حکومت شہریت قانون واپس لے: مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی
لکھنو۔۲۴؍دسمبر: (نامہ نگار) حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و ناظم ندوۃ العلماء لکھنو ) نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ میں نے کوئی بیان شہریت کے نئے قانون کے سلسلہ میں نہیں دیا ہے، مجھے پتہ چلا ہے کہ سوشل میڈیا پر مجھ سے منسوب کوئی بیان چل رہا ہے، جو درست نہیں ہے۔ انہو ںنے مزید کہاکہ شہریت کے نئے قانون (سی اے اے) کے سلسلہ میں میرا کہنا ہے کہ یہ ملک وقوم کےلیے مناسب نہیں ہے اور اس سے پورے ملک میں انتشار پھیلا ہوا ہے، اور مسلمانوں کو اس قانون سے علاحدہ کرنے سے ملک کا سیکولر کردار مجروح ہورہا ہے اور بھارت کی عزت پر بٹہ لگ رہا ہے۔ اس لیے میں حکومت ہند سے کہتا ہوں کہ اس قانون کو واپس لے یا اس قانون میں ترمیم کرکے اس میں مسلمانوں کو بھی شامل کرے۔ جمہوریت میں احتجاج کی اجازت ہے مگر ہر فریق کو تشدد سے بچناچاہئے۔
لکھنو۔۲۴؍دسمبر: (نامہ نگار) حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و ناظم ندوۃ العلماء لکھنو ) نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ میں نے کوئی بیان شہریت کے نئے قانون کے سلسلہ میں نہیں دیا ہے، مجھے پتہ چلا ہے کہ سوشل میڈیا پر مجھ سے منسوب کوئی بیان چل رہا ہے، جو درست نہیں ہے۔ انہو ںنے مزید کہاکہ شہریت کے نئے قانون (سی اے اے) کے سلسلہ میں میرا کہنا ہے کہ یہ ملک وقوم کےلیے مناسب نہیں ہے اور اس سے پورے ملک میں انتشار پھیلا ہوا ہے، اور مسلمانوں کو اس قانون سے علاحدہ کرنے سے ملک کا سیکولر کردار مجروح ہورہا ہے اور بھارت کی عزت پر بٹہ لگ رہا ہے۔ اس لیے میں حکومت ہند سے کہتا ہوں کہ اس قانون کو واپس لے یا اس قانون میں ترمیم کرکے اس میں مسلمانوں کو بھی شامل کرے۔ جمہوریت میں احتجاج کی اجازت ہے مگر ہر فریق کو تشدد سے بچناچاہئے۔
