نئی دہلی: 18 دسمبر 2019
مولانا ارشد مدنی کی قیادت والی جمعیت علماء ہند کے صوبہ اتر پردیش کے صدر مولانا اشہد رشیدی نے تما م صوبائی اور ضلعی ذمہ داروں کو یہ فرمان جاری کیاہے کہ متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف تنہا مسلمانوں کا احتجاج کرنا درست نہیں ہے بلکہ اس سے حکومت کے ناپاک عزائم کی مزید تکمیل ہوگی ۔ لہذا تنہا احتجاج نہ کریں ۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے برادران وطن کو اپنے ساتھ شامل کریں ، پولس کی اجازت لیں اور اس کے بعد بند کمروں میں احتجاجی جلسہ کریں ۔ جذباتی نعروں سے گریز کریں ۔ سنجیدہ اور مناسب انداز میں اپنی بات رکھیں ۔ اگر ان تمام شرطوں پر عمل کرنا ممکن ہو تبھی احتجاج کریں ۔
مولانا اشہد رشیدی کا یہ فرمان سوشل میڈیا پر مذہبی حلقہ میں وائرل ہورہاہے اور اس کی مذمت کی جارہی ہے کہ اب ہمارے قائدین ہی ہمیں بزدلی کا سبق سکھارہے ہیں، احتجاج کرنے سے روک رہے ہیں ۔ جو لوگ احتجاج کررہے ہیں ان کی ہمت پست کررہے ہیں ۔
واضح رہے کہ متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف پورے ہندوستان میں شدید احتجاج ہورہاہے اور تقریبا ملک کے سبھی صوبے میں ہزاروں مسلمان سڑکوں پر نکل کر اس کی مخالفت کررہے ہیں ۔ متعدد یونیورسٹیز اور کالجز میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے ۔ دہلی کے جامعہ نگر ،سلیم پور اور یوپی کے مؤ ناتھ بھنجن میں مظاہرین پر پولس نے آنسو گیس کا بھی استعمال کیاہے اور لاٹھیاں تک چارج کی ہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے ساتھ دہلی پولس نے جو بربریت کی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ، مظاہرہ میں تشدد کس نے کیاہے ابھی تک اس کی تحقیق نہیں ہوسکی ہے ،پولس پرامن احتجاج کررہے مسلمانوں پر الزام لگارہی ہے جبکہ مسلمان اس کا انکار کررہے ہیں ۔ ماہرین کا مانناہے کہ پولس احتجاج کو ختم کرنے کیلئے آنسو گیس استعمال کرتی اور لاٹھی چارج کرتی ہے اور اس کیلئے وہ خود سرکاری املاک کو نقصان پہونچاکر بنیاد بناتی ہے ۔
مولانا اشہد رشیدی کا یہ فرمان سوشل میڈیا پر مذہبی حلقہ میں وائرل ہورہاہے اور اس کی مذمت کی جارہی ہے کہ اب ہمارے قائدین ہی ہمیں بزدلی کا سبق سکھارہے ہیں، احتجاج کرنے سے روک رہے ہیں ۔ جو لوگ احتجاج کررہے ہیں ان کی ہمت پست کررہے ہیں ۔

واضح رہے کہ متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف پورے ہندوستان میں شدید احتجاج ہورہاہے اور تقریبا ملک کے سبھی صوبے میں ہزاروں مسلمان سڑکوں پر نکل کر اس کی مخالفت کررہے ہیں ۔ متعدد یونیورسٹیز اور کالجز میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے ۔ دہلی کے جامعہ نگر ،سلیم پور اور یوپی کے مؤ ناتھ بھنجن میں مظاہرین پر پولس نے آنسو گیس کا بھی استعمال کیاہے اور لاٹھیاں تک چارج کی ہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے ساتھ دہلی پولس نے جو بربریت کی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ، مظاہرہ میں تشدد کس نے کیاہے ابھی تک اس کی تحقیق نہیں ہوسکی ہے ،پولس پرامن احتجاج کررہے مسلمانوں پر الزام لگارہی ہے جبکہ مسلمان اس کا انکار کررہے ہیں ۔ ماہرین کا مانناہے کہ پولس احتجاج کو ختم کرنے کیلئے آنسو گیس استعمال کرتی اور لاٹھی چارج کرتی ہے اور اس کیلئے وہ خود سرکاری املاک کو نقصان پہونچاکر بنیاد بناتی ہے ۔
