اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: عوام انصاف چاہتی ہے فساد نہیں ۔۔ از قلم! عزیز اعظمی اصلاحی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 21 December 2019

عوام انصاف چاہتی ہے فساد نہیں ۔۔ از قلم! عزیز اعظمی اصلاحی

عوام انصاف چاہتی ہے فساد نہیں ۔۔
از قلم! عزیز اعظمی اصلاحی
مظاہرین انتشار نہیں چاہتے وہ جانتے ہیں تشدد و انتشار ہمارے احتجاج کو کمزور کردے گا وہ پر امن ہوکر اپنے مطالبات حکومت وقت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں ۔۔ فساد ، خلفشار ، انتشار ، تشدد کی کسی بھی مہذب سماج میں اجازت نہیں نہ عوام کو انتشار و فساد کی اجازت ہونی چاہئے اور  نہ ہی ریاست اور حکومت کو کھلی چھوٹ و آزادی کہ وہ جس طرح چاہیں سرکاری لاٹھی سے لوگوں کے جسموں کو توڑ دیں اور عوام جس طرح چاہے سرکاری املاک کو نظر آتش کردے ۔۔۔ جواب دہی دونوں کی ہونی چاہیے ، آئین وقانون کا خوف دونوں کو ہونا چاہئے ایسا نہیں کہ جو ریاست اور حکومت میں ہو وہ ہر خوف سے آزاد آئین و قانون سے بالاتر ہو اور جو حکومت و ریاست میں نہیں اس کے سر پر لاٹھی اور گردن میں طوق ہو ۔۔ صاحب منصب و اقتدار اگر بااصول ہونے کے بجائے اپنی آنکھوں میں دو مختلف عدسہ رکھیں گے تو پھر حالات پر امن اور معتدل نہیں ہوسکتے ۔۔

احتجاج پورے ملک میں ہو رہے ہیں اگر آپ جائزہ لیں گے تو بی جے پی اور غیر بی جے پی ریاستوں میں واضح فرق نظر آئے گا کہ کن کن ریاستوں میں پتھر بازی ہوئی ، لاٹھیاں چلیں ، گولیاں چلیں لوگوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں اور کن کن ریاستوں میں  ریاستوں میں احتجاج پر امن اور جمہوری اقدار و روایات کے مطابق رہا ۔۔ ملک کو پرامن و پرسکون بنانے کے لئے صاحب اقتدار و منصب کی زبان اور سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ۔۔

 ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ دنگا کرنے والے کپڑے سے پہچانے جا سکتے ہیں ، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی نے کہا کہ سی سی ٹی وی دیکھ کر ہم مظاہرین سے بدلہ لیں گے ۔۔ یہی وہ بدلہ ، بھاؤنا اور نفرت کی ذہنیت ہے جس نے ملک کو آج اس دہانے پر لا کھڑا کیا ...

اے حکومت وقت ! ہم عوام آپ کے جملے کو بھی سمجھتے ہیں اور آپکی چالوں کو بھی  ۔۔  آپ کے کہنے سے پہلے ہم جانتے تھے این آر سی ، سی اے بی ، طلاق ثلاثہ ، تھری سیونٹی بابری مسجد یہ سب فیصلے نہیں خودساختہ بدلے تھے ، یہ قانون سازی نہیں نفرت بازی تھی جو اب اور واضح ہو گئی ۔۔۔

آپ دنگائیوں کو کپڑے سے پہچانیں گے تو اس بھیس میں وہی ملیں گے جن کے دلوں میں نفرت و قدورت ہے ۔۔ سی سی ٹی وی کیمروں میں دیکھ کر جب آپ ان پر مقدمہ چلانے اور انکی جائداد ضبط کرنے جائیں تو وہی نکلیں گے جن کو اپنے زعفرانی چائے اور پاتانجلی سوپ پلایا ہے ۔۔ تصویروں کی بنیاد پر فسادیوں کے اثاثے بیچ کر سرکاری املاک کے نقصان کی بھر پائی کرنے جائیں گے تو یہ اثاثے انھیں کے نکلیں گے جنہیں آپ نے نفرت کے بدلے دان میں دیا ہے   ۔۔

اس ملک سے محبت کرنے والے ، آئین و قانون کا احترام کرنے والے ، اخوت و محبت کا پیغام دینے والے تو لاٹھیاں کھا کر بھی محبت کے  پھول تقسیم کرتے ہیں ۔ وہ قانون کے احترام میں اپنی آنکھیں گنوا دیتے ہیں لیکن آئین و قانون کے سامنے آنکھ نہیں دیکھاتے ۔۔ قانون کی لاٹھیاں انکے ہاتھ ، پیر جسم کو توڑ کر رکھ دیتی ہیں لیکن وہ وردیوں کے احترام میں وہ اف تک نہیں کرتے ۔۔ وہ اس ملک سے محبت کرتے ہیں ملک کی املاک کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں ۔۔ کبھی اس کا نقصان نہیں چاہتے ۔ سرکاری املاک کی تباہی ، کالج و یونیورسٹی کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں ، میز و کرسیاں دیکھ کر وہ رنجیدہ ہوتے ہیں اس میں مقصد تلاش نہیں کرتے ۔۔ وہ محب وطن ہیں محب منصب و سیاست نہیں ۔۔ 

آپ مظاہرین سے بدلہ لیں گے ، ان پر مقدمہ چلائیں گے ، ان کی جائیداد ضبط کریں گے ، انکے اثاثے بیچ کر سرکاری املاک کی بھرپائی کریں گے بالکل کریئے سرکاری املاک ہماری املاک ہے اس کا نقصان ملک کا نقصان ہے یہ قابل قبول نہیں ۔۔۔ لیکن حکومت و ریاست جو شہریوں کے تحفظ کے لئے ہے ، جمہوری اقدار کی پاسداری کے لئے ہے جب وہ شہریوں کے حقوق اور اپنے فرائض کو بھول جائیں تو انکا محاسبہ کون کرے گا ۔۔  پولیس و فورس کے ذریعہ بے گناہ معصوم شہریوں ، طلباء و اساتذہ پر ڈھائے گئے ظلم کی بھرپائی کون کرے گا ، پولیس کی لاٹھیوں اور گولیوں نے جنکی زندگیاں چھین لیں اسے واپس کون کرے گا ؟ پولیس کی بربریت نے جنکی آنکھیں چھین لیں وہ آنکھیں کون دیگا ؟ لاٹھی ڈنڈوں نے جنکے ہاتھ پیر توڑ دیئے انکی بھرپائی کون کرے گا ؟ آپ حکومت کے زور پر حق و انصاف کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں تو اب یہ ممکن نہیں اس ملک کے سیکولر اور باشعور شہری آئین و قانون کے زور پر ہر ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائیں گے ۔۔

 سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے  باپ  کا  ہندوستان    تھوڑی   ہے