اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سینئر استاذ مولانا برہان الدین سنبھلی کا انتقال علمی دنیا میں غم کی لہر، نماز جنازہ سنیچر کو ادا کی جائے گی ، مولانا رابع حسنی ندوی سمیت دیگر علماء کی جانب سے تعزیت

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 17 January 2020

دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سینئر استاذ مولانا برہان الدین سنبھلی کا انتقال علمی دنیا میں غم کی لہر، نماز جنازہ سنیچر کو ادا کی جائے گی ، مولانا رابع حسنی ندوی سمیت دیگر علماء کی جانب سے تعزیت

دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سینئر استاذ مولانا برہان الدین سنبھلی کا انتقال
علمی دنیا میں غم کی لہر، نماز جنازہ سنیچر کو ادا کی جائے گی ، مولانا رابع حسنی ندوی سمیت دیگر علماء کی جانب سے تعزیت
لکھنو۔ ۱۷؍جنوری: (اطہر ایوبی اور دیگر) دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سینئر استاد مولانا برہان الدین سنبھلی کا آج ۸۳؍ سال کی عمر میں سحر نرسنگ ہوم لکھنو میں انتقال ہوگیا۔ انا للہ واناالیہ راجعون۔نماز جنازہ کل (سنیچر ) کو بعد نماز ظہر احاطہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ادا کی جائے گی۔آپ کافی عرصہ سے علیل تھے چند روز سے داخل  اسپتال تھے جہاں جمعہ کو شام چار بجے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ آپ کی پیدائش۱۹۳۸ میں آزادی ہند سے قبل سنبھل ضلع مرادآباد میں ہوئی۔ آپ نے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ، حکیم الاسلام قاری محمد طیب، مولانا سید فحرالدین، علامہ ابراہیم بلیاوی جیسے اکابر علما سے علم دین حاصل کیا۔ ۱۹۵۷ میں دارالعلوم دیوبند سے سب سے امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوئے۔فراغت کے بعد درس وتدریس کی ابتدا مدرسہ سراج العلوم سے کی ، پھر مدرسہ عالیہ فتح پوری دہلی میں بھی کچھ سال پڑھایا۔ ۱۹۷۰میں مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کی دعوت پر دارالعلوم ندوۃ العلماء تشریف لائے جہاں تفسیر وحدیث وفقہ اور حجۃ اللہ البالغہ کا درس ان کے ذمہ کیا گیا۔ مولانا اویس نگرامی ندوی کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء کے شیخ التفسیر ہوئے، مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء کے ناظم بھی مقرر ہوئے ، دارالقضاء اترپردیش کے صدر قاضی بھی تھے، آل انڈیا اسلامک فقہ اکیڈمی کے نائب صدر اورطویل عرصہ تک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مجلس عاملہ کے رکن بھی رہے، انہیں حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی ابن شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت بھی حاصل تھی۔ مولانا مرحوم کئی اہم کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں "معاشرتی مسائل اور ان کا حل" مشہور کتاب ہے اس کے علاوہ رؤیت ہلال پر ان کی تاریخی کتاب شائع ہوچکی ہے۔ وہ اپنی بہت سی علمی دینی خصوصیات میں بہت فوقیت رکھتے تھے۔ نماز باجماعت اور تکبیر اولی کا اہتمام ان کو زمانہ طالب علمی سے ہی حاصل تھا۔ بہترین حافظ قرآن بھی تھے۔ کئی ملکوں کے انہوں نے علمی اور دینی سفر بھی کیے جن میں امریکا کا ایک طویل سفر قابل ذکر ہے۔جیسے ہی مولانا مرحوم کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا کے توسط سے وائرل ہوئی علمی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی اور تعزیتوں کا سلسلہ جاری ہے۔دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا محمد رابع حسنی ندوی نے کہا کہ ’’طویل مدت ہم لوگوں کا ایک ادارہ میں رفاقت کا ساتھ اور بہت سے ملی معاملات میں ساتھ بہت سی یادیں تازہ کرتا ہے، ایک اچھی دینداری اور پرہیز گاری کی زندگی انہوں نے گزاری جو شریعت کی خدمت میں پوری امانت ودیانت کے ساتھ سامنے آئی، وہ ایک باوقار اور ربانی عالم کے طو رپر یاد کیے جائیں گے اور ان کا فیض ان کے شاگردوں اور تحریری سرمایہ کے ذریعے جاری رہے گا۔ اللہ ان کے مراتب خوب بلند فرمائے اور اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘‘۔ مولانا مرحوم کے انتقال کو عالم اسلام کا خسارہ قرار دیتے ہوئے مفتی محمد ارشد فاروقی چیئرمین فتویٰ موبائل سروس نے کہاکہ وہ شفیق باپ کی طرح پیش آتے انکی وفات صرف ندوہ کانقصان نہیں ہے عالم اسلام کا خسارہ ہے۔انہوں نے کہا مولانا کی عائلی مسائل پر وقیع تصنیف ہے مضامین کے کئی مجموعے اور فقہی علمی مقالات ہیں انہوں نے کہا راقم نے المنار اصول فقہ کامتن ان کے دولت کدے پرپڑھااورحسب ظرف فائدہ اٹھا یا بڑی خوبیاں تھیں اس خزینہ علم نمونہ عمل ہیں۔ انہوں نے کہا ہم مولانا محمد رابع حسنی ندوی ناظم اعلیٰ ندوہ اور مولانا سعید الرحمٰن ندوی مہتمم ندوہ کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں اوردل کی گہرائی سے دعائےمغفرت کرتے ہیں اللہ صبر دے مولانا نعمان الدین صاحب زادہ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔دارالعلوم وقف کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا نامور والد کے فرزند تھے ، ان کے والد مولانا حمیدالدین علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگرد تھے۔ انہوںنے دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی اور ان کے درس وتدریس کا سلسلہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں شروع ہوا ۔ وہ اس دور کے ایسے علماء میں سے تھے جن کے علم وفضل پر اعتبار کیا جاتا تھا۔ مولانا نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں نصف صدی تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ مشہور شاعر قمر سنبھلی مولانا کے حقیقی بھائی ہیں ، یہ پورا خانوادہ ہی صلاحیتوں اور علم کا مالک رہا۔مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی شیخ الحدیث دارالعلوم وقف دیوبند نے کہا کہ بزرگوں کی وہ کھیپ اور علماء کا وہ حلقہ جس کی جڑیں ہمارے اکابر سے ملتی ہیں اور جنہو ںنے اپنے علم اور کمال سے اسلاف کی یادوں کو زندہ کیا ہے۔ ان میں مولانا کا نام نمایاں ہے، وہی ادائیں ، وہی طرز زندگی اور وہی معمولات حیات جو بڑو ں کے دیکھے گئے وہ مولانا کی زندگی کا حصہ تھے۔ اس دور میں بڑے چلے جارہے ہیں ، مولانا کا حادثہ وفات بھی بڑے نقصان کا سبب ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور یہاں ان کے پسماندگان کو اپنی رحمتوں سے نوازے۔ دارالعلوم وقف کے استاذ حدیث مولانا محمد اسلام قاسمی نے کہا کہ استاذ تفسیر کی حیثیت سے مولانا مرحوم نے بڑی شہرت حاصل کی ، وہ ندوہ کے قابل ذکر شخصیتوں میں سے تھے اور ان کی پہچان ماہر فقیہ کی حیثیت  ہندوستان اور ہندوستان کے باہر بھی حاصل رہی۔ بلاشبہ ان کے جانے سے علمی حلقوں کا نقصان ہوا ہے۔