیں اور ہار بھی سکتے ہیں تو اب کیا بدلا، سیدھی بات ہے کہ سب کو وہ وعدہ نبھانا چاہئے،ایسے میں ریویو پٹشن کا بھلا کیا تک بنتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ’ڈیل‘ ہوئی ہوتی تو ہم مقدمے کے درمیان ہی الگ راستہ اختیار کر لیتے، لیکن آخر تک میرے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، میرے وکیل بھی آخر تک دھون صاحب اور جیلانی صاحب ہی رہے۔وہ کوئی خفیہ ڈیلنگ نہیں تھی،باہمی بات چیت کے ذریعے تنازعہ کو حل کرنے کی آخری دنوں میں ایک کوشش تھی،پارٹیاں نہیں مانیں‘‘۔مقدمہ ہار جانے کی کیا وجہ دیکھتے ہیں؟کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ’’مقدمہ ہارے ہوتے تو ہمارے حق میں فیصلہ نہیں ہوتا،حکم ہونے کی وجہ سےپانچ ایکڑ دینے کو کہا کہ سپریم کورٹ نے۱۹۴۹اور ۱۹۹۲ کے واقعات پر بھی ہماری بات ہی مانی،بس ہمیں وہ زمین نہیں ملی،مالڈنگ آف ریلیف میں مسلم فریق نے مل کر کہا تھا کورٹ ملک کے تاریخی، سماجی اور ثقافتی ورثے پر بھی توجہ رکھے گا، تاکہ ہماری صدیوں پرانی شاندار مشترکہ وراثت اور تکثیریت و ثقافت بنی رہے،ہو سکتا ہے کورٹ کو ہمارے اس مطالبے ہی فیصلے کا یہ راستہ دکھا ہو‘‘۔مسلم فریق کے وکیل اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری ظفر یاب جیلانی اپنے موقف پر قائم ہیں انہو ںنے کہاکہ وکلاء کی ٹیم اپنے سابقہ موقف پر قائم ہے کہ ہم فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست کریں گے اور پانچ ایکڑ زمین نہیں لیں گے لیکن حتمی فیصلہ بورڈ کی عاملہ کی میٹنگ میں ہوگا یہ میری ذاتی رائے، انہوں نے کہاکہ یہ بیان زفر فاروقی کا ہے چیئرمین ہونے کی حیثیت سے ، پورے سنی سیٹرل وقف بورڈ کا نہیں ہے اس کی ایک جنرل باڈی ہے جس کی میٹنگ ۲۶؍ نومبر کو ہوگی اس کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ سنی سینٹرل وقف بورڈ موقف کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ۱۷؍تاریخ کو مسلم پرسنل لا بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ میں غالب گمان ہے کہ پانچ ایکڑ زمین نہیں لیے جانے کے حق میں فیصلہ ہوگا اور ایودھیا تنازعہ پر سپریم کے فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن دائر کرے گا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے بھی سنی سینٹرل وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ زمین نہ لینے کا مشورہ دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اتر پردیش سنی وقف بورڈ کو مسجد کے لئے ایودھیا میں جو پانچ ایکڑ زمین دینے کی پیش کش کی گئی ہے، اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔ مولانا ارشد مدنی جمعرات کے روز دہلی میں واقع جمعیۃ علماء ہند (الف) کے دفتر پر صحافیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، ’’یہ زمین کا معاملہ نہیں تھا بلکہ امت مسلمہ ۷۰ سالوں سے اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہی تھی۔‘‘مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بابری مسجد کے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اس کے حوالہ سے نظر ثانی کی عرضی داخل کی جائے یا نہیں اس پر فیصلہ تاحال نہیں لیا گیا ہے۔ ‘‘تادم تحریر عاملہ کی میٹنگ جاری تھی جمعیۃ کے ایک عہدیدار نے بتایاکہ کل ساڑھے گیارہ بجے تک عاملہ کا حتمی فیصلہ آجائے گا ۔دریں اثناء مولانا ارشد مدنی نے کہا ’’یہ معاملہ صرف جمعیۃ سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ اس سے پورا مسلم طبقہ وابستہ ہے‘‘ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جس طرح کا فیصلہ سنایا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ’’ہم یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ ایسا فیصلہ کیوں سنایا گیا اور ایسا ہم ہی نہیں بلکہ ملک کے متعدد ماہر قانون، وکلاء اور جج حضرات بھی کہہ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بنچ کے ججوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر کسی مندر کو منہدم کر کے نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسجد کا شہید کیا جانا غیر قانونی تھا اور ایسا کرنے والوں نے جرم کا ارتکاب کیا۔ لیکن اس کے باوجود زمین کو ہندوؤں کے حوالہ کر دیا۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ایسا فیصلہ کیوں کیا گیا ہے!‘‘کیا وہ اس معاملہ میں بین الاقوامی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں اس سوال کے جواب میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ سر زمین ہند کی اعلی ترین عدالت ہے۔ ہم کسی اور عدالت سے رجوع نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ مقدمہ صرف مسجد کا مقدمہ نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے حقوق کا مقدمہ تھا۔ ایک مسجد ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے، اگرچہ اس میں کوئی نماز پڑھ رہا ہو یا نہیں۔‘‘واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد-رام جنم بھومی اراضی ملکیت مقدمہ میں ۹ نومبر کو فیصلہ سناتے ہوئے ایودھیا کی77.2 ایکڑ زمین ہندو دیوتا رام للا کو سونپنے کا حکم سنایا ہے۔ رام للا اس مقدمہ کے تین فریقوں میں سے ایک تھے۔ پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ نے مرکزی حکومت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا کے ہی کسی نمایاں مقام پر مسجد تعمیر کرنے کے لئےپانچ ایکڑ زمین کا ٹکڑا فراہم کرے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیۃ علما ء زمین نہ لینے اور ری ویو پٹیشن داخل کرنے کے حامی، سنی وقف بورڈ زمین لینے اور ری ویو پٹیشن داخل نہ کرنے پر بضد
نئی دہلی۔15؍نومبر: ایودھیا تنازعے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور سنی وقف بورڈ کے راستے الگ ہوتے نظر آرہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنا موقف ۱۷؍نومبر کو عاملہ کی میٹنگ میں واضح کرے گا کہ پانچ ایکڑ زمین لینا ہے یا نہیں اور فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنی ہے یا نہیں لیکن سنی سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین زفر فاروقی نے اپنا رخ واضح کردیا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ’’میں تو اسی راہ پر ہوں، جس پر پہلے سب نے ایک آواز میں ساتھ چلنے کی بات کی تھی،اب اگر پرسنل لاء بورڈ کو وہ راہ پسند نہیں آ رہی تو اس کی وجہ وہی بتا سکتے ہیں۔جب سب نے مل کر یہ وعدہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مانیں گے، اس وقت بھی دونوں امکان تھامقدمہ جیت بھی سکتے ہیں اور ہار بھی سکتے ہیں تو اب کیا بدلا، سیدھی بات ہے کہ سب کو وہ وعدہ نبھانا چاہئے،ایسے میں ریویو پٹشن کا بھلا کیا تک بنتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ’ڈیل‘ ہوئی ہوتی تو ہم مقدمے کے درمیان ہی الگ راستہ اختیار کر لیتے، لیکن آخر تک میرے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، میرے وکیل بھی آخر تک دھون صاحب اور جیلانی صاحب ہی رہے۔وہ کوئی خفیہ ڈیلنگ نہیں تھی،باہمی بات چیت کے ذریعے تنازعہ کو حل کرنے کی آخری دنوں میں ایک کوشش تھی،پارٹیاں نہیں مانیں‘‘۔مقدمہ ہار جانے کی کیا وجہ دیکھتے ہیں؟کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ’’مقدمہ ہارے ہوتے تو ہمارے حق میں فیصلہ نہیں ہوتا،حکم ہونے کی وجہ سےپانچ ایکڑ دینے کو کہا کہ سپریم کورٹ نے۱۹۴۹اور ۱۹۹۲ کے واقعات پر بھی ہماری بات ہی مانی،بس ہمیں وہ زمین نہیں ملی،مالڈنگ آف ریلیف میں مسلم فریق نے مل کر کہا تھا کورٹ ملک کے تاریخی، سماجی اور ثقافتی ورثے پر بھی توجہ رکھے گا، تاکہ ہماری صدیوں پرانی شاندار مشترکہ وراثت اور تکثیریت و ثقافت بنی رہے،ہو سکتا ہے کورٹ کو ہمارے اس مطالبے ہی فیصلے کا یہ راستہ دکھا ہو‘‘۔مسلم فریق کے وکیل اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری ظفر یاب جیلانی اپنے موقف پر قائم ہیں انہو ںنے کہاکہ وکلاء کی ٹیم اپنے سابقہ موقف پر قائم ہے کہ ہم فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست کریں گے اور پانچ ایکڑ زمین نہیں لیں گے لیکن حتمی فیصلہ بورڈ کی عاملہ کی میٹنگ میں ہوگا یہ میری ذاتی رائے، انہوں نے کہاکہ یہ بیان زفر فاروقی کا ہے چیئرمین ہونے کی حیثیت سے ، پورے سنی سیٹرل وقف بورڈ کا نہیں ہے اس کی ایک جنرل باڈی ہے جس کی میٹنگ ۲۶؍ نومبر کو ہوگی اس کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ سنی سینٹرل وقف بورڈ موقف کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ۱۷؍تاریخ کو مسلم پرسنل لا بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ میں غالب گمان ہے کہ پانچ ایکڑ زمین نہیں لیے جانے کے حق میں فیصلہ ہوگا اور ایودھیا تنازعہ پر سپریم کے فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن دائر کرے گا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے بھی سنی سینٹرل وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ زمین نہ لینے کا مشورہ دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اتر پردیش سنی وقف بورڈ کو مسجد کے لئے ایودھیا میں جو پانچ ایکڑ زمین دینے کی پیش کش کی گئی ہے، اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔ مولانا ارشد مدنی جمعرات کے روز دہلی میں واقع جمعیۃ علماء ہند (الف) کے دفتر پر صحافیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، ’’یہ زمین کا معاملہ نہیں تھا بلکہ امت مسلمہ ۷۰ سالوں سے اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہی تھی۔‘‘مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بابری مسجد کے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اس کے حوالہ سے نظر ثانی کی عرضی داخل کی جائے یا نہیں اس پر فیصلہ تاحال نہیں لیا گیا ہے۔ ‘‘تادم تحریر عاملہ کی میٹنگ جاری تھی جمعیۃ کے ایک عہدیدار نے بتایاکہ کل ساڑھے گیارہ بجے تک عاملہ کا حتمی فیصلہ آجائے گا ۔دریں اثناء مولانا ارشد مدنی نے کہا ’’یہ معاملہ صرف جمعیۃ سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ اس سے پورا مسلم طبقہ وابستہ ہے‘‘ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جس طرح کا فیصلہ سنایا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ’’ہم یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ ایسا فیصلہ کیوں سنایا گیا اور ایسا ہم ہی نہیں بلکہ ملک کے متعدد ماہر قانون، وکلاء اور جج حضرات بھی کہہ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بنچ کے ججوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر کسی مندر کو منہدم کر کے نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسجد کا شہید کیا جانا غیر قانونی تھا اور ایسا کرنے والوں نے جرم کا ارتکاب کیا۔ لیکن اس کے باوجود زمین کو ہندوؤں کے حوالہ کر دیا۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ایسا فیصلہ کیوں کیا گیا ہے!‘‘کیا وہ اس معاملہ میں بین الاقوامی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں اس سوال کے جواب میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ سر زمین ہند کی اعلی ترین عدالت ہے۔ ہم کسی اور عدالت سے رجوع نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ مقدمہ صرف مسجد کا مقدمہ نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے حقوق کا مقدمہ تھا۔ ایک مسجد ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے، اگرچہ اس میں کوئی نماز پڑھ رہا ہو یا نہیں۔‘‘واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد-رام جنم بھومی اراضی ملکیت مقدمہ میں ۹ نومبر کو فیصلہ سناتے ہوئے ایودھیا کی77.2 ایکڑ زمین ہندو دیوتا رام للا کو سونپنے کا حکم سنایا ہے۔ رام للا اس مقدمہ کے تین فریقوں میں سے ایک تھے۔ پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ نے مرکزی حکومت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا کے ہی کسی نمایاں مقام پر مسجد تعمیر کرنے کے لئےپانچ ایکڑ زمین کا ٹکڑا فراہم کرے۔
