اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *سپریم کورٹ کا احترام لیکن فیصلہ سے اتفاق نہیں : تمام ثبوتوں اور دلائل کا اعترف کرنے کے باوجود مسجد کی جگہ دوسری کمیونٹی کو دے دی گئی : آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ*

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 9 November 2019

*سپریم کورٹ کا احترام لیکن فیصلہ سے اتفاق نہیں : تمام ثبوتوں اور دلائل کا اعترف کرنے کے باوجود مسجد کی جگہ دوسری کمیونٹی کو دے دی گئی : آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ*

*سپریم کورٹ کا احترام لیکن فیصلہ سے اتفاق نہیں : تمام ثبوتوں اور دلائل کا اعترف کرنے کے باوجود مسجد کی جگہ دوسری کمیونٹی کو دے دی گئی : آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ*
*اسلام میں مسجد کا کوئی بدل نہیں ہوتا ہے ۔ مسجد جس جگہ پر تعمیر ہوجاتی ہے وہاں ہمیشہ رہتی ہے ۔ مسجد کسی کی ملکیت نہیں ہوتی ہے کہ اسے جہاں چاہے منتقل کردیا جائے*
نئی دہلی : 9 ؍ نومبر 2019ء (آئی این اے نیوز)
بابری مسجد ۔ رام مندر تنازع پر دیئے گئے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کرکے بورڈ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مسجد سے متعلق تمام ثبوتوں اور دلیلوں کا اعتراف کیا ہے ۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ 1528ء میں میر باقی نے مسجد کی تعمیر کی تھی ۔ یہ بھی مانا ہے کہ 22/23 دسمبر 1949ء  تک وہاں مسلسل نماز ہوتی رہی ۔ انہوں نے یہ بھی خارج کیا کہ رام مندر توڑ کر مسجد کی تعمیر کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے ۔ اے ایس آئی کی رپورٹ میں جو کچھ تذکرہ ہے وہ صاف نہیں ہے اور نہ ہی اس سے ہندؤوں کے دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے کا یہ کہنا کہ 18ویں صدی تک نماز کا ذکر نہیں ملتا ہے یہ بے بنیاد ہے کیوں کہ جب آپ وہاں مسجد کا اعتراف کررہے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ وہاں نماز ہی ہوگی ، علاوہ ازیں انہوں نے پوجا کا بھی ذکر نہیں کیا ہے ۔ ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ ججز نے تمام دلائل کو تسلیم کیا ہے اس کے باوجود انہوں نے زمین دوسرے فریق کو دے دی ہے اس لئے اس سے ہمیں اتفاق نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ کا ہمیشہ احترام کیا ہے اب بھی کررہے ہیں لیکن فیصلہ سے مطمئن نہیں ہے ۔ نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کے سلسلے میں ہم عاملہ کے ساتھ غور و فکر کریں گے ۔ سینئر وکیل راجیو دھون کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے ۔
ظفر یاب جیلانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسلام میں مسجد کا کوئی بدل نہیں ہوتا ہے ۔ مسجد جس جگہ پر تعمیر ہوجاتی ہے وہاں ہمیشہ رہتی ہے ۔ مسجد کسی کی ملکیت نہیں ہوتی ہے کہ اسے جہاں چاہے منتقل کردیا جائے اس لئے دوسری جگہ پانچ ایکڑ زمین دیئے جانے کا کوئی سوال نہیں بنتا ہے اور نہ ہی یہ فیصلہ کا حصہ ہے ۔