*کوئ ظالم نہ بخشا جائے گا.....*
شاداب راہی محمدی
7376254435
ظلم تو ظلم ہے۔یہ اندھیرگی دنیا اور آخرت دونوں جگہ مایوسی دینے والی ہے۔زندگی میں ظالموں کے ظلم کی آمیزش زندگی کو جھنڈ اور اہل دنیا کو کھنڈر بنا سکتی۔ظلم نہ کریں اور کرنے دیں۔۔۔کرنا ہے تو یوں کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رواداری۔ہمدردی۔غمگساری۔جانثاری۔قربانی۔اخوت و مروت کا اس سے بہتر موقع نہ ملے گا۔اس ماحول میں ہر کسی کا ایک فریضہ ہے اپنے سے کم جانکار کو کرونا سے بچاو کی جانکاری دے۔انسانیت کا فرض نبھائے۔ان مزدور اور بےقصور کا غمخوار بنے جو اپنی اولاد کے لئے وہ اس وبائ مرض کو مرض نہیں سمجھ رہے۔ انہیں اپنی اولاد کی ایک وقت کی روٹی کی فکر ہے۔انکے لئے یہ ماحول کل ہی جیسا معاملہ ہے۔بڑے تو اپنے گھر اور چہار دیواری میں رہ کر اپنی جان واہل وعیال کو بچا سکتے ہیں۔۔۔۔لیکن یہ غربت و افلاس کی ماری عوام کا کیا ؟؟
جس کا کام ہی روز کنواں کھودنا اور پانی پینا ہے۔
اس ہنگامی حالات میں ہم سب کا کام یہ ہیکہ ایسے افراد کی مدد کریں۔صحیح مشورہ دیں۔سچ اور حق کی رہنمائ کریں۔ان کے کھانے کا انتظام کریں۔انہیں بھروسہ میں لیں۔انہیں انکی جان کی قیمت واہمیت بتلائیں۔جس طرح ایک شہری کے جان ومال کی بڑی قیمت ہے اسی طرح ایک دیہادتی اور دلت بھی اللہ کی پیدا کی گئ مخلوق ہے۔حسن سلوک اور باہمی مروت کا مظاہرہ کریں۔انہیں اکیلا جان نہ چھوڑا جائے۔مختلف آلہ کار سے اس وبا کی خطرناکی سے آگاہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔
ممتا بنرجی وزیر اعلی بنگال کی جے ہو جنہوں نے کل یہ اعلان کیا کہ اس وبائ دور میں ہر ایک آدمی کی جان ومال کی قدر کی جائے گی۔انہیں آٹا اور چاول فری یا کم دام میں فراہم کرائ جائے گی۔ساتھ ہی ہمارے ان مزدور طبقہ افراد کا بھی خیال کیا جائے جو ہمارے لئے دن ورات ایک کرکے کام کرتے ہیں۔۔۔
اگر وہ وقت کی پابندی نہ کریں۔کام کو نہ آئیں تو ان پر دھوک نہ جمائیں۔انکے ساتھ انسانیت کی بہترین اور اعلی مثال پیش کریں۔یہ رب کی مخلوق کے ساتھ بہتر برتاو شاید ہم کو اس وبائ مرض سے نجات دلائے۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ
*کوئ ظالم نہ بخشا جائے گا۔۔۔۔۔* جو اس سنگین حالات میں اپنے پاوں خود دھلنا نہیں چاہتے۔کھانا میڈ سے ہی بنوانا چاہتے ہیں۔گھر میں بیٹھ کر اپنے نوکر چاکر سے ہر کام لینا چاہتے ہیں۔اپنی جان کی فکر کر دوسروں کی جان کی قمیت نہیں سمجھتے ہیں۔اس مہلک مرض میں بھی وہ اپنے کردار کو داغدار بنارہے ہیں۔۔۔۔۔
وہ افراد جن کے سر پر چھت نہیں انکو بے یارو مددگار نہ چھوڑیں۔
کوئ مسیحا اپنی مسیحائ چال کی جھلک پیش کر سکتے ہیں۔اپنی عوام کی ہمدرد کہلانی والی راج نیتاوں کے لئے یہ ایک چیلینج بھرا موقع ہے۔دیکھنا ہے جس طرح ایک سوٹ والے کی قیمت ہے کیا پھٹے حال افراد کی بھی وہی قیمت ہے۔ہم امید کرینگے سرکا اور معاونین سرکار سب ساتھ سر جوڑ محنت کر اپنی عوام کو اس مہاماری سے کیسے نکالتی ہے۔؟؟
ایک بات جس کے جانب دھیان مبذول کرانا لازمی ہے وہ یہ کہ اس وبائ مرض سے نجات کے لئے جو طریقہ کار بتلائے جارہے ہیں ان ذرائع کو فری یا کم دام میں دلوائیں تاکہ ہر طبقہ ان چیزوں کی حصول میں کسی خواص دقت کا سامنا نہ کریں۔چوروں اور ڈاکووں کا صحیح انتظام کریں کہ وہ سینی ٹائزر اور ماسک کی قیمت آسمان سے زیادہ نہ لگادیں۔۔۔۔کل کی رپورٹ ہے جس کی عوام تک رسائ نہایت ہی ضروری ہے کہ سرکاری اشتہار کے مطابق ہر دو سو ای میل سینی ٹائزر باٹل کی قمیت سو روپئے ہی یا اس سے تھوڑی کم ہوگی۔دو ماسک آٹھ روپئے یا تین ماسک کے دس روپِئے ہی قیمت ہے اس سے زیادہ کوئ وصول کریں تو آپ اور ہم سب قریبی جگہ رپورٹ کریں۔اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھے۔
دل کو تلاوت قرآن سے منور کریں۔سماج کو اخلاق وکردار سے معطر کریں۔فضا کی آلودگی کو اپنی ایمانی آکسیجن سے کم کریں۔گھر بیٹھے ہوں تو اپنے خالی اوقات کو کام میں لائیں اور اپنے رب سے لو لگائیں۔۔۔۔۔
سلاما۔
شاداب راہی محمدی
7376254435
ظلم تو ظلم ہے۔یہ اندھیرگی دنیا اور آخرت دونوں جگہ مایوسی دینے والی ہے۔زندگی میں ظالموں کے ظلم کی آمیزش زندگی کو جھنڈ اور اہل دنیا کو کھنڈر بنا سکتی۔ظلم نہ کریں اور کرنے دیں۔۔۔کرنا ہے تو یوں کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رواداری۔ہمدردی۔غمگساری۔جانثاری۔قربانی۔اخوت و مروت کا اس سے بہتر موقع نہ ملے گا۔اس ماحول میں ہر کسی کا ایک فریضہ ہے اپنے سے کم جانکار کو کرونا سے بچاو کی جانکاری دے۔انسانیت کا فرض نبھائے۔ان مزدور اور بےقصور کا غمخوار بنے جو اپنی اولاد کے لئے وہ اس وبائ مرض کو مرض نہیں سمجھ رہے۔ انہیں اپنی اولاد کی ایک وقت کی روٹی کی فکر ہے۔انکے لئے یہ ماحول کل ہی جیسا معاملہ ہے۔بڑے تو اپنے گھر اور چہار دیواری میں رہ کر اپنی جان واہل وعیال کو بچا سکتے ہیں۔۔۔۔لیکن یہ غربت و افلاس کی ماری عوام کا کیا ؟؟
جس کا کام ہی روز کنواں کھودنا اور پانی پینا ہے۔
اس ہنگامی حالات میں ہم سب کا کام یہ ہیکہ ایسے افراد کی مدد کریں۔صحیح مشورہ دیں۔سچ اور حق کی رہنمائ کریں۔ان کے کھانے کا انتظام کریں۔انہیں بھروسہ میں لیں۔انہیں انکی جان کی قیمت واہمیت بتلائیں۔جس طرح ایک شہری کے جان ومال کی بڑی قیمت ہے اسی طرح ایک دیہادتی اور دلت بھی اللہ کی پیدا کی گئ مخلوق ہے۔حسن سلوک اور باہمی مروت کا مظاہرہ کریں۔انہیں اکیلا جان نہ چھوڑا جائے۔مختلف آلہ کار سے اس وبا کی خطرناکی سے آگاہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔
ممتا بنرجی وزیر اعلی بنگال کی جے ہو جنہوں نے کل یہ اعلان کیا کہ اس وبائ دور میں ہر ایک آدمی کی جان ومال کی قدر کی جائے گی۔انہیں آٹا اور چاول فری یا کم دام میں فراہم کرائ جائے گی۔ساتھ ہی ہمارے ان مزدور طبقہ افراد کا بھی خیال کیا جائے جو ہمارے لئے دن ورات ایک کرکے کام کرتے ہیں۔۔۔
اگر وہ وقت کی پابندی نہ کریں۔کام کو نہ آئیں تو ان پر دھوک نہ جمائیں۔انکے ساتھ انسانیت کی بہترین اور اعلی مثال پیش کریں۔یہ رب کی مخلوق کے ساتھ بہتر برتاو شاید ہم کو اس وبائ مرض سے نجات دلائے۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ
*کوئ ظالم نہ بخشا جائے گا۔۔۔۔۔* جو اس سنگین حالات میں اپنے پاوں خود دھلنا نہیں چاہتے۔کھانا میڈ سے ہی بنوانا چاہتے ہیں۔گھر میں بیٹھ کر اپنے نوکر چاکر سے ہر کام لینا چاہتے ہیں۔اپنی جان کی فکر کر دوسروں کی جان کی قمیت نہیں سمجھتے ہیں۔اس مہلک مرض میں بھی وہ اپنے کردار کو داغدار بنارہے ہیں۔۔۔۔۔
وہ افراد جن کے سر پر چھت نہیں انکو بے یارو مددگار نہ چھوڑیں۔
کوئ مسیحا اپنی مسیحائ چال کی جھلک پیش کر سکتے ہیں۔اپنی عوام کی ہمدرد کہلانی والی راج نیتاوں کے لئے یہ ایک چیلینج بھرا موقع ہے۔دیکھنا ہے جس طرح ایک سوٹ والے کی قیمت ہے کیا پھٹے حال افراد کی بھی وہی قیمت ہے۔ہم امید کرینگے سرکا اور معاونین سرکار سب ساتھ سر جوڑ محنت کر اپنی عوام کو اس مہاماری سے کیسے نکالتی ہے۔؟؟
ایک بات جس کے جانب دھیان مبذول کرانا لازمی ہے وہ یہ کہ اس وبائ مرض سے نجات کے لئے جو طریقہ کار بتلائے جارہے ہیں ان ذرائع کو فری یا کم دام میں دلوائیں تاکہ ہر طبقہ ان چیزوں کی حصول میں کسی خواص دقت کا سامنا نہ کریں۔چوروں اور ڈاکووں کا صحیح انتظام کریں کہ وہ سینی ٹائزر اور ماسک کی قیمت آسمان سے زیادہ نہ لگادیں۔۔۔۔کل کی رپورٹ ہے جس کی عوام تک رسائ نہایت ہی ضروری ہے کہ سرکاری اشتہار کے مطابق ہر دو سو ای میل سینی ٹائزر باٹل کی قمیت سو روپئے ہی یا اس سے تھوڑی کم ہوگی۔دو ماسک آٹھ روپئے یا تین ماسک کے دس روپِئے ہی قیمت ہے اس سے زیادہ کوئ وصول کریں تو آپ اور ہم سب قریبی جگہ رپورٹ کریں۔اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھے۔
دل کو تلاوت قرآن سے منور کریں۔سماج کو اخلاق وکردار سے معطر کریں۔فضا کی آلودگی کو اپنی ایمانی آکسیجن سے کم کریں۔گھر بیٹھے ہوں تو اپنے خالی اوقات کو کام میں لائیں اور اپنے رب سے لو لگائیں۔۔۔۔۔
سلاما۔
