*21 فروری(جمعہ بعد) کو لال باغ سے کمشنری تک ہوگا خواتین کا پیدل مارچ:نازیہ حسن/صباپروین*
*نتیش کمارCAA کی حمایت کرنے کے بعد NPRپر بہار کے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں:بیداری کارواں*
*بہار انتخاب کے پیش نظر بدزبان لیڈرگری راج سنگھ ریاست کا ماحول خراب کررہے ہیں: نظرعالم*
مدھوبنی:16 فرروی 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد ۔
سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف پورے ملک میں بے چینی اور اضطراب کا ماحول گذشتہ دو ماہ سے برقرار ہے لیکن اقتدار کے نشہ میں چور مرکزی حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے اور وہ طاقت کے بل پر مظاہرہ کو دبانے کی کوشش کررہی ہے، ایک طرف خود وزیرداخلہ اور دیگر وزارا دھمکی کی زبان استعمال کررہے ہیں تو دوسری طرف یوگی کی حکومت پولیس کے ذریعہ مظاہرین پر گولی چلوارہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مظاہروں کو مزیدوسعت دی جائے اور تمام سیکولر پارٹیاں اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر اتاریں۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے کہا کہ ملک بھر کی سماجی اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں جن کا اپنائی کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے وہ پوری طرح حکومت کے اس قانون کے خلاف برسرپیکار ہیں اور حکومتی زیادتیوں کے باوجود پوری طاقت کے ساتھ لڑائی لڑرہی ہیں جب کہ خو دکوسیکولر کہنے والی پارٹیاں عام طور پر زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان اس لڑائی میں پہلے دن سے پوری طرح میدان میں آگے ہیں ساتھ ہی برادرانِ وطن کی بڑی تعداد بھی اس لڑائی میں شامل ہے لیکن جو سیاسی جماعتیں دلتوں اور پسماندہ طبقات کی سیاست کرتی ہیں وہ ان طبقات کو پوری طرح میدان میں لانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکی ہیں، مسٹرنظرعالم نے ان سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے زیراثرحلقوں میں ترجیحی بنیاد پر بیداری پیدا کرنے کا کام کریں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ نتیش کمار پر تیکھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سی اے اے کی حمایت کرنے کے بعد این پی آر کے معاملہ میں لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں، اگر وزیراعلیٰ واقعی این پی آر کے موجودہ طریق کار کو غلط سمجھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ باضابطہ اسمبلی میں اس کے خلاف تجویز لائیں اور یہ اعلان کریں کہ وہ اپنے یہاں این پی آر کا عمل جدید ضابطہ کے مطابق نہیں ہونے دیں گے۔ مسٹرنظرعالم نے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنے بیانات کے ذریعہ مسلمانوں میں پائے جانے والے غم و غصہ کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور نام نہاد مسلم لیڈران کی مدد سے مسلم حلقوں میں چھوٹی موٹی سرکاری اسکیموں کے نفاذ کے نام پر اپنی امیج بنانے کے لئے مسلم علاقوں کا دورہ کرنے کا بھی منصوبہ بنارہے ہیں، لیکن انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ وہ جہاں بھی جائیں گے ان کی شدید مخالفت کی جائے گی۔ مسٹرنظرعالم نے کہا کہ لال باغ سمیت دربھنگہ میں 12 مقامات پرغیرمعینہ مدت کا ستیہ گرہ جاری ہے جس میں مرد و خواتین بڑی تعداد میں موجود رہتے ہیں اور ہرروز مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لال باغ میں گذشتہ 30 دنوں سے ستیہ گرہ جاری ہے اور مظاہرہ کو وسعت دیتے ہوئے دوسرے طریقے بھی اپنائے جائیں گے۔ اسی سلسلہ میں 21 فروری کو بعدنماز جمعہ لال سے دربھنگہ کمشنری تک خواتین کا پیدل مارچ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ میں خواتین بڑی تعداد میں شریک ہوں گی اور اس مارچ کا اہتمام بھی خواتین ہی کررہی ہیں۔ کارواں کے صدرنے کہا کہ بہارانتخاب کے پیش نظر گری راج سنگھ جیسے بدزبان لیڈران نے ریاست کا ماحول خراب کرنے کی کوشش شروع کردی ہے لیکن وزیراعلیٰ میں ہمت نہیں ہے کہ وہ ان کی زبان پر لگام لگاسکیں۔ ایسی صورت حال میں ان کی اس بات پر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ بہار میں سی اے اے، این پی آر اور این آرسی کے سلسلہ میں بی جے پی سے الگ راستہ اختیار کریں گے۔
