اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق، مظاہرین پر پولیس کا تشدد افسوسناک اور لائق مذمت دیوبند میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف منعقدہ پروگرام سے مولانا محمود مدنی کا خطاب

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 24 December 2019

پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق، مظاہرین پر پولیس کا تشدد افسوسناک اور لائق مذمت دیوبند میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف منعقدہ پروگرام سے مولانا محمود مدنی کا خطاب

پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق، مظاہرین پر پولیس کا تشدد افسوسناک اور لائق مذمت
دیوبند میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف منعقدہ پروگرام سے مولانا محمود مدنی کا خطاب
دیوبند۔۲۴؍دسمبر: (رضوان سلمانی) متنازع شہریت ترمیمی بل2019ء کی لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظوری کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج ہے۔ آسام سے لے کر بنگال تک، دلی اور یوپی سے لے کر بہار تک زبردست احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ جہاں ایک طرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے اس متنازع بل کے خلاف پورے ملک میں انقلابی روح بیدار کردی ہے وہیں دوسری طرف مسلمانان ہند کی سب سے قدیم اور متحرک تنظیم جمعیۃ علماء ہند پورے ملک میں ایک ساتھ بارہ سو سے زائد شہروں میں اپنا احتجاج درج کراچکی ہے۔ اسی سلسلے میں جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کی جانب سے عالمی شہرت یافتہ شہر دیوبند کی عیدگاہ میں پولیس اور انتظامیہ کی سخت سیکورٹی کے درمیان آج بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔ دھرنے کے پہلے روز جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے 313 کارکنان اپنی گرفتاری دے چکے ہیں جبکہ آج بھی 313 لوگوں نے اس سیاہ بل کے خلاف اپنی گرفتاری پیش کی۔ اس پروگرام میں جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی رہنماؤں نے بھی اپنی شرکت درج کرائی ہے۔ اس موقع پر جمعیۃ کے قومی جنرل سکریٹری اور سابق راجیہ سبھا ممبر مولانا محمود مدنی نے پورے ملک میں مظاہرین پر پولیس کے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے پرامن احتجاج کو قوم کا آئینی حق قرار دیا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء کسی بھی جانب سے کئے جانے والے تشدد کی حمایت نہیں کرتی، لیکن پرامن احتجاج کے خلاف پولیس نے جو رویہ اختیار کیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دیوبند میں ہونے والے احتجاجی پروگرام کیلئے اگر انتظامیہ کوئی رکاوٹ کھڑی کرتی ہے تو جمعیۃ کے جیالے سہارنپور شہر میں کلکٹریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے اور گرفتاری پیش کریں گے۔مولانا نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے نام پر حکومت کسی ایک قوم کو نشانہ بنائے یہ کسی قیمت پر منظور نہیں ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ این آرسی کو لے کر وزیر اعظم ہند اور وزیر داخلہ کے بیانوں میں تضاد ہے ، دونوں ہی ملک کے عوام کے سامنے این آرسی پر اپنی منشا صاف ظاہر نہیں کرپارہے ہیں ۔ اترپردیش میں ہوئے تشدد کو لے کر وزیر اعلیٰ اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ دیئے گئے بیان پر مولانا مدنی نے کہا کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ کچل دیں گے یاد رکھیں کہ آپ کی گولیاں کم پڑجائیں گی لیکن ہمارے سینے کم نہیں پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظلم و تشدد ہمارے عزم و استقلال میں کمی نہیں لاسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے خلاف دیوبند میں ہی نہیں بلکہ جمعیۃ ہر شہر میں گرفتاریاں دیںگی اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں ہوجاتا ۔ مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ ہم ایک دن کے فرق سے روزآنہ 313 افراد کی گرفتاری پیش کریں گے۔اس سے قبل جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے صدر مولانا ظہور احمد قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیۃ علماء کے جیالوں نے ان لوگوں سے ٹکر لی جن کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، ہم نے ان کے غرور اور تکبر کو خاک میں ملایا اور ہم آج بھی ملک کو توڑنے والی ہر طرح کی طاقتوں کے خلاف اعلان جنگ کررہے ہیں۔جمعیۃ ضلع سہارنپور کے جنرل سیکریٹری سید ذہین احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری لڑائی حکومت کے خلاف ہے، پولیس اور انتظامیہ ہمارے ادارے ہیں، ہماری ان سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ہم پولیس انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ہماری تحریک میں رکاوٹ نہ بنیں، ضلع میں امن و امان کے قیام کیلئے ہم بھی ان کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔اس دوران مظاہرین نے زبردست حکومت مخالف نعرے بھی لگائے ، ہاتھوں میں سی اے اے مخالف تختیاں ، جمعیۃ کے جھنڈے اور ترنگے لے کر پہنچے، مظاہرین نے کالا قانون واپس لو ہمیں چاہئے آزادی، بسمل والی آزادی، بھگت سنگھ والی آزادی کے نعرے لگائے ۔ دوسری جانب احتجاجی مظاہرے کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ مستعد رہی ، آج بھی جی ٹی روڈ کے علاوہ مختلف مقامات پر پولیس اور آراے ایف کے جوان تعینات رہے، خاص طو رپر دارالعلوم علاقے میں چپے چپے پر فورس تعینات ہے۔ ضلع مجسٹریٹ آلوک کمار پانڈے اور ایس ایس پی دنیش کمار پی سمیت انتظامیہ کے اعلیٰ افسران دھرنے کے مقام کے پر سیکورٹی کی کمان سنبھالے رہے اور ساتھ ہی خفیہ محکمہ بھی پوری طرح مستعد رہا۔ دھرنے کے مقام پر ڈرون کے ذریعہ نگرانی رکھی گئی۔ اس موقع پر 313لوگوں نے اے ڈی ایم ایف ونود کمار او رایس پی دیہات ودیا ساگر مشر کو گرفتاریاں پیش کیں۔ اس دوران جمعیۃ علماء ہند کے آرگنائزر مولانا قاری احمد عبداللہ رسول پوری نے سرفروشی پر مبنی نظم پیش کی، دھرنے کی نظامت کررہے جمعیۃ یوتھ کلب ضلع سہارنپور کے کنوینر مولانا محمود الرحمان قاسمی کے انقلابی نعروں نے لوگوں میں جوش بھردیا،اس کے علاوہ جمال الدین انصاری اور سلیم قریشی، مولانا ابراہیم قاسمی ۔جمعیۃ علماء اترپردیش کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد مدنی، جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے تمام عہدید داران کے علاوہ شہر کے معزز افراد موجود رہے.