شہریت ترمیمی بل کے خلاف جامع مسجد احتجاج میں پھر بھیم آرمی صدر شامل ہوئے
آئین کی تمہید پڑھی، کہا پرامن احتجاج ہماری طاقت ہے
نئی دہلی۔ ۱۷؍جنوری: چندر شیکھر آزاد اپنی رہائی کے بعد ملک کی دستور کی حفاظت کےلیے پھر سے جدوجہد کا آغاز کیا ہے، اور اج اسی ارادے کے تحت جامع مسجد پہونچے اور آئین کی تمہید کو دوبارہ پڑھا۔آزاد کے پہونچنے سے قبل ہی جامع مسجد کے باہر ایک بہت بہت بڑی بھیڑ جمع تھی، جو سی اے اے، این ار سی اور این پی ار کے خلاف اپنا احتجاج درج کر رہی تھی۔آزاد اس سے قبل مندر کا بھی دورہ کیا پھر جامع مسجد گئے اور اب وہ جامعہ ملیہ اور مختلف جگہوں کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں جہاں جہاں بھی اس کالے قانون کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے وہاں جائیں گے اور لوگوں کو مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف بیدار کریں گے۔ان کا کہنا ہے آئین کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنا یہ انکا بنیادی حق ہے اور وہ اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔جمعرات کو رہا ہوئے بھیم آرمی صدر چندر شیکھر آزاد بھی شامل ہوئے۔ میڈیا کیمرے کے سامنے آئین کو دکھاتے ہوئے انہو ںنے کہاکہ ہم ملک کے آئین کو سب سے اہم مانتے ہیں، انہوں نے جامع مسجد احتجاج میں شامل ہونے پر کہاکہ میں اپنے خاندان کے لوگوں سے ملنے یہاں آیا ہوں، یہی وہ جگہ ہے جہاں مجھے اپنے اہل خانہ سے دور کردیاگیا تھا میں اسی خاندان سے ملنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ پرامن احتجاج ہماری طاقت ہے، سبھی مذاہب کے لوگ جو ہماری حمایت کرتے ہیں، انہیں بڑی تعداد میں ہمارے ساتھ مل کر ثابت کرناچاہئے کہ یہ مخالفت صرف مسلمانوں ہی کے ذریعے نہیں ہے۔ واضح رہے کہ چندر شیکھر آزاد کو ضمانت پر رہا کرتے ہوئے عدالت نے دہلی چھوڑنے کےلیے کہا تھا، دہلی چھوڑنے کی ڈیڈ لائن سے قبل انہوں نے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آئین ہند کی تمہید پڑھی، چندر شیکھر آزاد کو جامع مسجد پر احتجاج کرنے پر ۲۱ دسمبر کو گرفتار کرلیاگیا تھا۔
آئین کی تمہید پڑھی، کہا پرامن احتجاج ہماری طاقت ہے
نئی دہلی۔ ۱۷؍جنوری: چندر شیکھر آزاد اپنی رہائی کے بعد ملک کی دستور کی حفاظت کےلیے پھر سے جدوجہد کا آغاز کیا ہے، اور اج اسی ارادے کے تحت جامع مسجد پہونچے اور آئین کی تمہید کو دوبارہ پڑھا۔آزاد کے پہونچنے سے قبل ہی جامع مسجد کے باہر ایک بہت بہت بڑی بھیڑ جمع تھی، جو سی اے اے، این ار سی اور این پی ار کے خلاف اپنا احتجاج درج کر رہی تھی۔آزاد اس سے قبل مندر کا بھی دورہ کیا پھر جامع مسجد گئے اور اب وہ جامعہ ملیہ اور مختلف جگہوں کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں جہاں جہاں بھی اس کالے قانون کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے وہاں جائیں گے اور لوگوں کو مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف بیدار کریں گے۔ان کا کہنا ہے آئین کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنا یہ انکا بنیادی حق ہے اور وہ اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔جمعرات کو رہا ہوئے بھیم آرمی صدر چندر شیکھر آزاد بھی شامل ہوئے۔ میڈیا کیمرے کے سامنے آئین کو دکھاتے ہوئے انہو ںنے کہاکہ ہم ملک کے آئین کو سب سے اہم مانتے ہیں، انہوں نے جامع مسجد احتجاج میں شامل ہونے پر کہاکہ میں اپنے خاندان کے لوگوں سے ملنے یہاں آیا ہوں، یہی وہ جگہ ہے جہاں مجھے اپنے اہل خانہ سے دور کردیاگیا تھا میں اسی خاندان سے ملنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ پرامن احتجاج ہماری طاقت ہے، سبھی مذاہب کے لوگ جو ہماری حمایت کرتے ہیں، انہیں بڑی تعداد میں ہمارے ساتھ مل کر ثابت کرناچاہئے کہ یہ مخالفت صرف مسلمانوں ہی کے ذریعے نہیں ہے۔ واضح رہے کہ چندر شیکھر آزاد کو ضمانت پر رہا کرتے ہوئے عدالت نے دہلی چھوڑنے کےلیے کہا تھا، دہلی چھوڑنے کی ڈیڈ لائن سے قبل انہوں نے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آئین ہند کی تمہید پڑھی، چندر شیکھر آزاد کو جامع مسجد پر احتجاج کرنے پر ۲۱ دسمبر کو گرفتار کرلیاگیا تھا۔
