اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *ملک کا وزیرداخلہ امیت شاہ مسلمانوں کو جان بوجھ کر بنارہا نشانہ: نظرعالم* *نتیش کا این پی آر پر جھوٹ بولنا،احتجاج کو کمزور کرنے کی سازش: بیداری کارواں* مدھوبنی:12/مارچ 2020 آئی این اے نیوز رپورٹ! محمد سالم آزاد

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 12 March 2020

*ملک کا وزیرداخلہ امیت شاہ مسلمانوں کو جان بوجھ کر بنارہا نشانہ: نظرعالم* *نتیش کا این پی آر پر جھوٹ بولنا،احتجاج کو کمزور کرنے کی سازش: بیداری کارواں* مدھوبنی:12/مارچ 2020 آئی این اے نیوز رپورٹ! محمد سالم آزاد

*ملک کا وزیرداخلہ امیت شاہ مسلمانوں کو جان بوجھ کر بنارہا نشانہ: نظرعالم*

*نتیش کا این پی آر پر جھوٹ بولنا،احتجاج کو کمزور کرنے کی سازش: بیداری کارواں*

مدھوبنی:12/مارچ 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد 
کل لوک سبھا میں جس انداز میں وزیرداخلہ امیت شاہ بول رہے تھے اس سے یہ بات بالکل صاف ہوگئی ہے کہ وہ جان بوجھ کرمسلمانوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ سی اے اے جیسا کالا قانون بھی وہ مذہب کی بنیاد پر ہی جان بوجھ کر بنایا ہے اور وہ اس کالے قانون کو واپس نہیں لینے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ پورے ملک میں ڈھائی مہینے سے اس کالے قانون کے خلاف مسلمان سڑکوں پر ہے لیکن حکومت کی تاناشاہی کم ہونے کا کام نہیں لے رہی ہے۔ مسلمانوں کے منچ سے جتنے بھی پارٹی کے لیڈران نے بھاشن دیکر سرخیاں بٹوری آج تک ان کے کارکنان کہیں بھی سڑکوں پر اس لڑائی میں دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھاجپا اس لڑائی کو مسلمانوں کی لڑائی بنانے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکی ہے لیکن ا ب مسلمانوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر اس بار وہ اس لڑائی کو مضبوطی کے ساتھ نہیں لڑپائے تو اس کے بعد مسلمان اس ملک میں کبھی بھی سڑاٹھاکرنہیں جی سکتا۔مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ مسٹر نظرعالم نے کہا کہ امیت شاہ ملک کا پہلا وزیرداخلہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ حملہ کررہا ہے اور فساد میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں مروا رہا ہے، مسلمانوں کے گھروں کو جلارہا ہے، جیلوں میں مسلمانوں کو ہی ڈال رہا ہے۔ اس سے یہ بات بالکل صاف ہوگئی ہے کہ اس لڑائی میں مسلمان بالکل اکیلا پڑتا نظرآرہا ہے  اور مسلمانوں کو اگر اپنا وجود بچانا ہے تو ہرگھر سے لوگوں کو نکلنا پڑے گا اور اس وقت تک اس لڑائی کو مضبوطی کے ساتھ لڑنا ہوگا جب تک یہ لڑائی جیت نہیں لی جاتی۔ مسٹرعالم نے بہار کے مکھیا نتیش کمار پر جم کر بولتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار نے اسمبلی میں این پی آر 2010 کے فارمیٹ پر ہوگا بول کر مسلمانوں کے احتجاج کو کمزور کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر واقعی 2010 کے فارمیٹ پر این پی آر ہوگا تو نتیش کمار نے 2010 کا فارمیٹ کیوں نہیں جاری کیا اور جو گزٹ پہلے پاس کیا تھا وہ  واپس کیوں نہیں لیا۔مسٹرعالم نے کہا کہ نتیش کمار نے ایک تیر سے کئی شکار کیا ہے۔ کچھ نام نہاد مسلم لیڈران نتیش کے بیان کو عوام کے بیچ ایسے سمجھا رہے ہیں کہ مانواب یہ لڑائی ختم ہوگئی ہو،جب کہ ایسا نہیں ہے۔ سی اے اے جیسے کالے قانون کو راجیہ سبھا سے پاس کرانے میں نتیش کمار کی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن نے باضابطہ ووٹنگ کرکے اس قانون کو پاس کروایا ہے اور جب تک مرکز کی حکومت کے ساتھ مل کر اس کالے قانون کوخارج نہیں کیا جاتا ہے تب تک کسی کے بہکاوے میں مسلمانوں کو نہیں آنا چاہئے۔ مسٹر عالم نے کہا کہ 72 سالوں سے مسلمانوں نے صرف سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈران کے بہکاوے میں آکر جھولا اٹھانے کا ہی کام کیا ہے اس سے باہر نکلنا ہوگا اور اپنے اتحاد کو مضبوط کر اپنی لڑائی خود لڑنی ہوگی تبھی جاکر مسلمان سیاسی سطح پر بیدار ہوسکیں اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑسکیں گے۔ مسٹرعالم نے کہا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں ہمارا نہ تو کوئی نیتا ہے، نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کو ملی رہنما ہے۔ سب کے سب اپنے مفاد کی روٹی سینکتے نظرآرہے ہیں۔ جس کا نتیجہ ہے کہ دہلی انتخاب میں مسلمان ایک بار پھر استعمال ہوگئے اور کجریوال کو یکطرفہ ووٹ دے کر وزیراعلیٰ بنادیا لیکن اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ پوری دہلی جلادی گئی لیکن آج تک کجریوال کی زبان نہیں کھلی۔ ہمیں سوچنا ہوگا اور2020 میں بہار کو دہلی بننے سے روکنا ہوگا۔ اس کے لئے مضبوط لائحہ عمل تیار کر ہم لوگ پٹنہ کو جلد ہی گھیریں گے اور اپنے اتحاد کے ساتھ اپنی مضبوط آواز کو اٹھائیں گے۔مسلمانوں کو اب ہروقت تیار رہنا ہوگا اور اپنے سماج کے لوگوں کو بھی جگائے رکھنا ہوگا کیوں کہ امیت شاہ اپنے باپ موہن بھاگوت کے اشارے پر مسلمانوں کو نشانہ بنارہا ہے اور جہاں تہاں فساد برپا کر سازش کے تحت مسلمانوں کو  مارنے، بے قصوروں کوجیل میں ڈالنے، گھروں کو جلاکر مسلمانوں کوبے بس زندگی گزارنے پر مجبور کرنے کی پالیسی پر کام کررہا ہے۔ اس لئے ہمیں اپنی لڑائی کو آئین کے مطابق مضبوطی کے ساتھ لڑنے کی ضرورت ہے اور اس وقت تک اس لڑائی کو لڑنا ہوگا جب تک ہم اس لڑائی کو جیت نہ لیں۔