اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: کیفی اعظمی کے افکار ___ ایک جائزہ محمد مرسلین اصلاحی (قسط پنجم)

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 9 December 2019

کیفی اعظمی کے افکار ___ ایک جائزہ محمد مرسلین اصلاحی (قسط پنجم)

کیفی اعظمی کے افکار ___ ایک جائزہ

                     محمد مرسلین اصلاحی

                                    (قسط پنجم)

جیسے کہانی کہنے والا کسی شہزادے کو چن لیتا ہے اور اس پر نیند وارد کر کے اسے خواب کے ذریعہ ایسی دنیا میں پہنچا دیتا ہے ۔ جہاں اشیا کی شکل و صورت اس دنیا سے بہتر دکھائی دیتی ہے اور وہ اس دنیا کی تلاش میں نکل جاتا ہے ۔ اس دلفریب دنیا کا پتہ پوچھتا ہے ۔ آخر اسے ایک بزرگ کی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے۔
 ۔
"مجھے اس دلفریب دنیا کی تلاش ہے " شہزادہ کہتا ہے ۔
اے میرے عزیز ! بزرگ جواب دیتا ہے ۔ یہ دنیا اس پرندے کے وسیلہ کے بغیر نہیں مل سکتی جسے سیمرغ کہتے ہیں ۔
یہ سن کر شہزادہ سیمرغ کی تلاش میں وادیوں ، پہاڑوں اور دریاؤں کو قطع کرتا ہوا جنگلوں میں پہنچ جاتا ہے ۔لیکن سیمرغ اسے کہیں دکھائی نہیں دیتا ۔ البتہ کچھ جنگلی پرندے اس کے ہمسفر بن جاتے ہیں ۔ جہاں شہزادہ رکتا ہے ، پرندے بھی رکتے ہیں ۔شہزادہ سوتا ہے تو پرندے اس کی حفاظت کرتے ہیں ۔ پھر جب وہ چلنے لگتا ہے تو پرندےاس کے ساتھ اڑتے ہیں ۔ یوں برسوں گذر جاتا ہے ۔ شہزادہ تھک کر سو جاتا ہے ۔
اے شہزادے ! پرندے پوچھتے ہیں :
" تو کس کی تلاش میں برسوں سے سرگرداں و پریشاں حال ہے "
شہزادہ جواب دیتا ہے ۔ " سیمرغ کی تلاش میں  "
اتنا سنتے ہی پرندے قطار وں میں رک جاتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ ہمیں دیکھ کیا ہم تیس نہیں ہیں ۔ شہزادہ انہںں دیکھتا ہے اور گنتا ہے ۔ اور اس پر یہ راز کھل جاتا ہے سیمرغ یہی تیس پرندے ہیں اور کوئی ایسا پرندہ نہیں جو سیمرغ کے نام سے موسوم ہو۔ اس وقت شہزادے کے ارد گرد وہی دنیا رونما ہونے لگتی جس کا اس نے برسوں پہلے خواب دیکھا تھا ۔

اس حکایت کا تذکرہ اس لئے لازمی ہے کیوں کہ بنیادی انسانی اقدار کا ادب براہ راست صحیح نتائج پیدانہیں کرتا ۔ اور یہ بات بھی ہے کہ ادب بنیادی انسانی اقدار کا ترجمان ہے۔ ان دونوں صورتوں میں سیمرغ کی تاویل کیوں کرہو سکتی ہے؟
اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کہانی کے پیچھے ایک علامتی حقیقت پوشیدہ ہے ۔ داستان کا پھیلاؤ عملا تیس پرندوں کی کہانی میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ اور اس طرح انسانی اقدار کی ہمہ گیر علامت بن جاتا ہے. اب آخر اس تیس کے ہندسے سے کیا مراد ہے ۔ قاری کی یہ سونچ مذہبی تصورات کی طرف لے جاتی ہے اور وہ خدا کی کتاب کے تیس پاروں کو پرندوں کا مصداق قرار دیتا ہے ۔ اور کلام اللہ کی علامت بن جاتا ہے ۔ اور جو بات واضح ہوتی ہے ۔ وہ یہ کہ زندگی کو بہشت میں بدلنے کے لئے سیمرغ کی موجودگی لازمی ہے ۔ چناں چہ انسان جب اقدار کی ان علامتوں کو محسوس کرتا ہے تو وہ شہزادے کے مانند سیمرغ کی تلاش میں دشت و بیاباں میں نکل پڑتا ہے اور اس کا یہ مسئلہ سیمرغ کی علامت پر ختم ہو تا ہے ۔ اور لوگ بنیادی انسانی اقدار کو کلام اللہ کی بنائی ہوئی قدروں سے الگ نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ کلام اللہ کے مطابق اعمال مرتب کرنے سے امن و سلامتی کو زمین پر قایم کیا جا سکتا ہے ۔ یہ سوچ ان کے تخلیقی ذہن کو سیمرغ کی علامت میں ظاہر کرتی ہے ۔ یہ بات شاعری پر بھی صادق آتی ہے ۔ اور مختلف انداز میں پیش ہوتی رہی ہے ۔ معاشرے اور سیاست کے ذیل میں اس تلاش کے ذریعہ ترقی پسند تحریک کا ادب اور اقبال کی شاعری پیدا ہوئی ۔ لیکن دونوں میں بنیادی ، فکری اور معنوی تضاد پایا گیا ۔ نیکی کی قدر صحیح اسلامی قدروں ہی پر قائم ہو سکتی ہے ۔ اس کا عمل اپنے محدود دائرے میں جتنے چناؤ کرتا ہے وہ برائی کی طاقتوں کی نفی کرتا ہے ۔ انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے ۔ وہ دکھ سے زیادہ سکھ اور اطمنان کی خوش خبری دیتا ہے اس کا مطلب کچھ اور نہیں ہوتا کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کو امن و سلامتی کا ماحول واپس لوٹانے کے لئے زمین پر نیکی کا قیام خیر مطلق کی بشارت کا باعث ہے ۔ خوبصورتی ، اطمینان ، امن و سلامتی ، محبت ، عالم گیر انسانی  اخوت ، خوش حالی ،اور ثانوی قدریں نیکی کی بنیادیں ہی تو ہیں جو مذہبیت کے سنگھم سے نکلتی ہیں ۔ اور روئے زمین پر پھیل کر پورے عالم کو سیراب کرتی ہیں ۔ مگر جب ہم یہ قدریں کیفی کی شاعری میں تلاش کرتے ہیں تو وہ انسانوں کو فراست کے مطابق اپنے خلاق کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیتا ہے ۔

            ________________ختم شد______________