*جلد از جلد مدارس اساتذہ کی پوری تنخواہ اداکرے حکومت بہار:نظرعالم*
*ہڑتال کررہے اساتذہ کا مطالبہ درست، مساوی کام کیلئے مساوی تنخواہ لازمی: بیداری کارواں*
مدھوبنی :19/مارچ 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد
آل انڈیامسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے سات ماہ سے مدارس کے اساتذہ کو تنخواہ سے محروم رکھے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلدازجلد اساتذہ کی تنخواہ کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ تعلیم پر سب سے زیادہ خرچ کرتی ہے تو وہیں دوسری طرف اساتذہ کو تنخواہ سے محروم کرکے خود ہی اپنے اس دعویٰ کا مذاق اُڑارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے حد افسوس ناک ہے کہ گذشتہ اگست ماہ کے بعد ان اساتذہ کو تنخواہ نہیں ملی ہے۔ نظرعالم نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے نئے مدارس کو منظوری تو دے دی لیکن پرانے مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ کے فنڈ سے ہی نئے اساتذہ کو بھی تنخواہ کی ادائیگی کی گئی جب کہ اس کے لئے الگ سے فنڈ مختص ہونا چاہئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں مدرسہ بورڈ کے چیئرمین تعلیمی اصلاح کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں وہیں انہیں بھی اساتذہ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ فاقہ کے شکار اساتذہ سے بہتر تعلیم کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بورڈ کے چیئرمین کے آمرانہ رویہ کے خوف سے اساتذہ تنخواہ کا مطالبہ کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ انہوں نے اس پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ گذشتہ ماہ پورے بہار سے اساتذہ کو جمع کرکے فوقانیہ، مولوی کی جوابی کاپیاں جانچ کرائی گئیں اور آناً فاناً رزلٹ بھی شائع کردیا گیا، لیکن آج تک تمام ممتحنین کو کاپی جانچ اور آمدورفت کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد اساتذہ کی پوری تنخواہ اداکرے ورنہ بڑی تحریک کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہے۔مسٹرنظرعالم نے مساوی تنخواہ کے لئے ہڑتال کررہے اساتذہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطالبہ درست ہے اور انہیں مساوی کام کے لئے مساوی تنخواہ ملنی ہی چاہئے۔
*ہڑتال کررہے اساتذہ کا مطالبہ درست، مساوی کام کیلئے مساوی تنخواہ لازمی: بیداری کارواں*
مدھوبنی :19/مارچ 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد
آل انڈیامسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے سات ماہ سے مدارس کے اساتذہ کو تنخواہ سے محروم رکھے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلدازجلد اساتذہ کی تنخواہ کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ تعلیم پر سب سے زیادہ خرچ کرتی ہے تو وہیں دوسری طرف اساتذہ کو تنخواہ سے محروم کرکے خود ہی اپنے اس دعویٰ کا مذاق اُڑارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے حد افسوس ناک ہے کہ گذشتہ اگست ماہ کے بعد ان اساتذہ کو تنخواہ نہیں ملی ہے۔ نظرعالم نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے نئے مدارس کو منظوری تو دے دی لیکن پرانے مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ کے فنڈ سے ہی نئے اساتذہ کو بھی تنخواہ کی ادائیگی کی گئی جب کہ اس کے لئے الگ سے فنڈ مختص ہونا چاہئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں مدرسہ بورڈ کے چیئرمین تعلیمی اصلاح کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں وہیں انہیں بھی اساتذہ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ فاقہ کے شکار اساتذہ سے بہتر تعلیم کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بورڈ کے چیئرمین کے آمرانہ رویہ کے خوف سے اساتذہ تنخواہ کا مطالبہ کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ انہوں نے اس پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ گذشتہ ماہ پورے بہار سے اساتذہ کو جمع کرکے فوقانیہ، مولوی کی جوابی کاپیاں جانچ کرائی گئیں اور آناً فاناً رزلٹ بھی شائع کردیا گیا، لیکن آج تک تمام ممتحنین کو کاپی جانچ اور آمدورفت کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد اساتذہ کی پوری تنخواہ اداکرے ورنہ بڑی تحریک کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہے۔مسٹرنظرعالم نے مساوی تنخواہ کے لئے ہڑتال کررہے اساتذہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطالبہ درست ہے اور انہیں مساوی کام کے لئے مساوی تنخواہ ملنی ہی چاہئے۔
