اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: کیفی اعظمی کے افکار ____ ایک جائزہ محمد مرسلین اصلاحی (قسط سوم)۔

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 8 December 2019

کیفی اعظمی کے افکار ____ ایک جائزہ محمد مرسلین اصلاحی (قسط سوم)۔

کیفی اعظمی کے افکار ____ ایک جائزہ

محمد مرسلین اصلاحی

                                      (قسط سوم)۔

ترقی پسند شعراء کی طرح ادبی معاملات میں ترقی پسند تحریک کے اکثر نقاد بھی کجرویوں اور فکری خامیوں کے شکار  نظر آتے ہیں ۔ علی سردار جعفری نے ترقی پسند ادب پر 1981 میں ایک کتاب شائع کی ۔ جہاں اس تصنیف میں اس تحریک کے تاریخی مطالعہ اور ادبی نشو و نما کا خاکہ کھینچا گیا ہے ۔ وہیں افراط و تفریط سے بھی کام لیا گیا ہے ۔ اس کتاب کا بیشتر حصہ خود ان کے اپنے مزعومات و تصورات پر مبنی ہے ۔ جیسا کہ خلیل الرحمٰن اعظمی لکھتے ہیں :
" ترقی پسند تحریک سے متعلق ادبا افراط و تفریط میں مبتلا تھے۔ وہ  ماضی کے سارے ادبی کارناموں کو نظر انداز کر کے ترقی پسندی کا میکانکی تصور پیش کر رہے تھے ۔ بعض خام ذہنوں نے بغاوت اور تحریک کو ترقی پسندی تصور کیا اور جنسی بے راہ روی اور اخلاقی قیود سے آزادی حاصل کرنے کو ترقی پسندی کا منتہا سمجھا ۔ انھوں نے ادب کی رمزیت اور جمالیاتی انداز کو رجعت پسندی کی علامت سمجھا۔ انھوں نے جذباتی اور سطحی طور پر اس نظریے کو قبول کیا ۔
ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کی اس روش سے ادب اور ترقی پسند تحریک دونوں کو نقصان پہنچا۔ اس تحریک کے زیر سایہ وجود میں آنے والے ادب پر پروپگنڈہ کا گمان ہونے لگا اور فنی صداقتیں مجروح ہو گئیں۔ "
بقول شورش کاشمیری :
" ترقی پسند ادیبوں نے ادب و شعر سے مفاسد و عوارض کو خارج کر نے کی کوشش تو کی مگر ان کی تحریک میں اثبات کے بجائے نفی کا پہلو عام تھا ۔ انھوں نے اپنی ہمہ ہمی کے باوجود کوئی میر ، غالب ، اقبال پیدا نہیں کیا ۔ ان کی صفوں میں ایک بھی حالی ، اکبر اور ظفر علی خاں نہیں ۔ سردار جعفری نے " ترقی پسند ادب " میں بعض کھلونوں کو بڑا بنانے کی کوشش تو کی مثلا مجروح سلطان پوری اور کیفی اعظمی ، لیکن ان کا حدود اربعہ بس اتنا ہے کہ شاعری کے مدرسہ میں کند ذہن طالب علم ہیں ۔ خود سردار جعفری اپنی تحریک کے حالی بچنا چاہیے رہے تھے لیکن غور کرنے سے ان کا  اپنا وجود محل نظر ہے "
 مزید لکھتے ہیں :
"ترقی پسند وں کا ایک گروہ یقیناً ایک نیا ذہن ، نیا جذبہ اور نیا احساس لے کر اٹھا لیکن ان کی بڑی خوبی درشت گوئی اور مشاہدہ کی کمی ہے ۔ ان کے یہاں تقلید ، اخذ و توارد زیادہ ہے ۔ فیض احمد فیض ترقی پسند تحریک کے شعری رہنما ہیں ۔ ان کے نظریوں کو جدلی مادیت کے گہرے مطالعے اور طبقاتی آمیزش کے عمیق مشاہدے نے پروان چڑھایا ، ان کے یہاں فکر سے فرض تک ایک ہی لے ہے ۔"
اسی طرح جمیل مظہری لکھتے ہیں :
" یہ بمبئی والے حضرت جعفری صاحب ہیں ان کی بھی ایک امت ہے۔ جس کی تصویر علامہ اقبال رح نے یوں کھینچی ہے ۔ 
یہ پریشان روزگار ، آشفتہ حال و آشفتہ ہو ۔
سردار جعفری صرف خواب دیکھتا ہے، عالم گیر اشتراکیت کا خواب ، عالمگیر برابری کا خواب ۔ لیکن ان خوابوں کو پیکر وجود میں لانے کے لئے وہ کوئی نتیجہ خیز زحمت گوارا نہیں کرتا ۔ ہوٹلوں میں بیٹھ کر چائے پیتا ہے ۔ سگریٹ پیتا ہے ۔ یہ جماعت نصف صدی سے ہندوستان میں اپنی موجودگی کا اعلان تو کرتی آرہی ہے ۔ لیکن ھندوستان جو دیہاتوں کا ملک ہے، اس کے کسی دیہات میں آپ چلے جائیے اور وہاں کے لوگوں سے اس پارٹی کے بارے میں پوچھئے تو وہ کانوں پر ہاتھ دھریں گے اور حیران کن آنکھوں سے آپ کی صورت دیکھیں گے ۔ یہ ہے عوام سےان ہمدردان ازل کا رشتہ و روابط ۔ کاش ! یہ عمل داران_ حریت اپنی آرام کرسیوں پر بیٹھ کر اونچی اونچی لمبی لمبی گپیں ہانکنے کے بجائے گاؤں گاؤں پھیل کر عوام کے ذہن کی تربیت کرتے اور ان کے پیمانہء فہم کے مطابق سمجھاتے ۔ کاش ! کوئی اسٹالن صاحب سے کہتا کہ ہندوستان میں جواہر لال نہرو کی اشتراکیت کے باوجود جو مہاجن شاہی قائم ہو گئی ہے وہ آپ کی اس پارٹی کی بے عملی کا نتیجہ ہے جس کا نام کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ہے ۔ یا آپ نے انہیں سکھایا ہی نہیں ۔ خوابوں کے یہ بچے سپنوں کے یہ لال صرف سپنا دیکھتے ہیں ۔ اور آنکھیں بند کرکے انقلاب کا کلمہ جپتے ہیں ۔ اور کامناوں کا پنکھ لگا کر خلا میں اڑتے ہیں۔ اور اپنے نرم گداز بستروں پر آرام سے لیٹ کر یہ تمنا کرتے ہیں کہ کوئی خونیں انقلاب کا سیلاب آئے اور ان کے ارادوں کی کشتی کو بھارت کے راج سنگھاسن کے قریب لاکر لگادے۔ یہ مولانا ابوالکلام کی زبان میں فرزندان دانش وری اور دل دادگان لیلائے حماقت اور مجانین صحرائے صحافت کمیونسٹ  پارٹی کے لوگ ہیں ۔ "
کیفی کے خیالات میں وحدت کا کوئی رشتہ نہیں ، ایکا ایکی نفسانی طور پر باہمی فکری تصادم ہے اور جو لوگ جنسی کج روی میں زندگی بسر کرتے ہیں ان کا ذکر ہی بے کار ہے ۔ انہیں زیادہ  سے زیادہ شعری ممیوں کا نام دے سکتے ہیں ۔ " اردو ترقی پسند تحریک " کے ڈھڑے سے جڑے رہنے کے سبب غزل و نظم کے مشرقی روپ سے فرار در اصل میں فکر کی ژولیدگی کا نتیجہ ہے ۔ فیض اور ان کے دو چار خوشہ چینوں کو چھوڑ کر اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا ذہن مستعار اور زبان ادھار ہے ۔ یہ جتنا عوام کا ذکر کرتے ہیں اتنا عوام سے واقف نہ تھے ۔ یہ لوگ شعروں میں نعرہ بازی کرنا جانتے ہیں ۔ جس کا نتیجہ اصلا اشتمالی چھاپ کے بعد سستی شہرت کا حصول تھا ۔ کیفی کو ایک انقلابی شاعر کا نام دینا ادب سے عدم دلچسپی اور ادبی وقعت کو مجروح کرنا ہے ۔ کیفی نہ انقلابی شاعر تھا اور نہ ہی اس کے شعروں میں وہ روحانیت ہے جو انقلاب کی جوت جگائے۔ کیفی لے دے کے ترقی پسند تحریک کا پرچارک تھا ۔ وہ ہندوستان کی عوام سے سستی شہرت چاہتا تھا ۔ یہ انقلاب نہیں بلکہ نراج ہے ۔ترقی کے معنی ہیں آگے بڑھنا توڑنا نہیں۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ماضی ء مرحوم کی عمارت سے ہر اینٹ کھینچ لیں ان کی فراست قابل اعتنا نہیں ۔ جن کی ذہنیت اشتمالیت سے زنگ آلود ہے ۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے علاوہ اور بھی شاعر ہیں جن کے یہاں گونج گرج ، رجز ، جوش ، ولولہ ، جدت ، شور و غل ۔ نئے تراشے ، استعارے ، تشبیہیں ، ترکیبیں کم نہیں ۔لیکن ترقی پسند تحریک کی طرح وہ مشیت کو گالی نہیں دیتے ۔
چناں چہ کیفی کو کمیونسٹ حکومت کے زوال کا بڑا درد و کرب تھا ۔ شعر ملاحظہ فرمائیں ۔

اک  یہی  سوز _نہاں کل  مرا  سرمایہ  تھا
دوستوں میں کسے یہ سوز نہاں نذر کروں