علی گڈھ وجامعہ کے طلبا وطالبات مبارک باد کے مستحق ہیں
✍🏻از: محمــدعظیـم فیض آبادی دارالعلـــوم النصــرہ دیــوبنــد
9358163428
ــــــ ــــــ ــــــ ــــــ ــــــ
چپ رہنابھی ہےظلم کی تائید میں شامل
حـق بـات کہو جـراءت ایمـان نہ بیـچـو
اس میں کوئی شک نہیں کہ ظلم سہنا اور اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہ کرنابھی ظلم ہے،ظلم کا اپنی طاقت بھر مقابلہ کرنا ، ظلم کے خلاف تحریک چلانا بھی کسی عبادت سے کم نہیں ، اس وقت ظلم وزیادتی کی کھوکھ سے جنم لینے والی تحریک اگرچہ پورے ملک میں جاری ہے مگراس انقلابی تحریک کےآغازکاسہرا علی گڈھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ کے طلباوطالبات کے سر ہی سجتاہے جنھوں نے جراءت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئےظلم کےخلاف اواز بلند کی اس لئے وہ پورے ملک کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں اور مذکورہ شعر کے صحیح مصداق بھی ہیں
ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ــــــ
مسلم یونیورسٹی علی گڈھ کے جیالوں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے فرزندوں نے حکومت کے ظالمان نـظام ، دستـور وآئین پر کئے جانے والے حملے اور شہریت ترمیم بل جیسے سیاہ بل کے خلاف ملی قیادت کی خاموشی سے تنگ آکر جو لڑائی چھیڑی ہے اور ملک کے جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لئے جس جوانمری کا مظاہرہ کیا ہے ، پولیس کی بربریت کے سامنے سینہ سپر ہوکر میدان میں اتر گئے ہیں وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے ان کے اس جرأت مندانہ اقدام کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے پھر جے این یو ، دہلی یونیورسٹی ، چینئی کلکتہ اور ممبئی یونیوسٹیز ، طلبا ندویٰ طلباء دیــوبنــد اور ملک کی دیگر یونیورسٹیز اور نہ جانے کن کن شہروں کے طلبا وطالبات کی طرف سے ان کی حمایت میں جو آواز بلند ہوئی ہے یہ سب بڑے ہی مبارک باد کے مستحق ہیں ہر طرف سے دستور وآئین اور جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لئے صدائے احتجاج کا بلند کرنا وقت کا تقاضہ ہے ملک کے ہر طبقے سے اور ہندوستان کے ہر کونے سے یہ آواز پوری قوت کے ساتھ آنی چاہئے اور یہ لڑائی ملک کی ازادی کی جنگ لڑنے والے مجاہدین آزادی کی روحوں کی تسکین کا باعث ہے ، آج پھر جب ملک انگریزوں کی حمایت ودلالی کرنے والوں کے ہاتھوں میں لٹ پٹ کر غلامی اور تقسیم کی طرف بڑھ رہاہے تو مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کے طلباء وطالبات نے صدائے احتجاج بلند کرکے جس لڑائی کا بگل بجایاہے یہ انجام تک پہنچنی چاہئے اور پورے تن من دھن کے ساتھ ملک کے ہرطبقہ کو اس کی حمایت ومدد کرنی چاہئے خدا کرے حق کا جھنڈا بلند ہو ان کو اللہ تعالٰی ہمت وحوصلہ دے ان کی جد وجہد اور ان کی قربانیاں رنگ لائے پوری ملت اسلامیہ ان کو سلام پیش کرتی ہے تمام دینی وعصری اداروں کے طلبا وطالبات انھیں سلام ومبارک باد پیش کرتے ہیں اللہ ہر طرح ان کا حامی وناصر ہو
میں اپنی طرف سے اور تمام طلبائے دیـوبنـد کی طرف سے ان کی اس پہل واقدام پر سلام ومبارک باد پیش کرتاہوں
اسی طرح جولوگ بھی اس تحریک میں جس طرح بھی اپنی بساط کے مطابق شرکت کررہے ہیں وہ حوصلہ افزائی ومبارکباد کےمستحق ہیں
ان کی اس پہل اور تمام طبقات کی بھوپور حمایت کےطفیل اس ملک کے دستور وآئین اور اس کے جمہوری ڈھانچے کی حفاظت فرمائے اور ظلم وناانصافی سے نجات دے کر ملک میں امن وآمان کی فضاء ہموارکرےاور دشمنان دین وملک کی ہر سازش کو ناکام بنائے
آمین یارب العالمین
✍🏻از: محمــدعظیـم فیض آبادی دارالعلـــوم النصــرہ دیــوبنــد
9358163428
ــــــ ــــــ ــــــ ــــــ ــــــ
چپ رہنابھی ہےظلم کی تائید میں شامل
حـق بـات کہو جـراءت ایمـان نہ بیـچـو
اس میں کوئی شک نہیں کہ ظلم سہنا اور اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہ کرنابھی ظلم ہے،ظلم کا اپنی طاقت بھر مقابلہ کرنا ، ظلم کے خلاف تحریک چلانا بھی کسی عبادت سے کم نہیں ، اس وقت ظلم وزیادتی کی کھوکھ سے جنم لینے والی تحریک اگرچہ پورے ملک میں جاری ہے مگراس انقلابی تحریک کےآغازکاسہرا علی گڈھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ کے طلباوطالبات کے سر ہی سجتاہے جنھوں نے جراءت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئےظلم کےخلاف اواز بلند کی اس لئے وہ پورے ملک کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں اور مذکورہ شعر کے صحیح مصداق بھی ہیں
ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ــــــ
مسلم یونیورسٹی علی گڈھ کے جیالوں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے فرزندوں نے حکومت کے ظالمان نـظام ، دستـور وآئین پر کئے جانے والے حملے اور شہریت ترمیم بل جیسے سیاہ بل کے خلاف ملی قیادت کی خاموشی سے تنگ آکر جو لڑائی چھیڑی ہے اور ملک کے جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لئے جس جوانمری کا مظاہرہ کیا ہے ، پولیس کی بربریت کے سامنے سینہ سپر ہوکر میدان میں اتر گئے ہیں وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے ان کے اس جرأت مندانہ اقدام کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے پھر جے این یو ، دہلی یونیورسٹی ، چینئی کلکتہ اور ممبئی یونیوسٹیز ، طلبا ندویٰ طلباء دیــوبنــد اور ملک کی دیگر یونیورسٹیز اور نہ جانے کن کن شہروں کے طلبا وطالبات کی طرف سے ان کی حمایت میں جو آواز بلند ہوئی ہے یہ سب بڑے ہی مبارک باد کے مستحق ہیں ہر طرف سے دستور وآئین اور جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لئے صدائے احتجاج کا بلند کرنا وقت کا تقاضہ ہے ملک کے ہر طبقے سے اور ہندوستان کے ہر کونے سے یہ آواز پوری قوت کے ساتھ آنی چاہئے اور یہ لڑائی ملک کی ازادی کی جنگ لڑنے والے مجاہدین آزادی کی روحوں کی تسکین کا باعث ہے ، آج پھر جب ملک انگریزوں کی حمایت ودلالی کرنے والوں کے ہاتھوں میں لٹ پٹ کر غلامی اور تقسیم کی طرف بڑھ رہاہے تو مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کے طلباء وطالبات نے صدائے احتجاج بلند کرکے جس لڑائی کا بگل بجایاہے یہ انجام تک پہنچنی چاہئے اور پورے تن من دھن کے ساتھ ملک کے ہرطبقہ کو اس کی حمایت ومدد کرنی چاہئے خدا کرے حق کا جھنڈا بلند ہو ان کو اللہ تعالٰی ہمت وحوصلہ دے ان کی جد وجہد اور ان کی قربانیاں رنگ لائے پوری ملت اسلامیہ ان کو سلام پیش کرتی ہے تمام دینی وعصری اداروں کے طلبا وطالبات انھیں سلام ومبارک باد پیش کرتے ہیں اللہ ہر طرح ان کا حامی وناصر ہو
میں اپنی طرف سے اور تمام طلبائے دیـوبنـد کی طرف سے ان کی اس پہل واقدام پر سلام ومبارک باد پیش کرتاہوں
اسی طرح جولوگ بھی اس تحریک میں جس طرح بھی اپنی بساط کے مطابق شرکت کررہے ہیں وہ حوصلہ افزائی ومبارکباد کےمستحق ہیں
ان کی اس پہل اور تمام طبقات کی بھوپور حمایت کےطفیل اس ملک کے دستور وآئین اور اس کے جمہوری ڈھانچے کی حفاظت فرمائے اور ظلم وناانصافی سے نجات دے کر ملک میں امن وآمان کی فضاء ہموارکرےاور دشمنان دین وملک کی ہر سازش کو ناکام بنائے
آمین یارب العالمین
