اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: انائو سے لےکر گجرات تک کے زانیوں کا بھی ا نکائونٹر ہو۔۔! اتواریہ: شکیل رشید

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 7 December 2019

انائو سے لےکر گجرات تک کے زانیوں کا بھی ا نکائونٹر ہو۔۔! اتواریہ: شکیل رشید

انائو سے لےکر گجرات تک کے زانیوں کا بھی ا نکائونٹر ہو۔۔!
اتواریہ: شکیل رشید
کوئی کیوں یونہی کسی کو گولی مار کر ہلاک کردے گا؟
یہ سوال لوگ اس وقت کرتے ہیں جب کوئی شخص بالخصوص پولس کسی ایسے شخص یا افراد کو گولیوں سے بھون دیتی ہے جو مذکورہ سوال دریافت کرنے والوں کی نظروں میں ’قابل نفرت‘ اور ’قابل گردن زنی‘ ہوتا ہے۔ لوگ نہیں چاہتے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں، وہ بس یہ رٹ لگائے رہتے ہیں ’پھانسی دو، بیچ چوراہے پر پھانسی دو‘۔ یہ لوگوں کی رٹ ہی تھی جس نے تلنگانہ پولس کو یہ حوصلہ بخشا کہ اس نے ان چاروں افراد کو جن پر ایک ویٹینری ڈاکٹر کی عصمت دری اور جلاکر مارڈالنے کا الزام تھا، ایک انکائونٹر میں ڈھیر کردیا۔ اب نہ کسی تفتیش کی ضرورت ، نہ ہی کوئی جھنجھٹ۔ کوئی یہ سوال نہیں پوچھ رہا کہ کیا جن پر ریپ اور قتل کا الزام تھا وہ چاروں ’مجرم‘ ثابت ہوچکے تھے؟ ممکن ہے کہ وہ ’مجرم‘ نہ رہے ہیں؟ جس پولس افسر نے یہ ’انکائونٹر‘ کیا ہے اس پولس افسر نے اس سے قبل مزید تین انکائونٹر کیے ہیں ان دونوں مواقع پربھی بالکل ایسی ہی کہانی سنائی تھی جیسے کہ ان چاروں کو ’قتل‘ کرنے کے بعد سنائی ہے!
بلاشبہ ریپ او رقتل کی واردات بے حد گھنائونی تھی، انتہائی بہیمانہ اور قابل گردن زنی ، پر کسی کو پھانسی چڑھانے کےلیے قانونی کارروائی پوری کرنا ضروری ہے۔ عوام کے ’جذبات‘ کا خیال رکھ کر بغیر تفتیش اور مقدمے کے لوگوں کو ’مجرم‘ قرار دے دیاجائے اور پولس کو یہ ’چھوٹ‘ دے دی جائے کہ وہ انہیں ’نمٹادیں‘ تو پورے ملک میں لاشیں بچھ جائیں! پولس کا خوف کچھ اس طرح سے طاری ہوگا کہ اس کے نام سے لوگ نہ جانے کیا کیا کرنے او رکس کس کی جیب بھرنے کےلیے تیار ہوجائیں گے۔ لہذا پولس کو ایسی کوئی چھوٹ نہیں دی جانی چاہئے۔ مسلمان، دلت اور پچھڑے اس طرح کے چھوٹ کا ’انجام‘ پہلے بھی بھگت چکے ہیں او رآج بھی بھگت رہے ہیں۔ عشرت جہاں ، جاوید پھائوڑا اور سہراب الدین جیسے کتنے افراد ہیں جن کا ’انکائونٹر‘ کیاگیا، اور انہیں دہشت گرد قرار دے کر ’پرموشن‘ اور ’ترقیاں‘ حاصل کی گئیں۔ گجرات ۲۰۰۲ کو بھلایا نہیں جاسکتا، پولس کو پوری چھوٹ تھی اور اس چھوٹ کے نتیجے میں کتنے بے گناہ مارے گئے! اسی ممبئی شہر میں ۹۳۔۱۹۹۲ کے فسادات میں پولس کا بے حد بھیانک روپ دیکھا گیا تھا۔ جسٹس سری کرشنا کمیشن رپورٹ میں باقاعدہ ان پولس والوں کے نام دئیے گئے ہیں جنہو ںنے نہتے مسلمانو ںپر دھڑا دھڑ گولی باری کی تھی۔ گجرات اور ممبئی دونو ںہی جگہ ان پولس والوں کی ’پذیرائی‘ کی گئی تھی اور آج بھی کی جارہی ہے، لیکن کیا اس ’پذیرائی‘ کے سبب انہیں ’ہیرو‘ سمجھا جائے گا! وہ رہیں گے تو ’گنہگار‘ ہی! اسی طرح حیدرآباد کے پولس والے بھی گنہگار ہیں۔ ریپ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن اس کی ذمہ دار مرکزی و ریاستی سرکاریں ہیں۔ بی جے پی کے کتنے ہی سیاست داں ’ریپ ‘ میں ملوث ہیں، سادھو سنت زانی ہیں! ظاہر ہے کہ جو سرکار اپنے گنہگاروں کو بچائے گی وہ کیسے جرم اور قتل اور ریپ پر قابو پائے گی! تحریک چھیڑی جائے کہ تمام زانیوں کو سزا دی جائیں، کسی کو بچانے کی کوشش نہ کی جائے اور مارنا ہی اگر ’انصاف‘ ہے تو پھر انائو سے لے کر گجرات تک بہت سارے زانی ہیں ان کا ’انکائونٹر‘ کردیاجائے۔