خدارا زندوں کی قدرکریں
ذوالقرنین احمد
ہمارے معاشرہے میں محبت اس وقت ملتی ہے جب انسان کے ساتھ کچھ برا ہوتا ہے، ورنہ ہم اپنی انانیت اور اکڑپن کے چکر میں کبھی کسی کو اسکا حق نہیں دیتے بلکہ ایک دوسرے سے بغض و کینہ رکھا جاتا ہے۔ زرا زرا باتوں پر اپنوں سے دشمنی کی جاتی ہے اور اسے پوری ایمانداری سے نبھایا جاتا ہے۔ آج انسان محبت کی ضرورت ہے، اپنوں کو اپنے پن کی ضرورت ہے۔ جب انہیں اپنوں سے ہی محبت و شفقت ملتی وہ کوئی اور ساتھی تلاش کرلیتے ہیں۔ اور پھر ہم ہاتھ ملتے رہے جاتے ہیں کہ دیکھو وہ اپنا ہوکر زرا بھی ہمارا خیال نہیں رکھتا غیروں کی محبت ہم سے زیادہ ہے۔ لیکن یہ نہیں سوچتے جس وقت اسے محبت و اپنے کی ضرورت تھی تم کبھی اسکی طرف توجہ ہی نہیں دی، پھر یہ گلے شکوے کچھ کام کے نہیں رہے جاتے۔ اس لیے اپنوں کا خیال رکھے جیسے درختوں کو سبز رکھنے کیلے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح انسانوں کے دلوں بھی محبت کی ضرورت ہو تی ہے۔ اس لیے زندوں کی قدر کریں مرنے کے بعد تو ہر کوئی آنسوں بہاتا ہے۔
