ویلنٹائن ڈے اور اسلامی تعلیمات
تحریر :ابو عباد اعظمی
مدرسہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی ننداؤں اعظم گڑھ
مشہور کہاوت ہے کہ جو برائی کو نہیں جانتا وہ ایک نہ ایک دن برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے اس لئے برائی سے بچنے کیلئے برا ئی کو برا جاننا ضروری ہے۔ اور برائی کی طرف لے جانے والے اسباب کی نشاندہی بھی لازمی امر ہے تاکہ ایک مسلمان برائی کے ارتکاب سے محفوظ رہ سکے ۔مغربی معاشرے کا مادر پدر آزاد ذہنیت کی بناء پر جو حال ہورہا ہے اور مادی ترقیوں اور آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت سے حیوانیت کی سمت بڑھنے کا سفر جاری و ساری ہے ۔اس کے برے اثرات اسلامی معاشرے پر بھی پڑ رہے ہیں کہ ہمارے نوجوان غیر مسلموں کے ایجاد کردہ گناہوں سے بھر پور رسم رواج اور تہواروں کی غلاظت میں ملوث ہورہے ہیں۔ان غیراسلامی طور طریقوں میں سے ایک آج کے دور میں محبت کے نام پر ’’ویلنٹائنڈے‘‘ منانا ہے، اس تہوار کا آغاز مغربی ممالک سے ہوا ،جہاں غیرمسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں اور فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اور اس تہوار کے منانے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ میل ملاپ ، تحفے تحائف کا لین دین سے لے کر فحاشی و عریانی کے ہر مظاہرہ کا جتنا ہوسکے کھلے عام یا چوری چپکے ارتکاب کیا جاتا ہے۔ شراب کا بے تحاشہ استعمال ہوتا ہے۔اسلامی معاشرہ میں نوجوان اس دن کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامہ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرتے بلکہ مسلم معاشرہ کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک و آلودہ کرتے ہیں۔ بدنگاہی، بے پر دگی، فحاشی و عریانی، غیر محرم لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ ، فحش ہنسی مذاق اور پھر اس ناجائز تعلق کو مضبوط کرنے کیلئے تحائف کا تبادلہ اور آگے بڑھ کر بدکاری تک کی نوبت جیسی برائیاں اس دن کے منانے کے نتائج ہیں۔ دوسروں کی بہن ، بیٹی کی عزت تار تار ہوتی ہے، اس دن رقص، موسیقی، مے خوری اور بدکاری کے ریکارڈ توڑے جاتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کا سر عام مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ غیرم محرم کے ساتھ دوستی کا ناطہ جوڑا جائے بلکہ اسلام نے ہمیشہ حیاء و پاکیزگی کی تعلیم دی ہے تو آئیے ہم بھی اس دن کو بے حیائی نہیں بلکہ حیا ڈے کے طور پر منائیں
حق تعالیٰ جل مجدہ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمیــــن
تحریر :ابو عباد اعظمی
مدرسہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی ننداؤں اعظم گڑھ
مشہور کہاوت ہے کہ جو برائی کو نہیں جانتا وہ ایک نہ ایک دن برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے اس لئے برائی سے بچنے کیلئے برا ئی کو برا جاننا ضروری ہے۔ اور برائی کی طرف لے جانے والے اسباب کی نشاندہی بھی لازمی امر ہے تاکہ ایک مسلمان برائی کے ارتکاب سے محفوظ رہ سکے ۔مغربی معاشرے کا مادر پدر آزاد ذہنیت کی بناء پر جو حال ہورہا ہے اور مادی ترقیوں اور آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت سے حیوانیت کی سمت بڑھنے کا سفر جاری و ساری ہے ۔اس کے برے اثرات اسلامی معاشرے پر بھی پڑ رہے ہیں کہ ہمارے نوجوان غیر مسلموں کے ایجاد کردہ گناہوں سے بھر پور رسم رواج اور تہواروں کی غلاظت میں ملوث ہورہے ہیں۔ان غیراسلامی طور طریقوں میں سے ایک آج کے دور میں محبت کے نام پر ’’ویلنٹائنڈے‘‘ منانا ہے، اس تہوار کا آغاز مغربی ممالک سے ہوا ،جہاں غیرمسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں اور فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اور اس تہوار کے منانے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ میل ملاپ ، تحفے تحائف کا لین دین سے لے کر فحاشی و عریانی کے ہر مظاہرہ کا جتنا ہوسکے کھلے عام یا چوری چپکے ارتکاب کیا جاتا ہے۔ شراب کا بے تحاشہ استعمال ہوتا ہے۔اسلامی معاشرہ میں نوجوان اس دن کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامہ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرتے بلکہ مسلم معاشرہ کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک و آلودہ کرتے ہیں۔ بدنگاہی، بے پر دگی، فحاشی و عریانی، غیر محرم لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ ، فحش ہنسی مذاق اور پھر اس ناجائز تعلق کو مضبوط کرنے کیلئے تحائف کا تبادلہ اور آگے بڑھ کر بدکاری تک کی نوبت جیسی برائیاں اس دن کے منانے کے نتائج ہیں۔ دوسروں کی بہن ، بیٹی کی عزت تار تار ہوتی ہے، اس دن رقص، موسیقی، مے خوری اور بدکاری کے ریکارڈ توڑے جاتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کا سر عام مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ غیرم محرم کے ساتھ دوستی کا ناطہ جوڑا جائے بلکہ اسلام نے ہمیشہ حیاء و پاکیزگی کی تعلیم دی ہے تو آئیے ہم بھی اس دن کو بے حیائی نہیں بلکہ حیا ڈے کے طور پر منائیں
حق تعالیٰ جل مجدہ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمیــــن
