اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: پورا ملک اس بل کی کیوں مخالفت کررہا ہے؟ تحریر : محمد سلطان جونپوری

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 16 December 2019

پورا ملک اس بل کی کیوں مخالفت کررہا ہے؟ تحریر : محمد سلطان جونپوری


پورا ملک اس بل کی کیوں مخالفت کررہا ہے؟ 

تحریر : محمد سلطان جونپوری 
 
گزشتہ11 دسمبر چہارشنبہ کو متنازع سٹیزن امینڈمنٹ بل  لوک سبھا سے پاس ہو کر راجیہ سبھا سے بھی پاس ہوکر صدر جمہوریہ کی دستخط کے بعد قانونی شکل اختیار کر چکا ہے، 
 صورتحال کچھ بھی ہو اس بل کے پیش کیے جانے سے ملک کے حالات دگر گوں ہیں جگہ جگہ سے  احتجاج،تشدد اور جھڑپ کی خبریں  موصول ہو رہی ہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ و علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علاوہ دیوبند کے طلبہ بھی اس متنازع بل کے خلاف سراپا احتجاج کر رہے ہیں صوبہ آسام سے آنے والی خبریں تو کچھ الگ ہی پیغام رسا ہیں مغربی بنگال آگ سے جل رہا ہے ساتھ ہی کچھ لوگوں کی الگ الگ رائیں اور پرکریائیں ہیں ان میں کچھ تواس  تعصب کا  جواب ہیں کہ جن کا نشہ ہی ملک کے ہوم منسٹر کو اس مقام لا کھڑا کیا ہے کہ وہ آج اپنی آئڈیا لوجی اور اسٹریٹ جی کے آگے ملک کی سالمیت اور اس کی سکیورٹی سے سمجھوتہ تک کرنے کو تیار ہیں ظاہر ہے کہ ایسی پرکریائیں درست نہیں ہو سکتیں وجہ ظاہر ہے کہ تعصب پر مبنی سوال و جواب لوگوں کو حقیقت حال سمجھنے میں معاونت تو نہیں،ہاں اس سے بر گشتہ ضرور کردیتے ہیں؛ لیکن اس بیچ کچھ رائیں ایسی بھی ہیں جو ملک کے ہوم منسٹر کےساتھ  دانشوران قوم و ملت اور سیاسی لیڈران تک کو سر جھکا کر بیٹھنے پر مجبور کرتی ہیں؛
اگر چہ -ع:گر نہ بیند بروز شپرۂ چشم
 میرے خیال میں اس بل  کو اگرچہ طاقت کے بل بوتے اور اکثریت کی بنیاد پر پاس کرا لیا گیا ہے لیکن تعصب کے پردے نے اس کے مضمراثرات  کو یکسر اندازکر کے ملک کی سالمیت کے ساتھ ساتھ اس دیش کی جنتا کے کلچر اور ان کی شناخت تک کو خطرے میں ڈالدیا ہے ؛ 
ملک کے ہوم منسٹر کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملکوں نے وہاں کی اقلیتوں اور مائنارٹی کے ساتھ ناروا سلوک کیے ہیں؛ خصوصا پڑوسی ملک پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان نے عیسائیوں اور دیگر کمیونٹیوں کے ساتھ زیادتیاں کیں، اور ان کے گھر تک کو نذر آتش کر دیااور ان کی جانوں کو بھی نہیں بخشا؛ اس لیے انہوں نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو شہریت  دینے کا فیصلہ کیا ہے؛ چنانچہ انہوں نے اپنی بحث کے دوران اس کا خصوصی ذکر بھی کیا؛جب ان سے پوچھا گیا کہ اس میں مسلمانوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ تو انھوں جواب دیتے ہوئے  کہا کہ یہ پڑوسی ممالک  مسلم اسٹیٹ ہیں اور خود کو پرتاڑت کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا، اس لیے ان کا اس بل میں پراودھان نہیں؛ اس پر پھر مزید سوال ہوا کہ دیگر پڑوسی ملک جو مسلم کنٹریز نہیں ہیں جیسے برما شری لنکا چین وغیرہ اور وہاں مسلمانوں کے ساتھ جو مائنارٹی میں ہیں،ان کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں تو اس پر یہ جواب تھا کہ اور مسلم کنٹریز ہیں وہ انکا خیال کر سکتی ہیں لیکن غیر مسلم کنٹریز کوئی نہیں،جو ان کے دکھ کو سمجھ سکے؛جواب شاندار تھا دل۔ کو بھی خوب بھایا؛ شاید کوئی زور آور ہوتا اور ان کوکان پکڑ کر یہ بتاتا کہ شری لنکا  اور نیپال جیسی کنٹیریاں ہیں جہاں غیر مسلم نہ صرف بستے ہیں بلکہ ان کی حکومت بھی ہے ایک مدت تک وہ ہندو راشٹر بھی رہ چکے ہیں؛-مگر:"ڈوبتے کو تنکے سہارا کافی ہے"والی بات ہے،ان کو یہ تو دکھ  گیا کہ پڑوسی ملک میں زیادتیاں ہوئی ہیں اور خود اپنے ملک کی اقلیتوں کی ہزاروں زندگیاں اجڑ گئیں اس کے انصاف کو تو دور اس کا ذکر بھی مناسب نہیں سمجھا؛ یہ ہے ہمارے ملک کے ہوم منسٹر کا انصاف؟ خود پاکستان میں ایک کمیونٹی ایسی  ہے جسے وہاں کی پارلیمنٹ نے غیر مسلم قرار دیا ہے؛ ان کا بھی اس بل۔ میں کہیں ذکر نہیں؛ 
ملک کی اقلیتوں اور انصاف پسند جماعتوں کی تشویش بیجا نہیں بجا ہے؛ چونکہ ان کو پتہ ہے کہ ان کو ان کا درد نہیں بلکہ اجنڈے کی تکمیل کا ایک راستہ ہے-جس کی تکمیل کے لئے ساری احتیاطی تدابیر تک کو بالاۓ طاق رکھ  کر ہندوستانی دستور و آئین کی علانیہ دھجیاں تک اڑادی  گئیں؛ 
اگر اس کے مضمرات پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ ہم انڈین کو  بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے؛ سب سے پہلے تو یہ تشویش پیدا ہوتی ہے کہ آخرایک خاص کمیونٹی کو اس بل سے  نکال کر  ملک کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؛؟کیا یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مسلمان اس ملک کے شہری نہیں ہیں؛ اور ان کا اس ملک  میں کوئی حصہ نہیں ہے؛ یا پھر وہ اپنے اجنڈے کی تکمیل کا سب سے بڑا کانٹا مسلمان کو سمجھتے ہیں کی ان کو ہٹا کر ہی ممکنہ ہدف تک پہونچا جا سکتا ہے؟ 
مطلب صاف ہے کہ اس بل کے ذریعے جہاں مسلموں کو دھمکایا گیا ہے، وہیں اس متنازع بل کے ذریعے مسلموں سے ان کے ممکنہ اقتدار تک کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی ایک مضبوط شازش بھی رچی گئی ہے؛ یہ بات سوچنے پر ہم اس لئے مجبور ہو رہے ہیں کہ یہ بل آسام  کی این آر سی کے پس منظر میں لائ گئی ہے؛ جس کا حاصل یہ ہے کہ این آر سی اس بنیاد پر کرائ گئی تھی گھس پیٹھیے جو بنگلا دیش سے اس ملک میں در آۓ ہیں ان کو ملک بدر کیا جائے؛اندازہ یہ تھا کہ چونکہ آنے والے بنگلا دیشی ہیں اس لئے وہ مسلمان ہی ہونگے، لیکن جب فائنل لسٹ شائع ہوئے تو اس کا نقشہ کچھ اور ہی تھا، تدبیر الٹی پڑی گئی، ۱۹لاکھ  لوگ لسٹ سے باہر تھے ، اکثریت  غیر مسلموں کی تھی جو ان کے حلق سے اتر نہ آسکی؛ اسی پس منظر میں اس بل کا پراؤدھان کیا گیا، اور مذکورہ  کمیونٹی کو دور رکھا گیا؛ ایک عام آدمی بھی اس بات کو بآسانی بلا کسی تدبر کے سمجھ سکتا ہے؛ 
اب بات یہ ہے کہ جو مسلم این آر سی  سے باہر ہیں ان کو ملک بدر کر دیا جائے گا، کچھ تعداد تو اس طریقے سے کم ہو جائے گی؛ساتھ ہی پڑوسی ملک سے آنے والے شرن آرتھیوں کو ناگرکتا سر ٹیفکٹ سے نوازا جائے گا، تو ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے گا؛ ظاہر ہے کہ پہلے سے مائنارٹی میں رہنے والی کمیونٹی کو مزید کم کر دیا جائے تو جمہوری ملک میں اس کی طاقت کمزور ہو جائے گی، کیونکہ  جمہوریت ہی کی خاصیت ہے کہ اس میں سر گنے جاتے ہیں؛ پس ہماری یہ سوچ بیجا نہیں ہے؛ خصوصاایسے وقت میں ہماری یہ تشویش اور پختہ ہو جاتی ہے کہ جب یہ بل  ایسی پارٹی لا رہی ہو جو ہمیشہ اس کمیونٹی کے  حوالے سے متنازع رہی ہو اور جس نے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے گجرات سے لیکر پلوامہ اور شہاب الدین فرضی ان کاؤنٹر سے لیکر جسٹس لویا تک کو موت کے گھاٹ اتار ڈالا ہو؛؛ 
اس بل کا ایک مضحکہ خیز پہلو یہ بھی ہے کہ اسی پارٹی کے ایک سینئر رکن یہ کہتے نہیں تھکتے کہ "ہم دو ہمارے دو" مطلب یہ ہے کہ اس ملک کی پاپولیشن بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اس پر روک لگنی چاہیے ورنہ یہ دھرتی سہن نہیں کر سکے گی؛ آج انہیں کی پارٹی کے ہوم منسٹر ان کے چہرے کو سیاہ کرتے ہوئے ایسا بل پاس کرانے پر تلے ہوئے ہیں جو لمحوں میں اس ملک کی تعداد میں لاکھوں افراد کا اضافہ کردے؛ سینیٹر رکن کے مطابق کے اس ملک کا حجم اس کی وسعت نہیں رکھتا؛ شاید وہ وزیر اب سہن نہ کر سکیں اور  ان کے خلاف استعفی تک کی مانگ کر بیٹھیں کہ ان کی سالوں محنت کو لمحوں میں تہ خاک کر ڈالا؛ آہ رے ظالم سیاست کتنوں کو تو شرمندہ کرے گی؛ 
دوسری بڑی پریشانی یہ لاحق ہے کہ حالیہ بحث اور  رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ ہوا ہے کہ اس ملک کی دست کاری یعنی جی ڈی پی کی رفتار بہت سست ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کچھ اچھا نہیں چل رہا ہے؛ دیش کی معاشی صورتحال  خستہ حالی کا شکار ہے، لوگوں کو روزگار نہیں مل پا رہے ہیں، وسائل کی قلت ہیں؛ اسباب روزگار مفقود ہیں،دیش بھوک مری کی طرف گامزن ہے، ایسے میں اتنی بڑی تعداد کو شہریت دینے کا مطلب وسائل کی قلت میں مزید اضافہ کرنا ہے؛ جو خطرناک نتائج کا منہ بولتا ثبوت ہیں؛ لیکن کون سمجھائے؛ "بھیس کی اگے بین بجاوے بھیس کھڑی پگراۓ"
نیز اتنی تعداد میں کسی بھی کمیونٹی کو شہریت دینے کے معنی ہیں اپنے تہذیب اورکلچر کا خون کرنا؛ کیونکہ جو لوگ باہر سے اس دیش، میں آئیں گے ایسا نہیں یو سکتا کی وہ صرف اپنے تن اور دھن کے ساتھ اس ملک کا رخ کریں بلکہ وہ اپنے ساتھ اس کلچر کو بھی لائیں گے کہ جن سے ان کا تشخص ہے؛ ایسی صورت حال میں ان کا ہمارے معاشرے کے ساتھ اختلاط ہمارے تشخص کے لئے سم قاتل ثابت ہو گا؛اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا!!
اور شاید ہی کوئی کمیونٹی یا شخص ایسا ہو جو اس بات کی اجازت دے؟ کیونکہ یہ بات  ہر ایک پر عیاں اور ہر ایک کے یہاں مسلم ہے کہ جو قوم اپنے تشخص اور کلچر کو فراموش کر   دیتی ہے یا اس میں آمیزش کو قبول کرتی ہے اس کا کاروان ثقافت خزاں کا شکار ہو جاتا ہے؛یہی وجہ ہے کہ آج آسام کی غیر مسلم عوام بھی سڑکوں پر ہیں اور اپنے حقوق کے لئے ہر قسم کی جنگ لڑ نے تک کو تیار ہیں؛
 مزید یہ بل اس ملک کے آئین کے بیسک پارٹ جسے ہم تمہیدی پہلو سے تعبیر کرتے ہیں اس سے بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ اب آئین بھی محفوظ نہیں ہے آرٹیکل ۱۴کو یکسر نظر انداز کرکے اس بل کو  محض کثرت کی بنیاد پر پاس کرالیا گیا ہے،جو نہایت خطرناک ہے صورت حال میں سے ایک ہے؛ سب سے بڑی خرابی اس بل میں یہ ہے کہ اس بل سے اس ملک کی سکیورٹی اور کے تحفط کو بھی خطرہ لاحق گیا ہے؛؛کیونکہ پڑتاڑت لوگوں کی آڑ میں دشمنوں کو بھی موقع میسر آۓ گا وہ بھی اپنی کھیپ یہاں بھیج کر ڈیرہ ڈال سکیں گے، ایسے میں یہ ہمارے ملکی سکیورٹی کے لیے نہایت ہی خطرناک ثابت ہوگا؛ ان تمام وجوہات کی بنا پر پورے ہندوستان میں 1947 کے بعد پہلی مرتبہ پورا ملک ایک ساتھ ہوکر اس بل کی مخالفت کررہا ہے 
اللہ سبحانہ وتعالیٰ  اس ملک  کی اور اس کے تمام باشندوں کی مکمل حفاظت فرمائے آمیــــن