شہریت ترمیمی بل آئین کی روح سے متصادم: مولانا محمد علی نعیم رازی
ملک دوبارہ تقسیم کا درد نہیں جھیل سکتا
لکھنؤ:10ددسمبر 2019 آئی این اے نیوز
معروف سماجی خدمتگار مولانا محمد علی نعیم رازی نے پریس کو جاری ایک بیان میں شہریت ترمیمی بل کے راجیہ سبھا سے پاس ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل وطن عزیز کے آئین کی بنیادی روح سے متصادم ہے اور آئین کو کمزور کرنے کی ایک ناپاک سازش ہے جسکو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے
انہوں نے کہا کہ مذکورہ بل کے ہندوستان کی برسوں پرانی رواداری اور مذہبی ہم آہنگی پر سنگین اثرات مرتب ہونگے اور اسکا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑے گا
مولانا محمد علی نعیم رازی نے کہا کہ یہ بل دراصل ملک میں ایک بار پھر سے دوقومی نظریہ کو زندہ کرنے کی کوشش ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کو ایک بار پھر سے تقسیم کے خطرناک دوراہے پر لے جانے کے ناپاک عزائم ہیں جو ملک کے تمام باشندگان کے لئے ایک امتحان کی گھڑی ہے
مولانا رازی نے کہا کہ ملک کے سنجیدہ اور باشعور افراد کو اس بارے میں بہت ذمہ داری کے ساتھ سوچنا ہوگا کہ کیا ملک دوبارہ تقسیم کا درد جھیل سکتا ہے یا نہیں ؟
مولانا رازی نے کہا کہ اقتدار کے نشے میں چور لوگوں کو یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ تاریخ نے اس قسم کے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے اور بعد کی نسلیں انکے دنیا میں وجود کو کس طرح یاد رکھتی ہے
مولانا رازی نے نہایت سخت الفاظ میں اس بل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ملک کی دوسری بڑی آبادی کو انکے اپنے ہی گھر میں خوفزدہ کرنے کے لئے لایا گیا ہے اسکے علاوہ اسکا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے
مولانا محمد علی نعیم رازی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت مسلمان خود کو ٹھگا ہوا اور اپنے ہی گھر میں میں بیگانہ محسوس کررہا ہے جو ملک کی بڑی آبادی کے لئے شرم کی بات ہے
مولانا رازی نے ملک کے بہی خواہ سنجیدہ طبقہ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کھل کر سامنے آئے اور فاسسٹ طاقتوں سے دوٹوک انداز میں بات کریں اور یہ طے کریں کہ ملک کس رخ پر چلیگا اور ملک کا مستقبل کیا ہوگا
آخر میں مولانا محمد علی نعیم رازی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بل کو واپس لے اور ملک کو حالات خراب ہونے سے بچائے
ملک دوبارہ تقسیم کا درد نہیں جھیل سکتا
لکھنؤ:10ددسمبر 2019 آئی این اے نیوز
معروف سماجی خدمتگار مولانا محمد علی نعیم رازی نے پریس کو جاری ایک بیان میں شہریت ترمیمی بل کے راجیہ سبھا سے پاس ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل وطن عزیز کے آئین کی بنیادی روح سے متصادم ہے اور آئین کو کمزور کرنے کی ایک ناپاک سازش ہے جسکو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے
انہوں نے کہا کہ مذکورہ بل کے ہندوستان کی برسوں پرانی رواداری اور مذہبی ہم آہنگی پر سنگین اثرات مرتب ہونگے اور اسکا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑے گا
مولانا محمد علی نعیم رازی نے کہا کہ یہ بل دراصل ملک میں ایک بار پھر سے دوقومی نظریہ کو زندہ کرنے کی کوشش ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کو ایک بار پھر سے تقسیم کے خطرناک دوراہے پر لے جانے کے ناپاک عزائم ہیں جو ملک کے تمام باشندگان کے لئے ایک امتحان کی گھڑی ہے
مولانا رازی نے کہا کہ ملک کے سنجیدہ اور باشعور افراد کو اس بارے میں بہت ذمہ داری کے ساتھ سوچنا ہوگا کہ کیا ملک دوبارہ تقسیم کا درد جھیل سکتا ہے یا نہیں ؟
مولانا رازی نے کہا کہ اقتدار کے نشے میں چور لوگوں کو یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ تاریخ نے اس قسم کے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے اور بعد کی نسلیں انکے دنیا میں وجود کو کس طرح یاد رکھتی ہے
مولانا رازی نے نہایت سخت الفاظ میں اس بل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ملک کی دوسری بڑی آبادی کو انکے اپنے ہی گھر میں خوفزدہ کرنے کے لئے لایا گیا ہے اسکے علاوہ اسکا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے
مولانا محمد علی نعیم رازی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت مسلمان خود کو ٹھگا ہوا اور اپنے ہی گھر میں میں بیگانہ محسوس کررہا ہے جو ملک کی بڑی آبادی کے لئے شرم کی بات ہے
مولانا رازی نے ملک کے بہی خواہ سنجیدہ طبقہ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کھل کر سامنے آئے اور فاسسٹ طاقتوں سے دوٹوک انداز میں بات کریں اور یہ طے کریں کہ ملک کس رخ پر چلیگا اور ملک کا مستقبل کیا ہوگا
آخر میں مولانا محمد علی نعیم رازی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بل کو واپس لے اور ملک کو حالات خراب ہونے سے بچائے
