*دارالعلوم دیوبند کے غیور طلبہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ و اے ایم یو کے طلبہ کی حمایت اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف عصر بعد پرامن احتجاج کیا*
دیوبند، 16 دسمبر (بی این ایس) آج بعد نماز عصر دارالعلوم دیوبند کے سیکڑوں غیور طلبہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ و اے ایم یو کے طلبہ کی حمایت میں اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احاطہءِ دارالعلوم دیوبند میں پر امن احتجاج کیا، یہ احتجاج اعظمی منزل کے سامنے ہوا، احتجاج کی خبر ملتے ہی انتظامیہ کے پاؤں پھول گئے، انتظامیہ کے لوگ بھاگتے ہوئے جائے احتجاج پر پہنچے، ایک استاذ نے تجوید کے ایک طالب علم کا شناختی کارڈ چھین لیا، جس پر طلبہ نے نعرے بازی شروع کردی، سینئر طلبہ نے اساتذۂ کرام سے بات کرکے احتجاج ختم کرنے کی شرط پر شناختی کارڈ واپس کروایا، شناختی کارڈ واپس ہونے تک طلبہ کی تعداد میں کافی اضافہ ہوگیا، طلبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اے ایم یو کے طلبہ کی حمایت میں اور سرکار کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے، طلبہ نے حکومت سے شہریت ترمیمی قانون واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا، اعظمی منزل کے باہر اور دارالعلوم دیوبند کے اطراف میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات رہی، اس دوران سینئر اساتذۂ کرام بھی اعظمی منزل پہنچ گئے، طلبہ نے ان سے پانچ منٹ احتجاج کی اجازت طلب کی، انتظامیہ ایک منٹ کے لیے اجازت دینے پر راضی نہیں ہوئی، اساتذۂ کرام نے طلبہ کو سمجھایا کہ ہم مہتمم صاحب سے بات کرکے طلبہ کو احتجاج کی اجازت دلائیں گے، طلبہ نے سوال کیا کہ ہمیں کب تک پتہ چلے گا، اساتذۂ کرام نے کہا ہم مغرب بعد یا عشاء بعد مہتمم صاحب سے میٹنگ کرکے صبح دس بجے تک آپ حضرات کو مطلع کریں گے، اس یقین دہانی کے بعد طلبہ نے مغرب سے پہلے احتجاج ختم کردیا.
آج مغرب بعد مہتمم دارالعلوم دیوبند نے درس نہیں دیا اور اساتذۂ کرام کے ساتھ میٹنگ میں مصروف رہے ، میٹنگ میں کیا فیصلہ لیا گیا اس بابت پوچھے جانے پر ذرائع نے بتایا کہ دارالعلوم دیوبند بھی دارالعلوم ندوۃ العلماء کی طرح طلبہ کو چھٹی دینے کے لیے فیصلہ لے سکتا ہے. دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ اپنی بزدلی، مصلحت یا ناگفتہ بہ مجبوریوں کی وجہ سے طلبہ کو احتجاج کی اجازت دینے کے لیے کسی بھی قیمت پر تیار نہیں ہے، مہتمم دارالعلوم دیوبند اس سے پہلے بھی اصلاحی جلسے میں صاف اور واضح لفظوں میں احتجاج کی مخالفت کرچکے ہیں
واضح رہے کہ آج دیوبند شہریوں کی جانب سے معاویہ علی سابق ایم ایل اے کی قیادت میں احتجاج ہونا تھا؛ لیکن پولیس انتظامیہ نے اجازت نہیں دی، اس لیے احتجاج منسوخ کردیا گیا، احتجاج کے منسوخ ہونے کی خبر طلبہ کو نہیں مل سکی تھی؛ اس لیے عصر بعد طلبہ کی بڑی تعداد جامع مسجد پر بھی موجود تھی، وہاں کوئی احتجاج نہیں ہوا.
دیوبند، 16 دسمبر (بی این ایس) آج بعد نماز عصر دارالعلوم دیوبند کے سیکڑوں غیور طلبہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ و اے ایم یو کے طلبہ کی حمایت میں اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احاطہءِ دارالعلوم دیوبند میں پر امن احتجاج کیا، یہ احتجاج اعظمی منزل کے سامنے ہوا، احتجاج کی خبر ملتے ہی انتظامیہ کے پاؤں پھول گئے، انتظامیہ کے لوگ بھاگتے ہوئے جائے احتجاج پر پہنچے، ایک استاذ نے تجوید کے ایک طالب علم کا شناختی کارڈ چھین لیا، جس پر طلبہ نے نعرے بازی شروع کردی، سینئر طلبہ نے اساتذۂ کرام سے بات کرکے احتجاج ختم کرنے کی شرط پر شناختی کارڈ واپس کروایا، شناختی کارڈ واپس ہونے تک طلبہ کی تعداد میں کافی اضافہ ہوگیا، طلبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اے ایم یو کے طلبہ کی حمایت میں اور سرکار کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے، طلبہ نے حکومت سے شہریت ترمیمی قانون واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا، اعظمی منزل کے باہر اور دارالعلوم دیوبند کے اطراف میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات رہی، اس دوران سینئر اساتذۂ کرام بھی اعظمی منزل پہنچ گئے، طلبہ نے ان سے پانچ منٹ احتجاج کی اجازت طلب کی، انتظامیہ ایک منٹ کے لیے اجازت دینے پر راضی نہیں ہوئی، اساتذۂ کرام نے طلبہ کو سمجھایا کہ ہم مہتمم صاحب سے بات کرکے طلبہ کو احتجاج کی اجازت دلائیں گے، طلبہ نے سوال کیا کہ ہمیں کب تک پتہ چلے گا، اساتذۂ کرام نے کہا ہم مغرب بعد یا عشاء بعد مہتمم صاحب سے میٹنگ کرکے صبح دس بجے تک آپ حضرات کو مطلع کریں گے، اس یقین دہانی کے بعد طلبہ نے مغرب سے پہلے احتجاج ختم کردیا.
آج مغرب بعد مہتمم دارالعلوم دیوبند نے درس نہیں دیا اور اساتذۂ کرام کے ساتھ میٹنگ میں مصروف رہے ، میٹنگ میں کیا فیصلہ لیا گیا اس بابت پوچھے جانے پر ذرائع نے بتایا کہ دارالعلوم دیوبند بھی دارالعلوم ندوۃ العلماء کی طرح طلبہ کو چھٹی دینے کے لیے فیصلہ لے سکتا ہے. دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ اپنی بزدلی، مصلحت یا ناگفتہ بہ مجبوریوں کی وجہ سے طلبہ کو احتجاج کی اجازت دینے کے لیے کسی بھی قیمت پر تیار نہیں ہے، مہتمم دارالعلوم دیوبند اس سے پہلے بھی اصلاحی جلسے میں صاف اور واضح لفظوں میں احتجاج کی مخالفت کرچکے ہیں
واضح رہے کہ آج دیوبند شہریوں کی جانب سے معاویہ علی سابق ایم ایل اے کی قیادت میں احتجاج ہونا تھا؛ لیکن پولیس انتظامیہ نے اجازت نہیں دی، اس لیے احتجاج منسوخ کردیا گیا، احتجاج کے منسوخ ہونے کی خبر طلبہ کو نہیں مل سکی تھی؛ اس لیے عصر بعد طلبہ کی بڑی تعداد جامع مسجد پر بھی موجود تھی، وہاں کوئی احتجاج نہیں ہوا.
