کیفی اعظمی کے افکار ___ ایک جائزہ
محمد مرسلین اصلاحی
( قسط چہارم )
لیکن مارکسیت اشتراکیت کی ایک خاص شکل ہے اس کا بانی انیسویں صدی کا جرمن مفکر کارل مارکس ہے ۔اس کے نظریات کی بنیاد اس خیال پر ہے کہ انسان کی پوری زندگی کا دار و مدار معاشیات پر ہے ۔ وہ تہذیب ہو یا فلسفہ ، شعر و ادب ہو یا مذہب ۔ سب کا تعین معاشی عوامل کرتے ہیں ۔ اور زمانے کا فلسفہ تمدن ہو گا ۔ یہاں تک کہ مذہب کا بھی ۔ اس لئے اس کے نظرئیے کا نام "جدلیاتی مادیت " پڑا ۔ کمیونزم والے مذہب کو تو نہیں مانتے ۔ البتہ ان کے نزدیک مذہب کی حیثیت وہی ہے جو جو شادی بیاہ میں رسوم اور کھیل کود کی ہوتی ہے ۔ بیسویں صدی میں عقلیت پرستی جو ختم ہوئی تو اس میں بڑا ہاتھ نفسیات کا ہے ۔ اور اس دائرے میں سب سے گہرا اثر فرائڈ کا ہے ۔ لیکن فرائڈ مذہب کو ایک فریب اور وحشیانہ دور کی یادگار سمجھتا ہے ۔ نئی نفسانیت میں دوسرا نام یونگ کا ہے ۔یونگ مذہب کا قائل ہے اور ضروری سمجھتا ہے لوگوں میں یہ عام تصور پیدا ہو گیا تھا کہ یونگ کے نظریات سے مغرب میں مذہب زندہ ہورہا ہے ۔ لیکن یونگ وحی کو نہیں مانتا ، وہ کہتا ہے کہ وحی بھی اجتماعی لاشعور کا نتیجہ ہے ۔ چناں چہ اس نے تمام دینی تصورات و رموز کی نفسانی تشریح کردی۔ اور اس طرح مسخ کیا کہ جو لوگ اس کے زیر اثر تھے ان کے لئے مذہب کا سمجھنا نا ممکن ہو گیا ۔ اور متبعین آج تک کشمکش کا شکار ہیں ۔
جواہر لال یونیورسی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسن صاحب کا ایک اقتباس ملاحظہ فرما ئیں :
" اسلام مذہب اور کمیونزم بنیادی طور پر اقتصادی نظام ہے اور اس اقتصادی نظام کی بنیاد پر قائم کیا ہوا سماجی ڈھانچہ ۔ بہر صورت اسلام اور کمیونزم میں تضاد ڈھونڈنا بے تکی بات ہے ( عصری آگہی 79ء) "
یہی وہ بے تکی بات ہے جس سے یہ سرخ حضرات کام لیتے ہیں ۔ اگر آپ صاحب کے سامنے لینن صاحب کا یہ فرمان موجود ہوتا تو ایسی بے تکی بات نہ کہتے ۔ ملاحظہ فرمائیں
" ہم اس اخلاق کو رد کرتے ہیں ۔ جو عالم بالا کے کسی تصور پر مبنی ہو ۔ ہم اس فریب کا پردہ چاک کر کے رہیں گے ۔ اخلاق اس کے سوا کچھ نہیں کہ مزدوروں کی مطلق العنانی حکومت کو مضبوطی سے قائم کیا جائے ۔ "
مارکس اور لینن کے امتی اور فرزندان شریعت_ مسیح بے صلیب ماسکو تک کا تو سفر کر سکتے ہیں ۔ مگر ہندوستان میں بیٹھ کر کسی خونی انقلاب کی تمنا عبث ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ کمیونزم کے صرف ایک اجتماعی زراعیت کی اسکیم کے نفاذ کے لئے 19 لاکھ افراد کو تہ تیغ کیا گیا ۔ 30 لاکھ سے زاید افراد کو انسانیت سوز سزائیں دی گئیں ۔ اور 39 لاکھ افراد کو ملک بدر ہو نا پڑا ۔ اس کے باوجود روس اور چین کی اشتراکی پارٹیاں اس نظام کے نفاذ میں کلیتہ نا کام رہیں ۔
اسلام کو مذہب اور کمیونزم کو نظام کہنے والے یہ بتائیں کہ زکوۃ ، عشر ، صدقات ، فطرہ ، انفاق ، کفارہ ، اوقاف ، ترکہ ، وصیت ، کفالت ، نان و نفقہ ، دین ، مہر ، اسراف و تبذیر کے قوانین ، مضاربت کے اصول حقوق اتفاق کی دفعات ، تحدید ملکیت ، تعذیرات کیا محض نرے مذہبی احکامات ہیں یا کیا کسی ریاست کی تشکیل کے لئے اقتصادی ، سیاسی ، سماجی معاشی و معاشرتی اور سیاسی گوشوں کے لئے مکمل نظام بھی ۔
تو پھر کیسے سمجھا جا سکتا ہے کہ اشتراکیت کا رشتہ راست طور پر مذہب سے جڑا ہوا ہے جب کہ ترقی پسند تحریک کی بنیاد ہی مارکسی نظریات ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کیفی اشتراکیت پسند تھا ۔ اور یہی اس کا ملجا و ماوی ۔اس نے اشتراکیت کے زوال پر اظہار افسوس بھی کیا ۔ اور اس کی تبلیغ میں تمام عمر ختم کر دی ۔ اور اس پارٹی کا ایک سرگرم رکن بھی تسلیم کیا گیا ۔ لیکن کیفی کا رشتہ مذہب سے کس نو عیت کا تھا کیفی کے خیالات کا ڈانڈا مذہب سے جوڑنے والوں نے اس کے افکار کو سمجھا ہی نہیں۔ بلکہ ان ہمدردان وفا اور اخوان صفا نے کیفی کا دفاع اس طرح کیا ہے کہ کیفی مارکسی نظریات کا حامی ہو نے کے باوجود مذہب سے بہت قریب تھا ۔ یہ بالکل بعد الابعاد سی بات ہوئی ۔ جو شخص مارکسی نظریات کا حامی ہو اور اس پر سر دھنے ۔ اس کے خیالات مذہب سے کتنے ہم آہنگ ہوں گے بالا تشریحات کی روشنی میں خود فیصلہ کر سکتے ہیں ۔
ہم جب کیفی کے مجموعی کلام پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کیفی کی شاعری عوامی ہمدردی کا نقارہ ہونے کے باوجود اس میں بنیادی انسانی اقدار کا فقدان ہے گویا کہ کیفی کی مثال اس شخص کی سی جو مغز کو چھوڑ کر چھلکوں پر دیوانہ وار ٹوٹ پڑے ۔ اور اسے یہ بھی خبر نہ ہو کہ مغز بھی کوئی چیز ہوتا ہے ۔ عوام کانعرہ لگانے والا ، شعروں میں ہنگامہ آرائی کر نے والا ، اگر عوام کی بنیادی اقدار سے ناواقف ہو تو وہ عوام کے درد کو ہرگز نہیں سمجھ سکتا ۔ ایک زمانے میں جب ادب کے اندر انسانی اقدار کی اہمیت تسلیم کی جاتی تھی تو اس سے معنی خیز نتائج برآمد ہوتے تھے ۔ اور عوام پر اس کا خاطر خواہ پڑتا تھا ۔ لیکن انسانی اقدار کی تلاش ایک اہم مسئلہ ہے ۔ اور آج کے ادب میں حتی الامکان معدوم شئ ہے ۔
محمد مرسلین اصلاحی
( قسط چہارم )
لیکن مارکسیت اشتراکیت کی ایک خاص شکل ہے اس کا بانی انیسویں صدی کا جرمن مفکر کارل مارکس ہے ۔اس کے نظریات کی بنیاد اس خیال پر ہے کہ انسان کی پوری زندگی کا دار و مدار معاشیات پر ہے ۔ وہ تہذیب ہو یا فلسفہ ، شعر و ادب ہو یا مذہب ۔ سب کا تعین معاشی عوامل کرتے ہیں ۔ اور زمانے کا فلسفہ تمدن ہو گا ۔ یہاں تک کہ مذہب کا بھی ۔ اس لئے اس کے نظرئیے کا نام "جدلیاتی مادیت " پڑا ۔ کمیونزم والے مذہب کو تو نہیں مانتے ۔ البتہ ان کے نزدیک مذہب کی حیثیت وہی ہے جو جو شادی بیاہ میں رسوم اور کھیل کود کی ہوتی ہے ۔ بیسویں صدی میں عقلیت پرستی جو ختم ہوئی تو اس میں بڑا ہاتھ نفسیات کا ہے ۔ اور اس دائرے میں سب سے گہرا اثر فرائڈ کا ہے ۔ لیکن فرائڈ مذہب کو ایک فریب اور وحشیانہ دور کی یادگار سمجھتا ہے ۔ نئی نفسانیت میں دوسرا نام یونگ کا ہے ۔یونگ مذہب کا قائل ہے اور ضروری سمجھتا ہے لوگوں میں یہ عام تصور پیدا ہو گیا تھا کہ یونگ کے نظریات سے مغرب میں مذہب زندہ ہورہا ہے ۔ لیکن یونگ وحی کو نہیں مانتا ، وہ کہتا ہے کہ وحی بھی اجتماعی لاشعور کا نتیجہ ہے ۔ چناں چہ اس نے تمام دینی تصورات و رموز کی نفسانی تشریح کردی۔ اور اس طرح مسخ کیا کہ جو لوگ اس کے زیر اثر تھے ان کے لئے مذہب کا سمجھنا نا ممکن ہو گیا ۔ اور متبعین آج تک کشمکش کا شکار ہیں ۔
جواہر لال یونیورسی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسن صاحب کا ایک اقتباس ملاحظہ فرما ئیں :
" اسلام مذہب اور کمیونزم بنیادی طور پر اقتصادی نظام ہے اور اس اقتصادی نظام کی بنیاد پر قائم کیا ہوا سماجی ڈھانچہ ۔ بہر صورت اسلام اور کمیونزم میں تضاد ڈھونڈنا بے تکی بات ہے ( عصری آگہی 79ء) "
یہی وہ بے تکی بات ہے جس سے یہ سرخ حضرات کام لیتے ہیں ۔ اگر آپ صاحب کے سامنے لینن صاحب کا یہ فرمان موجود ہوتا تو ایسی بے تکی بات نہ کہتے ۔ ملاحظہ فرمائیں
" ہم اس اخلاق کو رد کرتے ہیں ۔ جو عالم بالا کے کسی تصور پر مبنی ہو ۔ ہم اس فریب کا پردہ چاک کر کے رہیں گے ۔ اخلاق اس کے سوا کچھ نہیں کہ مزدوروں کی مطلق العنانی حکومت کو مضبوطی سے قائم کیا جائے ۔ "
مارکس اور لینن کے امتی اور فرزندان شریعت_ مسیح بے صلیب ماسکو تک کا تو سفر کر سکتے ہیں ۔ مگر ہندوستان میں بیٹھ کر کسی خونی انقلاب کی تمنا عبث ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ کمیونزم کے صرف ایک اجتماعی زراعیت کی اسکیم کے نفاذ کے لئے 19 لاکھ افراد کو تہ تیغ کیا گیا ۔ 30 لاکھ سے زاید افراد کو انسانیت سوز سزائیں دی گئیں ۔ اور 39 لاکھ افراد کو ملک بدر ہو نا پڑا ۔ اس کے باوجود روس اور چین کی اشتراکی پارٹیاں اس نظام کے نفاذ میں کلیتہ نا کام رہیں ۔
اسلام کو مذہب اور کمیونزم کو نظام کہنے والے یہ بتائیں کہ زکوۃ ، عشر ، صدقات ، فطرہ ، انفاق ، کفارہ ، اوقاف ، ترکہ ، وصیت ، کفالت ، نان و نفقہ ، دین ، مہر ، اسراف و تبذیر کے قوانین ، مضاربت کے اصول حقوق اتفاق کی دفعات ، تحدید ملکیت ، تعذیرات کیا محض نرے مذہبی احکامات ہیں یا کیا کسی ریاست کی تشکیل کے لئے اقتصادی ، سیاسی ، سماجی معاشی و معاشرتی اور سیاسی گوشوں کے لئے مکمل نظام بھی ۔
تو پھر کیسے سمجھا جا سکتا ہے کہ اشتراکیت کا رشتہ راست طور پر مذہب سے جڑا ہوا ہے جب کہ ترقی پسند تحریک کی بنیاد ہی مارکسی نظریات ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کیفی اشتراکیت پسند تھا ۔ اور یہی اس کا ملجا و ماوی ۔اس نے اشتراکیت کے زوال پر اظہار افسوس بھی کیا ۔ اور اس کی تبلیغ میں تمام عمر ختم کر دی ۔ اور اس پارٹی کا ایک سرگرم رکن بھی تسلیم کیا گیا ۔ لیکن کیفی کا رشتہ مذہب سے کس نو عیت کا تھا کیفی کے خیالات کا ڈانڈا مذہب سے جوڑنے والوں نے اس کے افکار کو سمجھا ہی نہیں۔ بلکہ ان ہمدردان وفا اور اخوان صفا نے کیفی کا دفاع اس طرح کیا ہے کہ کیفی مارکسی نظریات کا حامی ہو نے کے باوجود مذہب سے بہت قریب تھا ۔ یہ بالکل بعد الابعاد سی بات ہوئی ۔ جو شخص مارکسی نظریات کا حامی ہو اور اس پر سر دھنے ۔ اس کے خیالات مذہب سے کتنے ہم آہنگ ہوں گے بالا تشریحات کی روشنی میں خود فیصلہ کر سکتے ہیں ۔
ہم جب کیفی کے مجموعی کلام پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کیفی کی شاعری عوامی ہمدردی کا نقارہ ہونے کے باوجود اس میں بنیادی انسانی اقدار کا فقدان ہے گویا کہ کیفی کی مثال اس شخص کی سی جو مغز کو چھوڑ کر چھلکوں پر دیوانہ وار ٹوٹ پڑے ۔ اور اسے یہ بھی خبر نہ ہو کہ مغز بھی کوئی چیز ہوتا ہے ۔ عوام کانعرہ لگانے والا ، شعروں میں ہنگامہ آرائی کر نے والا ، اگر عوام کی بنیادی اقدار سے ناواقف ہو تو وہ عوام کے درد کو ہرگز نہیں سمجھ سکتا ۔ ایک زمانے میں جب ادب کے اندر انسانی اقدار کی اہمیت تسلیم کی جاتی تھی تو اس سے معنی خیز نتائج برآمد ہوتے تھے ۔ اور عوام پر اس کا خاطر خواہ پڑتا تھا ۔ لیکن انسانی اقدار کی تلاش ایک اہم مسئلہ ہے ۔ اور آج کے ادب میں حتی الامکان معدوم شئ ہے ۔
