شہریت ترمیمی ایکٹ آئین مخالف
ذاکر حسین الفلاح فرنٹ
مکرمی:شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج اور تشدد کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرکزی حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔جمہوری طریقے سے اقتدار میں آئ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ عوام کے جذبات,خواہشات اور مرضی کا احترام کرے۔حکومت کو اس بات پر غورو فکر کرنا چاہئے کہ جب سے شہریت ترمیمی ایکٹ پاس ہوا ہے تب سے ملک کی سڑکیں سراپا احتجاج بنی ہیں اور متعدد جگہوں سے تشدد کی خبریں موصول ہوئیں۔ ملک کے تعلیمی ادارے میں خون کی بوندوں کی دستک خطرناک علامت ہے۔نہتے طلباء پر پولیس کی بربریت کا حکومت نوٹس لے۔تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ کوئ بھی حکومت عوام کے جذبات,خواہشات اور مرضی کا احترام کئے بغیر زیادہ لمبا سفر طے نہیں کر سکی ہے۔یہ بات قابل غور ہیکہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد سے ملک میں بغاوت کی کیفیت ہے,عوام میں اس سے قبل کبھی اتنا غصہ دیکھنے کو نہیں ملا۔حکومت کے خلاف عوام کی اتنی بڑی تعداد کبھی سڑکوں پر نظر نہیں آئ۔حکومت کو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہیکہ شہریت ترمیمی ایکٹ آئین کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔احتجاج کو جس طریقے سے پولس کا خوف اور پولس کے ڈنڈے کے ذریعے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کیا پولیس اور حکومت کا یہ رویہ آئین اور جمہوری تقاضوں کے فیور میں ہے?ہم حکومت بالخوص وزیر اعظم وزیر داخلہ اور صدر جمہوریہ سے مانگ کرتے ہیں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کو واپس لیا جائے,کیونکہ ملک کی سڑکوں پر نظر آنے والی عوام کی ایک بڑی تعداد سے صاف پتہ چلتا ہیکہ ملک کے تمام مکتب فکر کے لوگ اس ایکٹ کے خلاف ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت عوام ,آئین اور جمہوری نظام کا احترام کرے گی۔آئین کے مطالعے سے بھی پتہ چلتا ہیکہ مذکورہ ایکٹ آئین مخالف ہے۔
ذاکر حسین
الفلاح فرنٹ
ذاکر حسین الفلاح فرنٹ
مکرمی:شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج اور تشدد کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرکزی حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔جمہوری طریقے سے اقتدار میں آئ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ عوام کے جذبات,خواہشات اور مرضی کا احترام کرے۔حکومت کو اس بات پر غورو فکر کرنا چاہئے کہ جب سے شہریت ترمیمی ایکٹ پاس ہوا ہے تب سے ملک کی سڑکیں سراپا احتجاج بنی ہیں اور متعدد جگہوں سے تشدد کی خبریں موصول ہوئیں۔ ملک کے تعلیمی ادارے میں خون کی بوندوں کی دستک خطرناک علامت ہے۔نہتے طلباء پر پولیس کی بربریت کا حکومت نوٹس لے۔تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ کوئ بھی حکومت عوام کے جذبات,خواہشات اور مرضی کا احترام کئے بغیر زیادہ لمبا سفر طے نہیں کر سکی ہے۔یہ بات قابل غور ہیکہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد سے ملک میں بغاوت کی کیفیت ہے,عوام میں اس سے قبل کبھی اتنا غصہ دیکھنے کو نہیں ملا۔حکومت کے خلاف عوام کی اتنی بڑی تعداد کبھی سڑکوں پر نظر نہیں آئ۔حکومت کو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہیکہ شہریت ترمیمی ایکٹ آئین کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔احتجاج کو جس طریقے سے پولس کا خوف اور پولس کے ڈنڈے کے ذریعے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کیا پولیس اور حکومت کا یہ رویہ آئین اور جمہوری تقاضوں کے فیور میں ہے?ہم حکومت بالخوص وزیر اعظم وزیر داخلہ اور صدر جمہوریہ سے مانگ کرتے ہیں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کو واپس لیا جائے,کیونکہ ملک کی سڑکوں پر نظر آنے والی عوام کی ایک بڑی تعداد سے صاف پتہ چلتا ہیکہ ملک کے تمام مکتب فکر کے لوگ اس ایکٹ کے خلاف ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت عوام ,آئین اور جمہوری نظام کا احترام کرے گی۔آئین کے مطالعے سے بھی پتہ چلتا ہیکہ مذکورہ ایکٹ آئین مخالف ہے۔
ذاکر حسین
الفلاح فرنٹ
