*اعظم گڑھ نے ہمیشہ ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی ہے*
📝📝📝 *عبدالعلیم بن عبدالعظیم الاعظمی سرائے میر*
سرزمین اترپردیش کا سر سبزوشاداب اور مردم خیز علاقہ ضلع اعظم گڑھ زمانہ ماضی ہی تاریخ کا ایک حصہ ہے اھل اعظم گڑھ نے ہر زمانے میں ہر ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی ہے اسی طرح آج بھی دیار علامہ شبلی نعمانی علیہ الرحمہ کے چپے چپے سے انقلاب زندہ آباد کی صدائیں سنائ دے رہیں ہیں علامہ فراحی علیہ الرحمہ کے اس دلکش گلشن کی فضاء آزادی کے فلک شگاف نعروں سے منور ہے محدث کبیر علیہ الرحمہ کے اس چمن پربہار کی درودیوار سے انقلاب برپا ہوا چاھتا ہے مورخ ھند علیہ الرحمہ کے اس خوش گوار گلزار کا بچہ بچہ ترنگا کو بلند کئے ہوئے حکومت ھند کو للکار رہا ہے اقبال سہیل علیہ الرحمہ اور کیفی اعظمی کی سرفروشانہ غزلوں سے گونجنے والے اس خطے کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں حکومت ھند کو قانون بتانے کے لئے اپنے کوچوں سے نکل چکیں ہیں اس کے علاوہ ناجانے کتنیں مفسرین ،محدثین،مورخین ،
مبلغین ،مفکرین، شعراء، ادباء ،خطابہ اور علماء کی جائے پیدائش کو جب ہم تاریخ کے گمشدہ اوراق میں تلاش کرتے ہیں مورخین کی کتابوں کا گہرائ و گیرای کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گیتئ ارضی کے اس ٹکڑے نے ہمیشہ انقلاب برپا کیا ہے اس سرزمین جنت نشاں کے چھوٹے چھوٹے گاوں پر سکون اور حسین بستیوں سے لاکھوں لوگوں نے زمانہ ماضی میں انگریزوں کے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی تھی
1857 میں جب انگریزوں نے ہندوستانیوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائیں یہاں کے راجاوں اور زمینداروں سے زبردستی لگان وصولنا شروع کیا تو باشندگان اعظم گڑھ نے انہیں ظلم وستم کے خلاف صدائے انقلاب بلند کرتے ہوئے 3 جون 1857 کو اترولیا میں دس ہزار سے زائد کی تعداد میں انگریزوں سے پنجہ آزمائ کی
اسی طرح جب 1857 میں انگریزوں نے باشندگان اعظم گڑھ میں سے ہزاروں لوگوں کو گرفتار کرلیا تھا تو اعظم گڑھ کے شیخ رجب علی نے گرفتار شدہ جگ بدھن سنگھ کی بہن کی درخواست پر ہزاروں لوگوں کے ساتھ لیکر اعظم گڑھ جیل کا پھاٹک ٹوڑ کر قیدیوں کو انگریزوں کے ظلم واستبداد سے ازاد کیا
اسی طرح 1857 میں اعظم گڑھ کے راجہ جے لال سنگھ لکھنو میں سیدارادت جہاں مبارک پور میں بینی مادھو سنگھ اعظم گڑھ، اکبر پور، ٹانڈہ ،اور فیض آباد میں مظفر جہاں تگہرہ ۔اترولیا جونپور میں انگریزوں سے پنجہ ازمای کی
حکومت برطانیہ نے جب ترکوں پر ظلم وستم کر کے قسطنطنیہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا تو تحریک خلافت چلی جس نے غیر ملکی مالوں کا بائیکاٹ کیا اھل نے بھی بدیشی مال کا بائیکاٹ کرکے حکومت برطانیہ کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور انگورہ امدادی فنڈ کے لئے صرف اعظم گڑھ سے ایک لاکھ روپیہ جمع ہوا خواتین نے اپنے زیورات تک دے دئے تھے اسی طرح جب عدم تعاون تحریک کی وجہ سے گرفتاریاں شروع ہوئیں تو تو مبارک پور کے مسلمانوں نے سب سے پھلے اپنے آپ کو پیش کیا تھا اسی طرح باشندگان اعظم گڑھ نے 21 اگست 1942 میں انگریزوں کے ظلم وستم سے چھٹکارہ کے لئے "ہندوستان چھوڑ دو " کا فلک شگاف نعرہ لگاتے ہوئے شہر اعظم گڑھ میں ایک منظم جلوس نکالا جس کی وجہ سے 380 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا اسی طرح جب فروری 1928 میں برطانیہ کی طرف سے سائمن کمیشن ہندوستان آیا تو اس وقت اعظم گڑھ کے باشندوں نے اس کے خلاف کالی جھنڈیاں اور تختیاں لیکر "سائمن لوٹ جاو "کا نعرہ بلند کرتے ہوئے احتجاج کیا اِسی کے بعد جب اگست 1928 میں گاندھی جی اعظم گڑھ ائے تو پچھتر ہزار لوگوں نے ان کا استقبال کیا اسی طرح 1920 میں اعظم گڑھ میں ہزاروں لوگوں نے نمک بناکر نمک قانون شکنی کی تھی اسی طرح 1932 میں جب گاندھی جی کو گرفتار کیا گیا تو باشندگان اعظم گڑھ نے انگریزوں کے اس ظلم پر احتجاج کیا اپنے کاموں کو ترک کر کے مظاہرے کئے جس کی وجہ سے اعظم گڑھ میں دفعہ 144 نافذ کرنی پڑی ۔۔۔۔۔۔۔
الغرض اھل اعظم گڑھ نے ہر محاز پر ہر جگہ ہر طرح کے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی انگریزوں کا ظلم وستم ہو یا حکومت ھندیہ کا ہمہ وقت اھل اعظم گڑھ پر الزام عائد کرنا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2000 کے بعد جب حکومت ھندیہ اعظم گڑھ کے نوجوانوں کو فرضی مقدمات میں پھنساکر انکاونٹر کئے اور بہتوں کو پس دیور زنداں کردیا اور ساکنان اعظم گڑھ کو طرح طرح سے ڈرانے اور خوف و حراس کا ماحول بنانے کی کوشش کی ۔۔۔۔بٹلہ ہاوس جیسے فرضی انکاونٹر کئے ملک کے مختلف حصوں میں بم دھماکوں کا الزام لگا کر بہت لوگوں کو گرفتار کیا تو اعظم گڑھ کی کوکھ سے ایک تنظیم بنام "راسٹریہ علماء کونسل " جنم لی جس نے ایک مرتبہ پھر اعظم گڑھ کا سر اونچا کیا فرضی مقدمات کے خلاف آواز بلند کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
📝📝📝 *عبدالعلیم بن عبدالعظیم الاعظمی سرائے میر*
سرزمین اترپردیش کا سر سبزوشاداب اور مردم خیز علاقہ ضلع اعظم گڑھ زمانہ ماضی ہی تاریخ کا ایک حصہ ہے اھل اعظم گڑھ نے ہر زمانے میں ہر ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی ہے اسی طرح آج بھی دیار علامہ شبلی نعمانی علیہ الرحمہ کے چپے چپے سے انقلاب زندہ آباد کی صدائیں سنائ دے رہیں ہیں علامہ فراحی علیہ الرحمہ کے اس دلکش گلشن کی فضاء آزادی کے فلک شگاف نعروں سے منور ہے محدث کبیر علیہ الرحمہ کے اس چمن پربہار کی درودیوار سے انقلاب برپا ہوا چاھتا ہے مورخ ھند علیہ الرحمہ کے اس خوش گوار گلزار کا بچہ بچہ ترنگا کو بلند کئے ہوئے حکومت ھند کو للکار رہا ہے اقبال سہیل علیہ الرحمہ اور کیفی اعظمی کی سرفروشانہ غزلوں سے گونجنے والے اس خطے کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں حکومت ھند کو قانون بتانے کے لئے اپنے کوچوں سے نکل چکیں ہیں اس کے علاوہ ناجانے کتنیں مفسرین ،محدثین،مورخین ،
مبلغین ،مفکرین، شعراء، ادباء ،خطابہ اور علماء کی جائے پیدائش کو جب ہم تاریخ کے گمشدہ اوراق میں تلاش کرتے ہیں مورخین کی کتابوں کا گہرائ و گیرای کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گیتئ ارضی کے اس ٹکڑے نے ہمیشہ انقلاب برپا کیا ہے اس سرزمین جنت نشاں کے چھوٹے چھوٹے گاوں پر سکون اور حسین بستیوں سے لاکھوں لوگوں نے زمانہ ماضی میں انگریزوں کے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی تھی
1857 میں جب انگریزوں نے ہندوستانیوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائیں یہاں کے راجاوں اور زمینداروں سے زبردستی لگان وصولنا شروع کیا تو باشندگان اعظم گڑھ نے انہیں ظلم وستم کے خلاف صدائے انقلاب بلند کرتے ہوئے 3 جون 1857 کو اترولیا میں دس ہزار سے زائد کی تعداد میں انگریزوں سے پنجہ آزمائ کی
اسی طرح جب 1857 میں انگریزوں نے باشندگان اعظم گڑھ میں سے ہزاروں لوگوں کو گرفتار کرلیا تھا تو اعظم گڑھ کے شیخ رجب علی نے گرفتار شدہ جگ بدھن سنگھ کی بہن کی درخواست پر ہزاروں لوگوں کے ساتھ لیکر اعظم گڑھ جیل کا پھاٹک ٹوڑ کر قیدیوں کو انگریزوں کے ظلم واستبداد سے ازاد کیا
اسی طرح 1857 میں اعظم گڑھ کے راجہ جے لال سنگھ لکھنو میں سیدارادت جہاں مبارک پور میں بینی مادھو سنگھ اعظم گڑھ، اکبر پور، ٹانڈہ ،اور فیض آباد میں مظفر جہاں تگہرہ ۔اترولیا جونپور میں انگریزوں سے پنجہ ازمای کی
حکومت برطانیہ نے جب ترکوں پر ظلم وستم کر کے قسطنطنیہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا تو تحریک خلافت چلی جس نے غیر ملکی مالوں کا بائیکاٹ کیا اھل نے بھی بدیشی مال کا بائیکاٹ کرکے حکومت برطانیہ کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور انگورہ امدادی فنڈ کے لئے صرف اعظم گڑھ سے ایک لاکھ روپیہ جمع ہوا خواتین نے اپنے زیورات تک دے دئے تھے اسی طرح جب عدم تعاون تحریک کی وجہ سے گرفتاریاں شروع ہوئیں تو تو مبارک پور کے مسلمانوں نے سب سے پھلے اپنے آپ کو پیش کیا تھا اسی طرح باشندگان اعظم گڑھ نے 21 اگست 1942 میں انگریزوں کے ظلم وستم سے چھٹکارہ کے لئے "ہندوستان چھوڑ دو " کا فلک شگاف نعرہ لگاتے ہوئے شہر اعظم گڑھ میں ایک منظم جلوس نکالا جس کی وجہ سے 380 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا اسی طرح جب فروری 1928 میں برطانیہ کی طرف سے سائمن کمیشن ہندوستان آیا تو اس وقت اعظم گڑھ کے باشندوں نے اس کے خلاف کالی جھنڈیاں اور تختیاں لیکر "سائمن لوٹ جاو "کا نعرہ بلند کرتے ہوئے احتجاج کیا اِسی کے بعد جب اگست 1928 میں گاندھی جی اعظم گڑھ ائے تو پچھتر ہزار لوگوں نے ان کا استقبال کیا اسی طرح 1920 میں اعظم گڑھ میں ہزاروں لوگوں نے نمک بناکر نمک قانون شکنی کی تھی اسی طرح 1932 میں جب گاندھی جی کو گرفتار کیا گیا تو باشندگان اعظم گڑھ نے انگریزوں کے اس ظلم پر احتجاج کیا اپنے کاموں کو ترک کر کے مظاہرے کئے جس کی وجہ سے اعظم گڑھ میں دفعہ 144 نافذ کرنی پڑی ۔۔۔۔۔۔۔
الغرض اھل اعظم گڑھ نے ہر محاز پر ہر جگہ ہر طرح کے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی انگریزوں کا ظلم وستم ہو یا حکومت ھندیہ کا ہمہ وقت اھل اعظم گڑھ پر الزام عائد کرنا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2000 کے بعد جب حکومت ھندیہ اعظم گڑھ کے نوجوانوں کو فرضی مقدمات میں پھنساکر انکاونٹر کئے اور بہتوں کو پس دیور زنداں کردیا اور ساکنان اعظم گڑھ کو طرح طرح سے ڈرانے اور خوف و حراس کا ماحول بنانے کی کوشش کی ۔۔۔۔بٹلہ ہاوس جیسے فرضی انکاونٹر کئے ملک کے مختلف حصوں میں بم دھماکوں کا الزام لگا کر بہت لوگوں کو گرفتار کیا تو اعظم گڑھ کی کوکھ سے ایک تنظیم بنام "راسٹریہ علماء کونسل " جنم لی جس نے ایک مرتبہ پھر اعظم گڑھ کا سر اونچا کیا فرضی مقدمات کے خلاف آواز بلند کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
