*اقلیت واکثریت کے مسئلہ کاحل سیرت نبویؐ کی روشنی میں*
از قلم :انعام الحق قاسمی گڈاوی ناظم کتب خانہ دارالعلوم
وقف دیوبند
9997711132
جب ہم پوری دنیاپرطائرانہ نظر ڈالتےہےتومسلمان دوحیثیتوں سےزندگی بسرکررہےہوتے نظر آتےہیں
(1)اقلیتی حیثیت سے (2)اکثر یتی حیثیت سے
بعض ملکوں میں مسلمان اقلیتی طبقوں سےتعلق رکھتے ہیں اوربعض ملکوں میں مسلمان اکثریتی طبقوں سےتعلق رکھتے ہیں اسی طرح ایک ملک کےبعض ضلعوں اور شہروں میں اقلیت واکثریت کا مسئلہ درپیش ہے
جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں
وہاں ہرطرح کی آزادی حاصل ہونے کےباوجود بہت سے معاملات میں محتاط رویہ اخیتارکرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی موجودہ حالات اور مصلحت کاتقاضاہے اور جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں عدل و انصاف اخوت و محبت
کوترویج واشاعت اورعملی نمونہ دنیاکےسامنےپیش کرنے کی ضرورت ہے
اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ نے کیا رہنمائی کی ہے اس تعلق سےہمیں سیرت رسول ﷺ بالخصوص مکی اورمدنی زندگی دونوں کوسامنے رکھنے کی ضرورت ہےچنانچہ جب ہم محسن انسانیت حضورپرنورﷺکی سیرت کامطالعہ کرتے ہیں تواس سلسلے میں کامل رہنمائی ہوتی ہے اورہردوطبقہ (اقلیت واکثریت )کےمشکلات ومسائل کاحل بہ خوبی مل جاتاہے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مکی زندگی بہترین رہنما ہے اوراکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے لئے مدنی زندگی عمدہ راہبرہےجب ہم اپنے آقائے نامدار تاجداراحمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کی
زندگی کاجائزہ لیتے ہےتومعلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی
مکہ اور مدینہ کےاردگردگھومتی نظر آتی ہے توپہلےمکی دورکاتذکرہ کریں گے جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام مکہ میں تھے
تواقلیت میں تھے اس وقت دعوت دین کا فریضہ کس طرح لوگوں کے سامنے پیش فرمایاتوسب سے
پہلے ان لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا جو آپکے قریبی تھےاورپھران اشخاص تک اسلام کوپہنچایاجوصرف افہام و تفہیم اور دلائل وبراہین سے توحیدکوقبول کرنےاورشرک کو چھوڑنے پرآمادہ ہوسکتے تھے اسی طرح آپﷺ نے لوگوں کے سامنے عملی نمونہ پیش کیا اقوال و افعال، گفتار وکردار،حرکت وسکنات، ظاہر و باطن ،تنہائی میں ہویامحفل میں
یکسانیت کامظاہرہ فرمایااور
اپنے اخلاق و کردار سے متاثر کیا
اعمال وافعال میں یکسانیت کا
نمونہ پیش کیاامانت ودیانتداری
کاعملی مظاہرہ کیا-یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے حضور پرنورﷺ اور صحابہ کرامؓ کی تیرہ سالہ مکی زندگی غیرمسلم غلبہ والے معاشرہ میں اقلیت کی زندگی تھی آپ نے ایسے سماج و معاشرے میں جہاں غیرمسلم کی اکثریت ہے بہترین اخلاق پیش کیاجورہتی دنیا تک تمام ممالک ودیارمیں مسلم اقلیتوں کے لیے لائحہ عمل ہے آپ ابتدائی زمانے میں مخفی انداز سے دعوت کا فریضہ انجام دیتے رہے اس طرح اسلام کے پیروکاروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ فرما تے رہے اورغیرمسلم سماج میں بلاوجہ اتھل پتھل پیداکرکےمخالفت وعنادکےطوفان بلاخیزسےاپنےآپ کواورصحابہ کرام کی مقدس جماعت کی حفاظت فرمائی تین سال کے بعد جب علانیہ تبلیغ کی اجازت ملی جیسے ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علانیہ دعوت و تبلیغ کاآغازفرمایاتواپنے پرائیے ہوگئے،دوست دشمن بن گئے،رشتہ داروں نے ناطہ توڑ لیا،یہاں تک کہ سماجی وسیاسی،تجارتی ومعاشرتی بایئکاٹ کرنے لگے ایسے پرآشوب دور میں بھی آپ نےصبروتحمل کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھااوررہتی دنیاکویہ پیغام دیا کہ حالات کچھ بھی ہو حکمت و مصلحت کےساتھ امربالمعروف اورنہی عن المنکر کرتے رہوجس کی طرف خودباری تعالی نے رہنمائی فرمائی ہے *ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن ان ربک ھواعلم بمن ضل عن سبیلہ وھواعلم بالمھتدین*(سورۂ نحل آیت نمبر۱۲۶)ترجمہ _____________
اوراللہ تعالی کےاس فرمان پربھی نظررہے *لااکرہ فی الدین*(سورۂ البقرہ)__________
چنانچہ اگرمخاطب مان جاتاتو ٹھیک اوراگرکوئی بدسلوکی کرتاتوبھی آپ اس کے ساتھ حسن اخلاق کا معاملہ فرماتےاورنرمی کاپہلو اختیارکرتے--گویاجب تک آپ اقلیت میں رہے آپ نےدعوت و تبلیغ کا کام بڑی خاموشی اورصبروضبط،تحمل وبردباری سے کیااوردھیرےدھیرےافرادسازی
کرتےرہے
مدینہ سے آپﷺنےاپنی اکثریتی زندگی کا آغاز کیاہجرت کےبعدسب سے پہلے مہاجرین اورانصارکےدرمیان مواخاۃ(بھائی بھائی )کارشتہ قائم فرمایاجوکہ ایک دوسرے کےلئے نئے تھے دیھکنے میں مہاجرین و انصار کارشتہ تھالیکن حقیقت میں رہتی دنیاتک کے انسانیت کے لیے ایک پیغام اورمیسج پنہاں تھاجس کااثرفوری طور پریہ ہواکہ اس محبت بھرےرشتےنے غیروں کوبھی اسلام قبول کرنےپرمجبور کردیا-
مکہ کےبرعکس مدینے میں مسلمانوں کی تعدادزیادہ تھی اگروہ چاہتے تو طاقت و زور سے اپنا دین قبول کرنے پرمجبورکرسکتے تھے لیکن آپﷺنے ایسانہیں کیااورناہی اپنے اصحاب کو کرنے دیاگیابلکہ اقلیتی طبقہ سے معاہدہ فرما کر نہ صرف شہرمدینہ اور اسکے اطراف کےباشندوں کےلئے ترقی کی راہیں ہموارکیں بلکہ کفارومشرکین کوبھی سیاسی ومعاشرتی تحفظ فراہم کرکے
حاکم کےلئے ایک رہنما خطوط کا مثالی نمونہ پیش فرمایا با الفاظ دیگر
دوسراسب سےبڑاکام یہ کیاکہ بلا تخصیص مذہب و ملت اہل مدینہ کی ایک میٹنگ بلائی گئی
جس میں مسلمان اورکفارمشرکین اوریہودکومدعو کیاگیااس میٹنگ میں سب سے پوائنٹ کی بات یہ طے پائی کہ اہل مدینہ کی جان مال کی عزت آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری
ہم سب مل کرکریں گے اس طرح آپ ﷺنے کفارمدینہ اوریہودکو سیاست و تجارت میں بھی حصہ داری کا مواقع فراہم کیا
صلح حدیبیہ کےموقع پر جس اعلی ظرفی کامظاہرہ آپ ﷺنے فرمایااورشرافت سادگی کا مثالی نمونہ پیش کیا ہےجو تاریخ کے صفحات میں درج ہے
اس موقع پرباوجودیکہ مسلمانون کی اکثریت تھی آپ چاہتے تو اپنے شرائط پر صلح کرتے لیکن ایسانہیں کیا بلکہ یکطرفہ شرائط پر صلح فرمائی
جبکہ معاہدے کی تمام شقیں کفار مکہ کے حق میں تھیں لیکن امن وامان کی خاطرانھیں قبول فرمایا
*فتح مکہ*چند سال قبل اسی شہر مکہ سے خاموشی کےساتھ
رات کی تاریکی میں ہجرت کےلئے نکلےتھےاورآج ۲۰رمضان المبارک ۸ھ اکثریت کےساتھ فاتحانہ شان وشوکت،طاقت واختیارکےساتھ تشریف لا رہے ہیں دشمنان اسلام بےبس و مجبور آپﷺکےسامنےکھڑے ہے
اگرآپﷺچاہتے توایک ایک ظلم کا بدلہ لےسکتے تھے لیکن قربان جاؤں آپؑ پر کہ پیشانی پر شکن بھی نہیں آئی اورنہ ہی بیتے دنوں کی یاد آئی بلکہ آپﷺنےاعلان فرما دیا لاتثریب علیکم الیوم اذھبوا وانتم الطلقا
یادرہے کفارمکہ کو امن وامان بلاقیمت ملانہ کسی کو اسلام لانے کےلئے مجبورکیاگیااورنہ ہی
مسلمان مہاجرین کی املاک اورگھرو ں کی واپسی کامطالبہ کیاگیا
ایک دن وہ تاریخی موقع بھی آیا جب آپﷺنےہرطرح کی غیر انسانی حرکتوں پرپابندی عائد فرمادی اورایک ایسا نظام قائم فرمایا جس نےاقلیت واکثریت کا نشان ہی مٹادیاکہ اب نہ کوئی عربی رہااورنہ کوئی عجمی نہ کوئی گورانہ کوئی کالابلکہ سب انسانیت کے دھاگے میں بندھ گیے
ان باتوں سے یہ اندازہ لگاناکوئی مشکل نہیں کہ نبی کریمﷺکی مکی ومدنی زندگی بہر صورت
رہتی دنیاکے انسانوں کے لیے آئڈیل و نمونہ ہیں اورخلاصہ کلام یہ ہےکہ چاہےہم اقلیت میں رہیں چاہے اکثریت میں سیرت نبویہ سے سبق لینے کی ضرورت ہے یعنی اقلیت میں رہےتوصبروتحمل سے کام لیں،افرادسازی کرتے رہیں اورموقع محل کےاعتبارسے خودکوثابت کریں اوراگراکثریت میں رہیں توامیرغریب،محتاج غیرمحتاج اورطاقتورکمزورکےساتھ عدل وانصاف اورایمانداری ودیانت داری کامظاہرہ کریں
از قلم :انعام الحق قاسمی گڈاوی ناظم کتب خانہ دارالعلوم
وقف دیوبند
9997711132
جب ہم پوری دنیاپرطائرانہ نظر ڈالتےہےتومسلمان دوحیثیتوں سےزندگی بسرکررہےہوتے نظر آتےہیں
(1)اقلیتی حیثیت سے (2)اکثر یتی حیثیت سے
بعض ملکوں میں مسلمان اقلیتی طبقوں سےتعلق رکھتے ہیں اوربعض ملکوں میں مسلمان اکثریتی طبقوں سےتعلق رکھتے ہیں اسی طرح ایک ملک کےبعض ضلعوں اور شہروں میں اقلیت واکثریت کا مسئلہ درپیش ہے
جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں
وہاں ہرطرح کی آزادی حاصل ہونے کےباوجود بہت سے معاملات میں محتاط رویہ اخیتارکرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی موجودہ حالات اور مصلحت کاتقاضاہے اور جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں عدل و انصاف اخوت و محبت
کوترویج واشاعت اورعملی نمونہ دنیاکےسامنےپیش کرنے کی ضرورت ہے
اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ نے کیا رہنمائی کی ہے اس تعلق سےہمیں سیرت رسول ﷺ بالخصوص مکی اورمدنی زندگی دونوں کوسامنے رکھنے کی ضرورت ہےچنانچہ جب ہم محسن انسانیت حضورپرنورﷺکی سیرت کامطالعہ کرتے ہیں تواس سلسلے میں کامل رہنمائی ہوتی ہے اورہردوطبقہ (اقلیت واکثریت )کےمشکلات ومسائل کاحل بہ خوبی مل جاتاہے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مکی زندگی بہترین رہنما ہے اوراکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے لئے مدنی زندگی عمدہ راہبرہےجب ہم اپنے آقائے نامدار تاجداراحمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کی
زندگی کاجائزہ لیتے ہےتومعلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی
مکہ اور مدینہ کےاردگردگھومتی نظر آتی ہے توپہلےمکی دورکاتذکرہ کریں گے جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام مکہ میں تھے
تواقلیت میں تھے اس وقت دعوت دین کا فریضہ کس طرح لوگوں کے سامنے پیش فرمایاتوسب سے
پہلے ان لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا جو آپکے قریبی تھےاورپھران اشخاص تک اسلام کوپہنچایاجوصرف افہام و تفہیم اور دلائل وبراہین سے توحیدکوقبول کرنےاورشرک کو چھوڑنے پرآمادہ ہوسکتے تھے اسی طرح آپﷺ نے لوگوں کے سامنے عملی نمونہ پیش کیا اقوال و افعال، گفتار وکردار،حرکت وسکنات، ظاہر و باطن ،تنہائی میں ہویامحفل میں
یکسانیت کامظاہرہ فرمایااور
اپنے اخلاق و کردار سے متاثر کیا
اعمال وافعال میں یکسانیت کا
نمونہ پیش کیاامانت ودیانتداری
کاعملی مظاہرہ کیا-یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے حضور پرنورﷺ اور صحابہ کرامؓ کی تیرہ سالہ مکی زندگی غیرمسلم غلبہ والے معاشرہ میں اقلیت کی زندگی تھی آپ نے ایسے سماج و معاشرے میں جہاں غیرمسلم کی اکثریت ہے بہترین اخلاق پیش کیاجورہتی دنیا تک تمام ممالک ودیارمیں مسلم اقلیتوں کے لیے لائحہ عمل ہے آپ ابتدائی زمانے میں مخفی انداز سے دعوت کا فریضہ انجام دیتے رہے اس طرح اسلام کے پیروکاروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ فرما تے رہے اورغیرمسلم سماج میں بلاوجہ اتھل پتھل پیداکرکےمخالفت وعنادکےطوفان بلاخیزسےاپنےآپ کواورصحابہ کرام کی مقدس جماعت کی حفاظت فرمائی تین سال کے بعد جب علانیہ تبلیغ کی اجازت ملی جیسے ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علانیہ دعوت و تبلیغ کاآغازفرمایاتواپنے پرائیے ہوگئے،دوست دشمن بن گئے،رشتہ داروں نے ناطہ توڑ لیا،یہاں تک کہ سماجی وسیاسی،تجارتی ومعاشرتی بایئکاٹ کرنے لگے ایسے پرآشوب دور میں بھی آپ نےصبروتحمل کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھااوررہتی دنیاکویہ پیغام دیا کہ حالات کچھ بھی ہو حکمت و مصلحت کےساتھ امربالمعروف اورنہی عن المنکر کرتے رہوجس کی طرف خودباری تعالی نے رہنمائی فرمائی ہے *ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن ان ربک ھواعلم بمن ضل عن سبیلہ وھواعلم بالمھتدین*(سورۂ نحل آیت نمبر۱۲۶)ترجمہ _____________
اوراللہ تعالی کےاس فرمان پربھی نظررہے *لااکرہ فی الدین*(سورۂ البقرہ)__________
چنانچہ اگرمخاطب مان جاتاتو ٹھیک اوراگرکوئی بدسلوکی کرتاتوبھی آپ اس کے ساتھ حسن اخلاق کا معاملہ فرماتےاورنرمی کاپہلو اختیارکرتے--گویاجب تک آپ اقلیت میں رہے آپ نےدعوت و تبلیغ کا کام بڑی خاموشی اورصبروضبط،تحمل وبردباری سے کیااوردھیرےدھیرےافرادسازی
کرتےرہے
مدینہ سے آپﷺنےاپنی اکثریتی زندگی کا آغاز کیاہجرت کےبعدسب سے پہلے مہاجرین اورانصارکےدرمیان مواخاۃ(بھائی بھائی )کارشتہ قائم فرمایاجوکہ ایک دوسرے کےلئے نئے تھے دیھکنے میں مہاجرین و انصار کارشتہ تھالیکن حقیقت میں رہتی دنیاتک کے انسانیت کے لیے ایک پیغام اورمیسج پنہاں تھاجس کااثرفوری طور پریہ ہواکہ اس محبت بھرےرشتےنے غیروں کوبھی اسلام قبول کرنےپرمجبور کردیا-
مکہ کےبرعکس مدینے میں مسلمانوں کی تعدادزیادہ تھی اگروہ چاہتے تو طاقت و زور سے اپنا دین قبول کرنے پرمجبورکرسکتے تھے لیکن آپﷺنے ایسانہیں کیااورناہی اپنے اصحاب کو کرنے دیاگیابلکہ اقلیتی طبقہ سے معاہدہ فرما کر نہ صرف شہرمدینہ اور اسکے اطراف کےباشندوں کےلئے ترقی کی راہیں ہموارکیں بلکہ کفارومشرکین کوبھی سیاسی ومعاشرتی تحفظ فراہم کرکے
حاکم کےلئے ایک رہنما خطوط کا مثالی نمونہ پیش فرمایا با الفاظ دیگر
دوسراسب سےبڑاکام یہ کیاکہ بلا تخصیص مذہب و ملت اہل مدینہ کی ایک میٹنگ بلائی گئی
جس میں مسلمان اورکفارمشرکین اوریہودکومدعو کیاگیااس میٹنگ میں سب سے پوائنٹ کی بات یہ طے پائی کہ اہل مدینہ کی جان مال کی عزت آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری
ہم سب مل کرکریں گے اس طرح آپ ﷺنے کفارمدینہ اوریہودکو سیاست و تجارت میں بھی حصہ داری کا مواقع فراہم کیا
صلح حدیبیہ کےموقع پر جس اعلی ظرفی کامظاہرہ آپ ﷺنے فرمایااورشرافت سادگی کا مثالی نمونہ پیش کیا ہےجو تاریخ کے صفحات میں درج ہے
اس موقع پرباوجودیکہ مسلمانون کی اکثریت تھی آپ چاہتے تو اپنے شرائط پر صلح کرتے لیکن ایسانہیں کیا بلکہ یکطرفہ شرائط پر صلح فرمائی
جبکہ معاہدے کی تمام شقیں کفار مکہ کے حق میں تھیں لیکن امن وامان کی خاطرانھیں قبول فرمایا
*فتح مکہ*چند سال قبل اسی شہر مکہ سے خاموشی کےساتھ
رات کی تاریکی میں ہجرت کےلئے نکلےتھےاورآج ۲۰رمضان المبارک ۸ھ اکثریت کےساتھ فاتحانہ شان وشوکت،طاقت واختیارکےساتھ تشریف لا رہے ہیں دشمنان اسلام بےبس و مجبور آپﷺکےسامنےکھڑے ہے
اگرآپﷺچاہتے توایک ایک ظلم کا بدلہ لےسکتے تھے لیکن قربان جاؤں آپؑ پر کہ پیشانی پر شکن بھی نہیں آئی اورنہ ہی بیتے دنوں کی یاد آئی بلکہ آپﷺنےاعلان فرما دیا لاتثریب علیکم الیوم اذھبوا وانتم الطلقا
یادرہے کفارمکہ کو امن وامان بلاقیمت ملانہ کسی کو اسلام لانے کےلئے مجبورکیاگیااورنہ ہی
مسلمان مہاجرین کی املاک اورگھرو ں کی واپسی کامطالبہ کیاگیا
ایک دن وہ تاریخی موقع بھی آیا جب آپﷺنےہرطرح کی غیر انسانی حرکتوں پرپابندی عائد فرمادی اورایک ایسا نظام قائم فرمایا جس نےاقلیت واکثریت کا نشان ہی مٹادیاکہ اب نہ کوئی عربی رہااورنہ کوئی عجمی نہ کوئی گورانہ کوئی کالابلکہ سب انسانیت کے دھاگے میں بندھ گیے
ان باتوں سے یہ اندازہ لگاناکوئی مشکل نہیں کہ نبی کریمﷺکی مکی ومدنی زندگی بہر صورت
رہتی دنیاکے انسانوں کے لیے آئڈیل و نمونہ ہیں اورخلاصہ کلام یہ ہےکہ چاہےہم اقلیت میں رہیں چاہے اکثریت میں سیرت نبویہ سے سبق لینے کی ضرورت ہے یعنی اقلیت میں رہےتوصبروتحمل سے کام لیں،افرادسازی کرتے رہیں اورموقع محل کےاعتبارسے خودکوثابت کریں اوراگراکثریت میں رہیں توامیرغریب،محتاج غیرمحتاج اورطاقتورکمزورکےساتھ عدل وانصاف اورایمانداری ودیانت داری کامظاہرہ کریں
