حالات سے نہ گھبرائیں! حالات احکام سے بدل سکتے ہیں حکاّم سے نہیں! مولانا کلیم صدیقی
رپورٹ: محمد دلشاد قاسمی
امین نگر سرائے/ باغپت14 نومبر 2019 آئی این اے نیوز)
قصبہ آمین نگر سرائے کے مدرسہ فیض العلوم میں تشریف لائے داعی اسلام حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب پھلت نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات کے بارے میں اور بابری مسجد کے فیصلے کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم غم نہ منائیں بلکہ اپنے اعمال پر غور کریں،ورنہ جیسا پیارا ملک اپنا ملک ہندوستان ہے ویسا تو سعودی عرب بھی نہیں ہے،بس یہ الگ بات کہ وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک ہے اور کعبہ شریف ہے اور دیگر خصوصیات حاصل ہونے کی وجہ سے اعلی ملک ہے مگر جیسی اٰزادی ہر اعتبار سے اپنے ملک ہندوستان میں حاصل ہے وہ کہیں ہمیں نظر نہیں اٰتی،اور ہمارے اکابرین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے حضرت مولانا ابوالکلام آزاد،حضرت شیخ الہند،حضرت شیخ الاسلام،اور حضرت شیخ الحدیث رحہم اللہ کی دین ہے جو اٰج ہمیں ایسا پاکیزہ اور ہر اعتبار سے خوشگوار ملک ملا ہے،رہی بات فسادات کی وہ تو صرف اور صرف غلط فہمی کا نتیجہ ہوتا ہے،اور یہ تو جب بھائی بھائی میں ہوتی ہے تو یہ اپنے رشتے کا ہی خون کربیٹھتا ہے،بلکہ اس بھی اور کچھ اٰگے جو کرسکتا ہے وہ کرتا ہے،
اصل یہی ہے کہ ہم اپنے ان ناسمجھ بھائیوں تک دین کی صحیح معنوں میں دعوت پہونچائیں تو انشاء اللہ جو اٰج مسجد گرانے کی بات کرتے ہیں،یا مسلمانوں کو نقصانات پہونچانے کا ارادہ کرتے وہ ہی ان مسجدوں اور مسلمانوں کے محافظ بن جائیں گے،ہم سیرت نبوی کو پڑھے اور اس کو اپنی زندگیوں میں لائے اور جو تعلیمات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کو صحیح طرح مکمل طور سے اپنی زندگیوں میں داخل کرلیں پھر دیکھنا یہ کیسے اسلام مذہب کی طرف راغب ہوتے ہیں اور یہ خود چل کر اٰکر مذہب اسلام کو اپنانے کی کوشش کریں گے،
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی فسادی تنظیم یا فسادی لیڈر یہ نہیں کہتا کہ تم اپنے بچوں کو تعلیم نہ دلادو اور جہیز اور بیاہ شادی میں خوب خرچ کرو،بلکہ یہ سب ہم خود اپنی بے دینی کا اظہار کرتے ہوئے انجام دیتے ہیں تو اس لیے ہمیں بیدار ہونے کی سخت ضرورت ہے کہ ہم اپنی اولاد تعلیم حاصل کرانے میں پیسہ خرچ کریں،بیاہ شادیوں کو اٰسانی کے ساتھ مکمل کرلیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اہل اللہ کی صحبت اور آللہ کے ذکر کو اپنے اوپر لازم کرلیں،اور اپنی زندگی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق گزاریں،ورنہ یہ زندگی تو ختم ہوئے جاہی رہی ہے،
بیان کے بعد مولانا نے کثیر تعداد میں موجود حاضرین کو بیعت بھی کیا اور حضرت ہی کی رقت آمیز دعا مجلس کا اختتام ہوا،اس موقع پر حضرت مولانا محمد حسین صاحب ناظم مدرسہ ھٰذا نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا،اس موقع پر قاری عثمان،قاری ندیم رحیمی،حضرت مولانا محمد ضمیر حسن صاحب،حضرت مولانا محمد ھارون صاحب مہتمم مدرسہ اشرف العلوم لوہارہ،حضرت مولانا عبد الباسط صاحب تلپنی،قاری محمد سلیمان سنگھاولی،اور اٰس پاس اورقصبہ کے بڑی تعداد میں فرزندان توحید موجود رہے
رپورٹ: محمد دلشاد قاسمی
امین نگر سرائے/ باغپت14 نومبر 2019 آئی این اے نیوز)
قصبہ آمین نگر سرائے کے مدرسہ فیض العلوم میں تشریف لائے داعی اسلام حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب پھلت نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات کے بارے میں اور بابری مسجد کے فیصلے کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم غم نہ منائیں بلکہ اپنے اعمال پر غور کریں،ورنہ جیسا پیارا ملک اپنا ملک ہندوستان ہے ویسا تو سعودی عرب بھی نہیں ہے،بس یہ الگ بات کہ وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک ہے اور کعبہ شریف ہے اور دیگر خصوصیات حاصل ہونے کی وجہ سے اعلی ملک ہے مگر جیسی اٰزادی ہر اعتبار سے اپنے ملک ہندوستان میں حاصل ہے وہ کہیں ہمیں نظر نہیں اٰتی،اور ہمارے اکابرین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے حضرت مولانا ابوالکلام آزاد،حضرت شیخ الہند،حضرت شیخ الاسلام،اور حضرت شیخ الحدیث رحہم اللہ کی دین ہے جو اٰج ہمیں ایسا پاکیزہ اور ہر اعتبار سے خوشگوار ملک ملا ہے،رہی بات فسادات کی وہ تو صرف اور صرف غلط فہمی کا نتیجہ ہوتا ہے،اور یہ تو جب بھائی بھائی میں ہوتی ہے تو یہ اپنے رشتے کا ہی خون کربیٹھتا ہے،بلکہ اس بھی اور کچھ اٰگے جو کرسکتا ہے وہ کرتا ہے،
اصل یہی ہے کہ ہم اپنے ان ناسمجھ بھائیوں تک دین کی صحیح معنوں میں دعوت پہونچائیں تو انشاء اللہ جو اٰج مسجد گرانے کی بات کرتے ہیں،یا مسلمانوں کو نقصانات پہونچانے کا ارادہ کرتے وہ ہی ان مسجدوں اور مسلمانوں کے محافظ بن جائیں گے،ہم سیرت نبوی کو پڑھے اور اس کو اپنی زندگیوں میں لائے اور جو تعلیمات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کو صحیح طرح مکمل طور سے اپنی زندگیوں میں داخل کرلیں پھر دیکھنا یہ کیسے اسلام مذہب کی طرف راغب ہوتے ہیں اور یہ خود چل کر اٰکر مذہب اسلام کو اپنانے کی کوشش کریں گے،
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی فسادی تنظیم یا فسادی لیڈر یہ نہیں کہتا کہ تم اپنے بچوں کو تعلیم نہ دلادو اور جہیز اور بیاہ شادی میں خوب خرچ کرو،بلکہ یہ سب ہم خود اپنی بے دینی کا اظہار کرتے ہوئے انجام دیتے ہیں تو اس لیے ہمیں بیدار ہونے کی سخت ضرورت ہے کہ ہم اپنی اولاد تعلیم حاصل کرانے میں پیسہ خرچ کریں،بیاہ شادیوں کو اٰسانی کے ساتھ مکمل کرلیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اہل اللہ کی صحبت اور آللہ کے ذکر کو اپنے اوپر لازم کرلیں،اور اپنی زندگی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق گزاریں،ورنہ یہ زندگی تو ختم ہوئے جاہی رہی ہے،
بیان کے بعد مولانا نے کثیر تعداد میں موجود حاضرین کو بیعت بھی کیا اور حضرت ہی کی رقت آمیز دعا مجلس کا اختتام ہوا،اس موقع پر حضرت مولانا محمد حسین صاحب ناظم مدرسہ ھٰذا نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا،اس موقع پر قاری عثمان،قاری ندیم رحیمی،حضرت مولانا محمد ضمیر حسن صاحب،حضرت مولانا محمد ھارون صاحب مہتمم مدرسہ اشرف العلوم لوہارہ،حضرت مولانا عبد الباسط صاحب تلپنی،قاری محمد سلیمان سنگھاولی،اور اٰس پاس اورقصبہ کے بڑی تعداد میں فرزندان توحید موجود رہے
