اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: این آر سی اور سی اے اے کا ملاپ مسلمانوں کیلئے خطرناک میں اس وقت تک استعفیٰ واپس نہیں لوںگا جب تک یہ مسائل برقرار ہیں:آئی پی ایس افسر عبدالرحمٰن این آر سی اور سی اے اے پر احتجاجاً استعفیٰ دینے والے آئی پی ایس افسر عبدالرحمن سے حالاتِ حاضرہ پر گفتگو

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 15 January 2020

این آر سی اور سی اے اے کا ملاپ مسلمانوں کیلئے خطرناک میں اس وقت تک استعفیٰ واپس نہیں لوںگا جب تک یہ مسائل برقرار ہیں:آئی پی ایس افسر عبدالرحمٰن این آر سی اور سی اے اے پر احتجاجاً استعفیٰ دینے والے آئی پی ایس افسر عبدالرحمن سے حالاتِ حاضرہ پر گفتگو

این آر سی اور سی اے اے کا ملاپ مسلمانوں کیلئے خطرناک
 میں اس وقت تک استعفیٰ واپس نہیں لوںگا جب تک یہ مسائل برقرار ہیں:آئی پی ایس افسر عبدالرحمٰن
این آر سی اور سی اے اے پر احتجاجاً استعفیٰ دینے والے آئی پی ایس افسر عبدالرحمن سے حالاتِ حاضرہ پر گفتگو
ممبئی ،16؍ جنوری ( نمائندہ خصوصی) : ’’میں نے مسائل کی بنیاد پر استعفیٰ دیا ہے اور جب تک وہ مسائل برقرار رہتے ہیں میں اپنا استعفیٰ واپس نہیں لے سکتا‘‘۔ آج یہاں ’’ممبئی اُردو نیوز ‘‘ کے دفتر میں حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے 1997 کیڈر کے آئی پی ایس عبدالرحمن نے یہ بات کہی ۔ مہاراشٹر کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس آئی پی ایس عبدالرحمن نے اپنے استعفیٰ کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ’’ میرا استعفیٰ نامہ دو صفحات پر مشتمل ہے ،اس میں میں نے بہت ہی واضح طور پر یہ کہا ہے کہ این آر سی ہندوستان کے 80 فیصد غرباء ،اقلیتوں ، پچھڑوں اور دلتوں کے خلاف ہے ۔ اور سی اے اے مکمل طور پر غیر آئینی ہے ، یہ آئین کے بنیادی سیکولر ڈھانچے اور آئین کے آرٹیکل 25,21,15کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ میں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر این آر سی اور سی اے اے کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے تو یہ ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے بے حد خطرناک بن جاتا ہے ۔ این آرسی سے یہ ہوگا کہ باہر سے آئے ہوئے غیر مسلموں کو تو کسی طرح سے ہندوستانی شہریت مل جائے گی مگر جو مسلمان این آر سی کے تحت آئیں گے انہیں تو ڈٹینشن کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا۔ یہ سب باتیں میرے استعفیٰ کی وجہ بنیں۔‘‘ اس سوال پر کہ حکومت کا ان کے استعفیٰ پر کیا ردّ عمل رہا ، انہوں نے بتایا ’’ابھی حکومت کے ردّ عمل کا پتہ نہیں چلا ہے ، مجھے یہ تک نہیں پتہ کہ میرا استعفیٰ قبول ہوا ہے یا نہیں لیکن ابھی ریاستی حکومت کے اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے مجھے بلا کر ملازمت پر واپس لوٹنے کی پیشکش کی ہے ، انہوں نے عوامی سطح پر یہ بات کہی ہے کہ میں ملازمت پر واپس آؤں اور وقف بورڈ کے سی ای او کے طور پر کام کروں ۔نواب ملک وقف معاملات کے وزیر ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وقف املاک کی لوٹ پاٹ پر روک لگے اور اس کا مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی حالات کے سدھار کیلئے استعمال ہو، ابھی میں نے انہیں نہ ہی تو نہ کہا ہے اور نہ ہی ہاں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے مسائل کی بنیاد پر استعفیٰ دیا ہے   اور جب تک وہ مسائل برقرار رہتے ہیں میں اپنا استعفیٰ واپس نہیں لے سکتا۔‘‘
 استعفیٰ دینے کی ضرورت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے بتایا کہ ’’ملک کا آئین اگر دھوکے میں ہو اوور اگر پوری قوم کو دھوکہ ہو اور ایک غیر آئینی قانون بنایا جارہا ہو تو ملک کا شہری ہونے کے ناتے ضمیر جاگے گا، ہم ملازم ہوسکتے ہیں، مگر ضمیر فروش نہیں ، میں نے ضمیر بیچا نہیں ہے ، لہٰذا استعفیٰ دنیا میرے لیئے ضروری تھا ۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’صرف این آر سی اور سی اے اے کا معاملہ ہی نہیں ہے 2014 سے اگر ہم دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سرکار مسلمانوں کی شبیہہ کو بڑا خراب بنا کر پیش کررہی ہے ،طلاق ثلاثہ کا معاملہ لے لیں ، کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی بات لے لیں ، ماب لنچنگ لے لیں ،اتنی بڑی تعداد میں لوگ ماب لنچنگ میں مارے گئے سپریم کورٹ نے اس پر قانون بنانے تک کی ہدایت دی مگر آج تک اس پر کوئی قانون نہیں بنا۔ سرکار کے متعصبانہ رویّے نے مجھے کسی نہ کسی حد تک متاثّر کیا اور میں نے استعفیٰ دیا ۔‘‘ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے آئی پی ایس عبدالرحمن نے بتایا کہ ’’این آر سی اور سی اے اے نے مجھے زیادہ متاثر کیا کیونکہ ملک گیر سطح پر انہیں لاگو کرنا غیر ضروری ہے، انہیں کسی بد مقصد کیلئے ملک پر لادا جارہا ہے ۔ اگر اس ملک میں لوگ غیر قانونی طور پر بیرون ممالک سے آتے ہیں تو سرحد پر بی ایس ایف ہے ، سمندر میں کوسٹ گارڈ اور نیوی ہے ، وہ پکڑیں اور اگر کوئی بچ کر داخل ہوجاتاہے تو پولس پکڑ کر انہیں واپس بھیج دے ۔ اس کیلئے ملک کے 130 کروڑ لوگوں کو قطار میں کھڑا کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ سی اے اے تو مکمل غیر آئینی ہے اور ان دونوں کا ملاپ ملک کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے ،لوگ اس خطرے کو بھانپ چکے ہیں اس لئے ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی ،دلت اور غریب سب مل کر سڑکوں پر اُتر رہے ہیں ۔ سرکار کو چاہئے کہ مذاکرات کرے وہ مذاکرات نہیں کررہی ہے ، اب عدالت سے اُمید باقی ہے ،چونکہ 15,21,25وغیرہ بنیادی حقوق کے آرٹیکل ہیں ۔ او ر سی اے اے ان کی خلاف ورزی ہے اس لئے اُمید ہے کہ سپریم کورٹ اسے ختم کرے گا،اور ملک کی ریاستیں اسے روکیں گی ۔‘‘ آئی پی ایس عبدالرحمن اس سے قبل اپنی انگریزی کتاب’’ڈی نائل اینڈ ڈی پرائیویشن‘‘ کیلئے خبروں میں آچکے ہیں ۔ یہ کتاب ’’سچر کمیٹی ‘‘ کے بعد مسلمانوں کے حالات کا مطالعہ ہے ۔ اس کتاب کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’میں نے اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو جانکاری دی ہے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ پر کس قدر عمل در آمد ہوا ، آج کیا حالات ہیں ، آپ کو کیا ہونا چاہئے اور ترقی کیلئے آپ کو کیا کرنا چاہئے ، مجھے اس کتاب پر کوئی شوکاژ نوٹس نہیں ملا۔‘‘ ملک کے مستقبل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’بھارت ایک مضبوط ملک ہے اس کی صدیوں پرانی تاریخ ہے ، لوگ یہاں آئے یہیں جذب ہوئے ہیں ۔ سرکاریں تو آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ، مگر ملک اس قانون پر جسے بابا صاحب امبیڈکر نے بنایا ہے چل رہا ہے سیاست سے نہیں ۔ ہندو ،مسلم ، سکھ ، عیسائی ، دلت،جین وغیرہ سب ایک باغ کے الگ الگ پھول ہیں اور ان کا رہنا ضروری ہے ۔ ہم ملک کی اتنی بڑی آبادی کو ملک کی ترقی کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ مستقبل  بہتر ہے لیکن اگر تفرقہ پھیلایا گیا اور ذات پات مذہب کے نام پر پھوٹ ڈالی گئی تو جیسی ترقی ہونی چاہئے ہم ویسی ترقی نہیں کرسکیں گے ، سپر پاور بننے کیلئے ساری قوموں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔‘‘