*لوگ تشویش میں ہی متبلارہے ظہر پڑھیں یاگھرجمعہ قائم کریں، عجیب افراتفری اورالجھن کارہاماحول،*
مفتی شبیر احمد کے فتوی نے امت کوتشویش میں مبتلاکردیا، جمعرات میں تمام فتاوے اور لیٹر پیڈ میں ظہرگھر میں تنہاپڑھنے کا ہی حکم تھا،*
دہلی، فرمان مظاہری،28 مارچ 2020 ،آئی این اے نیوز
کورونا وائرس کی وباء سے پوری دنیا پریشان حال ہے، اس وباء کے اثر سے تحفظ کے لئے ہندوستان میں آج کل پوری طرح لاک ڈاون چل رہاہے، ایسے میں ہرجگہ کی انتظامیہ طرف سے یہ اعلان صادر ہواتھا کہ جمعہ اور جماعت کی نمازمیں مساجد میں زیادہ بھیڑ نہ جمع کی جائے، علماء کرام کی طرف سے یہی اپیل کی گئی کہ جمعہ کے دن مساجد میں چند لوگ 4, یا5 ہی لوگ جمعہ کی نماز اداکرینگے باقی لوگ ظہر کی نماز اپنے اپنے گھروں میں تنہا تنہا ادا کریں، جمعرات تک تقریبا تمام فتاوی اور لیٹر پیڈ میں یہی اپیل کی گئی تھی جولوگ گھروں میں نماز ادا کرینگے وہ ظہر کی نماز گھروں میں تنہاتنہا ادا کرینگے کیونکہ جس جگہ جمعہ قائم ہو وہاں ظہر کی نماز جماعت سے ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، جمعرات تک علماء کرام لوگوں کویہی مسلہ بتاتے رہے، دارالعلوم دیوبند کے مفتی زین الاسلام صاحب کابھی ایک آڈیو سوشل میڈیاپروائرل ہوا جس میں انہوں نے بھی ظہر کی نماز جماعت ادا کرنے کومنع کیا، اور ساتھ ساتھ اس بات کابھی ذکرتھا کہ گھر کے باہری حصوں میں جمعہ قائم کرسکتے ہیں، مہاراشٹر کے معروف عالم دین مفتی حذیفہ صاحب کی طرف سے بھی جمعہ ہال اورگھروں میں قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، کانپور سے بھی کچھ اعلانات جاری ہوئے جس میں ظہر کی نماز گھروں پریاجمعہ قائم کرنے کا ذکر تھا، جمعرات تک تمام علماء متفق تھے لوگوں کوایک بات پابند بنارہے تھے، کہ گھروں پر تنہا تنہا ظہر کی نماز اداکریں یا ہال یاگھر کے باہری حصوں میں محدود تعداد میں جس کی اجازت ہے، جمعہ قائم کریں، لیکن جمعہ کی صبح ایک معروف عالم دین مفتی شبیر احمد کاایک فتوی جاری ہوا جس میں انہوں نے ظہر کی نماز جماعت سے ادا کرنے کی اجازت دی،ان کااستدلال تھا کہ کراہت تحریمی کی دونوں علت مفقود ہے لہذا ظہر کی نمازجماعت کے ساتھ بلاکراہت جائز ہے، اور پھر جمعہ کے روز ہی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم کی طرف سے بھی اعلان ہوا جس میں حالات کے پیش نظر جمعہ قائم کرنے سے منع کیاگیاتھا اور مفتی شبیر کے فتوی کے مطابق ظہر کی نماز گھروں میں پڑھنے کوکہاگیاتھا، ایسے ہی مظاہرالعلوم سہارنپور سے بھی اعلان جاری ہوا ظہر کی نماز گھروں پر جماعت کے ساتھ پڑھیں، اسی درمیان دارالعلوم دیوبند کے مفتی نعمان سیتاپوری کاایک فتوی سوشل میڈیاپرجاری ہوا جس میں مفتی شبیر صاحب کے استدلال کی تردید کی گئی تھی،اور انہوں نے دلائل کی روشنی میں اس بات کو ثابت کیاتھا کہ ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنے معارضہ عن الجماعہ بہرحال موجود ہے، ایک علت قلت جماعت اگرچہ مفقود ہے لیکن دو علتوں میں سے ایک علت کاپایاجاناہی کراہت تحریمی کے لئے کافی ہے، اور اکابرعلماء دیوبند کے فتاؤوں سے مدلل ثابت کیاتھا کہ جہاں جمعہ قائم ہو اکابرین کے فتاؤوں میں ظہر جماعت کے ساتھ پڑھنے کی اجازت نہیں، اور یہ فتوی جمعہ کی نماز سے تقریبا ایک گھنٹہ پہلے وائرل ہوا، اب کیاتھا لوگ تشویش میں مبتلاہوگئے مفتیان کرام اور علماء کرام کوفون ہی لگاتے رہے کہ آخر جمعہ گھر پر چند افراد کے ساتھ قائم کرناہے، یاظہر کی نماز پڑھناہے اور ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرناہے، انہیں الجھنوں میں سخت گرفتار رہے، مفتیان کرام میں دو جماعتوں میں تقسیم نظر آئے، کوئی گھرپر مطلقا جمعہ کی نماز چند افراد کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دے رہاتھا توکوئی اذن عام کی رعایت کرتے ہوئے گھر کے باہری حصوں میں یاہال میں پڑھنے کوکہہ رہاتھا جبکہ کچھ مفتیان کرام مطلقا ظہر کی نماز پڑھنے کی ترغیب دے رہے تھے، پھر ظہر کی نماز گھر پر پڑھنے کے سلسلہ میں مفتیان کرام کی دورائے تھی، کچھ مفتی نعمان سیتاپوری کے فتوی کی طرف تھے کہ ظہر کی نماز تنہا تنہا پڑھیں، جبکہ دوسرے لوگ یہ کہہ رہے تھے ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کوکہہ رہے تھے، عوام شدید پریشان حال تھی کہ آخر ظہر پڑھے یاجمعہ پڑھے، ظہر پڑھے توجماعت سے یاتنہا، جبکہ جمعرات تک تمام فتاوے متفق تھے کہ ظہر کی نماز گھروں پر تنہاتنہا پڑھنا ہے جہاں جمعہ قائم ہو وہاں ظہر کی نماز جماعت سے مکروہ تحریمی ہے، سوشل میڈیا پر دیر رات ایشیا کے ممتاز دارالافتاء فتاوی بنوریہ کا ایک فتوی جو حالیہ فتوی تھا، وہ گردش کرنے لگا اس میں بھی اس بات کا ذکرتھا جہاں جمعہ قائم ہووہاں ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنا درست نہیں، اس فتوی کے سوشل میٍڈیا پر آنے کے بعد لوگ پریشان ہیں ان کی نماز بھی ہوئی یانہیں کیونکہ مہتمم دارالعلوم دیوبند ومظاہرالعلوم سہارنپور کی اپیل کی وجہ سے اکثر لوگوں نے گھروں ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی،شاید اس سے پہلے جمعہ کے تعلق امت مسلمہ ہندیہ کبھی اتنا تذبذب شکاررہی ہو،