شکریہ جامعہ ملیہ،اے ایم یو،جے این یو، اور شاہین باغ والوں یقیناً تم نے ہم ہندی مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کردیا...
🖊محمد سالم قاسمی
اے شاہین باغ کی شاہین صفت غیور ماؤں بہنوں اور نوجوان ساتھیوں جس طرح سے تم نے اس ظالم حکومت کے ظلم کے خلاف محاذآرائی کی ہے اور جس طرح صف بستہ ہوکر دہلی کے سرد دنوں اور انتہائی سرد راتوں میں اپنے چند دنوں کے ننھے بچوں کے ہمراہ ہندوستان کے آئین کی حفاظت کی خاطر بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے دستور کی بقاء کے لیے ڈٹی ہوئی ہو وہ بیشک ہم تمام ہندی مسلمانوں کے لئے فخر کی بات ہے
اور خاص طور سے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے ہم بیحد شکر گذار ہیں
آپ حضرات نے بر وقت سب سے پہلے اِس ظالمانہ بل کے خلاف اُس وقت علم بغاوت بلند کیا جس وقت ملت اسلامیہ ہندیہ کے سفید پوش نام نہاد قائدین بزدلی اور مصلحت کی دبیز چادر اوڑھ کر محفوظ چہار دیواری میں سو رہے تھے
اور اپنی اپنی چہار دیواری میں طلبہ کو محسور کیے ہوئے اور ذرا سے بھی ظلم کے خلاف لب کشائی کرنے پر اخراج کرنے کی دھمکی دیتے ہوے بزدل بنے رہنے کا عہد و پیمان لے رہے تھے
''نادان گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا،،
مگر سلام ہو آپ کی ہمت اور آپ کے حوصلہ پر جس نے بنا کسی مصلحت کو مد نظر رکھتے ہوئے خوابیدہ قوم کو ایک بار پہر سے بیدار کر دیا ہے اور قیادت سے بلکل مایوس ہو چکی ملت کو پہر سے آپ حضرات کے اندر قائدانہ رنگ نظر آنے لگا ہے
حضرت شیخ الہندؒ کو جیسے افراد کی ضرورت تھی اور جس طرح کے افراد سازی کی کوشش میں جامعہ ملیہ کا قیام ہو تھا یقیناً وہ افراد آپ ہی ہو بیشک جامعہ ملیہ کے قیام کے مقصد کو پورا ہوتے ہوے دیکھ کر حضرت شیخ الہندؒ کی روح کو سکون مل رہا ہوگا اور وہ جنت میں آپ پر رشک کر رہے ہونگے
جبکہ اس کوشش کے نتیجہ میں آپ کے ساتھ مقامی پولس کی طرف سے جو ظلم کیا گیا اور جس طرح سے آپ کے اے ایم یو کے کیمپس میں آپ کے جامعہ کی مسجد میں لائبریری میں باتھروم میں حتی کہ گرلس ہوسٹل میں گھس کر پولس نے آپ کو ناجائز طریقہ سے زد وکوب کیا
وہ تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب اور پولس کے کردار پر ایک بدنماداغ ہے مگر ظالم کا ظلم آپ جیسے اقبالؒ کے شاہینوں کی پرواز کو متاثر تو نا کر سکا البتہ یہ ظلم آپ کے لیے مہمیز کا کام کر گیا اور اب آپ لوگ نڈر ہو کر پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں آپ اکیلے نہیں ہیں بلکہ آپ یقین کریں کہ ہندوستان کے تمام نوجوان علماء آپ کے شانہ بشانہ ہیں اور آپ کی قربانیوں کو اپنی اپنی مجلسوں میں فخریہ بیان کرتے ہیں اور آپ کے لیے ہر ممکن دامے درمے قدمے سخنے مدد کر رہے ہیں
بس آپ حضرات خاموش مت ہونا اور اسی طرح ہندو مسلم ایکتا کے ساتھ ایک دوسرے کی آواز میں آواز ملاتے رہیں بہت جلد ظلم کا اندھیرا چھنٹنے والا ہے اور آزادی کی صبح روشن ہونی والی اور باطل کا زور ٹوٹنے ہی وال ہے ان شاءاللہ..!
آپ کا بھائی
محمد سالم قاسمی
نائب مہتمم
الجامعۃ القاسمیہ خیرالعلوم نانپارہ بھرائچ
و متعلم ایم اے اردو
مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی لکھنؤ
🖊محمد سالم قاسمی
اے شاہین باغ کی شاہین صفت غیور ماؤں بہنوں اور نوجوان ساتھیوں جس طرح سے تم نے اس ظالم حکومت کے ظلم کے خلاف محاذآرائی کی ہے اور جس طرح صف بستہ ہوکر دہلی کے سرد دنوں اور انتہائی سرد راتوں میں اپنے چند دنوں کے ننھے بچوں کے ہمراہ ہندوستان کے آئین کی حفاظت کی خاطر بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے دستور کی بقاء کے لیے ڈٹی ہوئی ہو وہ بیشک ہم تمام ہندی مسلمانوں کے لئے فخر کی بات ہے
اور خاص طور سے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے ہم بیحد شکر گذار ہیں
آپ حضرات نے بر وقت سب سے پہلے اِس ظالمانہ بل کے خلاف اُس وقت علم بغاوت بلند کیا جس وقت ملت اسلامیہ ہندیہ کے سفید پوش نام نہاد قائدین بزدلی اور مصلحت کی دبیز چادر اوڑھ کر محفوظ چہار دیواری میں سو رہے تھے
اور اپنی اپنی چہار دیواری میں طلبہ کو محسور کیے ہوئے اور ذرا سے بھی ظلم کے خلاف لب کشائی کرنے پر اخراج کرنے کی دھمکی دیتے ہوے بزدل بنے رہنے کا عہد و پیمان لے رہے تھے
''نادان گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا،،
مگر سلام ہو آپ کی ہمت اور آپ کے حوصلہ پر جس نے بنا کسی مصلحت کو مد نظر رکھتے ہوئے خوابیدہ قوم کو ایک بار پہر سے بیدار کر دیا ہے اور قیادت سے بلکل مایوس ہو چکی ملت کو پہر سے آپ حضرات کے اندر قائدانہ رنگ نظر آنے لگا ہے
حضرت شیخ الہندؒ کو جیسے افراد کی ضرورت تھی اور جس طرح کے افراد سازی کی کوشش میں جامعہ ملیہ کا قیام ہو تھا یقیناً وہ افراد آپ ہی ہو بیشک جامعہ ملیہ کے قیام کے مقصد کو پورا ہوتے ہوے دیکھ کر حضرت شیخ الہندؒ کی روح کو سکون مل رہا ہوگا اور وہ جنت میں آپ پر رشک کر رہے ہونگے
جبکہ اس کوشش کے نتیجہ میں آپ کے ساتھ مقامی پولس کی طرف سے جو ظلم کیا گیا اور جس طرح سے آپ کے اے ایم یو کے کیمپس میں آپ کے جامعہ کی مسجد میں لائبریری میں باتھروم میں حتی کہ گرلس ہوسٹل میں گھس کر پولس نے آپ کو ناجائز طریقہ سے زد وکوب کیا
وہ تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب اور پولس کے کردار پر ایک بدنماداغ ہے مگر ظالم کا ظلم آپ جیسے اقبالؒ کے شاہینوں کی پرواز کو متاثر تو نا کر سکا البتہ یہ ظلم آپ کے لیے مہمیز کا کام کر گیا اور اب آپ لوگ نڈر ہو کر پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں آپ اکیلے نہیں ہیں بلکہ آپ یقین کریں کہ ہندوستان کے تمام نوجوان علماء آپ کے شانہ بشانہ ہیں اور آپ کی قربانیوں کو اپنی اپنی مجلسوں میں فخریہ بیان کرتے ہیں اور آپ کے لیے ہر ممکن دامے درمے قدمے سخنے مدد کر رہے ہیں
بس آپ حضرات خاموش مت ہونا اور اسی طرح ہندو مسلم ایکتا کے ساتھ ایک دوسرے کی آواز میں آواز ملاتے رہیں بہت جلد ظلم کا اندھیرا چھنٹنے والا ہے اور آزادی کی صبح روشن ہونی والی اور باطل کا زور ٹوٹنے ہی وال ہے ان شاءاللہ..!
آپ کا بھائی
محمد سالم قاسمی
نائب مہتمم
الجامعۃ القاسمیہ خیرالعلوم نانپارہ بھرائچ
و متعلم ایم اے اردو
مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی لکھنؤ
