*آہ محترم مفتی منظور احمد*
مفتی صاحب مدرسہ بیت العلوم سرائےمیر کے لائق فرزند 4 ربیع الثانی 1350 ھجری 18 اگست 1931میں پیدا ہوئے
مکتب کی تعلیم کے بعد شوال 1367میں بیت العلوم میں داخلہ ہوا ابتدائی فارسی عربی سے شرح وقایہ شرح جامی تک بیت العلوم میں پڑھ کر شوال 1370میں مظاہرعلوم سہارنپور گئے وہاں ھدایہ اولین اور مختصر المعانی سے دورہ تک کی تعلیم سے شعبان 1373 میں فراغت پھر مزید ایک سال فنون میں بیضاوی صدرا، شمس بازغہ ، حمد اللہ ، رسم المفتی ، مدارک ، قاضی مبارک پڑھی
شوال 1374 میں بمشورہ حضرت فقیہ الامت مفتی محمود حسن نوراللہ مرقدہ جامع العلوم کان پور بحثیت مدرس تشریف لے گئے وہاں ابتدائی کتب سے بخاری، مسلم ،ترمذی وغیرہ پڑھائی۔ حضرت فقیہ الامت کے کان پور سے دیو بند جانے کے بعد افتا کا کام بھی حوالہ ہوا نظامت بھی کیا
سلسلہ نقشبندیہ کے معروف بزرگ مولانا محمد احمد صاحب پرتابگڑھی سے اجازت بیعت بھی حاصل تھی
مظاہر علوم میں دورہ میں اول نمبر سے کامیاب ہو کر مستحق انعام ہوئے
آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا عبداللطیف ، شیخ زکریا مولانا منظور کیمل پوری ، مولانا اسعد اللہ صاحب ، مولانا مفتی سعید احمد صاحب مولانا امیر احمد صاحب کا نام صفحات تاریخ میں درج ہے
آپ کے رفقاء درس مفتی عبدالعزیر رائے پوری اور مولانا اطہر حسین بن قاری سعید احمد صاحب ہیں
4/ ربیع الاول 1441 ھجری کو عزیزم عبدالماجد سلمہ نے یہ اندوہناک خبر سنائی کہ مفتی منظور صاحب کا انتقال ہوگیا ۔مولانا کی شفقتیں اور بے تکلفی والد صاحب سے تعلق کی باتیں سب یاد آنے لگیں۔
دنیا فانی ہے ، کامیاب ہے وہ شخص جو عمر عزیز کی قدر کر لے الحمد للہ حضرت مفتی صاحب انھیں خوش قسمت لوگوں میں ہیں
بندہ برادران محترم حافظ مسرور احمد و مولوی منصور احمد اور حضرت کے تلامذہ منتسبین اعزاء اقرباء کو تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہے اور سب کو صبر و تسلی کی تلقین کرتا ہےاور دعا کرتا ہے حضرت مفتی صاحب کو آخرت کی منازل میں راحت و سکون اور درجات عالیہ نصیب ہوں۔
(حضرت مولانا ) عبدالرشید غفرلہ (صاحب المظاہری دامت برکاتہم شیخ الحدیث) مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائےمیر اعظم گڑھ
مفتی صاحب مدرسہ بیت العلوم سرائےمیر کے لائق فرزند 4 ربیع الثانی 1350 ھجری 18 اگست 1931میں پیدا ہوئے
مکتب کی تعلیم کے بعد شوال 1367میں بیت العلوم میں داخلہ ہوا ابتدائی فارسی عربی سے شرح وقایہ شرح جامی تک بیت العلوم میں پڑھ کر شوال 1370میں مظاہرعلوم سہارنپور گئے وہاں ھدایہ اولین اور مختصر المعانی سے دورہ تک کی تعلیم سے شعبان 1373 میں فراغت پھر مزید ایک سال فنون میں بیضاوی صدرا، شمس بازغہ ، حمد اللہ ، رسم المفتی ، مدارک ، قاضی مبارک پڑھی
شوال 1374 میں بمشورہ حضرت فقیہ الامت مفتی محمود حسن نوراللہ مرقدہ جامع العلوم کان پور بحثیت مدرس تشریف لے گئے وہاں ابتدائی کتب سے بخاری، مسلم ،ترمذی وغیرہ پڑھائی۔ حضرت فقیہ الامت کے کان پور سے دیو بند جانے کے بعد افتا کا کام بھی حوالہ ہوا نظامت بھی کیا
سلسلہ نقشبندیہ کے معروف بزرگ مولانا محمد احمد صاحب پرتابگڑھی سے اجازت بیعت بھی حاصل تھی
مظاہر علوم میں دورہ میں اول نمبر سے کامیاب ہو کر مستحق انعام ہوئے
آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا عبداللطیف ، شیخ زکریا مولانا منظور کیمل پوری ، مولانا اسعد اللہ صاحب ، مولانا مفتی سعید احمد صاحب مولانا امیر احمد صاحب کا نام صفحات تاریخ میں درج ہے
آپ کے رفقاء درس مفتی عبدالعزیر رائے پوری اور مولانا اطہر حسین بن قاری سعید احمد صاحب ہیں
4/ ربیع الاول 1441 ھجری کو عزیزم عبدالماجد سلمہ نے یہ اندوہناک خبر سنائی کہ مفتی منظور صاحب کا انتقال ہوگیا ۔مولانا کی شفقتیں اور بے تکلفی والد صاحب سے تعلق کی باتیں سب یاد آنے لگیں۔
دنیا فانی ہے ، کامیاب ہے وہ شخص جو عمر عزیز کی قدر کر لے الحمد للہ حضرت مفتی صاحب انھیں خوش قسمت لوگوں میں ہیں
بندہ برادران محترم حافظ مسرور احمد و مولوی منصور احمد اور حضرت کے تلامذہ منتسبین اعزاء اقرباء کو تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہے اور سب کو صبر و تسلی کی تلقین کرتا ہےاور دعا کرتا ہے حضرت مفتی صاحب کو آخرت کی منازل میں راحت و سکون اور درجات عالیہ نصیب ہوں۔
(حضرت مولانا ) عبدالرشید غفرلہ (صاحب المظاہری دامت برکاتہم شیخ الحدیث) مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائےمیر اعظم گڑھ
