اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *اسلام کا پیغام بھارتی مسلمانوں کے نام* از : رفیع اللہ قاسمی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 13 December 2019

*اسلام کا پیغام بھارتی مسلمانوں کے نام* از : رفیع اللہ قاسمی

*اسلام کا پیغام بھارتی مسلمانوں کے نام*

از : رفیع اللہ قاسمی

میں اسلام ہوں۔ بھارتی مسلمانوں سے بالکل صاف صاف باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ بالخصوص آج  میں مذہبی شخصیات، علماء کرام اور نام نہاد قائدین سے مخاطب ہوں۔ میں اجنبی ہو گیا ہوں۔ مجھ سے لوگ صرف وقتی اور عارضی مطلب رکھتے ہیں۔ میرے نام کا کلمہ تو بہت لوگ پڑھے ہوئے ہیں، اسلام کا
 لبادہ تو بہت سارے لوگ اوڑھے ہوئے ہیں لیکن ان کا دل اور اندرونی کیفیت جسے کوئی دیکھ نہیں سکتا ایسا ہے جسے مسلمان کسی کو دکھا بھی نہیں سکتے۔ اگر دکھا دیے تو بہت بے آبرو ہو جائیں گے۔ بھارتی مسلمانوں نے مجھے بہت دھوکہ دیا۔ نام لیتے تھے اسلام کا اور اتباع کرتے تھے شیطان کی۔ بھارت میں مجھے اس حد تک نیچے گرانے والے اور ذلیل و رسوا کرنے والےان مسلکی گروہ بندیوں کا بھی بہت اہم کردار ہے۔ بھلا مجھ(اسلام) میں تو وسعت ہونی ہی چاہیئے اس لیے کہ میں تا صبح قیامت سب کے لیے آیا ہوں۔ پوری دنیا کے لیے آیا ہوں۔ دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے انسانوں کی رہنمائی میری ذمہ داری ہے۔ میرے اندر وسعت نہیں ہوگی تو اس دنیا میں کھربوں بسنے والے انسانوں کی رہنمائی کیسے کروں گا؟ لیکن مجھے افسوس ہوتا ہے ان تنگ نظر علماء پر جنھوں نے انسانوں کی لکھی ہوئی چند کتابوں کو پڑھ کر، قرآن کو چھوڑ کر، چار اینٹ کی درو دیوار میں زندگی گزار کر بس یہ سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا یہی چہار دیواری ہے، جو بھی فیصلہ ہوگا میرا ہوگا؟ جو بھی صحیح فکر ہوگی میری ہی ہوگی؟ اپنے مکتب فکر کے لوگوں کے کرتوتوں پر ہزاروں تاویلیں اور دوسرے مکاتب کے افراد کے خلوص و للہیت پر مبنی خیالات بھی فاسد، باطل اور دائرہ اسلام سے خارج؟ میں(اسلام) تو لوگوں کے لیے گنجائش لے کر آیا ہوں۔ نام نہاد علماء نے اس وسعت کو بھی دلوں میں نفرت، کدورت اور ایک دوسرے سے دوری کا ذریعہ بنا لیا۔ کلمہ ایک قرآن ایک، اللہ ایک رسول ایک! پھر بھی جزئی مسائل کو لے کر اتنا شدید انتشار اور اختلاف کہ کوئی کسی کے ساتھ بیٹھنے اور تبادلہ خیال کرنے کے لیے بھی تیار نہیں؟ جس کے جتنے کنکر اتنے معبود! پھر بھی وہ متحد اور اے احمق مسلمان! تمہارا ایک خدا اور اتنے منتشر! یا للعجب!

مسلمانو! تم کتنے بھولے بھالے ہو۔ تم نے یہ سوچا کہ مدارس میں چند طلبہ کو دینی تعلیم دے کر، کچھ مسجدیں آباد کر کے، دو چار تنظیمیں بنا کر اور سیلابی صورتحال میں کچھ امداد کر کے اسلام کی مکمل حفاظت کر لوگے؟ یہ دور قانون، قانونی قوت، ٹیکنالوجی، سائنس اور سیاست کا دورہے۔دشمن قانونی اور سیاسی چالوں سے تمہیں نیست و نابود کرنے کے در پہ تلاہے اور تم یہ اعلان کرتے پھر رہے ہو کہ سیاست سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، ہماری تنظیم کا یہ کام نہیں ہے کہ (CAB) کے خلاف قدم اٹھائے۔ اگر کوئی لیڈر تھوڑی ہمت اور بے باکی دکھاتا ہے تو تم پیچھے سے اس کی ٹانگ کھینچتے ہو اور اپنے بیانات سے اس حوصلہ توڑتے ہو۔ اپنے مخالف سینکڑوں سالوں کی خفیہ پلاننگ کو جب تم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیا تب اس چیف اور اس سیاسی لیڈر کے پاس رحم کی بھیک مانگتے ہو؛ تمہیں شرم نہیں آتی؟

اے مسلمانو! کافی دیر ہو چکی ہے۔ لیکن قیامت تک بھارت میں اسلام زندہ رکھنے کے لیے تمہیں اب کچھ نیا کرنا ہوگا۔ کچھ باتیں تمہارے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے بغور سنو گے اور اپنا مستقبل طے کروگے:
1) مسلمانوں کی جتنی بھی دینی، فلاحی، سیاسی اور غیر سیاسی تنظیمیں بھارت میں ابھی موجود ہیں سب کو ایک دوسرے سے ضم کر کے ان کا ایک مرکزی دفتر بنا کر شورائی نظام پر مبنی ایک باڈی قائم کرو۔ اسی مرکز کے تحت ساری موجودہ تنظیموں کو الگ الگ کام دیکر شعبہ جات کی تقسیم کر دو۔ یہ سلسلہ تمام مکاتب فکر کے درمیان اتحاد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اتحاد کرنے کے لیے سب لوگ اپنی اکڑ سے نیچے اتریں، تمام اختلافات کو مٹا کر مجھے(اسلام) کو بچا لیں۔ باطل قوموں سے سیکھو! کانگریس اور شیو سینا ہر چیز میں اختلاف کے باجود ایک پلیٹ فارم پر آ سکتے ہیں تو اے مسلمانو تم کیوں نہیں؟ جزئی اختلافات کو حق و باطل کا معیار نہ بناو۔ سارے امور باہمی مشوروں سے انجام دو۔ مسائل کو سلجھانے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کا مسئلہ ایک شیر خوار بچے نے حل کیا تھا۔ اس لیے مرکزی تنظیم کی باڈی میں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کو رکھو۔ اپنے اپنے جھنڈے آگ کے سپرد کر کے صرف ایک جھنڈے کے تلے آ جاو۔ سیاست کا متحرک شعبہ مع تمام لوازمات کے قائم کرو۔ میڈیا کا نظام بھی بناو جس پر حالات حاضرہ کا خیال رکھتے ہوئے اسلام کی تفہیم اور اس کے دفاع کا مکمل نظم ہو اور غیر مسلموں میں دعوت کا کام اس تنظیم کے پروگراموں میں سر فہرست ہو۔
2) اب تک میں(اسلام) نے تمہارے(مسلمانوں) فکرو نظر کی بالائی کو محسوس نہیں کیا۔ تمہاری دانشمندی ماند پڑ تی رہی۔ تمہاری پلاننگ اور منصوبہ بندی بہت کمزور ہے۔ تم بہت جلد بلا محنت اچھے نتیجے کے متمنی ہو۔ تمہیں اپنی جمودگی پر خوش فہمی ہے۔یہودیوں کو دیکھو کہ کتنی دور اور صدیوں کے بعد کی پلاننگ کرتے ہیں۔ پوری دنیا تمہیں اپنی چالوں اور حربوں سے تمہیں بے وقوف بنا رہی ہے۔ تمہیں چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھا کر دشمنان اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں۔ لیکن تم ہو کہ باہم نبرد آزما ہو۔ اب اپنی سوچ بدلو جدید تعلیم یافتہ علماۓ اسلام کی بڑی ٹیم تیار کرو۔ اس کے لیے جامع نظام مرتب کرو اور اس مد میں جتنی بھی رقم کی ضرورت ہو ترجیحی طور پر اس کا انتظام کرو۔افادہ اور استفادہ کو بہت عام کرو۔ یہودیوں اور دشمنوں کے بھی طالب علم بن کر ان کی چالوں اور سازشوں کو سمجھ کر اپنے تحفظ اور دفاع کی جامع منصوبہ بندی کرو۔
3)حالات کتنے بھی ناگفتہ بہ، ناموافق اور خراب ہوں جو حق ہو بلا چوں و چرا اسی موقف کی حمایت کرو۔ اپنے کاموں میں اخلاص کو جگہ دو۔ نام ونمود کے کام، کریڈیٹ لینے والی ہوس میں کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلتا۔ عہدے کی لالچ نہ کرو۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں کہیں بھی کسی مسلم بھائی پر ظلم ہو تو اس کے خلاف آواز بلند کرو۔ یہ مت سوچو کہ فلاں صوبے میں فلاں ملک میں ظلم ہو رہا ہے مجھے آواز بلند کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ درودیوار اور سرحدوں کی تقسیم دنیاوی تقسیم ہے جو انتظامی لحاظ سے کی گئی ہے، مذہبی تقسیم بالکل نہیں ہے۔ مذہبی اعتبار سے تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ ان میں کوئی سرحد نہیں ہے۔ کوئی تقسیم نہیں ہے۔ اپنے موقف میں ذرہ برابر بھی لچک نہ پیدا کرو۔ قربانی پیش کرو۔ کیا تمہارا خون صحابہ کرام کے خون سے قیمتی ہے؟ قرآن سے قریب ہو جاو۔روایتی دینداری سے آگے بڑھ کر حقیقی دین داری اپناو دنیا تمہاری قدر کرے گی۔