بابری مسجد فیصلہ پر آل انڈیا تحریک عوام ہند کی مسلمانان ہند سے مخلصانہ اپیل.
تحریر مولانا عارف سراج نعمانی صحافی روزنامہ انقلاب و خادم آل انڈیا تحریک عوام ہند........ رجسٹرڈ...................................
آزمائشوں کی اس گھڑی میں مسلمان صبر کا دامن نہ چھوڑیں
نبی علیہ السلام کی سیرت کردار و اخلاق کے ساتھ اسلامی طرز زندگی کو سانچے میں ڈھالیں آپسی اختلافات کو ختم کر باہمی اشتراک و اتحاد کے راہ عمل کو اختیار کرتے ہوئے
.. اپنے ملک و ملت کی بقا و مزہبی تحفظ کے ساتھ اپنی عبادت گاہوں کو آباد کریں اور متحدہ اقدامات پر غور کرتے ہوئے آگے بڑھیں....
آہ مرحوم اے بابری مسجد .......
وہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے........................
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی....................
عزیزان قوم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ....
عرصہ دراز تک چلے بابری مسجد حق ملکیت مقدمہ اور آج سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بابری مسجد سے مسلمانان ہند کو ہمیشہ کے لئے دستبردار کردیا گیا ہے مرحوم بابری مسجد پکار رہی ہے کہ مسلمانان ہند بابری مسجد کی شایان شان ہم اسکی عظمت کو برقرار نہ رکھ سکے لیکن حتی الامکان جد و جہد ضرور کی سب کچھ کیا لیکن بابری مسجد پھر بھی ہمیشہ کے لئے ہم سے لے لی گئی ............
عزیزان قوم ماضی سے لیکر حال تک تاریخ اسلام شاہد ہے مزہب اسلام کردار اخلاق افعال و اعمال سے پھیلا ہے اسلام اور اہل اسلام کے خلاف تیز و تند آندھیوں کفر و ظلمات کے خوفناک اور وحشت ناک حالات اور اسلام کے خلاف حیرت انگیز مناظر کو پیغمبر اسلام رہبر انسانیت شہنشاہ کونوں مکاں محبوب کبریٰ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
سے بہتر کون جانتا ہوگا جوکہ خود تبلیغ اسلام کے لئے ظلم و تشدد اور وحشت ناک حالات سے نمبردآزما ہوئے
شہید اور مرحوم بابری مسجد کے تناظر میں اب کان کھول کر سن لیجئے اے دین اسلام کے متوالو
اور اسوۂ رسول کا مشاہدہ کرو
تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب اللہ کے گھر کعبۃ اللہ میں باطل اور دشمنان اسلام نے تقریباً 360 بت رکھدئیے
(جیساکہ بابری مسجد میں واقعہ رونما ہوا)
اور وہاں اللہ کے گھر کعبۃ اللہ میں بتوں کی پوجا شروع کردی..
(تو سن لیجئیے ).......اسوقت محسن انسانیت پیغبر اسلام نبی علیہ السلام نے کعبۃ اللہ کی بازیابی اور خدا کے گھر کو بتوں سے پاک کرانے کے لئے کیا حکمت اور تدابیر اختیار کیں تاریخ اسلام کی روشنی میں ذرا وہ کان کھول کر سن لیں ........رسول اکرم نے اس المناک سانحہ پر کوئی واویلا نہیں کیا غصہ نہیں کیا حیرت انگیز حالات نہیں بنائے نفرت و عداوت کا مظاہرہ نہیں کیا یہ بھی نہیں کہا کہ یہ کس نے کیا اور کیوں کیا بلکہ ان کفار و مشرکین اور اہل باطل کے سامنے دین کی تبلیغ اور اسلام کی اشاعت شروع کردی حالات انتہائی نازک و ناخوشگوار تھے صبر و استقامت کے دامن کو تھام کر پیارے آقا تیار ہوچکے تھے کہ کس طرح خدا کے گھر کعبۃ اللہ کی بازیابی اور بت خانہ سے اسکو پاک کیا جائے بس اسکے بعد نبی اکرم نے اخلاق کریمانہ کے ایسے موتی برسائے کہ وہ کفار و مشرکین جو دشمنان اسلام اور اسلام کے خلاف سینہ سپر تھے جنہوں نے اللہ کے گھر کعبۃ اللہ میں بتوں کی پوجا شروع کردی تھی وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے نبی اکرم نے انکے دلوں کو پاک کرنے اور اسلام کی محبت اسلام کی چاہت اسلام کی سچائی اور اسلام کی عظمت اسلام کی حقانیت سے انکو روشناس کرایا تو وہ لوگ جو کٹر دشمنان اسلام تھے وہ بت پرستی کو چھوڑ کر دین حق پر آگئیے اور رسول اکرم کے شیدائی بن گئے اور خود کعبۃ اللہ کی بازیابی کیلئے میدان میں آگئے تو اس طرح کفر و ظلمات کا خاتمہ ہوگیا اور کعبۃ اللہ کی حفاظت بھی ہوگئی...................... ٹھیک اسی طرح جب وہی حالات بابری مسجد میں رونما ہوئے اور وہاں پر مورتیاں رکھ کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہاں رام للا پیدا ہوئے....................... تو پھر کیا تھا ہندوستانی مسلمان انتہائی مضطرب بے چین و پریشان ہوکر چیخ اٹھے اس قدر چیخ اٹھے کہ انکی چیخ و پکار پورے ملک میں جلوسوں اور پروگراموں کی شکل میں پھیل گئی خود تو ہوش کے ناخن نہیں لے سکے لیکن یہ ہوا کہ کل تک جو لوگ سوئے ہوئے تھے اور انہیں خود یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمارے رام للا کی جائے پیدائش کونسی ہے وہ جاگ گئے اور اس جگہ پوری قوت ارادی کے ساتھ رام مندر کا خواب دیکھنے لگے نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دین اسلام کے متوالے نبی اکرم کے دیوانے انکی عقل پر پردا پڑگیا ایسے عبرتناک ماحول میں کہ جب انہیں لوگوں کے دلوں کو پاک کرنا تھا اسلام کی صحیح اور سچی تصویر اور مثبت اخلاو و کردار یعنی نبی اکرم کا آئیڈیل برادران وطن کے سامنے پیش کرنا تھا ایسی نازک صورتحال میں وہ اسوۂ رسول پیغبر اسلام کا طرز عمل اور تاریخ اسلام کو بھول گئے اور خود غرض سیاست سازشوں اور اسلام دشمن عناصر کے ہتھکنڈوں کا شکار ہوگئے جیساکہ ان سے چاہا جارہا تھا حاصل یہ ہے کہ اسلام کی روشنی میں اور نبی اکرم کے اخلاق کریمانہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جو تحریک مسلمانوں کو شروع کرنی تھی اخلاقی اور تبلیغی تحریک یعنی اسلام کی سچی ترجمانی اور لوگوں کے دلوں کو پاک کرنے کیلئے جن اقدامات پر غور کرنا تھا وہ سب عقل سے سلب ہوگیا اور پھر دین اسلام سے اتنی بے راہ روی کا شکار ہوگئے کہ اپنے گھر اور محلوں کی مسجدوں کو آباد کرنا بھی دشوار ہوگیا مسلمانوں کی دین اسلام سے دوری اور نا عاقبت اندیشی اتنی حد سے زیادہ متجاوز کرگئی کہ وہ ایک بابری مسجد کی بابزیابی کے بے ترتیب اور جزباتی اقدامات کے عوض ہزاروں
مسلم کش فسادات کے ذریعہ انہیں اپنی جان گنوانی پڑی ہزاروں ماؤں بہنوں بچوں اور بوڑھوں کی جان و عزت کو نیلام و پامال کیا جانے لگا اور اب اس تاریخی غلطی کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے کہ بابری مسجد جسکو شہید کردیا گیا تھا اب وہ شہید ہونے کے ساتھ ساتھ مرحوم ہوگئی اور ہم کو ہمیشہ کے لئے اس سے دستبردار کردیا گیا ..............مسلمانوں لمحہ فکریہ ہے ہمارے لئے سنمبھل جاؤ یقینی طور پر یہ ہمارے لئے آزمائشوں کی گھڑی ہے آزمائش کی اس گھڑی میں مسلمان صبر کا دامن نہ چھوڑیں ہمارے علماء رہبران قوم نے بابری مسجد کی بازیابی کیلئے جو کچھ اقدامات کرنے تھے سب کچھ کئیے لیکن ہماری بد اعمالیوں بد اخلاقیوں اور اسوۂ رسول اکرم اور اسلامی طرز زندگی سے روگردانیوں برسرپیکار احکام خدا وندی کے خلاف سرگرمیوں کی بناپر آج ہم سے بابری مسجد ہمیشہ کے لئے چھن گئی ..........اس لئے اسباب اور محاسبہ کرنے کی گھڑی ہے اے دین اسلام کے متوالوں اللہ کے گھروں کو آباد کرو دین اسلام کی صحیح ترجمانی نبی جیسے کردار و اخلاق برادران وطن کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ اپنے اخلاق حالات معاملات معاشرت نیز خالی پڑے دعوت و تبلیغ کے فکری اور عملی میدان میں سرگرم ہوجاؤ نبی اکرم کی سنت و سیرت نیز شریعت اسلامیہ کو زندگی کے سانچے میں ڈھال لو آپسی اختلافات کو ہمیشہ کے لئے ختم کر باہمی اشتراک و اتحاد کے راہ عمل کو اختیار کرتے ہوئے اپنے ملک و ملت کی فلاح و بقا و مزہبی تحفظ کے ساتھ اپنی درسگاہوں اور عبادت گاہوں کو آباد کرو
(نوٹ ) مسلمان یہ یاد رکھیں کہ مزہبی شناخت کی بحالی اسلامی تشخص کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ پر بھی مستحکم ہوں عل الاعلان کسی کی موافقت حمایت یا مخالفت نہ کریں بلکہ حکمت و دانائی سے خالے پڑے اس میدان کو پر کرنے کا عزم مسمم کرلیں یہی عمل ہمارے قائدین ملت کا بھی ہونا چاہئے تاکہ مظلوم بے سہارا و پریشان حال ملت کی ہر میدان میں مستحکم قیادت و راہنمائی کی جاسکے ...............
خلاصہ یہ ہے کہ حکمت عملی کے ساتھ متحدہ اقدامات کے ذریعہ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں ہمارے اکابر علماء کرام رہبران قوم ہماری تمام بڑی اور چھوٹی ملی فلاحی و سماجی تنظیمیں متحد ہوکر سرجوڑ کر بیٹھیں قوم کا سرمایہ ملت اسلامیہ کے سرکے تاج ائمہ عظام منمبر و محراب سے اوپر اٹھ کر نبی اکرم علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی اس تڑپتی ملت کی ذمہ داری و دین اسلام کی بقاء اور سربلندی کے عملی اقدامات پر غور کرتے ہوئے اپنے فرض منصبی اور رہبری کے نیک فریضہ کو انجام دینے کے لئے میدان عمل میں نکل جائیں..........
فقط والسلام خدا آپکا حامی و ناصر ہو.........
آپکا مخلص
خیر اندیش ....مولانا عارف سراج نعمانی صحافی روزنامہ انقلاب و خادم آل انڈیا تحریک عوام ہند........9718736768:::
تحریر مولانا عارف سراج نعمانی صحافی روزنامہ انقلاب و خادم آل انڈیا تحریک عوام ہند........ رجسٹرڈ...................................
آزمائشوں کی اس گھڑی میں مسلمان صبر کا دامن نہ چھوڑیں
نبی علیہ السلام کی سیرت کردار و اخلاق کے ساتھ اسلامی طرز زندگی کو سانچے میں ڈھالیں آپسی اختلافات کو ختم کر باہمی اشتراک و اتحاد کے راہ عمل کو اختیار کرتے ہوئے
.. اپنے ملک و ملت کی بقا و مزہبی تحفظ کے ساتھ اپنی عبادت گاہوں کو آباد کریں اور متحدہ اقدامات پر غور کرتے ہوئے آگے بڑھیں....
آہ مرحوم اے بابری مسجد .......
وہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے........................
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی....................
عزیزان قوم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ....
عرصہ دراز تک چلے بابری مسجد حق ملکیت مقدمہ اور آج سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بابری مسجد سے مسلمانان ہند کو ہمیشہ کے لئے دستبردار کردیا گیا ہے مرحوم بابری مسجد پکار رہی ہے کہ مسلمانان ہند بابری مسجد کی شایان شان ہم اسکی عظمت کو برقرار نہ رکھ سکے لیکن حتی الامکان جد و جہد ضرور کی سب کچھ کیا لیکن بابری مسجد پھر بھی ہمیشہ کے لئے ہم سے لے لی گئی ............
عزیزان قوم ماضی سے لیکر حال تک تاریخ اسلام شاہد ہے مزہب اسلام کردار اخلاق افعال و اعمال سے پھیلا ہے اسلام اور اہل اسلام کے خلاف تیز و تند آندھیوں کفر و ظلمات کے خوفناک اور وحشت ناک حالات اور اسلام کے خلاف حیرت انگیز مناظر کو پیغمبر اسلام رہبر انسانیت شہنشاہ کونوں مکاں محبوب کبریٰ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
سے بہتر کون جانتا ہوگا جوکہ خود تبلیغ اسلام کے لئے ظلم و تشدد اور وحشت ناک حالات سے نمبردآزما ہوئے
شہید اور مرحوم بابری مسجد کے تناظر میں اب کان کھول کر سن لیجئے اے دین اسلام کے متوالو
اور اسوۂ رسول کا مشاہدہ کرو
تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب اللہ کے گھر کعبۃ اللہ میں باطل اور دشمنان اسلام نے تقریباً 360 بت رکھدئیے
(جیساکہ بابری مسجد میں واقعہ رونما ہوا)
اور وہاں اللہ کے گھر کعبۃ اللہ میں بتوں کی پوجا شروع کردی..
(تو سن لیجئیے ).......اسوقت محسن انسانیت پیغبر اسلام نبی علیہ السلام نے کعبۃ اللہ کی بازیابی اور خدا کے گھر کو بتوں سے پاک کرانے کے لئے کیا حکمت اور تدابیر اختیار کیں تاریخ اسلام کی روشنی میں ذرا وہ کان کھول کر سن لیں ........رسول اکرم نے اس المناک سانحہ پر کوئی واویلا نہیں کیا غصہ نہیں کیا حیرت انگیز حالات نہیں بنائے نفرت و عداوت کا مظاہرہ نہیں کیا یہ بھی نہیں کہا کہ یہ کس نے کیا اور کیوں کیا بلکہ ان کفار و مشرکین اور اہل باطل کے سامنے دین کی تبلیغ اور اسلام کی اشاعت شروع کردی حالات انتہائی نازک و ناخوشگوار تھے صبر و استقامت کے دامن کو تھام کر پیارے آقا تیار ہوچکے تھے کہ کس طرح خدا کے گھر کعبۃ اللہ کی بازیابی اور بت خانہ سے اسکو پاک کیا جائے بس اسکے بعد نبی اکرم نے اخلاق کریمانہ کے ایسے موتی برسائے کہ وہ کفار و مشرکین جو دشمنان اسلام اور اسلام کے خلاف سینہ سپر تھے جنہوں نے اللہ کے گھر کعبۃ اللہ میں بتوں کی پوجا شروع کردی تھی وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے نبی اکرم نے انکے دلوں کو پاک کرنے اور اسلام کی محبت اسلام کی چاہت اسلام کی سچائی اور اسلام کی عظمت اسلام کی حقانیت سے انکو روشناس کرایا تو وہ لوگ جو کٹر دشمنان اسلام تھے وہ بت پرستی کو چھوڑ کر دین حق پر آگئیے اور رسول اکرم کے شیدائی بن گئے اور خود کعبۃ اللہ کی بازیابی کیلئے میدان میں آگئے تو اس طرح کفر و ظلمات کا خاتمہ ہوگیا اور کعبۃ اللہ کی حفاظت بھی ہوگئی...................... ٹھیک اسی طرح جب وہی حالات بابری مسجد میں رونما ہوئے اور وہاں پر مورتیاں رکھ کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہاں رام للا پیدا ہوئے....................... تو پھر کیا تھا ہندوستانی مسلمان انتہائی مضطرب بے چین و پریشان ہوکر چیخ اٹھے اس قدر چیخ اٹھے کہ انکی چیخ و پکار پورے ملک میں جلوسوں اور پروگراموں کی شکل میں پھیل گئی خود تو ہوش کے ناخن نہیں لے سکے لیکن یہ ہوا کہ کل تک جو لوگ سوئے ہوئے تھے اور انہیں خود یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمارے رام للا کی جائے پیدائش کونسی ہے وہ جاگ گئے اور اس جگہ پوری قوت ارادی کے ساتھ رام مندر کا خواب دیکھنے لگے نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دین اسلام کے متوالے نبی اکرم کے دیوانے انکی عقل پر پردا پڑگیا ایسے عبرتناک ماحول میں کہ جب انہیں لوگوں کے دلوں کو پاک کرنا تھا اسلام کی صحیح اور سچی تصویر اور مثبت اخلاو و کردار یعنی نبی اکرم کا آئیڈیل برادران وطن کے سامنے پیش کرنا تھا ایسی نازک صورتحال میں وہ اسوۂ رسول پیغبر اسلام کا طرز عمل اور تاریخ اسلام کو بھول گئے اور خود غرض سیاست سازشوں اور اسلام دشمن عناصر کے ہتھکنڈوں کا شکار ہوگئے جیساکہ ان سے چاہا جارہا تھا حاصل یہ ہے کہ اسلام کی روشنی میں اور نبی اکرم کے اخلاق کریمانہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جو تحریک مسلمانوں کو شروع کرنی تھی اخلاقی اور تبلیغی تحریک یعنی اسلام کی سچی ترجمانی اور لوگوں کے دلوں کو پاک کرنے کیلئے جن اقدامات پر غور کرنا تھا وہ سب عقل سے سلب ہوگیا اور پھر دین اسلام سے اتنی بے راہ روی کا شکار ہوگئے کہ اپنے گھر اور محلوں کی مسجدوں کو آباد کرنا بھی دشوار ہوگیا مسلمانوں کی دین اسلام سے دوری اور نا عاقبت اندیشی اتنی حد سے زیادہ متجاوز کرگئی کہ وہ ایک بابری مسجد کی بابزیابی کے بے ترتیب اور جزباتی اقدامات کے عوض ہزاروں
مسلم کش فسادات کے ذریعہ انہیں اپنی جان گنوانی پڑی ہزاروں ماؤں بہنوں بچوں اور بوڑھوں کی جان و عزت کو نیلام و پامال کیا جانے لگا اور اب اس تاریخی غلطی کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے کہ بابری مسجد جسکو شہید کردیا گیا تھا اب وہ شہید ہونے کے ساتھ ساتھ مرحوم ہوگئی اور ہم کو ہمیشہ کے لئے اس سے دستبردار کردیا گیا ..............مسلمانوں لمحہ فکریہ ہے ہمارے لئے سنمبھل جاؤ یقینی طور پر یہ ہمارے لئے آزمائشوں کی گھڑی ہے آزمائش کی اس گھڑی میں مسلمان صبر کا دامن نہ چھوڑیں ہمارے علماء رہبران قوم نے بابری مسجد کی بازیابی کیلئے جو کچھ اقدامات کرنے تھے سب کچھ کئیے لیکن ہماری بد اعمالیوں بد اخلاقیوں اور اسوۂ رسول اکرم اور اسلامی طرز زندگی سے روگردانیوں برسرپیکار احکام خدا وندی کے خلاف سرگرمیوں کی بناپر آج ہم سے بابری مسجد ہمیشہ کے لئے چھن گئی ..........اس لئے اسباب اور محاسبہ کرنے کی گھڑی ہے اے دین اسلام کے متوالوں اللہ کے گھروں کو آباد کرو دین اسلام کی صحیح ترجمانی نبی جیسے کردار و اخلاق برادران وطن کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ اپنے اخلاق حالات معاملات معاشرت نیز خالی پڑے دعوت و تبلیغ کے فکری اور عملی میدان میں سرگرم ہوجاؤ نبی اکرم کی سنت و سیرت نیز شریعت اسلامیہ کو زندگی کے سانچے میں ڈھال لو آپسی اختلافات کو ہمیشہ کے لئے ختم کر باہمی اشتراک و اتحاد کے راہ عمل کو اختیار کرتے ہوئے اپنے ملک و ملت کی فلاح و بقا و مزہبی تحفظ کے ساتھ اپنی درسگاہوں اور عبادت گاہوں کو آباد کرو
(نوٹ ) مسلمان یہ یاد رکھیں کہ مزہبی شناخت کی بحالی اسلامی تشخص کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ پر بھی مستحکم ہوں عل الاعلان کسی کی موافقت حمایت یا مخالفت نہ کریں بلکہ حکمت و دانائی سے خالے پڑے اس میدان کو پر کرنے کا عزم مسمم کرلیں یہی عمل ہمارے قائدین ملت کا بھی ہونا چاہئے تاکہ مظلوم بے سہارا و پریشان حال ملت کی ہر میدان میں مستحکم قیادت و راہنمائی کی جاسکے ...............
خلاصہ یہ ہے کہ حکمت عملی کے ساتھ متحدہ اقدامات کے ذریعہ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں ہمارے اکابر علماء کرام رہبران قوم ہماری تمام بڑی اور چھوٹی ملی فلاحی و سماجی تنظیمیں متحد ہوکر سرجوڑ کر بیٹھیں قوم کا سرمایہ ملت اسلامیہ کے سرکے تاج ائمہ عظام منمبر و محراب سے اوپر اٹھ کر نبی اکرم علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی اس تڑپتی ملت کی ذمہ داری و دین اسلام کی بقاء اور سربلندی کے عملی اقدامات پر غور کرتے ہوئے اپنے فرض منصبی اور رہبری کے نیک فریضہ کو انجام دینے کے لئے میدان عمل میں نکل جائیں..........
فقط والسلام خدا آپکا حامی و ناصر ہو.........
آپکا مخلص
خیر اندیش ....مولانا عارف سراج نعمانی صحافی روزنامہ انقلاب و خادم آل انڈیا تحریک عوام ہند........9718736768:::
