اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: جامعہ کے بعد اب سیلم پور اور جعفرآباد میں پولس کا قہر پتھرائو، آنسو گیس کے گولے داغے گئے ، پولس چوکی نذرآتش ، کئی میٹرو اسٹیشن بند، گورنر امن کی اپیل کی، جامعہ میں طلباء کا احتجاج جاری، معمولاتِ زندگی متاثر، ۶‘ملزمان ۳۱؍ دسمبر تک جیل رسید،جامعہ نگرسے ۱۰؍گرفتار، ایک بھی جامعہ کا طالب علم نہیں، شہریت ترمیمی قانون، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء پر ظلم وزیادتی کے خلاف ملک کی ۵۶؍یونیورسٹیوں کا احتجاج جاری

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 17 December 2019

جامعہ کے بعد اب سیلم پور اور جعفرآباد میں پولس کا قہر پتھرائو، آنسو گیس کے گولے داغے گئے ، پولس چوکی نذرآتش ، کئی میٹرو اسٹیشن بند، گورنر امن کی اپیل کی، جامعہ میں طلباء کا احتجاج جاری، معمولاتِ زندگی متاثر، ۶‘ملزمان ۳۱؍ دسمبر تک جیل رسید،جامعہ نگرسے ۱۰؍گرفتار، ایک بھی جامعہ کا طالب علم نہیں، شہریت ترمیمی قانون، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء پر ظلم وزیادتی کے خلاف ملک کی ۵۶؍یونیورسٹیوں کا احتجاج جاری

جامعہ کے بعد اب سیلم پور اور جعفرآباد میں پولس کا قہر
پتھرائو، آنسو گیس کے گولے داغے گئے ، پولس چوکی نذرآتش ، کئی میٹرو اسٹیشن بند، گورنر امن کی اپیل کی، جامعہ میں طلباء کا احتجاج جاری، معمولاتِ زندگی متاثر، ۶‘ملزمان ۳۱؍ دسمبر تک جیل رسید،جامعہ نگرسے ۱۰؍گرفتار، ایک بھی جامعہ کا طالب علم نہیں، شہریت ترمیمی قانون، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء پر ظلم وزیادتی کے خلاف ملک کی ۵۶؍یونیورسٹیوں کا احتجاج جاری
نئی دہلی۔۱۷؍دسمبر:شہریت ترمیم قانون کے خلاف آج پانچویں دن بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ ، شاہین باغ، جامعہ نگر، سی آر پارک، پرانی دہلی، سیلم پور، جامع مسجد علاقہ سمیت متعدد علاقوں میں احتجاج جاری رہا۔ دہلی ۔ اترپردیش۔ ہریانہ کو جوڑنے والی اہم شاہراہ کو مظاہرین نے جام کردیا یہ جام دیر رات تک جاری رہا۔ وہیں جامعہ کے بعد اب سیلم پور علاقے میں بھی جم کر ہنگامہ ہوا۔وہاں تقریباً دو ہزار سے زائد مظاہرین جمع تھے، بھیڑ نے سیلم پور ٹی پوائنٹ سے جعفرآباد ٹی پوائنٹ کے درمیان پتھراؤ کیا۔مظاہرین نے اس دوران پولیس چوکی کو بھی آگ کے حوالے کر دیا۔کئی بسوں میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی، مظاہرین سمیت کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔پورے علاقے میں فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ہنگامہ ہونے کے بعد ویلکم، جعفرآباد، موجپور-بابرپور میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔اس سلسلے میں ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ سیلم پور ٹی پوائنٹ پر لوگ جمع ہوئے اور دوپہر تقریباًبارہ بجے احتجاج شروع ہوا۔مظاہرین نے نظر ثانی شہریت قانون ،قومی شہری رجسٹر (این آرسی) اور حکومت کی مخالفت میں نعرے لگائے۔ریلی میں شامل محمد صادق نے بتایا کہ ان کا یہ احتجاج جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں طالب علموں پر پولیس کی کارروائی اور ملک میں این آر سی نافذ کرنے کے خلاف ہے۔قاسم نامی ایک دیگرشخص نے کہاکہ ملک میں این آر سی نافذ نہیں ہونا چاہئے۔ہمارا احتجاج اسی بات کو لے کر ہے۔دہلی کے جعفرآباد میں بھی لوگ مشتعل ہوگئے، ذرائع کے مطابق بھیڑ کو قابو میں کرنے کےلیے پولس کو طاقت کا مظاہرہ کرنا پڑا، پولس نے کئی جگہوں پر آنسو گیس کے گولے داغے ہیں، مظاہرین نے یہاں بھی بسوں کو نشانہ بنایا۔ پولس نے پورے علاقے کو گھیر کر آپریشن شروع کردیا ہے، مخالفت کی وجہ سے سیلم پور، جعفرآباد، موج پور، بابر پور میٹرو اسٹیشنوں کو بند کردیاگیا ہے یہاں پر گاڑیاں نہیں رک رہی ہیں۔ سیلم پور تشدد پر گورنر انل بیجل نے مظاہرین سے امن وامان قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے دہلی کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ امن قائم رکھیں کسی بھی قسم کی تشدد میں شریک نہ ہوں اور شرپسند عناصر کی اطلاع فوراً دہلی پولس کو دیں، تشدد غیر قانونی تو ہے ہی غیر انسانی فعل بھی ہے۔ اپنی بات امن وامان کے ساتھ جمہوری طریقے سے کہیں۔ ادھر جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی  میں طلبا کا احتجاج پانچویں روز بھی جاری رہا۔ آج کے احتجاج میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی۔ غیر مسلم طلباء اساتذہ بھی جامعہ کے طلبا کی حمایت میں موجود تھے جن میں ایک بڑی تعداد سکھ برادری کی بھی موجود تھی۔دوران احتجاج طلباء نے کہا کہ ہم اپنا احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک حکومت اس کالے بل کو واپس نہیں لیتی ہے۔ جامعہ کا احتجاج مکمل طور سے پرامن تھا، مظاہرین رسی ڈال کر ایک حصے کو گاڑیو ں کی آمدورفت کےلیے جگہ چھوڑ دی تھی۔جامعہ کے طلبا رضاکارانہ طور پر اس خدمات انجام دے رہے تھے جس کی وجہ سے کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ جامعہ کے قریب مظاہرہ کے مدنظر سکھدیو میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر سات کو بند کردیاگیا ہے، سکھدیو وہار، ہولی فیملی اسپتال کے دونوں سڑکوں پر بڑی تعداد میں پولس تعینا ت ہے۔ جامعہ کے اس احتجاج کی سب سے اچھی خوبی یہ دیکھنے کو ملی کہ وہاں احتجاج کے درمیان سڑکوں پر جمع کوڑے کرکٹ کو احتجاج ختم ہونے پر جامعہ کے طلبا ء پوری سڑک کو صاف کردیتے ہیں۔ جس کی ویڈیو بھی خوب وائرل ہورہی ہے او رطلباء کے اس اقدام کو سراہا جارہا ہے۔ انڈین ایکسپریس نے بھی اس خبر کو کوریج دی ہے جس میں کئی ٹوئٹر صارفین نےطلباء جامعہ اور المنائی جامعہ کے اس اقدام کی ستائش کی ہے۔ طلبا کا احتجاج صبح دس بجے سے شروع ہوکر شام کو پانچ بجے اختتام پذیر ہوگیا۔ ادھر جامعہ اے ایم یو میںپولس بربریت کے خلاف اب ملک کی ۵۶یونیورسٹیوں میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ وہیں جامعہ سے متصل بٹلہ ہاؤس کا بازار دوپہر تک ویران تھا اور یہاں اسٹیشنری کی دکان چلانے والے31سالہ ہریش راؤ اب بھی اپنے پہلے گاہک کے منتظر ہیں۔اندراندرخوف وہراس کاماحول ہے ۔اتوار کے روزترمیم شدہ شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کے بعدجامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے آس پاس کے علاقوں میں تناؤ کی وجہ سے تجارت بھی متاثرہوئی ہے۔بٹلہ ہائوس ،جوگابائی ، ابوالفضل ،شاہین باغ، ذاکر نگر اور غفار منزل کا علاقہ منگل کی صبح سے ہی خاموشی اختیارکیے ہواتھا۔پولیس توڑ پھوڑکے بارے میں ، انہوں نے کہاہے کہ میں قلم ، نوٹ پیڈ اور کتابیں بیچتا ہوں۔میں طلبہ سے رابطے میں رہتاہوں اور ان کے درد کو سمجھ سکتا ہوں۔ وہ سب ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں۔راؤ کی دکان گذشتہ دو دن سے بند ہے۔ اس نے پوچھاہے کہ ایسی صورتحال میں کون عافیت محسوس کرے گا؟موبائل ریچارج شاپ چلانے والے بائیس سالہ محمد علی جاوید نے بتایا کہ اس علاقے میں ہنگامہ کی وجہ سے ان کی دکان گذشتہ دو تین دن سے بند تھی۔کوٹلہ بازار میں کپڑوں کی دکان چلانے والے آفتاب راؤ نے بتایا کہ پولیس کی توڑ پھوڑ اور شہریوں کے ترمیم شدہ ترمیم کے قانون کے خلاف جامعہ کے طلباء کے ساتھ ان کی آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ احتجاج میں شریک ہونے پر ان کی دکان بند کردی گئی تھی۔راؤ (36) نے کہاہے کہ یہ مذہب کے بارے میں نہیں ہے ، کوئی باپ اس کو انجام دے گا۔ ہم صحیح وجوہات کی بناء پر لڑ رہے ہیں۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ صورتحال کافی سنگین ہے۔کانگریس صدر نے مختلف اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ کہاہے کہ پولیس نے جمہوری حقوق کے استعمال کرنے والے پْر امن مظاہرین پر جس طرح سے کارروائی کی اس سے انہیں شدید رنج ہے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس جامعہ ملیہ اسلامیہ میں خواتین کے ہاسٹل میں بھی داخل ہوئی اور طالب علموں کو بے رحمی کے ساتھ پیٹا۔وہیں جامعہ علاقے میں مظاہروں میں گرفتارچھ مبینہ ملزمان کو 14 دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیاگیا۔جب کہ جامعہ میں داخل ہونے والی پولیس پراب تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے ۔دہلی کی ساکیت عدالت نے ملزمان کو 31 دسمبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ قبل ازیں ملزمان کو عدالت میں پیش کیاگیا۔ دفاع کے وکلا نے دعویٰ کیاہے کہ ملزموں کو ان کے پس منظر کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔عدالت نے دہلی پولیس سے سوال کیا کہ کیا ان کے خلاف پرانے فوجداری مقدمات درج ہیں۔ دہلی پولیس نے بتایا کہ اس سے قبل بھی ان پراس طرح کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔اس سے قبل دہلی پولیس نے اس معاملے میں جامعہ کے علاقے سے 10 افرادکوگرفتار کیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ گرفتار افراد میں ایک بھی طالب علم نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق ، گرفتار تمام افرادکاتعلق مجرمانہ پس منظر سے ہے۔ گرفتار 10 لوگوں میں سے 3 کو مجرم قرار دیا گیا ہے ۔اسی دوران ، واقعہ میں مبینہ طورپرملوث ہونے کے لیے آپ کے ایم ایل اے اور دیگر کے خلاف کارروائی پر ، دہلی پولیس کے ذرائع نے بتایاہے کہ اس معاملے میں تفتیش جاری ہے۔ جو بھی ملوث ہوگا ، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔