ولین ٹائن ڈے؛ عذاب خداوندی۔
از: وقاراحمد۔۔۔۔
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (النور:19)
بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری کا چرچا ہو، ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔
آگے ارشاد ہے: ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہو: اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں؛ یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے؛ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ تبارک وتعالی ان سب سے باخبر ہے۔ مسلمان عورتوں سے بھی کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی عصمت وعفت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نا کریں۔ (سورہ: النور30)
لیکن افسوس صد افسوس! نہ معلوم کیوں آج مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت نہایت ہی ادب واحترام اور اہتمام سے اس ناپاک، بدترین اور دل دہلا دینے والی رسم "ولین ٹائن ڈے(14فروری)" کو بطور خوشی مناتی ہے، جو سرار بدترین، ناجائز، حرام؛ بلکہ بسا اوقات کفر کی راہ دکھا دیتی ہے؛ بلکہ واضح الفاظ میں: یہ زنا کا وہ مہذب باب ہے، جس میں داخل ہونے کے بعد عصمتیں وعفتیں ایسی رسوا ہوتی ہیں کہ وہاں سے بیشمار پیدا ہونے والی نسلیں یا تو ضائع ہو جاتی ہیں، یا ہمیشہ کے لیے اپنا نسب تلاش کرنے میں گم ہوجاتی ہیں اور جب کوئی کسی سے بدسلوکی، بد تمیزی اور فحش ونازیبا حرکات کا ارتکاب کرتا ہے، تو یہ زمین کانپ جاتی ہے اور کہتی ہے کہ اے رب! اگر تو حکم دے، تو میں ہمیشہ کے لیے اسے زمین میں دھنسا دوں۔ایسا غم وغصہ زمین ظاہر کر رہی ہے، تو اللہ کا کیسا غضب ہوگا؟ اور سبھی جانتے ہیں: "إن بطش ربك لشديد"، اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔
یہ "ولین ٹائن ڈے" گویا بے حیائی کا مخصوص دن ہے اور اس بے حیائی کی حمایت اور برداشت کرنے والے کو اصطلاح شرح میں "دیوث" کہا جاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: تین قسم کے اشخاص پر اللہ تعالی نے جنت کا داخلہ حرام کر دیا ہے: (1) دائمی شرابی۔ (2)ماں باپ کا فرمان۔ (3)جو اپنے بیوی بچوں میں بے حیائی برداشت کرتا ہے۔(صحیح الجامع 3047)۔ اس تیسری قسم کو علمائے کرام نے "دیوث" کے نام سے موسوم کیا ہے۔
اس قبیح فعل کا ارتکاب اکثر وبیشتر وہی لوگ کرتے ہیں، جو اسلامی رو سے ناجائز تعلقات کو پاکیزہ محبت کا لبادہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا دل ایسا مردہ ہوجاتا ہے کہ ان کی حِس نیست ونابود ہوجاتی ہے اور انہیں یہ خیال نہیں رہتا کہ آج کے دن جس کام کا ارادہ وہ دوسروں کی بہن بیٹیوں کے ساتھ کر رہے ہیں، تو کوئی دوسرا ان کی بہن اور بیٹی کے ساتھ ویسی ہی تصویر کھیچ رہا ہوگا۔
اگر یہ خیال غلطی سے بھی ذہن میں آجائے، تو یقینا ان کی روحیں کانپ جائیں گی اور وہ خود کو گناہ کبیرہ سے محفوظ کر لیں گے؛ لیکن جن کے دلوں میں فرعونیت وحیوانیت ہوتی ہے، انہیں تو بھلائی برائی، اچھائی اور خرابی کی کوئی تمیز ہی نہیں رہتی؛ گویا وہ دنیائے فانی میں ایک زندہ لاش ہیں، جن کا دل سیاہ ہوچکا ہے، سمجھ فوت ہوچکی ہے، عقل پر پردہ پڑ گیا ہے اور حِس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
میرے عزیزوں! اللہ کے واسطے اس اور اس جیسے دیگر غیر اسلامی رسوم کا مکمل بائیکاٹ کریں اور حیا کریں؛ کیوں کہ حیا ایمان کی ایک شاخ ہے، ہمارے دینِ اسلام کی پہچان ہے اور جب اللہ تبارک وتعالی کسی کو ہلاک وبرباد کرنا چاہتا ہے، تو اس سے شرم وحیا چھین لیتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے۔
تعجب ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ولین ٹائن ڈے کا جشن منا کر کیوں اپنے آپ کو ہلاک وبرباد کرنا چاہتی ہے؟ یہ تو فاجر وفساق؛ بلکہ کفار ومشرکین کا طرق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہیں میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤد:4033)
مسلمانوں کو یہ عمل زیب نہیں دیتا، ان کی تو قرآن کریم میں یہ شان بیان ہوئی ہے کہ وہ اللہ عز وجل سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، پھر کیسے وہ اپنے رب کے بتلائے ہوئے راستہ سے کے خلاف چلتے ہیں؛ بہر کیف خوفِ خدا سے لرز کر اس کی رحمت کے دامن سے لپٹ کر سچی توبہ کریں، وہ غفور الرحیم ہے، توبہ کرنے والوں کی نہ صرف توبہ قبول فرماتا ہے؛ بلکہ انہیں اپنا محبوب بھی بنا لیتا ہے۔ اس دن ، یعنی: ("ولین ٹائن ڈے" کے دن) فلمیں، ڈرامے، گانے اور مختلف بے حیائی سے لبریز شو دیکھنے والے بھی توبہ کریں کہ یہ سب سخت ناجائز وحرام افعال ہیں۔ (ولین ٹائن ڈے قرآن وحدیث کی روشنی میں، ص22)
کیوں کہ حرام دیکھنے والا اور جو اپنا جسم غیر کو دکھائے؛ دونوں پر ہی اللہ عز وجل کی لعنت ہے اور دونوں ہی رحمت الہی سے دور ہوتے ہیں۔ اخیر میں یہ لکھ کر اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ محبت کے اظہار کا حکم تو ان سے ہوا ہے، ان سے محبت کا اظہار کریں:
اللہ تبارک وتعالی سے محبت کریں، جس نے ہم پر انعامات کی بارش کر رکھی ہے۔
مشفق ومہربان نبی سے محبت کریں، جو امت کی خاطر راتوں کو آہ وزاری فرماتے رہے۔
صحابہ کرام اور سلف صالحین سے محبت کریں، جن کی محنتوں اور قربانیوں کی وجہ سے یہ دین ہم تک پہونچا۔
اپنے والدین سے محبت کریں، جنہوں نے بے شمار تکالیف برداشت کرکے آپ کی پرورش کی۔
اپنے محرم رشتہ داروں سے محبت کریں، جو ہر مشکل وقت میں آپ کے کام آتے ہیں۔
اپنی بیویوں سے محبت کریں، جنہیں اللہ تعالی نے آپ کے لیے سکون واطمینان کا ذریعہ بنایا۔
اور اپنے پھول جیسے بچوں سے محبت کریں، جنہیں اللہ تبارک وتعالی نے آپ کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا۔
جب اللہ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں کے فطری جذبہ محبت کو پورا کرنے کے لیے جائز اور مناسب بندوبست فرما دیا ہے، تو خدارا فحاشی وعریانی، بے حیائی ونفسانی خواہشات پر مبنی غیروں کے ایجاد کردہ ویلن ٹائن ڈے سے مکمل اجتناب کریں۔
از: وقاراحمد۔۔۔۔
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (النور:19)
بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری کا چرچا ہو، ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔
آگے ارشاد ہے: ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہو: اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں؛ یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے؛ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ تبارک وتعالی ان سب سے باخبر ہے۔ مسلمان عورتوں سے بھی کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی عصمت وعفت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نا کریں۔ (سورہ: النور30)
لیکن افسوس صد افسوس! نہ معلوم کیوں آج مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت نہایت ہی ادب واحترام اور اہتمام سے اس ناپاک، بدترین اور دل دہلا دینے والی رسم "ولین ٹائن ڈے(14فروری)" کو بطور خوشی مناتی ہے، جو سرار بدترین، ناجائز، حرام؛ بلکہ بسا اوقات کفر کی راہ دکھا دیتی ہے؛ بلکہ واضح الفاظ میں: یہ زنا کا وہ مہذب باب ہے، جس میں داخل ہونے کے بعد عصمتیں وعفتیں ایسی رسوا ہوتی ہیں کہ وہاں سے بیشمار پیدا ہونے والی نسلیں یا تو ضائع ہو جاتی ہیں، یا ہمیشہ کے لیے اپنا نسب تلاش کرنے میں گم ہوجاتی ہیں اور جب کوئی کسی سے بدسلوکی، بد تمیزی اور فحش ونازیبا حرکات کا ارتکاب کرتا ہے، تو یہ زمین کانپ جاتی ہے اور کہتی ہے کہ اے رب! اگر تو حکم دے، تو میں ہمیشہ کے لیے اسے زمین میں دھنسا دوں۔ایسا غم وغصہ زمین ظاہر کر رہی ہے، تو اللہ کا کیسا غضب ہوگا؟ اور سبھی جانتے ہیں: "إن بطش ربك لشديد"، اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔
یہ "ولین ٹائن ڈے" گویا بے حیائی کا مخصوص دن ہے اور اس بے حیائی کی حمایت اور برداشت کرنے والے کو اصطلاح شرح میں "دیوث" کہا جاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: تین قسم کے اشخاص پر اللہ تعالی نے جنت کا داخلہ حرام کر دیا ہے: (1) دائمی شرابی۔ (2)ماں باپ کا فرمان۔ (3)جو اپنے بیوی بچوں میں بے حیائی برداشت کرتا ہے۔(صحیح الجامع 3047)۔ اس تیسری قسم کو علمائے کرام نے "دیوث" کے نام سے موسوم کیا ہے۔
اس قبیح فعل کا ارتکاب اکثر وبیشتر وہی لوگ کرتے ہیں، جو اسلامی رو سے ناجائز تعلقات کو پاکیزہ محبت کا لبادہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا دل ایسا مردہ ہوجاتا ہے کہ ان کی حِس نیست ونابود ہوجاتی ہے اور انہیں یہ خیال نہیں رہتا کہ آج کے دن جس کام کا ارادہ وہ دوسروں کی بہن بیٹیوں کے ساتھ کر رہے ہیں، تو کوئی دوسرا ان کی بہن اور بیٹی کے ساتھ ویسی ہی تصویر کھیچ رہا ہوگا۔
اگر یہ خیال غلطی سے بھی ذہن میں آجائے، تو یقینا ان کی روحیں کانپ جائیں گی اور وہ خود کو گناہ کبیرہ سے محفوظ کر لیں گے؛ لیکن جن کے دلوں میں فرعونیت وحیوانیت ہوتی ہے، انہیں تو بھلائی برائی، اچھائی اور خرابی کی کوئی تمیز ہی نہیں رہتی؛ گویا وہ دنیائے فانی میں ایک زندہ لاش ہیں، جن کا دل سیاہ ہوچکا ہے، سمجھ فوت ہوچکی ہے، عقل پر پردہ پڑ گیا ہے اور حِس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
میرے عزیزوں! اللہ کے واسطے اس اور اس جیسے دیگر غیر اسلامی رسوم کا مکمل بائیکاٹ کریں اور حیا کریں؛ کیوں کہ حیا ایمان کی ایک شاخ ہے، ہمارے دینِ اسلام کی پہچان ہے اور جب اللہ تبارک وتعالی کسی کو ہلاک وبرباد کرنا چاہتا ہے، تو اس سے شرم وحیا چھین لیتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے۔
تعجب ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ولین ٹائن ڈے کا جشن منا کر کیوں اپنے آپ کو ہلاک وبرباد کرنا چاہتی ہے؟ یہ تو فاجر وفساق؛ بلکہ کفار ومشرکین کا طرق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہیں میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤد:4033)
مسلمانوں کو یہ عمل زیب نہیں دیتا، ان کی تو قرآن کریم میں یہ شان بیان ہوئی ہے کہ وہ اللہ عز وجل سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، پھر کیسے وہ اپنے رب کے بتلائے ہوئے راستہ سے کے خلاف چلتے ہیں؛ بہر کیف خوفِ خدا سے لرز کر اس کی رحمت کے دامن سے لپٹ کر سچی توبہ کریں، وہ غفور الرحیم ہے، توبہ کرنے والوں کی نہ صرف توبہ قبول فرماتا ہے؛ بلکہ انہیں اپنا محبوب بھی بنا لیتا ہے۔ اس دن ، یعنی: ("ولین ٹائن ڈے" کے دن) فلمیں، ڈرامے، گانے اور مختلف بے حیائی سے لبریز شو دیکھنے والے بھی توبہ کریں کہ یہ سب سخت ناجائز وحرام افعال ہیں۔ (ولین ٹائن ڈے قرآن وحدیث کی روشنی میں، ص22)
کیوں کہ حرام دیکھنے والا اور جو اپنا جسم غیر کو دکھائے؛ دونوں پر ہی اللہ عز وجل کی لعنت ہے اور دونوں ہی رحمت الہی سے دور ہوتے ہیں۔ اخیر میں یہ لکھ کر اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ محبت کے اظہار کا حکم تو ان سے ہوا ہے، ان سے محبت کا اظہار کریں:
اللہ تبارک وتعالی سے محبت کریں، جس نے ہم پر انعامات کی بارش کر رکھی ہے۔
مشفق ومہربان نبی سے محبت کریں، جو امت کی خاطر راتوں کو آہ وزاری فرماتے رہے۔
صحابہ کرام اور سلف صالحین سے محبت کریں، جن کی محنتوں اور قربانیوں کی وجہ سے یہ دین ہم تک پہونچا۔
اپنے والدین سے محبت کریں، جنہوں نے بے شمار تکالیف برداشت کرکے آپ کی پرورش کی۔
اپنے محرم رشتہ داروں سے محبت کریں، جو ہر مشکل وقت میں آپ کے کام آتے ہیں۔
اپنی بیویوں سے محبت کریں، جنہیں اللہ تعالی نے آپ کے لیے سکون واطمینان کا ذریعہ بنایا۔
اور اپنے پھول جیسے بچوں سے محبت کریں، جنہیں اللہ تبارک وتعالی نے آپ کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا۔
جب اللہ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں کے فطری جذبہ محبت کو پورا کرنے کے لیے جائز اور مناسب بندوبست فرما دیا ہے، تو خدارا فحاشی وعریانی، بے حیائی ونفسانی خواہشات پر مبنی غیروں کے ایجاد کردہ ویلن ٹائن ڈے سے مکمل اجتناب کریں۔
