سال تو بدلا لیکن ہم........
تحریر: ترنم منظورخان، باغ پختہ رامپور
آج سے کچھ روز قبل یعنی ۱۳/ دسمبر کی رات شور شرابہ،گہما گہمی، نعرے بازی،مبارکبادی، سڑکوں اور چوراہوں پر نوجوانوں کاہجوم،ہر طرف نئے سال کی آمد کا استقبال،نئی کلیاں، بوڑھی عورتیں بچے، بچیاں سب ایک دوسرے کو اپنے اپنے طریقے سے نئے سال کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نظر آئے ان کی لمحہ بھر کی خوشیوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اب سب کچھ بدلنے والا ہے، چہارجانب خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی اور آج سے ایک نئی زندگی کی شروعات ہوگی، لیکن صاحب صرف ایک ہندسے کے بدل جانے سے کچھ نہیں بدلتا نہ تو رات بدلتی ہے اور نہ دن,نہ چاند ہر چیز اپنے وقت کے ساتھ ساتھ عمل میں آتی رہتی ہے،نہ تو چاند اپنے وقت پر نکلنا بندکرتا ہے اور نہ ہی سورج، اسی طرح انسانی زندگی میں نہ ہی غم کی رات بدلتی ہے اور نہ ہی وہ خوفناک دن جو کاٹے نہیں کٹتا،اسی طرح نہ تو لوگ بدلتے ہیں اور نہ ہی ان کی سطحی سوچ اور نہ ہی قوموں کی عروج و زوال پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ اور تو اور بلکہ گندی سیاست، نہ تو لوٹ کھسوٹ بند ہوتی ہے اور نہ ہی دھوکہ دھڑی نہ والدین کی نافرمان اولاد بدلتی ہے اور نہ ہی اس کے ارادیخود معائنہ کیجیے کہ آج بھی چوری لوٹ کھسوٹ دھوکے بازی کینہ کپٹ کا بازار گرم ہے آج بھی نافرمان اولاد اپنے والدین کو ایک بوجھ سمجھ کر اولڈ ایج ہوم میں ڈال کر خوش ہے آج بھی لڑکیاں فیشن کے نام پر بے حیائی پر آمادہ ہیں اور آج بھی بے قصور اپنے معصوم چہروں کے ساتھ جیلوں میں پڑے ہیں آج بھی سیاسیت اپنا جال مذہبیت وقومیت کے نام پر بچھا تی چلی جارہی ہے آج بھی بے داغ ننھی معصوم کلیوں کو مہکنے اور کھلنے سے پہلے ہی پر امید کوپل بھر میں مسل دیا جاتا ہے،آج بھی راہگیر راستے میں کھڑے محتاجوں کی جھولی میں ایک روپے کا سکہ ہی ڈالتے ہیں آج بھی سڑک کے کنارے ننھے بچے اخبار بیچنے پر مجبور ہیں۔غریب ماؤں کے جگر گوشے ننگے پاؤں اور بھوکے پیٹ سڑکوں پر ایک ایک پائی کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں اور آج بھی غریب باپ اپنے گھر کی عزت کو غربت کے سبب گھر بٹھانے پر مجبور ہے۔
چنانچہ صرف ہندسے بدلنے سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلتے،بدحالی سے چھٹکارا نہیں ملتا او ر نہ ہی ذہنی غلامی میں محبوس قوم کو آزادی نصیب ہوتی ہے۔اگر اپنی زندگی میں بدلاؤ چاہتے ہیں تو سال کے بدلنے کی خوشی مت منایئے بلکہ اپنی زندگی کو بدل کر اس کو سنوارنے کی کوشش کیجئے پھر محسوس کیجئے کہ اس دکھاوے کی خوشی اور حقیقی خوشی میں کیا فرق ہے۔ آج لوگ فحاشی اخلاقی گراوٹ اور اخلاقی قدروں کے حد درجہ پامالی سے آگے بڑھ کر غیر اخلاقی ہی نہیں بلکہ غیر فطری اعمال تک کہ مرتکب ہورہے ہیں، دنیائے فانی میں انسانی خون ارزاں، انسانی عصمت و عفت ارزاں، انسانی جانیں ارزاں، یہاں مال ومتاع کا بے کار اور بے محل اور نامعقول جگہوں پر استعمال ہونا عام ہے۔ سالوں کی کمائی کو پل بھر میں اڑانے پر کوئی دکھ نہیں ہوتا۔ بدلنا ہی ہے تو خود کو بدلیے اس سماج کے لئے،یہاں کے پریشان حال لوگوں کیلئے، بے سہاراؤں کے لیے سہار بنیں معصوموں کے چہروں پر مسکان لائیں، ماں باپ کی عزت کریں، بہن بیٹیوں کو ان کا جان مقام دیں،سماج میں دبلے کچلے لوگوں کو مدد فراہم کریں، تعلیم کو عام کریں یہی حقیقی بدلاؤ اور تبدیلی ہے تبھی ہم صحیح معنوں میں خوشی منانے کے حقدار ہوں وگرنہ سب ہمارے لیے خام خیالی اور وقتی خوشیاں ہیں۔
ہم اوروں کو چھوڑ کر خود اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اس کو بروئے کار لانے کی کوشش میں لگ جائیں یا تو ہم دین کو کرسی والوں تک پہونچائیں یا پھر دیندار کو کرسی تک ویسے بھی ہمارا کام دنیا میں حکومت کرنا نہیں ہے بلکہ د نیا میں امن و سلامتی قائم کرنا ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے زمین پر فسادی بن کر مت رہو،ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم بلا تفریق مذہب وملت متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہوں اور انسانیت کو بچانے اور اس کے پیغام کو دور دور تک پہونچانے کے کام کو اپنے تمام دیگر کاموں پر ترجیح دیں، ملک میں کانٹے بکھیڑنے والے کانٹے بکھیڑتے رہیں گے اور ہم ان کے جواب میں پھول بچھاتے رہیں گے، فرض کر لیجئے کہ اگر دنیا کے اندر صرف کانٹے بکھیڑنے والے ہوں اور ان کے جواب میں پھول نہ بچھایا جائیں تو دنیا کا کیا حشر ہوگا۔سال تو ہر سال بدلے گا لیکن بھلا صرف سال کے بدلنے سے ہماری زندگی میں کیا فرق پڑ سکتا ہے۔
تحریر: ترنم منظورخان، باغ پختہ رامپور
آج سے کچھ روز قبل یعنی ۱۳/ دسمبر کی رات شور شرابہ،گہما گہمی، نعرے بازی،مبارکبادی، سڑکوں اور چوراہوں پر نوجوانوں کاہجوم،ہر طرف نئے سال کی آمد کا استقبال،نئی کلیاں، بوڑھی عورتیں بچے، بچیاں سب ایک دوسرے کو اپنے اپنے طریقے سے نئے سال کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نظر آئے ان کی لمحہ بھر کی خوشیوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اب سب کچھ بدلنے والا ہے، چہارجانب خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی اور آج سے ایک نئی زندگی کی شروعات ہوگی، لیکن صاحب صرف ایک ہندسے کے بدل جانے سے کچھ نہیں بدلتا نہ تو رات بدلتی ہے اور نہ دن,نہ چاند ہر چیز اپنے وقت کے ساتھ ساتھ عمل میں آتی رہتی ہے،نہ تو چاند اپنے وقت پر نکلنا بندکرتا ہے اور نہ ہی سورج، اسی طرح انسانی زندگی میں نہ ہی غم کی رات بدلتی ہے اور نہ ہی وہ خوفناک دن جو کاٹے نہیں کٹتا،اسی طرح نہ تو لوگ بدلتے ہیں اور نہ ہی ان کی سطحی سوچ اور نہ ہی قوموں کی عروج و زوال پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ اور تو اور بلکہ گندی سیاست، نہ تو لوٹ کھسوٹ بند ہوتی ہے اور نہ ہی دھوکہ دھڑی نہ والدین کی نافرمان اولاد بدلتی ہے اور نہ ہی اس کے ارادیخود معائنہ کیجیے کہ آج بھی چوری لوٹ کھسوٹ دھوکے بازی کینہ کپٹ کا بازار گرم ہے آج بھی نافرمان اولاد اپنے والدین کو ایک بوجھ سمجھ کر اولڈ ایج ہوم میں ڈال کر خوش ہے آج بھی لڑکیاں فیشن کے نام پر بے حیائی پر آمادہ ہیں اور آج بھی بے قصور اپنے معصوم چہروں کے ساتھ جیلوں میں پڑے ہیں آج بھی سیاسیت اپنا جال مذہبیت وقومیت کے نام پر بچھا تی چلی جارہی ہے آج بھی بے داغ ننھی معصوم کلیوں کو مہکنے اور کھلنے سے پہلے ہی پر امید کوپل بھر میں مسل دیا جاتا ہے،آج بھی راہگیر راستے میں کھڑے محتاجوں کی جھولی میں ایک روپے کا سکہ ہی ڈالتے ہیں آج بھی سڑک کے کنارے ننھے بچے اخبار بیچنے پر مجبور ہیں۔غریب ماؤں کے جگر گوشے ننگے پاؤں اور بھوکے پیٹ سڑکوں پر ایک ایک پائی کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں اور آج بھی غریب باپ اپنے گھر کی عزت کو غربت کے سبب گھر بٹھانے پر مجبور ہے۔
چنانچہ صرف ہندسے بدلنے سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلتے،بدحالی سے چھٹکارا نہیں ملتا او ر نہ ہی ذہنی غلامی میں محبوس قوم کو آزادی نصیب ہوتی ہے۔اگر اپنی زندگی میں بدلاؤ چاہتے ہیں تو سال کے بدلنے کی خوشی مت منایئے بلکہ اپنی زندگی کو بدل کر اس کو سنوارنے کی کوشش کیجئے پھر محسوس کیجئے کہ اس دکھاوے کی خوشی اور حقیقی خوشی میں کیا فرق ہے۔ آج لوگ فحاشی اخلاقی گراوٹ اور اخلاقی قدروں کے حد درجہ پامالی سے آگے بڑھ کر غیر اخلاقی ہی نہیں بلکہ غیر فطری اعمال تک کہ مرتکب ہورہے ہیں، دنیائے فانی میں انسانی خون ارزاں، انسانی عصمت و عفت ارزاں، انسانی جانیں ارزاں، یہاں مال ومتاع کا بے کار اور بے محل اور نامعقول جگہوں پر استعمال ہونا عام ہے۔ سالوں کی کمائی کو پل بھر میں اڑانے پر کوئی دکھ نہیں ہوتا۔ بدلنا ہی ہے تو خود کو بدلیے اس سماج کے لئے،یہاں کے پریشان حال لوگوں کیلئے، بے سہاراؤں کے لیے سہار بنیں معصوموں کے چہروں پر مسکان لائیں، ماں باپ کی عزت کریں، بہن بیٹیوں کو ان کا جان مقام دیں،سماج میں دبلے کچلے لوگوں کو مدد فراہم کریں، تعلیم کو عام کریں یہی حقیقی بدلاؤ اور تبدیلی ہے تبھی ہم صحیح معنوں میں خوشی منانے کے حقدار ہوں وگرنہ سب ہمارے لیے خام خیالی اور وقتی خوشیاں ہیں۔
ہم اوروں کو چھوڑ کر خود اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اس کو بروئے کار لانے کی کوشش میں لگ جائیں یا تو ہم دین کو کرسی والوں تک پہونچائیں یا پھر دیندار کو کرسی تک ویسے بھی ہمارا کام دنیا میں حکومت کرنا نہیں ہے بلکہ د نیا میں امن و سلامتی قائم کرنا ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے زمین پر فسادی بن کر مت رہو،ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم بلا تفریق مذہب وملت متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہوں اور انسانیت کو بچانے اور اس کے پیغام کو دور دور تک پہونچانے کے کام کو اپنے تمام دیگر کاموں پر ترجیح دیں، ملک میں کانٹے بکھیڑنے والے کانٹے بکھیڑتے رہیں گے اور ہم ان کے جواب میں پھول بچھاتے رہیں گے، فرض کر لیجئے کہ اگر دنیا کے اندر صرف کانٹے بکھیڑنے والے ہوں اور ان کے جواب میں پھول نہ بچھایا جائیں تو دنیا کا کیا حشر ہوگا۔سال تو ہر سال بدلے گا لیکن بھلا صرف سال کے بدلنے سے ہماری زندگی میں کیا فرق پڑ سکتا ہے۔
