*خلیج(گلف) ممالک کے مسجدوں میں تالا لگاناافسوس کا مقام*
*صفائی نصف ایمان ہے*
علی اشہد اعظمی ( قطر )
کرونا وائرس کو لے کر دنیا بھر میں جو افراتفری پھیلی ہے ہوئی ہے لوگ اس کو لے کر کافی ڈرے سہمے ہوئے ہیں چونکہ یہ بیماری چین سے آئی ہے اور اب پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے اس سے یہ بات نکل کر آئی ہے کہ اس سے موت کے واقعہ بہت کم پیش آئے ہیں اور جو اس بیماری میں مبتلا ہیں ان کے حالات بہت خراب نہیں ہے کیونکہ کرونا وائرس ہونے کے بعد مریض کو الگ وارڈ میں منتقل کر دیا جاتا ہے کسی کو ملنے کی اجازت تک نہیں ہوتی تو گھر والوں کو کیسے پتا چلے گا کہ میرا مریض کیسا ہے۔
اور جہاں تک مساجد میں نماز کی ممانعیت کا معاملہ ہے کیا ایک اسلامک ملک کے حکمران ایسے فیصلے لیتے وقت کسی عالم کی رائے نہیں لیتے ؟ ایسا کیسے مساجد میں تالا لگانے کی اجازت دے دی ۔ پوری دینا میں مسجد ایک واحد ایسا مقام ہے جہاں ایک مومن پوری طرح سے پاک صاف ہوکر جاتا ہے وضو کا طریقہ کار ہی ایسا ہے جو کرونا وائرس سے بچنے کی تدابیر میں پوری دنیا کے لوگ استعمال کر رہے ہیں جسم کی ہر وہ اعضا جو دکھائی دیتے ہیں ان کو پوری طرح سے دھویا جاتا ہے اور اسلام میں یہ بھی حکم ہے کہ کپڑے بھلے ہے پھٹے ہوں لیکن صاف ہونا ضروری ہے اس لئے کہا گیا ہے صفائی نصف ایمان ہے جس مذہب میں صفائی ہو نصف ایمان ہو اور یہ بیماری صرف اور صرف صاف صفائی رکھنے سے آپ کی قریب بھی نہیں آسکتی اس مذہب کے لوگ اپنی مساجد کو بند کر رہے ہیں اس کے علاوہ کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہے جہاں اتنی صاف صفائی کا اہتمام یا حکم ہے آپ مندر کو ہی لے لیجئے وہاں تو گھر سے ننگے پاؤں آنا پوِتر مانا جاتا ہے اور کوئی بھی کبھی بھی مندر میں جا سکتا ہے اس کے علاوہ چرچ میں بھی جوتے و چپل پہن کر جا سکتے ہیں اور اس میں دنیا پھر کی گندگی لگی ہوتی ہے آج ہم ایمان والے تو ہیں لیکن ہمارا عقیدہ درست نہیں ہے اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں ہے کہیں ہم کسی اسلام کے بین الاقوامی دشمنوں کے جال میں تو نہیں پھنس رہے ہیں مجھے ڈر ہے کہیں اللہ ہم سے ناراض نہ ہوجائے کہیں وہ ہمارا امتحان تو نہیں لے رہا ہے یہ ساری باتیں مجھے پریشان کر رہی ہیں
یہ ساری باتیں میرے من میں گردش کر رہی تھی اس لئے میں یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہوا۔
*صفائی نصف ایمان ہے*
علی اشہد اعظمی ( قطر )
کرونا وائرس کو لے کر دنیا بھر میں جو افراتفری پھیلی ہے ہوئی ہے لوگ اس کو لے کر کافی ڈرے سہمے ہوئے ہیں چونکہ یہ بیماری چین سے آئی ہے اور اب پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے اس سے یہ بات نکل کر آئی ہے کہ اس سے موت کے واقعہ بہت کم پیش آئے ہیں اور جو اس بیماری میں مبتلا ہیں ان کے حالات بہت خراب نہیں ہے کیونکہ کرونا وائرس ہونے کے بعد مریض کو الگ وارڈ میں منتقل کر دیا جاتا ہے کسی کو ملنے کی اجازت تک نہیں ہوتی تو گھر والوں کو کیسے پتا چلے گا کہ میرا مریض کیسا ہے۔
اور جہاں تک مساجد میں نماز کی ممانعیت کا معاملہ ہے کیا ایک اسلامک ملک کے حکمران ایسے فیصلے لیتے وقت کسی عالم کی رائے نہیں لیتے ؟ ایسا کیسے مساجد میں تالا لگانے کی اجازت دے دی ۔ پوری دینا میں مسجد ایک واحد ایسا مقام ہے جہاں ایک مومن پوری طرح سے پاک صاف ہوکر جاتا ہے وضو کا طریقہ کار ہی ایسا ہے جو کرونا وائرس سے بچنے کی تدابیر میں پوری دنیا کے لوگ استعمال کر رہے ہیں جسم کی ہر وہ اعضا جو دکھائی دیتے ہیں ان کو پوری طرح سے دھویا جاتا ہے اور اسلام میں یہ بھی حکم ہے کہ کپڑے بھلے ہے پھٹے ہوں لیکن صاف ہونا ضروری ہے اس لئے کہا گیا ہے صفائی نصف ایمان ہے جس مذہب میں صفائی ہو نصف ایمان ہو اور یہ بیماری صرف اور صرف صاف صفائی رکھنے سے آپ کی قریب بھی نہیں آسکتی اس مذہب کے لوگ اپنی مساجد کو بند کر رہے ہیں اس کے علاوہ کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہے جہاں اتنی صاف صفائی کا اہتمام یا حکم ہے آپ مندر کو ہی لے لیجئے وہاں تو گھر سے ننگے پاؤں آنا پوِتر مانا جاتا ہے اور کوئی بھی کبھی بھی مندر میں جا سکتا ہے اس کے علاوہ چرچ میں بھی جوتے و چپل پہن کر جا سکتے ہیں اور اس میں دنیا پھر کی گندگی لگی ہوتی ہے آج ہم ایمان والے تو ہیں لیکن ہمارا عقیدہ درست نہیں ہے اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں ہے کہیں ہم کسی اسلام کے بین الاقوامی دشمنوں کے جال میں تو نہیں پھنس رہے ہیں مجھے ڈر ہے کہیں اللہ ہم سے ناراض نہ ہوجائے کہیں وہ ہمارا امتحان تو نہیں لے رہا ہے یہ ساری باتیں مجھے پریشان کر رہی ہیں
یہ ساری باتیں میرے من میں گردش کر رہی تھی اس لئے میں یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہوا۔
