غیروں کے ساتھ رسول اکرم ﷺکا سلوک
اثر خامہ۔شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
چھٹی صدی عیسوی کا وہ لمحہ دنیائے انسانیت کے لیے انتہائی مبارک ومسعود اور جاں نواز تھا جس میں سرور کائنات محسن انسانیت ،بیکسوں کے والی،غلاموں کے ملجا وماوی ،بے سہاروں کے سہارا،اور سسکتی ہوئی انسانیت کی مسیحائی کرنے والے پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم بعثت ہوئی، ایک ایسے عہد میں جہاں پوری دنیا ظلم وسفاکیت اور جاہلیت وبربریت کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی ،حیوانیت کی ہر سو حکمرانی تھی ،تمدن وثقافت اور رواداری ومساوات اور انسانی حقوق وفرائض سے جہاں انسان یکسر ناآشنا تھا،
قتل وغارت گری اور طبقاتی تفریق جہاں عروج پر تھی، آپ ﷺنے اپنے آفاقی کردار ، مشفقانہ افعال اور انقلاب انگیز اعمال کے ذریعے قوموں کی اس طرح مسیحائی کی اس طرح ان کے زخموں پر مرہم رکھا، اخوت و مساوات کا وہ پیغام دیا، محبت و ہمدردی اور ایثار و وفا کا وہ تصور عطا کیا ،کہ چشم انسانیت نے اس سے قبل کردار وعمل کا ایسا جاں نواز اور الفت ومحبت سے معمور منظر نہ دیکھا تھا اور نہ اس کے خوبصورت اور صحت مند تصور سے آشنا تھا،
اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری دین اور عالمگیر پیغام ہے'جو تمام دنیا ئے انسانیت کے لیے بھی ہے اور قیامت تک کے لیے بھی۔۔اس کی جامعیت عالمگیریت اور وسعت کے تقاضے کے مطابق خداوند عالم نے اس پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو عملی نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا جس کے استقبال کے لئے کائینات کی محفل سجائی گئی تھی چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں دنیا نے ایثار و قربانی دیکھی، محبت والفت کا دلنواز منظر دیکھا،
اخوت ومساوات اور سخاوت و فیاضی دیکھی، انصاف وعدالت کے ساتھ ساتھ عفو درگذر اور حلم وبرد باری کا مشاہدہ کیا، عہد ووعدے کی پاسداری اور اطاعت ووفاشعاری کے زندہ کرداروں کو ملاحظہ کیا،
ماہ وسال کے لحاظ سے اور قرابت کے اعتبار سے بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقتیں دیکھیں، اپنوں کے ساتھ حسن سلوک کے علاوہ دشمنوں کے ساتھ خیر خواہانہ رویہ دیکھا اور وہ سب کچھ جو انسانیت کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،
آپ ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے انسانیت نے آپ ہی دامن میں عزت پائی،اور اوج ثریا پر پہونچی ،آپ ہی کے سایہ عاطفت میں صدیوں کی مظلوم خواتین کو انصاف ملا،رفعت ملی عصمت حاصل ہوئی، اور آپ ہی ذات سے وابستہ ہوکر بیکسوں غلاموں اور یتیموں کو نہ صرف معاشرے میں وقار ملا بلکہ انہیں تاج شہنشاہی بھی حاصل ہوئی،
دنیا نے بے شمار مصلحین ریفارمر، اور امن کے پیامبر کے اخلاق کا مشاہدہ کیا جنہوں نے اپنے خیر خواہوں اور ہمنواؤں نیز ان کے نظریات سے اتفاق رکھنے والوں کے ساتھ محبت وانصاف کا معاملہ کیا،ان کے حقوق کی پاسداری کی،ان کی خواہشات کا احترام کیا مگر مذکورہ اخلاقی کرداروں سے اوپر اٹھ کر غیروں کے ساتھ محبت والفت کا رویہ صرف پیغمبروں کی خصوصیت ہے'اور اس حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی انتہائی نمایاں اور روشن اور انفرادی شان رکھتی ہے'،
اسلام کی دعوت کے اعلان کے بعد دشمنان اسلام نے کیسی کیسی آپ کو اذیتیں دیں، کس کس حربے سے آپ کو زدوکوب کیا گیا، اس معصوم اور مقدس جسم پر ظلم کے کیسے کیسے طریقے اختیار کئےگئے ، مکہ کے علاوہ مدینہ میں بھی کس طرح آپ کو قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں یہ جہاں ایک علیحدہ موضوع ہے'وہیں ساری دنیا پر اب عیاں بھی ہے' باوجود اس کے آپ کی سیرت بتاتی ہے'کہ سخت سے سخت موڑ پر جہاں حواس ساتھ چھوڑ جاتے ہیں'، بے بسی میں بے ساختہ بددعائیں نکل جایا کرتی ہیں'اس حوصلہ شکن لمحوں میں بھی امت کے متعلق نیک جذبات کے علاوہ اور کوئی جذبہ آپ کے قلب میں پیدانہیں ہوسکا، سو بلا تردد اس کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ امت کی بے پناہ محبت ورحمت کے بغیر اس طرح کے کرداروں کی رونمائی ممکن نہیں ہے' آپ نے دشمنان اسلام کی گالیاں سنیں، ان کے طعنے سنے ،راستے میں پچھائے جانے والے کانٹوں کو سہا پتھروں کو برداشت کیا،قتل کی سازشوں پر خاموشی اختیار کی، الزامات واتہامات کے صدموں کو برداشت کیا،بیٹیوں پر حملے اور اس کے نتیجے میں وفات کے غموں کو برداشت کیا،طائف کی وادیوں میں پتھروں کے زخم سہے وطن کی جدائی کا داغ مفارقت دیکھا،کفار قریش کی عداوتیں دیکھیں یہود ونصاریٰ کے علاوہ منافقین کی غداریوں کا سامنا کیا مگر ان تمام حیوانی کرداروں پر اور غیر انسانی سلوک پر رد عمل کا اظہار تو کیا کرتے کبھی انتقام کا ارداہ بھی آپ نے نہیں کیا،یہی وجہ تھی کہ جس قدر شدت کے ساتھ آپ کی دعوت کی روشنی کو قید کرنے کی کوششیں کی جاتیں اس کی شعاؤں کا دائرہ
اسی قدر تیزی سے پھیلتا جاتا اور جانی دشمنوں کی جماعتیں بکھرتی چلی جاتیں ان کے اراکین میں سے کوئی نہ کوئی حلقہ بگوش اسلام ہوجاتا ،زیر نظر مضمون میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی کرداروں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک اور جانی دشمنوں کے ساتھ عفو درگذر کے علاوہ ان پر احسانات کی صورت میں ستم زدہ اور درندہ صفت انسانیت ۔۔۔اخلاقیات ،سماجیات،عمرانیات اور عبادات کے ہفت آسماں کی ان بلندیوں پر نظر آتی ہے جس کے بعد رفعتوں کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔
*یہودی کی عیادت *
ایک یہودی کا لڑکا آپ کی خدمت کرتا تھا اور وہ روز آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا تھا اچانک کچھ روز سے وہ نظر نہ آیا آپﷺ نے اس کے متعلق دریافت کیا معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے'تو آپ اس کے گھر گئے
اس کو تسلیاں دیں اور اسلام کی دعوت دی اس نے والد کی طرف اجازت کے لئے نظر کی والد نے کہا کہ محمد کی بات مان لو حتی کہ وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوکر اپنی دنیا وآخرت دونوں سنوار لی (بخاری کتاب المرض)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کافر آپ کا مہمان ہوا آپ نے ایک بکری منگوا کر اس کا دودھ نکلوایا اور اس سے ضیافت کی وہ شخص سارا دودھ پی گیا دوسری بکری منگوا کر اس کا دودھ نکلوایا اور پیش کیا یہ بھی اس نے حلق سے اتار لیا تیسری منگوائی اس کا بھی تمام دودھ پی لیا اسی طرح سات بکریاں آپ نے منگوائیں،دوددھ نکلواتے رہے اور وہ پیتا گیا آپ کے چہرے پر ذرا بھی شکن نہ آئی رات گذری صبح ہوئی تو اس کا ذہن آپ کی اس سخاوت اور ضیافت کے اثر سے بدل چکا تھا آپ کی خدمت میں آیا اور مسلمان ہوگیا آپ نے دودھ پیش کیا اس نے نوش کیا دوسری بار پیش کیا گیا تو چونکہ سیراب ہوچکا تھا اس لیے نہ پی سکا (سنن الترمذی کتاب الاطعمہ)
غیروں کے جنازے کا احترام۔
عبدالرحمن ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے جب ان کو بتایا گیا کہ یہ تو ذمیوں میں سے ہیں'اس پر ان حضرات نے کہا کہ یہی تعلیم نبوی ہے'کہ ایک دفعہ آپ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گذرا آپ احتراماً کھڑے ہو گئےآپ کو بتایا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ ہے'اس پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں ہے (صحیح بخاری کتاب الجنائز)
کافروں کے ساتھ ایثار وہمدردی
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو یہود خیبر کی درخواست پر انہیں کاشتکاری کی اجازت دی جب فصل تیار ہوئی تو آپ نے عبداللہ ابن رواحہ کو اصولی کے لئے بھیجا حضرت رواحہ نے کھجوروں پر مشتمل ان فصلوں کی پیداوار کو دو حصوں میں تقسیم کیا،اس پر خوشگوار تعجب میں یہودی کہنے لگے آپ ہمیں ہمارے حصے سے زیادہ دے رہے ہیں ان کے أصول کے مطابق ان کے حصے نصف سے کم ہوتے تھے۔
عبد اللہ ابن رواحہ نے فرمایا نہیں تمہیں ضرور آدھے حصے کو لینا پڑے گا اس لیے کہ تم سے معاہدہ اسی طرح ہوا تھا،اس انسانی رفعت پر وہ بے اختیار بول اٹھے،،ھذا بحق و بہ تقوم السماء والارض،،یہی حق ہے اور اسی سے آسمان وزمین قائم ہیں (سنن ابی داؤد کتاب البیوع)
اسی طرح مکہ مکرمہ میں قحط سالی ہوئی وہاں فاقہ مستی ہر سو پھیل گئی ناچار آپ سے کافروں کے سردار نے دعا کے لئے کہا آپ نے فوراً ان کی درخواست منظور فرمائی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے،نہ آپ نے ان کے مظالم یاد دلائے نہ ان کے جور وستم کا ذکر کیا اخلاق کی یہ نادر مثال آپ ﷺ کے علاوہ اور کہاں مل سکتی ہے'یہ داستان عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے تاریخ میں یوں محفوظ ہے'،،قریش کی مخالفت کی شدت اور مظالم کی انتہا کے باعث اور ان کی اذیت رسانی میں تسلسل کے باعث۔ مکہ مکرمہ میں سخت قحط سالی پیدا ہوگئی بچے اور بڑے بھوک سے مرنے لگے،مردار کی ہڈیاں کھانے کی نوبت آگئی ابو سفیان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا اے محمد۔۔۔آپ صلہ رحمی کا حکم لے کر آئے ہیں اور آپ کی قوم ہلاک ہورہی ہے ان کے واسطے اپنے پروردگار سے دعا کردیں حضور اکرم ﷺکا نے بغرض دعا اپنے ہاتھوں کو دراز کردئیے
دعا قبول ہوئی اور مسلسل سات روز تک بارش ہوتی رہی یہاں اب تکلیف کا سامان بن گئی لوگ پھر آپ کے پاس آئے تاکہ آپ دعا کردیں اور بارش تھم جائے آپ نے دعا کی اے خدا ہمارے ارد گرد بارش کا سلسلہ باقی رکھ اور بادلوں کوہم پر نہ برسا یہ کہنا تھا کہ بادل چھٹ گئے اور ارد گرد کے علاقوں کو سیراب کرنے لگے (بخاری کتاب الاستسقاء)
بدتمیزی پر احسان۔
حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ ہم لوگوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھ جاتے اور باتیں کرتے جب اٹھ کر گھر جانے لگتے تو ہم بھی اپنے گھروں کی راہ لیتے ایک روز حسب معمول مسجد سے نکلے ایک بدو آیا اور اچانک اس نے اس زور سے آپ کی چادر کھینچی کہ آپ کی گردن سرخ ہو گئی آپ نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔کہنے لگا میرے اونٹوں کو غلے سے لاد دے،تیغے پاس جو مال ہے وہ تیرا ہے'نہ تیرے باپ کا ہے'آپ نے فرمایا پہلے میری گردن کا بدلہ دو تب غلہ دیا جائے گا وہ بار بار کہتا رہا خدا کی قسم میں ہرگز بدلہ نہ دوں گا آپ نے اس کے اونٹوں پر جو اور کھجوریں لدوادیں اور کچھ تعرض نہ فرمایا (سیرت النبی جلد دوم ص666)
قریش نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے تھے برا بھلا کہتے تھے ضد سے آپ کو محمد (تعریف کیا گیا) نہیں کہتے تھے بلکہ مذمم(مذمت کیا گیا کہتے تھے) لیکن آپ اس کے جواب میں اپنے دوستوں کو خطاب کرکے صرف اسی قدر فرمایا کرتے تھے تمہیں تعجب نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں کو مجھ سے کیونکر پھیرتا ہے وہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور لعنت بھیجتے ہیں اور میں محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم (صحیح بخاری کتاب المناقب بحوالہ سیرت النبی شبلی نعمانی جلد 2ص 666)
مکہ میں غلہ یمامہ سے آتا تھا یمامہ کے رئیس یہی ثمامہ بن اثال تھے مسلمان ہوکر جب یہ مکہ گئے تو قریش نے تبدیل مذہب پر ان کو طعنہ دیا انھوں نے غصہ سے کہا کہ خدا کی قسم اب رسول اللہ کی اجازت کے بغیر گیہوں کا ایک دانہ نہیں ملے گا اس بندش سے مکہ میں اناج کا کال پڑ گیا آخر گھبرا کر قریش نے اس آستانہ کی طرف رجوع کیا جس سے کوئی سائل کبھی محروم نہیں گیا حضور کو رحم آیا اور کہلا بھیجا کہ بندش اٹھا لو چنانچہ پھر حسب دستور غلہ جانے لگا (سیرت ابن ہشام،سیرت النبی ج 2ص666)
مدینہ منورہ میں جب آپ ایک اسلامی اسٹیٹ کے حاکم بھی تھے اس وقت بھی غیر مسلمین آپ کے ساتھ آپ کے غلاموں کے ساتھ بد اخلاقی اور بد تہذیبی پر اتر آتے،انہیں طعنے دیتے،ذلیل کرنے کی کوششیں کرتے لیکن آپ ان سے نہ انتقام لیتے نہ باز پرس کرتے،حالانکہ اگر آپ چاہتے تو ان کی اچھی سرزنش کرکے ان کے ہوش ٹھکانے کرسکتے تھے لیکن آپ نے ہمیشہ ان بد سلوکیوں اور حیوانی کرداروں پر عفو درگذر گذر سے ہی کام لیا اور اپنے اخلاق کریمانہ سے انہیں عزت بخشی آپ کے چہیتے خادم اور عاشق زار حضرت بلال رضی اللہ عنہ جنہیں اصحاب نبی سیدنا،،کے لقب سے پکارتے تھے ان کے ساتھ ایک مشرک کے سفاکانہ روئے کی داستان میں اخلاق کی اس بلندی کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے
،،آنحضرت کا تمام کاروبار حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا روپیہ پیسہ جو کچھ آتا تھا ان کے پاس رہتا تھا ناداری کی حالت میں وہ بازار سے سودا سلف قرض لاتے اور جب کہیں سے کوئی رقم آجاتی تو اس سے ادا کردیا کرتے ایک دفعہ بازار جارہے تھے ایک مشرک نے دیکھا اس نے کہا تم قرض لیتے ہو مجھ سے لیا کرو انھوں نے قبول کیا۔
ایک دن اذان دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ مشرک چند سوداگروں کے ساتھ آیا اور ان سے کہا۔۔او حبشی۔
انھوں نے اس بدتہذیبی کے جواب میں لبیک کہا۔بولا کچھ خبر ہے'؟
وعدہ کے صرف چار دن رہ گئے ہیں تم نے اس مدت میں قرضہ ادانہ کیا تو تم سے بکریاں چروا کر چھوڑوں گا یہ عشاء پڑھ کر آنحضرت کی خدمت میں آئے اور سارا حال بیان کرکے کہا کہ خزانے میں کچھ نہیں ہے کل وہ مشرک آکے مجھ سے فضیحت کرے گا اس لیے مجھ کو اجازت ہوکہ میں کہیں نکل جاؤں پھر جب قرضہ ادا کرنے کا سامان ہو جائے گا تو واپس آجاؤں گا۔غرض رات کو جاکر سو رہے اور سامان سفر یعنی تھیلا،جوتی ،ڈھال سر کے نیچے رکھ لی
صبح اٹھ کر سفر کا سامان کررہے تھے کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہا آنحضرت نے یاد فرمایا ہے یہ گئے تو دیکھا کہ چار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے دروازے پر کھڑے ہیں آنحضرت نے فرمایا مبارک ہو،یہ اونٹ رئیس فدک نے بھیجے ہیں۔انھوں نے بازار جاکر سب چیزیں فروخت کیں اور مشرک کا قرضہ ادا کرکے مسجد نبویّ آئے اور آنحضرت سے عرض کی کہ سارا قرضہ ادا ہوگیا (مصدر بالا ج 2ص 671)
دشمن جاں کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا رویہ۔
تاریخ انسانی میں غیروں کے ساتھ حسن سلوک کی بے شمار مثالیں مل جائیں گی، اپنوں کے علاوہ پرائے لوگوں اور بیگانوں کے ساتھ اخلاقیات کی تصویریں بھی اعمال وکردار کینوس پر نظر آجائیں گی، مگر وہ کردار اور وہ اخلاق جو اپنے دشمنوں کو بھی عفو درگذر کے ذریعے تکریم کی سوغات دیدے، انتقام کی جگہ ان کے ساتھ احسان وایثار کی بارش کردے صرف محسن کائنات کے ساتھ مخصوص ہے'،کہ وہ افراد جنھوں نے آپ کو قتل کرنے میں،ایذارسانی میں،ستم شعاری میں، آپ کے خلاف سازشوں میں،کسی قسم کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی وہ شرمسار ہو کر آپ کے پاس آئے مگر آپ نے ان کے جرائم کو اس طرح نظر انداز کیا گویا آپ کے ساتھ انھوں نے کچھ کیا ہی نہیں تھا،یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اکثر مجرمین آپ کی خدمت میں اس وقت لائے گئے جب آپ کے ساتھ ایک ملک کی ایک حکومت کی طاقت تھی،آپ کی نگاہ میں ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ان دشمنوں کی فرد جرم ثابت اور واضح تھی آپ چاہتے تو انہیں روئے زمین پر نشان عبرت بنادیا جاتا،مگر آپ کی شان رحمت العالمین کو یہ گوارا نہ ہوا اور ان کے سنگین جرائم کا ان کے سامنے آپ نے ذکر تک نہ کیا،
اور متعدد مواقع پر اصحاب کرام نے اجازت چاہی کہ ان دشمنوں سے سرزمین کو پاک کردیا جائے مگر آپ نے اس کی بالکل اجازت نہیں دی۔
اس لیے یورپی مصنفین کا یہ دعویٰ کہ مظالم کے انتقام پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قدرت ہی نہیں تھی اس لیے دشمنوں سے ان کی جرائم کی سزا اور بدلہ بے معنیٰ ہے'،تاریخ سے ناواقفیت یا عصبیت پر مبنی ہے' کہ مدینہ منورہ میں آپ کی طاقت وقوت پوری شان سے جزیرۃ العرب میں اس طرح ابھری کہ قیصر و کسریٰ تک لرزہ براندام ہوگئے اور اس عہد میں بھی بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے قتل کی سازشیں ہوئیں مگر کسی موقع پر آپ نے تعرض نہیں فرمایا ذیل کے چند واقعات اس کے شاہد ہیں'
،،حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکری کا گوشت دیا جس میں زہر ملا ہوا تھا آپ نے اس میں سے کچھ کھایا فوراً آپ نے صحابہ کرام کو کھانے سے منع کردیا،جب اس عورت کو آپ کے پاس لایا گیا تو آپ کے اصحاب نے کہا کہ اجازت ہو تو ابھی اسے ہم قتل کردیتے ہیں۔فرمایا کہ نہیں،حضرت انس کہتے ہیں آپ کے تالو میں اس زہر کا اثر ہمیشہ رہا (بخاری کتاب المغازی)
عمیر بن وہب آنحضرت کا سخت دشمن تھا مقتولین بدر کے انتقام کے لئے جب سارا قریش بے تاب تھا تو صفوان ابن امیہ نے اس کو بیش قرار انعام کے وعدے پر مدینہ بھیجا تھا کہ چپکے سے جاکر نعوذباللہ آنحضرت کا کام تمام کردے عمیر اپنی تلوار زہر میں بجھا کر مدینہ آیا لیکن وہاں پہونچنے کے ساتھ اس کے تیور دیکھ کر لوگوں نے پہچان لیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ سختی کرنی چاہی لیکن آپ نے منع فرمایا اور اپنے قریب بٹھا کر اس سے باتیں کیں اور اصلی راز ظاہر کردیا یہ سن کر وہ سناٹے میں آگیا لیکن آپ نے اس سے کوئی تعرض نہیں فرمایا یہ دیکھ کر وہ اسلام لایا اور مکہ میں جاکر دعوت اسلام پھیلائی یہ واقعہ 3/ھ کا ہے'(سیرت النبی شبلی نعمانی ج 2/277)
ایک دفعہ ایک غزوہ سے واپس آرہے تھے راہ میں ایک میدان آیا دھوپ تیز تھی لوگوں نے درختوں کے نیچے بستر لگا دیئے آنحضرت نے بھی ایک درخت کے نیچے آرام فرمایا اور تلوار درخت کی شاخ سے لٹکا دی کفار موقع کے منتظر رہتے تھے لوگوں کو غافل دیکھ کر ناگاہ ایک طرف سے ایک بدو نے آکر بے خبری میں تلوار اتار لی دفعتاً آپ بیدار ہوئے تو دیکھا ایک شخص سرہانے کھڑا ہے اور ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں ہے آپ کو بیدار دیکھ کر بولا۔کیوں محمد؟(ﷺ)اب بتاؤ تم کو اس وقت مجھ سے کون بچا سکتا ہے آپ نے فرمایا،،اللہ،،یہ پر اثر آواز سن کر اس نے تلوار نیام میں کرلی اتنے میں صحابہ کرام آگئے آپ نے ان سے واقعہ دہرایا اور بدو سے کسی قسم کا تعرض نہیں فرمایا (بخاری کتاب الجہاد،سیرت النبی جلد دوم)
عبد اللہ بن ابی بن سلول وہ شخص تھا جو عمر بھر منافق رہا اور کوئی موقع اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف خفیہ سازشوں اور اعلامیہ استخفاف واہانت کا ہاتھ سے جانے نہ دیا کفار قریش کے ساتھ اس کی خفیہ خط وکتابت تھی غزوۂ احد میں عین موقع پر اپنے ہمراہیوں کے ساتھ مسلمانوں کی فوج سے الگ ہو گیا واقعہ افک میں حضرت عائشہ پر الزام لگانے والوں میں وہ سب سے آگے تھا لیکن بایں ہمہ اس کی فرد جرم کو رحمت عالم حلم وعفو ہمیشہ دھوتا رہا وہ مراتو آپ نے اس کی مغفرت کی نماز پڑھی اس پر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا۔یارسول اللہ آپ اس کے جنازے کی نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اس نے یہ کہا،یہ کہا، اور یہ کہا۔آپ یہ سن کر متبسم ہوئے اور فرمایا،،ہٹو اے عمر،،جب زیادہ اصرار کیا تو فرمایا،،اگر مجھے یہ اختیار دیا جاتا اور معلوم ہوتا کہ اگر ستر دفعہ میں نماز پڑھوں تو اس کی بخشش ہوسکتی ہے تو میں اس سے بھی زیادہ پڑھتا (مصدر بالا ص 680)
ایک پر امن معاشرے کے لئے اور سماج کی تعمیر کے لئے آپ کا یہ کردار نسخہ کیمیا کی حیثیت رکھتا ہے ہر دور میں معاشرے کی ترقی انہیں کرداروں کی بنیادوں پر وجود پذیر ہوئی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ امت آپ سے محبت کا دعویٰ تو کرتی ہے مگر عبادات کے علاوہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں اخلاقیات کے ان ماہ ونجوم کی طرف نظر نہیں کرتی ہے حالانکہ ایک ایسے ملک میں اور ایسے عہد میں جہاں مذہب کے نام پر نفرت کی سوداگری عروج پر ہو،جہاں نظریاتی کشمکش سے پوری فضا اضطراب کا شکار ہو، جہاں مخصوص فکر کو پورے ملک پر طاقت کے زور پر مسلط کرنے کا عمل پوری شدت سے جاری ہو، جہاں اسلام اور اس تعلیمات کو عالمی پیمانے پر بدنام کرنے کی سازشیں اور اسے صفحہ ہستی سے نابود کرنے کی کوششیں ہر سو پھیل چکی ہوں،وہاں پیغمبر صادق کے اس کردار وعمل کی حیثیت مزید دوچند ہوجاتی ہے، آپ کے صحت مند اور انسانیت ساز اخلاق کی روشنی اور اس کے خوشگوار نتائج کی صداقت یہ کہ رہی ہے کہ آج بھی اگر مجموعی اعتبار سے ان کرداروں کو اپنا لیا گیا انہیں روح میں بسا لیا گیا،انہیں زندگی اور معاشرے کا حصہ قرار دیا گیا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ملک میں نفرت کے شعلے سرد نہ ہوں، عداوتوں کی بدلیاں نہ چھٹیں، محبتیں عام نہ ہوں، اور رواداری کی فضا قائم نہ ہو۔۔
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
اثر خامہ۔شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
چھٹی صدی عیسوی کا وہ لمحہ دنیائے انسانیت کے لیے انتہائی مبارک ومسعود اور جاں نواز تھا جس میں سرور کائنات محسن انسانیت ،بیکسوں کے والی،غلاموں کے ملجا وماوی ،بے سہاروں کے سہارا،اور سسکتی ہوئی انسانیت کی مسیحائی کرنے والے پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم بعثت ہوئی، ایک ایسے عہد میں جہاں پوری دنیا ظلم وسفاکیت اور جاہلیت وبربریت کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی ،حیوانیت کی ہر سو حکمرانی تھی ،تمدن وثقافت اور رواداری ومساوات اور انسانی حقوق وفرائض سے جہاں انسان یکسر ناآشنا تھا،
قتل وغارت گری اور طبقاتی تفریق جہاں عروج پر تھی، آپ ﷺنے اپنے آفاقی کردار ، مشفقانہ افعال اور انقلاب انگیز اعمال کے ذریعے قوموں کی اس طرح مسیحائی کی اس طرح ان کے زخموں پر مرہم رکھا، اخوت و مساوات کا وہ پیغام دیا، محبت و ہمدردی اور ایثار و وفا کا وہ تصور عطا کیا ،کہ چشم انسانیت نے اس سے قبل کردار وعمل کا ایسا جاں نواز اور الفت ومحبت سے معمور منظر نہ دیکھا تھا اور نہ اس کے خوبصورت اور صحت مند تصور سے آشنا تھا،
اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری دین اور عالمگیر پیغام ہے'جو تمام دنیا ئے انسانیت کے لیے بھی ہے اور قیامت تک کے لیے بھی۔۔اس کی جامعیت عالمگیریت اور وسعت کے تقاضے کے مطابق خداوند عالم نے اس پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو عملی نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا جس کے استقبال کے لئے کائینات کی محفل سجائی گئی تھی چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں دنیا نے ایثار و قربانی دیکھی، محبت والفت کا دلنواز منظر دیکھا،
اخوت ومساوات اور سخاوت و فیاضی دیکھی، انصاف وعدالت کے ساتھ ساتھ عفو درگذر اور حلم وبرد باری کا مشاہدہ کیا، عہد ووعدے کی پاسداری اور اطاعت ووفاشعاری کے زندہ کرداروں کو ملاحظہ کیا،
ماہ وسال کے لحاظ سے اور قرابت کے اعتبار سے بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقتیں دیکھیں، اپنوں کے ساتھ حسن سلوک کے علاوہ دشمنوں کے ساتھ خیر خواہانہ رویہ دیکھا اور وہ سب کچھ جو انسانیت کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،
آپ ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے انسانیت نے آپ ہی دامن میں عزت پائی،اور اوج ثریا پر پہونچی ،آپ ہی کے سایہ عاطفت میں صدیوں کی مظلوم خواتین کو انصاف ملا،رفعت ملی عصمت حاصل ہوئی، اور آپ ہی ذات سے وابستہ ہوکر بیکسوں غلاموں اور یتیموں کو نہ صرف معاشرے میں وقار ملا بلکہ انہیں تاج شہنشاہی بھی حاصل ہوئی،
دنیا نے بے شمار مصلحین ریفارمر، اور امن کے پیامبر کے اخلاق کا مشاہدہ کیا جنہوں نے اپنے خیر خواہوں اور ہمنواؤں نیز ان کے نظریات سے اتفاق رکھنے والوں کے ساتھ محبت وانصاف کا معاملہ کیا،ان کے حقوق کی پاسداری کی،ان کی خواہشات کا احترام کیا مگر مذکورہ اخلاقی کرداروں سے اوپر اٹھ کر غیروں کے ساتھ محبت والفت کا رویہ صرف پیغمبروں کی خصوصیت ہے'اور اس حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی انتہائی نمایاں اور روشن اور انفرادی شان رکھتی ہے'،
اسلام کی دعوت کے اعلان کے بعد دشمنان اسلام نے کیسی کیسی آپ کو اذیتیں دیں، کس کس حربے سے آپ کو زدوکوب کیا گیا، اس معصوم اور مقدس جسم پر ظلم کے کیسے کیسے طریقے اختیار کئےگئے ، مکہ کے علاوہ مدینہ میں بھی کس طرح آپ کو قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں یہ جہاں ایک علیحدہ موضوع ہے'وہیں ساری دنیا پر اب عیاں بھی ہے' باوجود اس کے آپ کی سیرت بتاتی ہے'کہ سخت سے سخت موڑ پر جہاں حواس ساتھ چھوڑ جاتے ہیں'، بے بسی میں بے ساختہ بددعائیں نکل جایا کرتی ہیں'اس حوصلہ شکن لمحوں میں بھی امت کے متعلق نیک جذبات کے علاوہ اور کوئی جذبہ آپ کے قلب میں پیدانہیں ہوسکا، سو بلا تردد اس کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ امت کی بے پناہ محبت ورحمت کے بغیر اس طرح کے کرداروں کی رونمائی ممکن نہیں ہے' آپ نے دشمنان اسلام کی گالیاں سنیں، ان کے طعنے سنے ،راستے میں پچھائے جانے والے کانٹوں کو سہا پتھروں کو برداشت کیا،قتل کی سازشوں پر خاموشی اختیار کی، الزامات واتہامات کے صدموں کو برداشت کیا،بیٹیوں پر حملے اور اس کے نتیجے میں وفات کے غموں کو برداشت کیا،طائف کی وادیوں میں پتھروں کے زخم سہے وطن کی جدائی کا داغ مفارقت دیکھا،کفار قریش کی عداوتیں دیکھیں یہود ونصاریٰ کے علاوہ منافقین کی غداریوں کا سامنا کیا مگر ان تمام حیوانی کرداروں پر اور غیر انسانی سلوک پر رد عمل کا اظہار تو کیا کرتے کبھی انتقام کا ارداہ بھی آپ نے نہیں کیا،یہی وجہ تھی کہ جس قدر شدت کے ساتھ آپ کی دعوت کی روشنی کو قید کرنے کی کوششیں کی جاتیں اس کی شعاؤں کا دائرہ
اسی قدر تیزی سے پھیلتا جاتا اور جانی دشمنوں کی جماعتیں بکھرتی چلی جاتیں ان کے اراکین میں سے کوئی نہ کوئی حلقہ بگوش اسلام ہوجاتا ،زیر نظر مضمون میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی کرداروں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک اور جانی دشمنوں کے ساتھ عفو درگذر کے علاوہ ان پر احسانات کی صورت میں ستم زدہ اور درندہ صفت انسانیت ۔۔۔اخلاقیات ،سماجیات،عمرانیات اور عبادات کے ہفت آسماں کی ان بلندیوں پر نظر آتی ہے جس کے بعد رفعتوں کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔
*یہودی کی عیادت *
ایک یہودی کا لڑکا آپ کی خدمت کرتا تھا اور وہ روز آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا تھا اچانک کچھ روز سے وہ نظر نہ آیا آپﷺ نے اس کے متعلق دریافت کیا معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے'تو آپ اس کے گھر گئے
اس کو تسلیاں دیں اور اسلام کی دعوت دی اس نے والد کی طرف اجازت کے لئے نظر کی والد نے کہا کہ محمد کی بات مان لو حتی کہ وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوکر اپنی دنیا وآخرت دونوں سنوار لی (بخاری کتاب المرض)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کافر آپ کا مہمان ہوا آپ نے ایک بکری منگوا کر اس کا دودھ نکلوایا اور اس سے ضیافت کی وہ شخص سارا دودھ پی گیا دوسری بکری منگوا کر اس کا دودھ نکلوایا اور پیش کیا یہ بھی اس نے حلق سے اتار لیا تیسری منگوائی اس کا بھی تمام دودھ پی لیا اسی طرح سات بکریاں آپ نے منگوائیں،دوددھ نکلواتے رہے اور وہ پیتا گیا آپ کے چہرے پر ذرا بھی شکن نہ آئی رات گذری صبح ہوئی تو اس کا ذہن آپ کی اس سخاوت اور ضیافت کے اثر سے بدل چکا تھا آپ کی خدمت میں آیا اور مسلمان ہوگیا آپ نے دودھ پیش کیا اس نے نوش کیا دوسری بار پیش کیا گیا تو چونکہ سیراب ہوچکا تھا اس لیے نہ پی سکا (سنن الترمذی کتاب الاطعمہ)
غیروں کے جنازے کا احترام۔
عبدالرحمن ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے جب ان کو بتایا گیا کہ یہ تو ذمیوں میں سے ہیں'اس پر ان حضرات نے کہا کہ یہی تعلیم نبوی ہے'کہ ایک دفعہ آپ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گذرا آپ احتراماً کھڑے ہو گئےآپ کو بتایا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ ہے'اس پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں ہے (صحیح بخاری کتاب الجنائز)
کافروں کے ساتھ ایثار وہمدردی
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو یہود خیبر کی درخواست پر انہیں کاشتکاری کی اجازت دی جب فصل تیار ہوئی تو آپ نے عبداللہ ابن رواحہ کو اصولی کے لئے بھیجا حضرت رواحہ نے کھجوروں پر مشتمل ان فصلوں کی پیداوار کو دو حصوں میں تقسیم کیا،اس پر خوشگوار تعجب میں یہودی کہنے لگے آپ ہمیں ہمارے حصے سے زیادہ دے رہے ہیں ان کے أصول کے مطابق ان کے حصے نصف سے کم ہوتے تھے۔
عبد اللہ ابن رواحہ نے فرمایا نہیں تمہیں ضرور آدھے حصے کو لینا پڑے گا اس لیے کہ تم سے معاہدہ اسی طرح ہوا تھا،اس انسانی رفعت پر وہ بے اختیار بول اٹھے،،ھذا بحق و بہ تقوم السماء والارض،،یہی حق ہے اور اسی سے آسمان وزمین قائم ہیں (سنن ابی داؤد کتاب البیوع)
اسی طرح مکہ مکرمہ میں قحط سالی ہوئی وہاں فاقہ مستی ہر سو پھیل گئی ناچار آپ سے کافروں کے سردار نے دعا کے لئے کہا آپ نے فوراً ان کی درخواست منظور فرمائی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے،نہ آپ نے ان کے مظالم یاد دلائے نہ ان کے جور وستم کا ذکر کیا اخلاق کی یہ نادر مثال آپ ﷺ کے علاوہ اور کہاں مل سکتی ہے'یہ داستان عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے تاریخ میں یوں محفوظ ہے'،،قریش کی مخالفت کی شدت اور مظالم کی انتہا کے باعث اور ان کی اذیت رسانی میں تسلسل کے باعث۔ مکہ مکرمہ میں سخت قحط سالی پیدا ہوگئی بچے اور بڑے بھوک سے مرنے لگے،مردار کی ہڈیاں کھانے کی نوبت آگئی ابو سفیان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا اے محمد۔۔۔آپ صلہ رحمی کا حکم لے کر آئے ہیں اور آپ کی قوم ہلاک ہورہی ہے ان کے واسطے اپنے پروردگار سے دعا کردیں حضور اکرم ﷺکا نے بغرض دعا اپنے ہاتھوں کو دراز کردئیے
دعا قبول ہوئی اور مسلسل سات روز تک بارش ہوتی رہی یہاں اب تکلیف کا سامان بن گئی لوگ پھر آپ کے پاس آئے تاکہ آپ دعا کردیں اور بارش تھم جائے آپ نے دعا کی اے خدا ہمارے ارد گرد بارش کا سلسلہ باقی رکھ اور بادلوں کوہم پر نہ برسا یہ کہنا تھا کہ بادل چھٹ گئے اور ارد گرد کے علاقوں کو سیراب کرنے لگے (بخاری کتاب الاستسقاء)
بدتمیزی پر احسان۔
حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ ہم لوگوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھ جاتے اور باتیں کرتے جب اٹھ کر گھر جانے لگتے تو ہم بھی اپنے گھروں کی راہ لیتے ایک روز حسب معمول مسجد سے نکلے ایک بدو آیا اور اچانک اس نے اس زور سے آپ کی چادر کھینچی کہ آپ کی گردن سرخ ہو گئی آپ نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔کہنے لگا میرے اونٹوں کو غلے سے لاد دے،تیغے پاس جو مال ہے وہ تیرا ہے'نہ تیرے باپ کا ہے'آپ نے فرمایا پہلے میری گردن کا بدلہ دو تب غلہ دیا جائے گا وہ بار بار کہتا رہا خدا کی قسم میں ہرگز بدلہ نہ دوں گا آپ نے اس کے اونٹوں پر جو اور کھجوریں لدوادیں اور کچھ تعرض نہ فرمایا (سیرت النبی جلد دوم ص666)
قریش نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے تھے برا بھلا کہتے تھے ضد سے آپ کو محمد (تعریف کیا گیا) نہیں کہتے تھے بلکہ مذمم(مذمت کیا گیا کہتے تھے) لیکن آپ اس کے جواب میں اپنے دوستوں کو خطاب کرکے صرف اسی قدر فرمایا کرتے تھے تمہیں تعجب نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں کو مجھ سے کیونکر پھیرتا ہے وہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور لعنت بھیجتے ہیں اور میں محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم (صحیح بخاری کتاب المناقب بحوالہ سیرت النبی شبلی نعمانی جلد 2ص 666)
مکہ میں غلہ یمامہ سے آتا تھا یمامہ کے رئیس یہی ثمامہ بن اثال تھے مسلمان ہوکر جب یہ مکہ گئے تو قریش نے تبدیل مذہب پر ان کو طعنہ دیا انھوں نے غصہ سے کہا کہ خدا کی قسم اب رسول اللہ کی اجازت کے بغیر گیہوں کا ایک دانہ نہیں ملے گا اس بندش سے مکہ میں اناج کا کال پڑ گیا آخر گھبرا کر قریش نے اس آستانہ کی طرف رجوع کیا جس سے کوئی سائل کبھی محروم نہیں گیا حضور کو رحم آیا اور کہلا بھیجا کہ بندش اٹھا لو چنانچہ پھر حسب دستور غلہ جانے لگا (سیرت ابن ہشام،سیرت النبی ج 2ص666)
مدینہ منورہ میں جب آپ ایک اسلامی اسٹیٹ کے حاکم بھی تھے اس وقت بھی غیر مسلمین آپ کے ساتھ آپ کے غلاموں کے ساتھ بد اخلاقی اور بد تہذیبی پر اتر آتے،انہیں طعنے دیتے،ذلیل کرنے کی کوششیں کرتے لیکن آپ ان سے نہ انتقام لیتے نہ باز پرس کرتے،حالانکہ اگر آپ چاہتے تو ان کی اچھی سرزنش کرکے ان کے ہوش ٹھکانے کرسکتے تھے لیکن آپ نے ہمیشہ ان بد سلوکیوں اور حیوانی کرداروں پر عفو درگذر گذر سے ہی کام لیا اور اپنے اخلاق کریمانہ سے انہیں عزت بخشی آپ کے چہیتے خادم اور عاشق زار حضرت بلال رضی اللہ عنہ جنہیں اصحاب نبی سیدنا،،کے لقب سے پکارتے تھے ان کے ساتھ ایک مشرک کے سفاکانہ روئے کی داستان میں اخلاق کی اس بلندی کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے
،،آنحضرت کا تمام کاروبار حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا روپیہ پیسہ جو کچھ آتا تھا ان کے پاس رہتا تھا ناداری کی حالت میں وہ بازار سے سودا سلف قرض لاتے اور جب کہیں سے کوئی رقم آجاتی تو اس سے ادا کردیا کرتے ایک دفعہ بازار جارہے تھے ایک مشرک نے دیکھا اس نے کہا تم قرض لیتے ہو مجھ سے لیا کرو انھوں نے قبول کیا۔
ایک دن اذان دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ مشرک چند سوداگروں کے ساتھ آیا اور ان سے کہا۔۔او حبشی۔
انھوں نے اس بدتہذیبی کے جواب میں لبیک کہا۔بولا کچھ خبر ہے'؟
وعدہ کے صرف چار دن رہ گئے ہیں تم نے اس مدت میں قرضہ ادانہ کیا تو تم سے بکریاں چروا کر چھوڑوں گا یہ عشاء پڑھ کر آنحضرت کی خدمت میں آئے اور سارا حال بیان کرکے کہا کہ خزانے میں کچھ نہیں ہے کل وہ مشرک آکے مجھ سے فضیحت کرے گا اس لیے مجھ کو اجازت ہوکہ میں کہیں نکل جاؤں پھر جب قرضہ ادا کرنے کا سامان ہو جائے گا تو واپس آجاؤں گا۔غرض رات کو جاکر سو رہے اور سامان سفر یعنی تھیلا،جوتی ،ڈھال سر کے نیچے رکھ لی
صبح اٹھ کر سفر کا سامان کررہے تھے کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہا آنحضرت نے یاد فرمایا ہے یہ گئے تو دیکھا کہ چار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے دروازے پر کھڑے ہیں آنحضرت نے فرمایا مبارک ہو،یہ اونٹ رئیس فدک نے بھیجے ہیں۔انھوں نے بازار جاکر سب چیزیں فروخت کیں اور مشرک کا قرضہ ادا کرکے مسجد نبویّ آئے اور آنحضرت سے عرض کی کہ سارا قرضہ ادا ہوگیا (مصدر بالا ج 2ص 671)
دشمن جاں کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا رویہ۔
تاریخ انسانی میں غیروں کے ساتھ حسن سلوک کی بے شمار مثالیں مل جائیں گی، اپنوں کے علاوہ پرائے لوگوں اور بیگانوں کے ساتھ اخلاقیات کی تصویریں بھی اعمال وکردار کینوس پر نظر آجائیں گی، مگر وہ کردار اور وہ اخلاق جو اپنے دشمنوں کو بھی عفو درگذر کے ذریعے تکریم کی سوغات دیدے، انتقام کی جگہ ان کے ساتھ احسان وایثار کی بارش کردے صرف محسن کائنات کے ساتھ مخصوص ہے'،کہ وہ افراد جنھوں نے آپ کو قتل کرنے میں،ایذارسانی میں،ستم شعاری میں، آپ کے خلاف سازشوں میں،کسی قسم کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی وہ شرمسار ہو کر آپ کے پاس آئے مگر آپ نے ان کے جرائم کو اس طرح نظر انداز کیا گویا آپ کے ساتھ انھوں نے کچھ کیا ہی نہیں تھا،یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اکثر مجرمین آپ کی خدمت میں اس وقت لائے گئے جب آپ کے ساتھ ایک ملک کی ایک حکومت کی طاقت تھی،آپ کی نگاہ میں ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ان دشمنوں کی فرد جرم ثابت اور واضح تھی آپ چاہتے تو انہیں روئے زمین پر نشان عبرت بنادیا جاتا،مگر آپ کی شان رحمت العالمین کو یہ گوارا نہ ہوا اور ان کے سنگین جرائم کا ان کے سامنے آپ نے ذکر تک نہ کیا،
اور متعدد مواقع پر اصحاب کرام نے اجازت چاہی کہ ان دشمنوں سے سرزمین کو پاک کردیا جائے مگر آپ نے اس کی بالکل اجازت نہیں دی۔
اس لیے یورپی مصنفین کا یہ دعویٰ کہ مظالم کے انتقام پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قدرت ہی نہیں تھی اس لیے دشمنوں سے ان کی جرائم کی سزا اور بدلہ بے معنیٰ ہے'،تاریخ سے ناواقفیت یا عصبیت پر مبنی ہے' کہ مدینہ منورہ میں آپ کی طاقت وقوت پوری شان سے جزیرۃ العرب میں اس طرح ابھری کہ قیصر و کسریٰ تک لرزہ براندام ہوگئے اور اس عہد میں بھی بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے قتل کی سازشیں ہوئیں مگر کسی موقع پر آپ نے تعرض نہیں فرمایا ذیل کے چند واقعات اس کے شاہد ہیں'
،،حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکری کا گوشت دیا جس میں زہر ملا ہوا تھا آپ نے اس میں سے کچھ کھایا فوراً آپ نے صحابہ کرام کو کھانے سے منع کردیا،جب اس عورت کو آپ کے پاس لایا گیا تو آپ کے اصحاب نے کہا کہ اجازت ہو تو ابھی اسے ہم قتل کردیتے ہیں۔فرمایا کہ نہیں،حضرت انس کہتے ہیں آپ کے تالو میں اس زہر کا اثر ہمیشہ رہا (بخاری کتاب المغازی)
عمیر بن وہب آنحضرت کا سخت دشمن تھا مقتولین بدر کے انتقام کے لئے جب سارا قریش بے تاب تھا تو صفوان ابن امیہ نے اس کو بیش قرار انعام کے وعدے پر مدینہ بھیجا تھا کہ چپکے سے جاکر نعوذباللہ آنحضرت کا کام تمام کردے عمیر اپنی تلوار زہر میں بجھا کر مدینہ آیا لیکن وہاں پہونچنے کے ساتھ اس کے تیور دیکھ کر لوگوں نے پہچان لیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ سختی کرنی چاہی لیکن آپ نے منع فرمایا اور اپنے قریب بٹھا کر اس سے باتیں کیں اور اصلی راز ظاہر کردیا یہ سن کر وہ سناٹے میں آگیا لیکن آپ نے اس سے کوئی تعرض نہیں فرمایا یہ دیکھ کر وہ اسلام لایا اور مکہ میں جاکر دعوت اسلام پھیلائی یہ واقعہ 3/ھ کا ہے'(سیرت النبی شبلی نعمانی ج 2/277)
ایک دفعہ ایک غزوہ سے واپس آرہے تھے راہ میں ایک میدان آیا دھوپ تیز تھی لوگوں نے درختوں کے نیچے بستر لگا دیئے آنحضرت نے بھی ایک درخت کے نیچے آرام فرمایا اور تلوار درخت کی شاخ سے لٹکا دی کفار موقع کے منتظر رہتے تھے لوگوں کو غافل دیکھ کر ناگاہ ایک طرف سے ایک بدو نے آکر بے خبری میں تلوار اتار لی دفعتاً آپ بیدار ہوئے تو دیکھا ایک شخص سرہانے کھڑا ہے اور ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں ہے آپ کو بیدار دیکھ کر بولا۔کیوں محمد؟(ﷺ)اب بتاؤ تم کو اس وقت مجھ سے کون بچا سکتا ہے آپ نے فرمایا،،اللہ،،یہ پر اثر آواز سن کر اس نے تلوار نیام میں کرلی اتنے میں صحابہ کرام آگئے آپ نے ان سے واقعہ دہرایا اور بدو سے کسی قسم کا تعرض نہیں فرمایا (بخاری کتاب الجہاد،سیرت النبی جلد دوم)
عبد اللہ بن ابی بن سلول وہ شخص تھا جو عمر بھر منافق رہا اور کوئی موقع اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف خفیہ سازشوں اور اعلامیہ استخفاف واہانت کا ہاتھ سے جانے نہ دیا کفار قریش کے ساتھ اس کی خفیہ خط وکتابت تھی غزوۂ احد میں عین موقع پر اپنے ہمراہیوں کے ساتھ مسلمانوں کی فوج سے الگ ہو گیا واقعہ افک میں حضرت عائشہ پر الزام لگانے والوں میں وہ سب سے آگے تھا لیکن بایں ہمہ اس کی فرد جرم کو رحمت عالم حلم وعفو ہمیشہ دھوتا رہا وہ مراتو آپ نے اس کی مغفرت کی نماز پڑھی اس پر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا۔یارسول اللہ آپ اس کے جنازے کی نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اس نے یہ کہا،یہ کہا، اور یہ کہا۔آپ یہ سن کر متبسم ہوئے اور فرمایا،،ہٹو اے عمر،،جب زیادہ اصرار کیا تو فرمایا،،اگر مجھے یہ اختیار دیا جاتا اور معلوم ہوتا کہ اگر ستر دفعہ میں نماز پڑھوں تو اس کی بخشش ہوسکتی ہے تو میں اس سے بھی زیادہ پڑھتا (مصدر بالا ص 680)
ایک پر امن معاشرے کے لئے اور سماج کی تعمیر کے لئے آپ کا یہ کردار نسخہ کیمیا کی حیثیت رکھتا ہے ہر دور میں معاشرے کی ترقی انہیں کرداروں کی بنیادوں پر وجود پذیر ہوئی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ امت آپ سے محبت کا دعویٰ تو کرتی ہے مگر عبادات کے علاوہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں اخلاقیات کے ان ماہ ونجوم کی طرف نظر نہیں کرتی ہے حالانکہ ایک ایسے ملک میں اور ایسے عہد میں جہاں مذہب کے نام پر نفرت کی سوداگری عروج پر ہو،جہاں نظریاتی کشمکش سے پوری فضا اضطراب کا شکار ہو، جہاں مخصوص فکر کو پورے ملک پر طاقت کے زور پر مسلط کرنے کا عمل پوری شدت سے جاری ہو، جہاں اسلام اور اس تعلیمات کو عالمی پیمانے پر بدنام کرنے کی سازشیں اور اسے صفحہ ہستی سے نابود کرنے کی کوششیں ہر سو پھیل چکی ہوں،وہاں پیغمبر صادق کے اس کردار وعمل کی حیثیت مزید دوچند ہوجاتی ہے، آپ کے صحت مند اور انسانیت ساز اخلاق کی روشنی اور اس کے خوشگوار نتائج کی صداقت یہ کہ رہی ہے کہ آج بھی اگر مجموعی اعتبار سے ان کرداروں کو اپنا لیا گیا انہیں روح میں بسا لیا گیا،انہیں زندگی اور معاشرے کا حصہ قرار دیا گیا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ملک میں نفرت کے شعلے سرد نہ ہوں، عداوتوں کی بدلیاں نہ چھٹیں، محبتیں عام نہ ہوں، اور رواداری کی فضا قائم نہ ہو۔۔
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
