اکابر کا بہت جلد جلد رحلت فرمانا قیامت کی نشانی ہے! مفتی محمد دلشاد
روشن گڑھ/ باغپت (8 نومبر 2019 بروز جمعہ آئی این اے نیوز)
ضلع باغپت کے موضع روشن گڑھ کے مدرسہ اسلامیہ انوار الاسلام میں آج صبح بعد نمازِ فجر قرآن خوانی اور اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس میں حالیہ کئی اکابرین علماء دین کے انتقال پر اظہار افسوس کیا گیا اور ان کے لیے دعاء مغفرت بھی گئی
مدرسہ کے ناظم مفتی محمد دلشاد قاسمی صاحب نے کہا کہ موت العالِم موت العالَم ہے ، انہوں نے بہت ہی غم کے ساتھ کہا کہ استاد محترم حضرت مولانا مفتی غلام نبی کشمیری صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت ہی شریف الطبع انسان تھے،اور علم و ادب اور ثقافت و تہذیب کے خوگر تھے،ایسے علماء ملنا آٓج کے دور میں بہت ہی کم ممکن ہے انہوں نے کہا کہ سادگی کا یہ عالم تھا حضرت والا کا دارالعلوم وقف جب درس دینے آٓتے تھے تو حضرت والا گاڑی کا بھی انتظار نہیں فرماتے تھے بلکہ پیدل ہی چلے آٓتے تھے،اور طلباء کے ساتھ ایسا سلوک کہ ہر چھوٹا بڑا طالب علم اپنی بات بالکل واضح طور سے کبھی بھی اور کہیں بھی ان سے کرلیا کرتا تھا،
اسی طرح گزشتہ روز مغربی یوپی کے بہت ہی مشہور خطیب طوطئی ہند حضرت مولانا فیروز الدین صاحب کا بھی انتقال پر اظہار تعزیت کیا گیا انہوں نے کہا کہ حضرت والا بالکل نمونہ اسلاف اور ماہر و علم و فن تھے جنہوں نے ایک عرصہ دراز تک امت مسلمہ کو اپنے بیانات کے ذریعے ان کے قلوب کو مجلیٰ و مصفا کرکے آٓج دامان رحمت میں روپوش ہوگئے اور ہزاروں فرزندان توحید کو اپنے فیوض سے محروم کردیا،اللہ رب العزت ان کی قبروں پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور امت مسلمہ کی جانب سے انہیں بہتر بدلہ عطا فرمائے اور آللہ تعالیٰ ان کے جیسے ماہر و علم و فن و فرشتہ صفت انسان پیدا فرمائے
آٓخر میں مفتی صاحب کی رقت آمیز دعا کی گئی اور جملہ مرحومین اکابرین کے لیے دعاء مغفرت مانگی گئی
روشن گڑھ/ باغپت (8 نومبر 2019 بروز جمعہ آئی این اے نیوز)
ضلع باغپت کے موضع روشن گڑھ کے مدرسہ اسلامیہ انوار الاسلام میں آج صبح بعد نمازِ فجر قرآن خوانی اور اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس میں حالیہ کئی اکابرین علماء دین کے انتقال پر اظہار افسوس کیا گیا اور ان کے لیے دعاء مغفرت بھی گئی
مدرسہ کے ناظم مفتی محمد دلشاد قاسمی صاحب نے کہا کہ موت العالِم موت العالَم ہے ، انہوں نے بہت ہی غم کے ساتھ کہا کہ استاد محترم حضرت مولانا مفتی غلام نبی کشمیری صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت ہی شریف الطبع انسان تھے،اور علم و ادب اور ثقافت و تہذیب کے خوگر تھے،ایسے علماء ملنا آٓج کے دور میں بہت ہی کم ممکن ہے انہوں نے کہا کہ سادگی کا یہ عالم تھا حضرت والا کا دارالعلوم وقف جب درس دینے آٓتے تھے تو حضرت والا گاڑی کا بھی انتظار نہیں فرماتے تھے بلکہ پیدل ہی چلے آٓتے تھے،اور طلباء کے ساتھ ایسا سلوک کہ ہر چھوٹا بڑا طالب علم اپنی بات بالکل واضح طور سے کبھی بھی اور کہیں بھی ان سے کرلیا کرتا تھا،
اسی طرح گزشتہ روز مغربی یوپی کے بہت ہی مشہور خطیب طوطئی ہند حضرت مولانا فیروز الدین صاحب کا بھی انتقال پر اظہار تعزیت کیا گیا انہوں نے کہا کہ حضرت والا بالکل نمونہ اسلاف اور ماہر و علم و فن تھے جنہوں نے ایک عرصہ دراز تک امت مسلمہ کو اپنے بیانات کے ذریعے ان کے قلوب کو مجلیٰ و مصفا کرکے آٓج دامان رحمت میں روپوش ہوگئے اور ہزاروں فرزندان توحید کو اپنے فیوض سے محروم کردیا،اللہ رب العزت ان کی قبروں پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور امت مسلمہ کی جانب سے انہیں بہتر بدلہ عطا فرمائے اور آللہ تعالیٰ ان کے جیسے ماہر و علم و فن و فرشتہ صفت انسان پیدا فرمائے
آٓخر میں مفتی صاحب کی رقت آمیز دعا کی گئی اور جملہ مرحومین اکابرین کے لیے دعاء مغفرت مانگی گئی
