*دارالعلوم وقف دیوبند کے طالب علم پر بس میں حملہ شرپسندوں کےخلاف مقدمہ درج،تنظیم ابنائے مدارس و جمعیۃ یوتھ کلب ضلع سہارنپور نے سخت کارروائی کا کیا مطالبہ*
(2019 دیوبند6 دسمبر
دارالعلوم وقف دیوبند کے طالب علم محمد عالم ولد محمد عبد الجبار ساکن زبردست پور روڑکی کے ساتھ گزشتہ شام گھر سے دیوبند واپسی کے وقت چند شرپسندوں نے مارپیٹ کی،اور اس پر جان لیوا حملہ کیا،زخمی حالت میں عشاء کے وقت طالب علم اپنے ادارے پہونچا،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تنظیم ابنائے مدارس اور جمعیۃ یوتھ کلب کے ذمہ داروں نے ادارہ پہونچ کر متاثر طالب علم سے ملاقات کی،طالب کے علم کے مطابق اسے دگچاڑی گاؤں کے پاس بس میں پہلے سے موجود 4 نامعلوم نوجوانوں نے گالیاں دینی شروع کی اور پھر اسے مارنا شروع کردیا،اس کے سر پر لوہے کے کسی سامان سے ایسی ضرب ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا اور کان میں بھی شدید چوٹ لگی،
اور پھر بس سے اتر گئے،
عالم کے بقول ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے کوئی بھی تعاون نہیں کیا،
اس تعلق سے مولانا مہدی حسن عینی قاسمی نے ادارے کے ناظم دارالاقامہ مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی سے ملاقات کی،اور ان سے مشورہ کے بعد متاثر طالب علم کی جانب سے دیوبند تھانہ میں تحریر دی گئی،حادثہ کی خبر سن کر طالب علم کے اہل خانہ، اور بڑی تعداد میں طلباء مدارس دیوبند کوتوالی پہونچ گئے،
تھانہ انچارج نے تحریر لینے اور میڈیکل کرانے کے بعدفوراً کارروائی شروع کردی ہے،
اس موقعہ پر تنظیم ابنائے مدارس کے بانی مولانا مہدی حسن عینی قاسمی اور جمعیۃ یوتھ کلب ضلع سہارنپور کے کنوینر مولانا محمود الرحمن قاسمی بستوی نے گہرے تشویش کا اظہار کیا اور پولیس انچارج تھانہ دیوبند سے ملاقات کرکے مطالبہ کیا کہ ان شرپسند عناصر اور بس ڈرائیور و کنڈکٹر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،تھانہ انچارج نے علی الفور منگلور بارڈر پولیس چوکی انچارج کو جائے حادثہ پر روانہ کیا اور 24 گھنٹے کے اندر اندر سبھی ملزموں کو گرفتار کرنے اور بس کو سیز کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے،
ادھر جمعیۃعلماء ضلع سہارنپور کے جنرل سکریٹری سید ذہین احمد نے سہارنپور پولیس کے اعلی افسران سے رابطہ قائم کرکے 24 گھنٹے کے اندر اندر مجرمین کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
(2019 دیوبند6 دسمبر
دارالعلوم وقف دیوبند کے طالب علم محمد عالم ولد محمد عبد الجبار ساکن زبردست پور روڑکی کے ساتھ گزشتہ شام گھر سے دیوبند واپسی کے وقت چند شرپسندوں نے مارپیٹ کی،اور اس پر جان لیوا حملہ کیا،زخمی حالت میں عشاء کے وقت طالب علم اپنے ادارے پہونچا،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تنظیم ابنائے مدارس اور جمعیۃ یوتھ کلب کے ذمہ داروں نے ادارہ پہونچ کر متاثر طالب علم سے ملاقات کی،طالب کے علم کے مطابق اسے دگچاڑی گاؤں کے پاس بس میں پہلے سے موجود 4 نامعلوم نوجوانوں نے گالیاں دینی شروع کی اور پھر اسے مارنا شروع کردیا،اس کے سر پر لوہے کے کسی سامان سے ایسی ضرب ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا اور کان میں بھی شدید چوٹ لگی،
اور پھر بس سے اتر گئے،
عالم کے بقول ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے کوئی بھی تعاون نہیں کیا،
اس تعلق سے مولانا مہدی حسن عینی قاسمی نے ادارے کے ناظم دارالاقامہ مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی سے ملاقات کی،اور ان سے مشورہ کے بعد متاثر طالب علم کی جانب سے دیوبند تھانہ میں تحریر دی گئی،حادثہ کی خبر سن کر طالب علم کے اہل خانہ، اور بڑی تعداد میں طلباء مدارس دیوبند کوتوالی پہونچ گئے،
تھانہ انچارج نے تحریر لینے اور میڈیکل کرانے کے بعدفوراً کارروائی شروع کردی ہے،
اس موقعہ پر تنظیم ابنائے مدارس کے بانی مولانا مہدی حسن عینی قاسمی اور جمعیۃ یوتھ کلب ضلع سہارنپور کے کنوینر مولانا محمود الرحمن قاسمی بستوی نے گہرے تشویش کا اظہار کیا اور پولیس انچارج تھانہ دیوبند سے ملاقات کرکے مطالبہ کیا کہ ان شرپسند عناصر اور بس ڈرائیور و کنڈکٹر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،تھانہ انچارج نے علی الفور منگلور بارڈر پولیس چوکی انچارج کو جائے حادثہ پر روانہ کیا اور 24 گھنٹے کے اندر اندر سبھی ملزموں کو گرفتار کرنے اور بس کو سیز کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے،
ادھر جمعیۃعلماء ضلع سہارنپور کے جنرل سکریٹری سید ذہین احمد نے سہارنپور پولیس کے اعلی افسران سے رابطہ قائم کرکے 24 گھنٹے کے اندر اندر مجرمین کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
