اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: آپ کی بات سمجھ گیے* *توقیر بدر القاسمی* ________________________ ڈایریکٹرالمرکزالعلمی للافتاء والتحقیق سوپول

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 18 December 2019

آپ کی بات سمجھ گیے* *توقیر بدر القاسمی* ________________________ ڈایریکٹرالمرکزالعلمی للافتاء والتحقیق سوپول

*آپ کی بات سمجھ گیے*

*توقیر بدر القاسمی*
________________________
ڈایریکٹرالمرکزالعلمی للافتاء والتحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار انڈیا رابطہ نمبر
+918789554895
راقم کا این آر سی و سی اے اے پر ویڈیو عام ہونے کے بعد آج 18/دسمبر کو بہت سے احباب نے براہ راست قایدین کی تحریر تو نہیں البتہ انکے خدام یا ترجمان کی طرف سے انکی لکھی تحریر راقم کے پاس بھیجا(اگر انکی ہو تو)اور واضح کرتے ہوئے سبھی نے یہ پوچھا کہ ان تحریروں میں تو کہا جا رہا ہے کہ "قایدین انڈر گراونڈ رہیں وہی بہتر ہے،اور احتجاج کرنے والے اپنا احتجاج جاری رکھیں، البتہ ٹوپی وغیرہ لگانے سے احتراز کریں، مذہبی نعرہ سے گریز کریں!ورنہ بصورت دیگر احتجاج مسلم بنام ہندو ہوکر فرقہ وارانہ فساد کا رخ لے لیگا،جس سے ہمیں بچنا چاہیے، ورنہ بنا بنایا کام بگڑ سکتا ہے، دشمن عناصر یہی چاہتے"

سو اس سلسلے میں آپ(راقم)کیا کہتے ہیں؟
آپ خدام کی اپیل یا ترجمانی کو درست مانتے ہیں؟اور کیا یہ عقلا و تجربتا درست ہے؟ کیا ہر طرح سے سوچ و فکر کا راستہ اسی نکتے اور عمل پر رک جاتا ہے؟

راقم نے ان سبھی کو یہ کہتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی ابھی ممکن ہے ان بڑوں کی یہ حکمت عملی ہو، ویسے بھی ابھی کیی میڈیا پلیٹ فارم پر پی ایم کی تقریر گشت کر رہی ہے کہ "آگ لگانے والے کو کپڑے سے پہچانو" تو ممکن ہے وہ ایسا کہے ہوں کہ اپنی مذہبی شناخت پر اصرار نہ ہو، یعنی ٹوپی سر پر سجانے اور مذہبی نعرہ لگانے سے گریز کریں البتہ احتجاج میں ضرور شریک ہوں!

تاہم ان احباب کا آخری سوال کہ
"کیا ہرطرح سے سوچ و فکر کا راستہ اسی نکتے اور عمل پر رک جاتا ہے؟ "
یہ کافی معنی خیز تھا اور ہے!اب اس حوالے سے کیا کہتا؟بہرحال عقل وشعور کو کام میں لانا پڑا،کیونکہ اس سوال میں پنہاں عمل نہ تو آخری آپشن ہے کہ اس کے علاوہ کویی راستہ نہیں!بس عوام ان ان شرطوں کے ساتھ جایے، مگر قایدین انڈر گراؤنڈ رہیں!
اسی کے ساتھ ساتھ نہ یہ کویی ایسا بھاری بھرکم پتھر ہے کہ جسے عوام تو اٹھاسکتے مگر قایدین حضرات مل جل کر نہیں اٹھا سکتے!آخر بھیڑ بنا قیادت کیا نتیجہ دیگی؟یا اب تک کیا نتایج سامنے آیے ہیں؟

یہ اس لیے بھی کہ بات اگر منطقی اصول کے مطابق ہو اور مسئلہ عزیمت کا ہو تو قربانی اور شعایر یہ تو سبھی کے لیے اہمیت رکھتے ہیں اور اگر رخصت کی ہے جیسا کہ تقاضا بھی ہے اور ہو تو اس میں استثتی یا عوام قایدین کی تفریق چہ معنی دارد؟
آخر انہی اصولوں کو اپنا کر اور سبھی دیش باسیوں کو ساتھ لیکر بڑے بھی سامنے کیوں نہیں آسکتے؟ایک سے ایک یکجہتی پروگرام اور دیش بچاؤ تحریکیں تو اسکی زریں مثالیں ہیں.

*خدشات کی بات*

ویسے بھی خدام سبھی کی بات کسی قدر درست مان بھی لیں تو کیا آیے دن ہم یہ نہیں دیکھتے رہتے،کہ یہاں وہاں جہاں تہاں جلسے جلوس ہوتے رہتے ہیں،لاکھوں کی بھیڑ خالص مذہبی ہوتی ہے اور یہ دیکھ کر ان پر نازیبا تبصرہ آبادی وغیرہ کو لیکر گھٹیا قسم کے نیتا کرتے ہی رہتے ہیں! اسفار میں اکیلا پاکر مذہبی شناخت دیکھ کر مسلم یا مایناریٹی والے لنچنگ تک کا شکار ہوجاتے ہیں! تو کیا ان خدشات کی بنیاد پر آیندہ بھی قوم کو خالص مذہبی جلوس میں بلانے سے روکا جایگا؟یا وہاں بھی یہ ان علامات و شعایر کو برطرف کرکے آنے کا اعلان کریں گے؟

کیا آیندہ جدید ٹیکنالوجی یا دفاتر سے جاری کردہ اعلانات کے سہارے ہی اپنی آواز و پیغام ملت اسلامیہ تک پہونچا نے کی کوشش کی جایے گی؟ یہی نہیں کیا ایسا رحم و کرم کرکے قوم وملت کی ممکنہ انرجی، قیمتی وقت، وسائل اور پیسے وغیرہ کو بھیڑ اکٹھی کرکے برباد کرنے کے بجاے کسی مثبت و تعمیری کام پر لگانے کیلیے یہ قوم اور قایدین سر جوڑ کر بیٹھیں گے؟

الغرض وہ سوال کنندہ احباب سوالات کے جوابات کیا پاتے مزید سوالات لیکر اور الجھ گیے، مگر عجیب بات یہ ہویی کہ اکثر نے یہ کہا کہ ہم آپ کی بات سمجھ گیے!
________________________*
ڈایریکٹرالمرکزالعلمی للافتاء والتحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار انڈیا رابطہ نمبر
+918789554895