اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *سنت نبوی کی اہمیت* منظوراحمد قاسمی خادم دارالعلوم میٹھے کاتلا

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 18 December 2019

*سنت نبوی کی اہمیت* منظوراحمد قاسمی خادم دارالعلوم میٹھے کاتلا

*سنت نبوی کی اہمیت*
منظوراحمد قاسمی
خادم دارالعلوم میٹھے کاتلا

اس دنیا میں بسنے والےہرانسان نے کسی کواپنامقتدا اورپیشوابنارکھاہے، جس کواپنا آئڈیئل اورنمونہ سمجھ کر اپنی زندگی بسرکرتاہے،اوراپنےمقتدا کےہرفعل وقول کےمطابق اپنی حیات کوڈھالنےکی کوشش میں لگارہتاہے، اوراسکی پیری واتباع پر فخرومحسوس کرتاہے،اوراسکے فضائل ومناقب کاتذکرہ کرتانہیں تھکتا، اس دنیا فانی میں پائے جانے والے تمام ادیان باطلہ ومذاہب ضالہ کےپیشوا ورہنماپائے جاتے ہیں، جواپنی قوم کےلیےگمراہی کاراستہ ہموار کرکے جہنم کےمستحق بنارہے ہیں،اور ابدی عذاب الہی کےحقدار بنا رہےہیں،
اور یہ حقیقت چڑھتے سورج کی طرح واضح اور روشن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑاکوئی مقتدااور پیشوا اس نیل گوآسمان اور زمین نے نہ دیکھاتھا اورنہ دیکھا ہے اور نہ دیکھ سکیں گے، اور ایسا کیوں نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرقول وفعل اللہ کی مرضی سے سرزد ہوتےتھے، اس سے بھی آگے بڑھ کر آپکا تبسم فرمانا اور آنسوں بھی بہانا بھی من جانب اللہ ہوتا تھا، جس ذات کے فرمودات وارشادات بذریعہ وحی الہی ہوں، ایسی مقدس ہستی وبزرگ وبرتر ذات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو اپنےلیے نمونہ بنانا خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار کر اپنےآپ کوقعر مذلت میں دھکیلنے سے کم نہیں ہے، اورقرآن جیسی متبرک آسمانی کتاب نے  جس ذات کےبارے میں ببانگ دھل یہ اعلان کردیاہو، *وما ينطق عن الهوى إن هوإلا وحي* *يوحى* کہ وہ انکے قول وفعل میں نفس کو دخل نہیں ہے، اوروہ اپنی مرضی سے کچھ بول نہیں سکتے،جن کو بات کرنےکےلیے آسمانی حکم کا انتظارہو،جس عظیم ہستی کی خاموشی بھی شریعت ہو، ایسی بوقلموںصفات کی حامل عظیم شخصیت کی تعلیمات وہدایات کاہر گمراہی اور بےراہ روی سےپاک ہوناامریقینی ہے،

اسی ( حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم) ذات والاستودہ صفات کی وجہ سے مذہب اسلام کو تمام مذاہب ودایان پر فوقیت وبرتری حاصل ہےکہ مذہب  اسلام نے  زندگی کےہرشعبہ میں اپنی پاک تعلیمات وہدایات کا درس دیاہے،زندگی کاکوئی ایسا گوشہ نہیں ہے،.جس میں دین اسلام نے رہبری ورہنمائی نہ کی ہو، یہاں تک قضاء حاجت اور پیشاب کرنے کاطریقہ بھی سکھایاہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وہدایات سے زندگی کاکوئی شعبہ خالی نہیں، زندگی کے ہرموڑ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات موجودہیں،انسانی زندگی کے ہرشعبہ سے سنت کاتعلق ہے،

آپ اس واقعہ سے اندازہ لگائیں کہ تعلیمات نبی زندگی کےہر شعبہ میں کس طرح پائی جاتی ہیں، زندگی کےہرشعبہ سے سنت نبوی کا تعلق ہے
واقعہ ملاحظہ فرمائیں! عن سلمان قال ، انه قيل علمكم نبيكم حتى الخراءة، قال أجل نهانا أن نستقبل القبلة لغائط أوبول الخ ، کہ جلیل القدر صحابی رسول حضرت سلمان فارسی سے یہود کی طرف سے سوال کیاگیا کہ تم کوتمہارےنبی نے ہرچیز کی تعلیم دی ہے؟ یہاں تک استنجاء کرنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے، توجواب میں حضرت سلمان نے فرمایا کہ جی ہاں ہم.کو ہمارے پیارے نبی نے استنجاء کرتے وقت قبلہ رو بیٹھنے سے منع فرمایا ہے،،

اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی ذات اقدس ہی نمونہ وآئڈیئل اور مقتدا بنائے جانےلائق تر ہے،اور اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کوپوری انسانیت کےلیے نمونہ بنایا ہے، اور خدا تعالی نے وعدہ اور کبھی وعید کےذریعہ راہ سنت اختیارکرنے کاحکم فرمایاہے،آپکی تعلیمات ہدایات  کوسامنے رکھ کر زندگی بسر کرنا دنیا وآخرت میں فلاح وبہبودی کاذریعہ ہے،راہ سنت اختیارکئے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے، آپکاطوروطریق وآپکی سنت پرعمل ہی فوز آخرت کا سب سے بڑا ذریعہ ووسیلہ ہے،آپکے ارشادات کو چھوڑنا دونوں جہاں کی ناکامیوں سے عبارت ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا دنیا کی کوئی چیز مقابلہ نہیں کرسکتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرسنت قابل تقلید ہے،اللہ تعالی اسی عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں، جو نبی علیہ السلام کی سنت مبارکہ پر کیاگیاہو،کسی بھی عمل کی مقبولیت راہ سنت کے سے ہوتی ہے،اور بارگاہ ذوالجلال میں وہی اعمال مقبول ہوتےہیں،.جس پر نبی علیہ السلام کی سنت کی مہر لگی ہو، خواہ وہ عمل کتنا چھوٹا کیوں نہ ہو، اور جو عمل رسول اللہ کی سنت سے ہٹ کرہو،وہ بارگاہ خداوندی میں مردود اور ناقابل قبول ہے، اورجس کام کوسنت کےدائرہ سے ہٹ کرکیاجائے،وہ عمل اس کرنے والے کے منہ پرماردیاجاتاہے، ( اللہ ہم سب کی پوری حفاظت فرمائے)

تاریخ کامطالعہ کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی کی سنتوں کو کس طرح اپنی زندگیوں میں اپناتےتھے، اوروہ اپنی نبی علیہ السلام کی سنتوں کو دنیا وآخرت میں کامیابیوں کی کنجی سمجھتے تھے،ہرکام کو راہ سنت پرچل کرہی سرانجام دیتے تھے، وہ رسول اللہ کی سنت کی عظمت ومحبت میں اپنی ہرمحبوب شئی کوقربان کرتےتھے،یہی وجہ تھی کہ صحابہ کی جماعت نے ظاہری اسباب کےنہ ہوتے ہوئے بھی ہرمقام پر فتحمندی کاپرچم لہریاتھا، جہاں بھی گئے کامیابیاں وکامرانیاں انکے قدم بوسی کےلیے فرش راہ ہوتی تھیں،

اس موقعہ پر دو واقعہ قارئین کی نظر کرنا ضروری سمجھتاہوں تاکہ اندازہ لگایاجاسکے کہ اصحاب نبی کو سنت سے کس حددرجہ عشق ولگاؤ تھا،اورانکے جسم میں رگ وریشہ میں اتباع سنت کاجذبہ کس طرح موجزن تھا،ملاحظہ فرمائیں،
امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ کےساتھ کسی سفر پرتھے، مدینہ سے نکلتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو راستہ میں ٹھوکر لگی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لڑکھڑاگئے،اس کےبعد جب کبھی اس جگہ سے حضرت عمر کا گزرہوتا توحضرت عمر جان بوجھ کر اس جگہ ٹھوکرکھاتے اور قصدا لڑکھڑاتے تھے، کسی کے پوچھنے پرفرماتےتھے کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ کےساتھ اسی جگہ سے گزررہاتھا، آپ کوٹھوکر لگی تھی، اب مجھے شرم آتی ہے کہ اس جگہ سے بغیر ٹھوکرکھائے نکل جاؤں، اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عمر کاواقعہ مشہور ہے کہ وہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ سفر پرتھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےراستہ میں قضاء حاجت فرمائی، اور پھر اپنا سفر شروع کیا، اس واقعہ کےبعد جب کبھی  حضرت ابن عمر اس جگہ سے گزرتےتو اپنی سواری نیچے سے اترتے اور اسی جگہ بیٹھ کرقضاء حاجت کی شکل بناکر تھوڑی دیر تشریف رکھنے کےبعد اٹھ جاتے ، انکے ایک خادم نے اس کی وجہ پوچھی تو کہا کہ رسول اللہ نے اس جگہ پیشاب فرمایاتھا،مجھے قضاء حاجت کی ضرورت تو نہیں ہوتی ، لیکن  اتباع سنت میں اس طرح کرتاہوں، اب اندازہ لگائیں کہ صحابہ کو اس درجہ اتباع سنت کاجذبہ تھا، کہ حضور نے جو کام بتقاضہ بشریت فرمایا، صحابہ اس کو اپنانے کی کوشش کرتے تھے،تووہ اپنی نمازوں اورروز مرہ کے نیک کاموں میں کس طرح سنت کا اہتمام کرتے تھے ، کھانے پینے سونے چلنے پھرنے اٹھنے بیٹھنے  میں کس طرح اتباع سنت کااہتمام فرماتے تھے،اس کا اندازہ لگانے کےلیے دو واقعات قارئین کی نظر کرچکاہوں ،
اوریہ اہتمام اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ کی سنت کےبغیر کوئی عمل بارگاہ احد وصمد میں قبول نہیں ہوتا، اورانکو اچھی طرح معلوم تھا  کہ ہر بڑے چھوٹے عمل میں قبولیت اسی وقت ہوگی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ
پرکیاگیاہو، اور وہ خوب اچھی طرح جانتےتھے کہ اللہ کی طرف سے قبولیت کادروازہ اسی وقت کھلے گا،جب سنت رسول اللہ کو اپنایاجائے گا،

اب ہم تھوڑی دیر کےلیے سوچیں کہ ہم اپنے اعمال میں کس طرح سنت کا اہتمام کرتےہیں، ہم اپنی نمازوں کاجائزیں لیں کہ کس قدر سنت کی رعایت کرتے ہوئے ادا کرتےہیں، اور روز مرہ کے کاموں میں کس طرح سنت کاخیال رکھتے ہیں، خدانخواستہ ہم سے کسی عمل میں سنت متروک ہورہی ہے، تو وہ عمل قابل قبول ہی نہیں ہے،سنت سے ہٹ کر روزانہ ہزاروں رکعتیں پڑھ لیں،اللہ تعالی کی نظر میں انکی کچھ وقعت نہیں ہوگی، اس کے برعکس ہم صرف دورکعت سنت کے مطابق ادا کریں، تو وہ اللہ نظر میں بہت اہمیت کی حامل ہیں،

قارئین کرام! اگر ہم چاہتے ہو کہ ہمارے اعمال اللہ کےحضورقابل ومقبول ہوتو ہمارے لیے بےحد ضروری ہےکہ ہم ہر کام کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ اداکرنے کی کوشش کریں، ہم اس بات عہدکریں کہ ہربڑاچھوٹاکام مسنون طریقہ پرادا ہوگا(ان شاءاللہ) روز مرہ امور میں سنت نبوی کاپورا لحاظ وپاس کریں گے،اور وہی اعمال نزول رحمت کاذریعہ بنیں گے،جن اعمال پر سنت کاسکہ لگاہوا ہوگا،اس کےبرعکس ہم ہزاروں کام سنت سے منہ موڑکرکرلیں، وہ بارگاہ خداوندی میں مردود اور ناقابل قبول ہونگے، سوائے جسمانی مشقت تکلیف کے ہم کچھ پا نہیں سکیں گے

اللہ ہم سب کواپنے فضل.سے سنت پرچلنے کی ہمت وتوفیق عطافرمائے،