اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *کرونا کا خطاب پوری دنیا کے نام........* (کون کہتا ہے چینی چیزیں کمزور ہوتی ہیں.......) شاداب راہی محمدی 7376254435

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 19 March 2020

*کرونا کا خطاب پوری دنیا کے نام........* (کون کہتا ہے چینی چیزیں کمزور ہوتی ہیں.......) شاداب راہی محمدی 7376254435

*کرونا کا خطاب پوری دنیا کے نام........*
(کون کہتا ہے چینی چیزیں کمزور ہوتی ہیں.......)
شاداب راہی محمدی
7376254435

ایک عرب نیوز پیپر میں کچھ سال قبل ایک تحریر پڑھنے کو ملی اختصار نقل کر رہا ہوں *ایک سعودی عورت کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔جب وہ ڈاکٹر کے رابطے میں آئیں تو کافی دیر ہوچکی تھی۔کافی چانچ پڑتال کے بعد انہیں بتلایا گیا کہ بس آپکے پاس کچھ اور ایام ولمحات ہیں انہیں آپ گزاریں۔۔۔۔۔وہ عورت بے حسی۔پریشانی۔غم والم کے حالت میں واپس آئ اور پیٹی بھر پیسے لیکر واپس ہاسپیٹل پلٹی اور اس پیسے کو پورے ہاسپیٹل میں چھینٹ دیا........اور کہا یہ مال ودولت اگر میری جان نہیں بچا سکتی تو میں اس کا کیا کروں گی.....*
افسوس اہلِ دنیا خوف ودہشت کے عالم میں ہے۔کرونا جیسی وباء دن بدن اپنا پاوں پسارتا جارہا ہے۔یکے بعد دیگرے کئ ایک ممالک اس کے زد میں آرہے ہیں۔موت کا سلسلہ جاری ہے۔یہ وہ قیامت ہے جس سے سب خوف وہراس میں مبتلا ہے۔دنیا کا کوئ ملک نہیں جہاں کرونا کا نام سنکر انسان کا دل دہل نہ جاتا ہو.........
*کاش عالم انسان کا دل یونہی کبھی قتل۔ظلم۔بربریت۔خوف۔دہشت سے لرزا ہوتا۔یہ دنیا جو آج دوا وعلاج کے بعد دعاووں کی محتاج ہو چلی ہے۔۔۔۔*
کاش کبھی شام۔فلسطین۔برما۔سیریا۔بوسینیا۔میانمار پر بھی کان دھرا ہوتا ۔

آئئے میں آپ کو کرونا سے متعارف کرواووں۔
 میں "کُرونا" COVID19۔
ہے کسی میں دم تو مجھے کچھ کرونا۔

ہیلو اہل دنیا دیکھو مجھ سے ہاتھ نہ ملانا۔ ورنہ ہمنے گلے پڑ جانا۔اور پھر آپ دنیا سے آخرت کو سدھار جانا......

میری طاقت اور وسعت کا اندازہ کرو ۔۔۔۔ *لوگ کہتے ہیں چینی چیزیں بڑی کمزور ہوتی ہیں پر مجھ جیسا مضبوط کچھ دکھے تو بتانا۔*

↩️میرا *چینی* دماغیں کچھ نہ بگاڑ پائیں۔جس دماغ نے بچھو۔سانپ۔کیکڑا۔چھپکلی۔چوہے۔اور کاکروچ کو نہیں بخشا سب کو ہضم کرگئے اس دماغوں کو بھی میں نے ہلا کر رکھ دیا۔

↩️ *امریکی ٹیکنالوجی* کا نہ پوچھو اب اسے دیکھ رہا ہوں کچھ میرے لئے وہ بنا رہے ہیں تب تک میں کتنے لوگ کو اپنے قبضے میں لے لوں گا۔

↩️ *اسرائیلی* بم آج کل مجھ پر نہیں برس رہی ہیں۔
↩️ *پاکستانی* دہشت گردی بھی منہ چھپائے بیٹھی ہے
↩️اور *انڈیا* مجھے گئو موتر اور گوبر سے مارے گی۔۔۔۔۔؟؟؟

 اور بھی اسکے علاوہ کئ ممالک ہیں جہاں میں۔جہاز۔ٹرین۔بس۔اور رکشہ وغیرہ سے گھوم رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلے چین کے ووہان شہر کا شکریہ جہاں مجھے پہلا پناہ گاہ ملا۔بعدہ ان تمام لوگوں کا شکریہ جسنے مجھے اپنے دل ودماغ میں جگہ دیا ۔۔اب میں اپنے اصل مدعی پہ آتا ہوں۔
*میں ایک عذاب ہوں۔میں مظلوموں کی بدعاء ہوں۔میں شام وفلسطین کی چینخ وپکار ہوں۔برما ومیانمار کی نسل کشی کا جواب ہوں ۔میں کشمیری بربریت کا بدلہ ہوں۔ماں بہن کی لوٹی گئ عزت کا جواب ہوں۔میری اور تیری مرضی کے لئے رب کی مرضی اور مالک کا انعام ہوں۔میں انسانیت کے قتل وغارت گری اور جبر واستبداد کا بے زبان قیامت ہوں۔

کیا تمہیں ہاد ہے *ایک خون میں لت پت شامی بچے کی وہ آہ کہ "اپنے اللہ کے پاس جاکر سب بتاووں گا" شاید کہ اس بچے نے سب بتا دیا ہے*
اور اس بچے کی آہ و فغاں کا میں بے لوث محبت واحسان ہوں۔
کہاں گئے وہ لوگ جو انسانیت سوز مناظر پر آنکھ اور کان دونوں بند کرلیتے ہیں ۔اس زمین پر مالک کل کے عزیز بندوں کا کوئ حق نہیں سمجھتے ہیں۔آو مجھے اپنی طاقت دکھاو۔مجھ پر ظلم کرو۔مجھ پر اپنی بربریت آزماو۔

 میں ان سب کا متلاشی ہوں ہوں جو اپنی طاقت کا دھوک جماتے ہیں۔انسان کو حقیر اور مظلوم کو اپنی پیر کی جوتی سمجھتے ہیں۔مجھ وبا سے ذرا بچ کے دکھاو۔تم پاور کے مالک ہو میرا مالک اللہ ہے۔تم اپنی طاقت پر اتراو میں اپنے رب پر بھروسہ کرکے قدم آگے بڑھاوں گا۔

 کچھ لوگ تو ظلم واستبداد پر خوشی مناتے ہیں وہ آج بے چین کیوں ہیں۔ان کے لئے ہزاروں کا خون پانی ہوتا ہے وہ صرف تین کی موت پر اتنا واویلا کیوں کررہے ہیں۔جس نے لوگوں کو زندہ جلایا۔وہ کیوں صرف موت سے ڈر رہے ہیں۔کیا ہوگیا موت کا کھیل کھیلنے والے ان درندہ صفت انسانوں کو جو اپنی ہمت واوقات کے خاطر گھر تو گھر بستیاں جلا دیتے ہیں۔کیا تمہاری جان جان ہے برما۔شام۔فلسطین وکشمیر کے لوگوں کی جان جان نہیں۔تمہارا خون خون ہے ان کا خون پانی ہے۔تمہاری قدر قدر ہے اور انکی کوئ قدر نہیں۔تمہارے گھر کو آنچ نہ آئے اور دوسروں گھر جلے تو جل جائے۔اے اہل ثروت مجھے بتلاو تم نے اتنے ظلم کیوں بپا کئے ۔ایک کے بدلے سینکڑوں بے گناہوں کو تم نے کیوں جلا دیا۔

 یہ کھیل تم نے شروع کہا میں بس اس کھیل کا ایک پہلو ہوں۔۔۔۔۔تکلیف۔غم۔مصیبت۔الم۔درد۔وبال۔فساد۔اور جبر کسے کہتے ہیں اسے محسوس کرو۔۔۔۔تمہارے پاس مال ودولت وٹیکنالوجی کا ریل پیل ہے لیکن آج رب کی مرضی کے آگے سب فیل ہیں۔ یہ دنیا کسی کی جاگیر نہیں۔سب کی قدر کرو۔آنسو نکلے تو سب کے لئے نکلے۔اور اگر سوکھے تو سب کے لئے سوکھے۔

جس دنیا کے لئے تم نے سر بازار فتنہ وفساد کیا آج اسی دنیا میں تم اکیلاپن محسوس کررہے ہو۔گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہے۔کیوں۔۔۔۔۔کبھی سوچو اور اس دنیا میں جیو اور سب کو جینے دو۔۔۔۔۔تب تک کے لئے اللہ حافظ۔
*یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے۔۔۔۔۔*