سیاست دوستی کی جڑ میں مٹھا ڈال دیتی ہے
ذوالقرنین احمد
ایک جمہوری ملک میں جو نظام ہوتا ہے وہ سبھی کو برابری کا حق دیتا ہے۔ جمہوری ملک کی بنیاد ہی اس پر رکھی جاتی ہے کہ ہر شخص اپنے مذہبی تشخص اور شخصی آزادی کے ساتھ ملک میں بغیر کسی تفریق کے رہے۔ نا کہ مذہب کے نام پر کسے کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جائے۔ سیاست ایسی چیز ہے جب اقتدار پر قابض ہونے کہ بعد کرسی ملتی ہے تو اسکا نشہ جب کسی پر چڑھتا ہے تو اسے پھر کچھ دیکھائی نہیں دیتا سوائے اپنی کرسی کے۔ اور اپنی انا پر اڑ جاتا ہے۔ آزادی کے 70 سالوں کا جائزہ لے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک کی عوام کو تختہ مشق بناکر بے قصور عوام کو اپنے سیاسی فائدہ کیلے استعمال کیا گیا ہے۔ ایک جمہوری ملک ہونے کے باوجود ہندوستان میں ایک مخصوص قوم کو نظر انداز کرکے انہیں کمزور کیا گیا۔ ہر ہر میدان میں انہیں پس پشت ڈالا گیا۔ آج اس بات کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے کہ مسلمانوں کے پاس مضبوط قیادت نہیں ہے جو حکومت وقت سے دو ٹوک الفاظ میں بات کریں ۔ کم ظرف اور شدت پسند فرقہ پرست عناصر نے ملک کی جمہوریت کو اسکی ساخت کو دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کردیا۔ جو کوئی بھی حکومت اقتدار میں آئی اس نے اپنے فائدے کیلے ملک کو مستحکم کرنے کے بجائے اسے لوٹتے رہے ہیں۔
آج ملک میں مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اور غریب عوام غربت کی عمیق پستیوں میں چلی جارہی ہیں۔ اس کا احساس نہیں ہونے دیا جارہا ہے بارہا ملک کی معیشت کی بد حالی کو چھپانے مطلب خود حکومت کو اپنی نا اہلی چھپانے کیلے عوام کو الجھایا جارہا ہے۔ کئی برسوں سے بابری مسجد کو متنازع اراضی بتاکر اس پر سیاست کی گئی۔ ہزاروں انسانوں کا خون بہایا گیا۔ اور جب بابری مسجد پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تو اسے آستھا کے حوالے کردیا۔ اب حکومت وقت کے پاس کوئی اور بڑا ایسا معاملہ نہیں تھاکہ عوام کو ایک دوسرے میں لڑایا جائے، یا پھوٹ ڈال کر اپنی اقتدار کو بچایا جائے۔ اس لیے اب پھر سے ایک نئے معاملے کو سامنے لایا گیا جس میں مسلمانوں کو ملکی بدحالی اور معاشی تنزلی کو چھپانے کیلے بلی بکرا بنایا گیا ہے۔ موجودہ حالات جس طرف اشارہ کر رہ ہے وہ ایک تو ہندو راشٹر کی طرف قدم بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس میں فرقہ پرست حکومت کچھ حد تک کامیاب ہوتی دیکھائی دے رہی ہے۔ اب انکا ہدف سول کوڈ ہے۔ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کو نافذ کرنے کا مقصد ہی ہندوستان میں ہندؤ کی تعداد کو اکثریت میں دیکھانے کیلے جو غیر ملکیوں کو شہریت دینے کی بات شہریت ترمیمی قانون میں کہی جارہی ہے اس کا مطلب ان لوگوں کو شہریت اس کنڈیشن پر بھی دی جاسکتی ہے کہ گھر واپسی کرے، یا پھر انھیں اس پر مجبور کیا جائے گا کہ تم ہندو مذہب کو قبول کرو تب تمہیں ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔
پورے ملک میں دلی سے لے کر گلی کوچے میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج ہورہا ہے اور اب یہ احتجاج رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے جس میں تمام مذاہب کے انصاف پسند عوام مل کر اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تو حکومت کو اپنی کرسی ڈگمگاتی دیکھائی دے رہی ہے۔ انہیں اس بات کا خوف ستا رہا ہے کہ 2024 میں کیا ہوگا کیونکہ حال ہی میں مہاراشٹر میں حکومت سازی میں ناکام ہونے کے بعد اب جھارکھنڈ میں بھی منہ کی کھانی پڑی ہے۔ اب ایسے حالات میں انکے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج پر قابو پانے میں ناکام دیکھائی دے رہی ہے۔ جبکہ پورے ہندوستان سے کروڑوں عوام سڑکوں پر ہے۔ اب حکومت اپنی اصلیت دیکھانا شروع کر رہی ہے کہ وہ ایک جمہوری ملک میں ہونے کے باوجود گنڈا راج چلا رہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں پولس کے زریعہ کی گئی بربریت سے صاف ظاہر ہے کہ کس طرح سے یہ فرقہ پرست بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ اب یہ اپنی ذیلی تنظیموں کے زریعے جو آر ایس ایس کے انڈر میں کام کرتی ہے۔ انہیں سڑکوں پر لاکر کالے قانون کی حمایت میں مظاہرے کرنے کیلے سڑکوں پر اتار رہی ہے۔ کئی شہروں میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ انکے فرقہ پرست گروہ قانون کے حق میں ریلیاں نکال کر ملک میں جو گنگا جمنی تہذیب کا اتحاد ہے اسے توڑنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے۔ اور اسکے زریعے کالے قانون کے خلاف جاری احتجاج کو روکنے اور انصاف پسند عوام میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرکے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ فرقہ پرستوں کو احتجاج کوئی خاموش احتجاج نہیں ہوتا ہے۔ یہ ماحول میں کشیدگی پیدا کرنے ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے ملک کے امن کو برباد کرنے کیلے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ نا اس موقع پر پولس کی لاٹھیاں ان پر چلتی ہے نا پولس آنسوں گیس کے گولے داغتی ہے۔ نا فائرنگ کرتی ہے۔ اور نا ان فرقہ پرستوں کو روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ ض ان فرقہ پرستوں کو احتجاج کرنے سے پہلے ریلی کی اجازت بھی کہا سے مل جاتی ہے جبکہ خاموش احتجاج کرنے والے طلباء و عام عوام کو پولس اجازت نہیں دیتی ہے۔
سیاست کی خاطر یہ فرقہ پرست اپنی کرسی بچانے کیلے اب گنڈوں کو میدان میں اتار چکی ہے جس کا مقصد پھوٹ ڈالوں حکومت کرو ہے۔ انہیں یہ بات تکلیف دے رہی ہے جو موجودہ حالات میں تمام مذاہب کے لوگ ملک کے آئین اور جمہوریت کی حفاظت کیلے متحد ہو چکے ہیں جو ملک کے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ابتک 20 سے زائد افراد کی اموات احتجاج کے دوران ہوچکی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد کو حراست میں لیا گیا ہیں۔ جس میں فرقہ پرستوں کا ہاتھ ہے۔ جو احتجاج اب قانون کے حق میں کیا جارہا ہے وہ کھلی دشمنی ہے اور اپنی ہٹ دھرمی ہے۔ حکومت کی بے شرمی ہے۔ ملک کے بڑے بڑے تعلیمی ادارے اور تنظیمیں انصاف پسند مذہبی افراد اور دیگر سوشل ورکر اس قانون کو ملک اور آئین اور انسانیت کے خلاف قرار دے رہے ہیں پھر بھی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ اگر حکومت کی اندر ذرا بھی شرم و غیرت باقی ہو تو انھیں اقتدار سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ ورنہ ملک کے حالات بڑے سنگین صورتحال کی طرف اشارہ کر رہ ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو ہوش و حواس سے کام لینا چاہیے جزبات کے دھارے میں نا بہے جائے، سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیے، جو شر پسند عناصر اور فرقہ پرست تنظیمیں بابری مسجد کے فیصلے کے وقت مسلمانوں سے امن کی اپیل کر رہے تھے اب انہیں سامنے لانے کی ضرورت ہے اب انسے جاکر ملنا چاہیے اب انہیں احتجاج میں اول صف میں لاکر کھڑا کیا جائے۔ اور اگر وہ نہیں آتے ہیں تو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ اس وقت صرف اس لیے امن کی اپیل کر رہ تھے کیونکہ فیصلہ پہلے ہی محفوظ ہوچکا تھا۔ یہ فرقہ پرست کبھی خیر خواہ نہیں ہوسکتے ہے۔ ایک وقت انکے سربراہ نے یہ بیان دیا تھا کہ ہندو راشٹر کا قیام مسلمانوں کے بغیر نا ممکن ہے۔ یہ دوغلے پن کی تنگ نظر قوم ہے انکے دلوں میں منافرت بھری ہوئی ہے۔ نا یہ سیکولر ازم کو مانتے ہیں نا آئین پر اعتماد رکھتے ہیں۔
ذوالقرنین احمد
ایک جمہوری ملک میں جو نظام ہوتا ہے وہ سبھی کو برابری کا حق دیتا ہے۔ جمہوری ملک کی بنیاد ہی اس پر رکھی جاتی ہے کہ ہر شخص اپنے مذہبی تشخص اور شخصی آزادی کے ساتھ ملک میں بغیر کسی تفریق کے رہے۔ نا کہ مذہب کے نام پر کسے کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جائے۔ سیاست ایسی چیز ہے جب اقتدار پر قابض ہونے کہ بعد کرسی ملتی ہے تو اسکا نشہ جب کسی پر چڑھتا ہے تو اسے پھر کچھ دیکھائی نہیں دیتا سوائے اپنی کرسی کے۔ اور اپنی انا پر اڑ جاتا ہے۔ آزادی کے 70 سالوں کا جائزہ لے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک کی عوام کو تختہ مشق بناکر بے قصور عوام کو اپنے سیاسی فائدہ کیلے استعمال کیا گیا ہے۔ ایک جمہوری ملک ہونے کے باوجود ہندوستان میں ایک مخصوص قوم کو نظر انداز کرکے انہیں کمزور کیا گیا۔ ہر ہر میدان میں انہیں پس پشت ڈالا گیا۔ آج اس بات کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے کہ مسلمانوں کے پاس مضبوط قیادت نہیں ہے جو حکومت وقت سے دو ٹوک الفاظ میں بات کریں ۔ کم ظرف اور شدت پسند فرقہ پرست عناصر نے ملک کی جمہوریت کو اسکی ساخت کو دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کردیا۔ جو کوئی بھی حکومت اقتدار میں آئی اس نے اپنے فائدے کیلے ملک کو مستحکم کرنے کے بجائے اسے لوٹتے رہے ہیں۔
آج ملک میں مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اور غریب عوام غربت کی عمیق پستیوں میں چلی جارہی ہیں۔ اس کا احساس نہیں ہونے دیا جارہا ہے بارہا ملک کی معیشت کی بد حالی کو چھپانے مطلب خود حکومت کو اپنی نا اہلی چھپانے کیلے عوام کو الجھایا جارہا ہے۔ کئی برسوں سے بابری مسجد کو متنازع اراضی بتاکر اس پر سیاست کی گئی۔ ہزاروں انسانوں کا خون بہایا گیا۔ اور جب بابری مسجد پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تو اسے آستھا کے حوالے کردیا۔ اب حکومت وقت کے پاس کوئی اور بڑا ایسا معاملہ نہیں تھاکہ عوام کو ایک دوسرے میں لڑایا جائے، یا پھوٹ ڈال کر اپنی اقتدار کو بچایا جائے۔ اس لیے اب پھر سے ایک نئے معاملے کو سامنے لایا گیا جس میں مسلمانوں کو ملکی بدحالی اور معاشی تنزلی کو چھپانے کیلے بلی بکرا بنایا گیا ہے۔ موجودہ حالات جس طرف اشارہ کر رہ ہے وہ ایک تو ہندو راشٹر کی طرف قدم بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس میں فرقہ پرست حکومت کچھ حد تک کامیاب ہوتی دیکھائی دے رہی ہے۔ اب انکا ہدف سول کوڈ ہے۔ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کو نافذ کرنے کا مقصد ہی ہندوستان میں ہندؤ کی تعداد کو اکثریت میں دیکھانے کیلے جو غیر ملکیوں کو شہریت دینے کی بات شہریت ترمیمی قانون میں کہی جارہی ہے اس کا مطلب ان لوگوں کو شہریت اس کنڈیشن پر بھی دی جاسکتی ہے کہ گھر واپسی کرے، یا پھر انھیں اس پر مجبور کیا جائے گا کہ تم ہندو مذہب کو قبول کرو تب تمہیں ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔
پورے ملک میں دلی سے لے کر گلی کوچے میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج ہورہا ہے اور اب یہ احتجاج رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے جس میں تمام مذاہب کے انصاف پسند عوام مل کر اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تو حکومت کو اپنی کرسی ڈگمگاتی دیکھائی دے رہی ہے۔ انہیں اس بات کا خوف ستا رہا ہے کہ 2024 میں کیا ہوگا کیونکہ حال ہی میں مہاراشٹر میں حکومت سازی میں ناکام ہونے کے بعد اب جھارکھنڈ میں بھی منہ کی کھانی پڑی ہے۔ اب ایسے حالات میں انکے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج پر قابو پانے میں ناکام دیکھائی دے رہی ہے۔ جبکہ پورے ہندوستان سے کروڑوں عوام سڑکوں پر ہے۔ اب حکومت اپنی اصلیت دیکھانا شروع کر رہی ہے کہ وہ ایک جمہوری ملک میں ہونے کے باوجود گنڈا راج چلا رہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں پولس کے زریعہ کی گئی بربریت سے صاف ظاہر ہے کہ کس طرح سے یہ فرقہ پرست بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ اب یہ اپنی ذیلی تنظیموں کے زریعے جو آر ایس ایس کے انڈر میں کام کرتی ہے۔ انہیں سڑکوں پر لاکر کالے قانون کی حمایت میں مظاہرے کرنے کیلے سڑکوں پر اتار رہی ہے۔ کئی شہروں میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ انکے فرقہ پرست گروہ قانون کے حق میں ریلیاں نکال کر ملک میں جو گنگا جمنی تہذیب کا اتحاد ہے اسے توڑنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے۔ اور اسکے زریعے کالے قانون کے خلاف جاری احتجاج کو روکنے اور انصاف پسند عوام میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرکے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ فرقہ پرستوں کو احتجاج کوئی خاموش احتجاج نہیں ہوتا ہے۔ یہ ماحول میں کشیدگی پیدا کرنے ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے ملک کے امن کو برباد کرنے کیلے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ نا اس موقع پر پولس کی لاٹھیاں ان پر چلتی ہے نا پولس آنسوں گیس کے گولے داغتی ہے۔ نا فائرنگ کرتی ہے۔ اور نا ان فرقہ پرستوں کو روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ ض ان فرقہ پرستوں کو احتجاج کرنے سے پہلے ریلی کی اجازت بھی کہا سے مل جاتی ہے جبکہ خاموش احتجاج کرنے والے طلباء و عام عوام کو پولس اجازت نہیں دیتی ہے۔
سیاست کی خاطر یہ فرقہ پرست اپنی کرسی بچانے کیلے اب گنڈوں کو میدان میں اتار چکی ہے جس کا مقصد پھوٹ ڈالوں حکومت کرو ہے۔ انہیں یہ بات تکلیف دے رہی ہے جو موجودہ حالات میں تمام مذاہب کے لوگ ملک کے آئین اور جمہوریت کی حفاظت کیلے متحد ہو چکے ہیں جو ملک کے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ابتک 20 سے زائد افراد کی اموات احتجاج کے دوران ہوچکی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد کو حراست میں لیا گیا ہیں۔ جس میں فرقہ پرستوں کا ہاتھ ہے۔ جو احتجاج اب قانون کے حق میں کیا جارہا ہے وہ کھلی دشمنی ہے اور اپنی ہٹ دھرمی ہے۔ حکومت کی بے شرمی ہے۔ ملک کے بڑے بڑے تعلیمی ادارے اور تنظیمیں انصاف پسند مذہبی افراد اور دیگر سوشل ورکر اس قانون کو ملک اور آئین اور انسانیت کے خلاف قرار دے رہے ہیں پھر بھی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ اگر حکومت کی اندر ذرا بھی شرم و غیرت باقی ہو تو انھیں اقتدار سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ ورنہ ملک کے حالات بڑے سنگین صورتحال کی طرف اشارہ کر رہ ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو ہوش و حواس سے کام لینا چاہیے جزبات کے دھارے میں نا بہے جائے، سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیے، جو شر پسند عناصر اور فرقہ پرست تنظیمیں بابری مسجد کے فیصلے کے وقت مسلمانوں سے امن کی اپیل کر رہے تھے اب انہیں سامنے لانے کی ضرورت ہے اب انسے جاکر ملنا چاہیے اب انہیں احتجاج میں اول صف میں لاکر کھڑا کیا جائے۔ اور اگر وہ نہیں آتے ہیں تو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ اس وقت صرف اس لیے امن کی اپیل کر رہ تھے کیونکہ فیصلہ پہلے ہی محفوظ ہوچکا تھا۔ یہ فرقہ پرست کبھی خیر خواہ نہیں ہوسکتے ہے۔ ایک وقت انکے سربراہ نے یہ بیان دیا تھا کہ ہندو راشٹر کا قیام مسلمانوں کے بغیر نا ممکن ہے۔ یہ دوغلے پن کی تنگ نظر قوم ہے انکے دلوں میں منافرت بھری ہوئی ہے۔ نا یہ سیکولر ازم کو مانتے ہیں نا آئین پر اعتماد رکھتے ہیں۔
