اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *لاک ڈاون اوراسلامی طرز زندگی* از : رفیع اللہ قاسمی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 26 March 2020

*لاک ڈاون اوراسلامی طرز زندگی* از : رفیع اللہ قاسمی

*لاک ڈاون اوراسلامی طرز زندگی*

از : رفیع اللہ قاسمی

اس وقت بھارت میں کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاون کا حکم نافذ العمل ہے۔ اس کی وجہ سے حوائج اصلیہ جیسے خوردنی اشیاء، دودھ کی ڈیریاں، سر سبزی اور پھل وغیرہ کی دکانیں، مالیات کا شعبہ اور دواووں کے شعبے کے علاوہ تمام دکانیں اور بازار بند ہیں۔ اس طرح کے لاک ڈاون میں یقینا ہر ایک شہری کو پریشانیوں کے دور سے گزرنا پڑتا ہے لیکن یہی اھون البلیتین پر عمل ہے۔ اس کے علاوہ قوم کو اس عمومی وبا سے بچانے کے لیے کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

حکومت اپنے جامع منصوبے کے ذریعےلاک ڈاون کے زمانے میں ہونے والی دقتوں کو بھی کم کر سکتی تھی۔اگر صدق دل سے کوئی جامع منصوبہ بنانا چاہتی تو ان منصوبوں کے تحت شہریوں کی پریشانیوں کو کم سے کم کیا جا سکتا تھا۔ جیسے کچھ ایام قبل ہی حالات کو بھانپ کر دور کی ٹرینوں کو اچانک رد کرنے کی بجائے کم از کم دو سے تین دن پہلے شہریوں کو آگاہ کر دیا جاتا تاکہ جو جہاں ہے کم از کم دو تین دن میں اپنے مستقل مقام پر جہاں سے ایک سے ڈیڑھ ماہ بھی لاک ڈاون پریئیڈ کو برداشت کر سکتا ایسی قابل اطمینان جگہ پہونچ جاتا۔

بہر حال اس وقت عوام الناس اپنے گھروں میں بند ہیں۔ اپنی لازمی ضروریات کی تکمیل کے لیے اگر کوئی فرد گھر سے باہر جاتا بھی ہے تو جلد از جلد واپس لوٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ دکانوں اور نکڑوں پر بلا ضرورت ٹائم پاس کرنے والے اور ایک دوسرے کی غیبت میں پورا پورا دن گزار دینے والے لوگ اپنے گھروں میں مقید ہیں۔ فضول خرچی سے لوگ دانستہ طور پر بچ رہے ہیں۔ مرغن کھانے اور ایک ہی وقت دستر خوان پر ایک سے زائد ڈشوں کی کثرت سے احتراز کیا جارہا ہے۔ گاڑیوں اور بائیکوں کے شوقین جوان جو بلا ضرورت سڑکوں پر دوڑتے رہتے ہیں ان سے بھی روڈ اور راستے پاک و صاف نظر آ رہے ہیں۔ نماز کے قصد سے نکلنے والے لوگ جو نماز میں کم وقت خرچ کرتے ہیں اور اسی نماز کے بہانے ادھر ادھر مساجد کے آس پاس راستوں پر گھنٹوں گھنٹوں گپ شپ کرنے والے لوگ یا تو مساجد پر پابندی کی وجہ سے گھر ہی نماز پڑھ رہے ہیں یا مسجدوں سے نماز پڑھ کر جلد گھر واپس ہو جا رہے ہیں۔ جو لوگ قلت وقت کا گلہ کرتے تھے وہ اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ اگر وقت کو ضائع نہ کیا جائے تو ایک عام آدمی کے لیے قلت وقت کا شکوہ ختم ہو جائے۔

 ایک مومن کے لیے لاک ڈاون میں بے شمار اسباق مضمر ہیں۔ اس وائرس سے زیادہ ملک کی آب و ہوا پولیوشن کی وجہ سے خراب ہے۔ چہار جانب عرنانیت اور بے پردگی کا دور دورہ ہے۔ ملک کے بازار اور عوامی جگہیں اس قابل نہیں ہیں کہ وہاں کی سیر بلا شدید ضرورت کی جائے۔ لا یعنی اور فضول باتوں سے دور رہنا بھی اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے۔دنیا کے اتار چڑھاؤ اور گناہ آمیز ماحول کی وجہ ہے  اس قابل ہے کہ ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنی زندگی لاک ڈاون کے حوالے کر دی جائے اور یہ عزم مصمم کر لیا جائے کہ بلا ضرورت نہ ہم کوئی چیز خریدیں گے نہ کھائیں گے۔ گھر سے باہر نکلیں گے نہ فضول وقت برباد کریں گے۔ فضول خرچی سے بچیں گے۔ کھانے میں احتیاط کریں گے۔گپ شپ اور فضول بکواس سے اپنے نامہ اعمال کو پاک رکھیں گے۔ زیادہ سے زیادہ وقت اپنے رب کی یاد میں گزاریں گے۔ عورتیں وقرن فی بیوتکن پر عمل پیرا ہو جائیں اور مرد حضرات بھی اپنے فارغ اوقات کو بال بچوں کے ساتھ ان کی تعلیم وتربیت پر صرف کریں۔ اسلام کی یہ وہ تمام تعلیمات ہیں جن پر عمل پیرا ہونے کے لیے اسلام ہم آپ سے تقاضہ کرتا ہے۔ ملک کا یہ لاک ڈاون تو عارضی ہے۔ لیکن ہم اور آپ اپنی زندگیوں پر ابدی لاک ڈاون کا نفاذ کر کے دنیا و آخرت دونوں جگہوں  میں سرخ رو ہو سکتے ہیں۔