اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: کیفی اعظمی کے افکار ___ ایک جائزہ محمد مرسلین اصلاحی ۔(قسط دوم)

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 7 December 2019

کیفی اعظمی کے افکار ___ ایک جائزہ محمد مرسلین اصلاحی ۔(قسط دوم)

کیفی اعظمی کے افکار ___ ایک جائزہ

                محمد مرسلین اصلاحی
                                                                         ۔(قسط دوم) 

۔۔۔۔ اگر آپ کیفی کی درج بالا رباعی کے تیسرے اور چوتھے مصرعے پر نظر ڈالیں تو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ کیفی کے یہاں خداؤں کی ایک بھیڑ ہے اور وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ کیا کریں ۔ان کے یہاں ایمان اور ایقان کا کوئی مطلب نہیں بلکہ ہر مسئلہ کی میزان اور کسوٹی عقل ہے جیسا کہ کیفی کا یہ شعر _

 ذہن کے واسطے سانچے تو نہ ڈھالے گی حیات
ذہن  کو  آپ  ہی  ہر  سانچے  میں  ڈھلنا  ہو گا

جب کہ یہ بات ذہن نشین ہونی چاہئے کہ ایمان دل سے سچےاور پختہ یقین کا نام ہے  اور عقل اس سچائی اور ایقان کو شہادتیں پیش کرتی ہے ۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے اونٹ ، آسمان ، پہاڑ اور زمین کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرماتا ہے ۔ "پس یاد دہانہ حاصل کرو "۔ گویا عقل کی بنیاد پر کسی اصل الاصول کو ٹھکرانا کم عقلی کی دلیل ہے ۔کیوں کی ہماری عقلیں بڑی محدود ہیں ۔ ہم چھوٹی سے چھوٹی چیز پر غور کر کرکے خدا کے وجود اور اس کی وحدانیت کے قائل ہو سکتے ہیں ۔ چہ جائے کہ زمین و آسمان ، پہاڑ و سمندر ہوں ۔ کمیونزم اور دہریت کا علم بردار کیفی جس کا مذہب ہی Nothing God خدا کوئی نہیں ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شعرا کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے ۔
شبلی کالج اعظم گڈھ کے فارسی ڈیپارٹمنٹ کے ایک نوخیز صاحب ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ ابھی وہ ادب کی دنیا میں بھی نوخیز ہیں ۔ کیفی کے اس شعر کے بارے میں لکھتے ہیں :
"کیفی کے اس شعر سے لوگوں کو دھوکہ ہوا ہے کہ کیفی نے خدا کا انکار کیا ہے ۔ بلکہ اس کا سبب روس میں کمیونسٹ حکومت کے زوال پر کیفی کا اظہار افسوس ہے چوں کہ اس وقت نئی استعماری حکومت میں آنے والے کسی طرح بھی کیفی کے حامی و ہم منشا نہ تھے۔"
لیکن نوخیز صاحب اس شعر کی بابت کیا فر مائیں گے جو " آوارہ سجدے "  میں کیفی کے اس دہری خیال کی ترجمانی کرتاہے جو فی الواقع مذہب اسلام سے بزارگی کا بین ثبوت ہے ۔ جس کا اظہار یوں کیا ہے ۔
اپنی    لاش  آپ   اٹھانا    کوئی   آسان  نہیں
دست  و  بازو  مرے  آوارہ    ہوئے   جاتے ہیں
جس سے چمکی تھی ہر دور میں تمہاری دہلیز
آج   سجد ے   وہی   آوارہ   ہوئے  جاتے   ہیں

یا وہ شعر جس میں خدا کی ٹھہرائی ہوئی تقدیر پر تنقید ہے ۔

لبالب   ہیں  کہیں   ساغر ،  کہیں   خالی  پیالے
یہ کیسا دور ہے ساقی ،  یہ کیا تقسیم ہے ساقی
نہیں پہچانتا  تیور   ابھی  تو  تشنہ کا موں کے
ترا   دستور   _ بخشش لائق _ ترمیم  ہے ساقی

جدید فرزندان ادب شعر کی ایسی تاویل کرنا چاہئے ہیں کہ ایک نیا نکتہ نکالیں گے۔  گرچہ شعر اپنے مظاہر کے لحاظ سے کچھ  بھی بولتا ہو۔  اسی سبب حالی بڑی حدتک موجودہ غزل کے خلاف تھے۔ لیکن وہ غزل کے وجود پر نہیں بلکہ اس کے مظاہر پر معترض تھے ۔ بہ ایں ہمہ اس کے اور بھی وجوہ ہیں
غالبا یہ بات آپ کو عجیب لگے سی لگے کہ شعر کے داخلی رموز بھی  کوئی چیز ہوتے ہیں ۔ہمیں اس سے انکار نہیں لیکن اس طرح آپ تاویل کرنے بیٹھیں گے تو پیاز کی طرح دار پرتیں نوچتے رہیں گے اور ایک وقت وہ آئے گا جب پیاز اپنا وجود ختم کردے گی ہم جہاں سے چلے تھے "ہنوز قصہ ء روز اول است" ۔ بہر کیف مثال کے طور پر غالب کا یہ شعر :

یہ   مسائل _ تصوف   یہ   تیرا   بیان   غالب
تجھے ہم ولی سمجھتےجو نہ بادہ خوار ہوتا

غالب بادہ خوار تھے ، شراب ارغوانی سے جام لنڈھاتے تھے ۔ ان کا یہ شعر ان کے اس پہلو پر غالب ہے۔ان کی یہ پوری غزل تصوف کا پورا فلسفہ ہے۔  ورنہ اگر تاویل کی جائے اور آپ کی طرح مختلف حالات کے تار پور جوڑے جائیں تو نفی مفہوم کا بھی استدراک ہو سکتا ہے ۔ اور یہ دعوہ مجھے بھی ہے کہ غالب کے اسی شعر سے مع دلائل بادہ خواری سے ان کی شخصیت کو مبرا کیا جا سکتا ہے ۔  ۔ گو کہ سوانح نگاروں  نے بڑی جسارت اور وثوق کے ساتھ ان کے اس پہلو پر لکھا ہے ۔ لیکن شعر کے مظاہر اصلا شخصیت کے عکاس ہوتے ہیں جیسا کہ خلیل الرحمن اعظمی مقدمہ کلام آتش میں لکھتے ہیں :
" خمریاتی شاعر ی  سے صحیح معنوں میں وہی شخص عہدہ برآ ہو سکتا ہے جو محض شراب کا ذکر کر نے کے بجا ہے اپنی شخصیت میں وہی رندانہ کیفیت اور بے پناہ سر مستی رکھتا ہو "

ایک مضمون جناب عمیر الصدیق  صاحب ندوی رفیق دار المصنفین اعظم گڈھ کا ہے ۔جو کیفی اور علامہ شبلی نعمانی کے مابین موازنہ پر مشتمل ہے ۔ موصوف نے شعری و ادبی جہت سے دونوں کا موازنہ کیا ہے ۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں انھوں نے وہ کون سے اسباب بیان کئے ہیں جو کیفی کو علامہ کے دست راست لا کھڑا کرتے ہیں اور کتنے ہمہ گیر ہیں ۔لکھتے ہیں
" جس طرح علامہ شبلی کا گھرانہ مذہبی تھا اسی طرح کیفی کا گھرانہ بھی علمی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا ۔ جس طرح بندول کی فضا صاف ستھری تھی اسی طرح مجواں کی فضا بھی صاف تھیں۔ علامہ شبلی بھی زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے اور کیفی بھی زمیندار گھرانے سے متعلق تھے ۔ "
پہلی چیز تو یہ کہ نسلی تفاخر اور خاندانی مشیخت کوئی بڑائی کی چیز نہیں ۔ یا پھر مجواں اور بندول کی فضا صاف ستھری تھی باقی قصبات گندلے تھے ۔ یہاں ایک چیز کا مجھے اعتراف ہے کہ ان کا گھرانہ مذہبی تھا ۔ لیکن اس مذہبی گھرانے کی بنیاد پر علامہ شبلی نعمانی رح تاریخ و سیر ت کے امام ٹھہرے ۔ آپ کی شخصیت بے لوث تھی ۔ دین و مذہب سے جو عقیدت علامہ کو تھی میں نہیں سمجھتا کہ کیفی اس کے پاسنگ بھی رہے ہوں گے ۔
افسوس ہے عمیر الصدیق صاحب کی زلہ ربائی اور ادب نوازی پر کہ آپ کو اتنی بھی تمیز نہیں کہ کہاں شان شبلی اور کہاں کیفی ۔ علامہ شبلی کو گو کہ شعرا کے تذکروں میں صحیح جگہ نہ ملی یا ملی تو بس یوں ہی لیکن علامہ شبلی ایسے پہلے فرد ہیں جنہوں نے شعر سے بھی تاریخ کا لیا اور باقائدہ ایک مدرسہء خیال کی نیو رکھی ۔ ان مکےمقام کے تعین سے جدید تذکرہ نویسوں اور خوردہ نشینوں کا اغماض در اصل سیاسی انتقام کی ایک مجرمانہ حرکت ہے ۔
نیز ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ کیفی آخر وقت تک شکوہ بگو
رہے اور فریاد کرتے رہے کہ لوگ مجھے مذہب بیزار کہتے ہیں
وہ کون سی بات کہہ دی جو سر سید اور شبلی نے نہیں کہی ۔ روشن خیالی اور ترقی کے جرم میں ان پر  فرد جرم عائد ہوئی اور مجھے بھی مذہب بیزار کہا جاتا ہے ۔
شاید کیفی صاحب کو پتہ نہیں کہ سر سید سے زیادہ ترقی کا خواہاں اور افرنگ کی تعلیم کا حامی کون تھا لیکن انہیں کھلے الفاظ میں سمجھا ناپڑا کہ ترقی کا مفہوم کیا ہے ۔ فرماتے ہیں
" ایک ایک شخص جو بھی اسلام کے گروہ میں شامل ہے وہ سب مل کر مسلمانوں کی ایک قوم کہلاتی ہے ۔ جب تک وہ اپنے عزیز مذہب کے پیرو اور پابند ہیں تب ہی تک وہ قوم ہیں یاد رکھو اسلام میں جس پر تم کو جینا ہے جس پر تم کو مرنا ہے اس کو قائم رکھنے سے ہی ہماری ترقی ہے ۔ اے عزیز بچے ! اگر کوئی آسمان کا تارا ہو جائے مگر مسلمان نہ رہے تو تم کیا وہ ہماری قوم کا ہی نہ رہا جنسبچاسد ملتا۔ی نے کیا خوب کہا ہے
کی مسلماں نے ترقی جو فرنگی بن کر
یہ فرنگی کی ترقی ہے مسلماں کی نہیں
دوسرے ندوی صاحب نے کیفی کے ان اشعار کو بطور مثالی کارنامہ کے پیش کیا ہے جو کیفی نے علامہ کے شعر پر گرہ کشائی کی ہے لیکن سوال اس بات کا ہے کہ اگر کیفی نے علامہ کے چند اشعار پر قافیہ پیمائی کی ہے تو کون سا قابل ذکر کارنامہ انجام دے دیا ۔ چند مصرعوں اور قافیوں کے شاعر بھی استاد شعراء کی زمینوں پر جولانیاں دکھاتے ہیں یہ کوئی ایسا کارنامہ تو نہیں کہ جس سر دھنا جائے اور لازما ان کے درمیان موازنے کی میزان کھڑی کردی جائے ۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ادب کو اتنا نقصان پہنچایا کہ صدیوں کی کاوش بھی شاید اس کی بھر پائی نہ کر سکے ۔ اس کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں ایسی مثالیں ملیں گی جنہوں نے دربار ی رعایت اور سیاسی اغراض و مراعات کی بنا پر شاعر کی  جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی اصل طبع زاد شاعری مر گئی اور   وہ محدود دائرے میں گھوم پھر رہے گئے ۔ چند مثالیں اس سے مستثنی بھی ہیں ۔ جیسے نظیر اکبراآباڈی قبول عام کی پروا کئے بغیر وسیع النظری سے کام لیا اور کبھی بھی درباروں کی کاسہ لیسی نہ کی ۔ میرا کہنے کا مقصد یہ جو کچھ لکھا جائے ۔بیا کہا وہ حقائق پر مبنی ہوشخصیت پرستی یا سیاسی اغراض کی بنیاد پر کسی کا ڈانڈا کہیں سے کہیں ملا دینا درست نہیں ۔