اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *ملت کے قائدین سےایک درمندانہ اپیل* *19 دسمبر کو ہم کیا کر سکتے ہیں* *عادل عفان* ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 16 December 2019

*ملت کے قائدین سےایک درمندانہ اپیل* *19 دسمبر کو ہم کیا کر سکتے ہیں* *عادل عفان* ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

*ملت کے قائدین سےایک درمندانہ اپیل*

*19 دسمبر کو ہم کیا کر سکتے ہیں*

*عادل عفان*
ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

مولانا رابع صاحب، مولانا ولی رحمانی صاحب، مولانا ارشد مدنی صاحب، مولانا توقیر رضا صاحب، مولانا اصغر علی صاحب، مولانا سعادت اللہ حسینی، مولانا کلب جواد صاحب

اس وقت ملت کے افراد جس اضطرابی کیفیت سے گزر رہے ہیں، شاید آپ ان سے بخوبی واقف ہیں، ہر شخص بےچینی کے عالم میں ہے۔ مستقبل کے تئیں فکر مند ہے۔ کوئی اپنے بوڑھے والدین کے بارے میں سوچ رہا ہے تو کسی کو اپنی اہلیہ اور ننھے بچوں کی فکر دامن گیر ہے، لیکن انہیں کوئی دلاسہ دینے والا نہیں۔ وہ اس وقت جنگ میں بھٹکتے بچھڑے ہوئے بچے کی مانند ہےجو ہر شخص سے اپنے والدین کے بارے میں سوال کرتا ہے اور ہر شخص اسے دلاسا تو دیتا ہے لیکن اسے تشفی بخش جواب نہیں ملتا۔ کچھ ایسی ہی حالت ملت کے افراد کی ہے وہ بے چینی کے عالم میں ہر ایرے غیرے لیڈر کے پیچھے چل پڑتے ہیں لیکن اس کا کچھ نتیجہ نہیں نکلتا ہے، اور احتجاج ناکام ہو جاتا ہے۔

اس وقت امت کو قیادت کے فقدان کا شدت سے احساس ہو رہاہے، تمام لوگوں کی نگاہیں آپ پر ٹکی ہوئیں تھیں لیکن انہیں مایوسی ہاتھ لگی۔ جامعہ ملیہ کے طلباء نے پر امن احتجاج کرنا چاہا لیکن اچانک پولیس کی بربریت نے ماحول کو جنگ کے میدان میں تبدیل کردیا۔ اس دن کا منظر اب بھی میرے نظر کے سامنے گردش کر رہا ہے، پولیس کی بربریت نے بھیڑ کو تتر بتر کردیا اب طلباء کے پاس نہ کوئی قائد ہے اور نہ کوئی لائحہ عمل جس سے آگے کی پلانگ کی جائے۔ جامعہ میں قیادت کی فقدان کی وجہ سے ہر شخص قیادت کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ بھیڑ کو سنبھال نہیں پارہا ہے۔

ہر شخص کا دل کچھ کرنے کے جذبہ سے لبریز ہے۔ لیکن اسے راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔ ایسی حالت میں آخر کیا کیا جائے۔ کیا یہ ممکن ہے آپ تمام لوگ سارے گلے شکوے بھلا کے فقہی مسائل کو درکنار کرکے ایک پلیٹ فارم پر آسکتے ہیں، کیونکہ حراستی کیمپ میں مذہبی بنیاد پر تفریق نہیں کی جائےگی ۔ میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپکی اپنی کمیونٹی میں اعتماد اور عزت میں کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ عوام کے درمیان آپکے وقار اور عزت میں اضافہ ہی ہوگا۔

*لائحہ عمل*
اس سلسلے میں لائحہ عمل کیا ہو، تقریبا پچاس سے زیادہ ملی تنظیموں نے 19 دسمبر کو عظیم احتجاج کا اعلان کیا ہے، 19 دسمبر کی تاریخ اس لیے طئے کی گئی کہ اسی دن اشفاق اللہ خان اور رام پرساد بسمل نے ملک کی خاطر جام شہادت نوش کیا تھا، اس عظیم مارچ میں مسلم اور غیر مسلم دونوں نے ملک کو بچانے کی خاطر احتجاج کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ کیا اس موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے آپ تمام لوگ مل کر اور ان ملی تنظیموں سے باہمی رابطہ کر کے کم از کم چار بڑے شہروں میں بیس بیس لاکھ کا مجمع اکٹھا کرسکتے ہیں، اگر کر سکتے ہیں تو یقین مانئے اس کا اثر ہوگا، ہم نے بابری مسجد قضیے میں دیکھا کہ سپریم کورٹ نے اکثریت طبقہ کے جذبات اور سنٹیمنٹ کو دیکھ کر فیصلہ دیا۔ لہذا ہمیں اس وقت قانونی لڑائی کے ساتھ ساتھ سڑک پر بھی آنا ہوگا۔ ہم مدح صحابہ، اصلاح معاشرہ، عظمت رسول، اور دیں بچاؤ وغیرہ کے نام پر لاکھوں روپیہ خرچ کرکے ہزاروں لوگوں کو جمع کر سکتے ہیں کیا ہم ملک بچاؤ کے نام پر بیس پچیس لاکھ کے مجمع  کو جمع نہیں کرسکتے ۔ یقینا ہم کرسکتے ہیں اگر آپ علماء کرام کا ساتھ مل جائے۔ آج بیس پچیس ہزار یونیورسٹی کے طلباء سڑک پر آگئے ہیں تو انتظامیہ کے پسینے نکلنے لگے ہیں ذرا تصور کیجیے اگر پچیس لاکھ لوگ کسی ایک شہر میں جمع ہوگئے تو کیا ہوگا، اگر بیس لاکھ لوگ ایک جگہ جمع ہوجائے اور ڈٹ جائے تو کسی بھی ظالم حکمراں کو آپکی بات ماننی پڑے گی۔

*ہم کیسے کریں*
ہمیں کچھ نہیں کرنا ہے بس مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمیعت علماء ہند، جمعیت اہلحدیث کے ذمہ داران ایک مشترکہ سرکلر (جس میں کسی تنظیم یا پارٹی کا نام نہ ہو) تمام مساجد کے نام جاری کردے اور اس میں کچھ ہدایات دیا جائے کہ کب اور کیسے اور کہاں جمع ہونا ہے۔ آپ یقین مانئے پچیس تیس لاکھ کا مجمع  ایک جھٹکے میں جمع کر سکتے ہیں، کیونکہ لوگ انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کون ہماری مدد کے لئے کھڑا ہو۔ ہم نے دیکھا مہاراشٹرا اور ہریانہ میں پاور اور حکومت کو حاصل کرنے کی خاطر متضاد نظریات رکھنے والی پارٹیاں ایک ساتھ کھڑے ہوکر حکومت تشکیل دے دی۔ کیا ہم اپنا وجود اور دین بچانے کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر نہیں آسکتے ہیں۔ بالکل کر سکتے ہیں اگر آپ نے اس مسئلہ کو مسلکی نظریہ سے نہ دیکھیں تو یہ ممکن ہے، ہمارے سامنے مشترکہ مسائل کے سلسلے میں حلف الفضول کی واضح مثال ہے جس کو اللہ کے رسول نے بہت پسند فرمایا تھا، ہمیں اسے اپنانے کی ضرورت ہے۔

*نوٹ* اگر آپ اس مشورہ سے اتفاق رکھتے ہیں تو اسے شیر کریں تاکہ ہمارے قائدین تک پہنچ سکے۔


*عادل عفان*
ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی